Ch Muhammad Saeed
16K posts







باقی باتوں کی باتیں رہیں، شفا یوسفزئی صاحبہ قوم کی راہنمائی فرمائیں کہ سلمان گولڈ سمتھ خان نیازی نے جس یونیورسٹی میں اسلامک سٹڈیز میں داخلہ لیا تھا وہ آج کل کس سمیسٹر میں پہنچا ہے؟ جی پی اے ٹھیک جا رہا ہے ناں بچے کا۔ آپ نے ہی داخلے کی خبر دی تھی سوچا پوچھ لوں اچھا ہوتا ہے۔

مریم نواز صاحبہ کا 10 لاکھ مویشیوں کی ایکسپورٹ کا معاہدہ: ہماری پیداواری فیکٹریاں اور "ڈے اولڈ کاف" ذبح ہورہے ہیں، لائیوسٹاک کی پیداوار بڑھانا کوئی ایک دن کا کام نہیں تو یہ معاہدہ کیسے ممکن ہوگا؟ **بخدمت: محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ (وزیراعلیٰ پنجاب)** **تحریر: شاکر عمر گجر (مرکزی صدر، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان)** محترمہ وزیراعلیٰ صاحبہ، چین کے ساتھ 10 لاکھ مویشیوں کی برآمد کا معاہدہ یقیناً ایک بڑا معاشی ہدف ہے، لیکن بحیثیت اسٹیک ہولڈر ہمیں ایک بنیادی سوال کا سامنا ہے۔ **لائیو اسٹاک کوئی ایسی فیکٹری نہیں جس کا بٹن دبانے سے پیداوار شروع ہو جائے، بلکہ یہ وہ پیداواری فیکٹریاں ہیں جن کی فصل (بچھڑے) تیار ہونے میں سالہا سال لگتے ہیں۔ یہ کوئی ایک دن کا کام نہیں جسے ہنگامی بنیادوں پر پورا کیا جا سکے**۔ جب ہماری اصل فیکٹریاں (دودھ دینے والی بھینسیں) اور ان سے پیدا ہونے والی فصلیں یعنی **"ڈے اولڈ کاف" (ایک دن کے بچھڑے)** روزانہ کی بنیاد پر ذبح ہو رہے ہوں، تو یہ معاہدہ کیسے ممکن ہو سکے گا؟ ### 1. پیداواری فیکٹریوں کا تحفظ ہی اصل کامیابی ہے پنجاب اور سندھ سے کراچی لائی جانے والی اعلیٰ نسل کی بھینسیں ہماری اصل **"پیداواری فیکٹریاں"** ہیں۔ یہ ایلیٹ کلاس ڈیری اینیملز جب اپنا ایک دورانیہ مکمل کرتے ہیں، تو انہیں دوبارہ افزائشِ نسل کے لیے سنبھالنے کے بجائے قصائی کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک اعلیٰ نسل کا جانور تیار ہونے میں کئی سال لیتا ہے؛ اگر ہم اپنی موجودہ فیکٹریوں کو ذبح کرتے رہیں گے تو نئی فصل کہاں سے آئے گی؟ ### 2. ڈے اولڈ کاف کی سلاٹرنگ: مستقبل کی فصل کا قتل لائیو اسٹاک کی فصل بچھڑے ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ **ڈے اولڈ کاف (ایک دن کا بچہ)** پیدا ہوتے ہی سلاٹر ہاؤس بھیج دیا جاتا ہے۔ محترمہ، جس ملک میں مستقبل کی فصل کو بیج بننے سے پہلے ہی کاٹ دیا جائے، وہاں 10 لاکھ مویشیوں کی ایکسپورٹ کا خواب کیسے شرمندہِ تعبیر ہوگا؟ ان ننھے بچھڑوں کی جان بچانا ہی پاکستان کے بیف سیکٹر کو زندہ رکھنے کا واحد راستہ ہے۔ ### 3. ملکی ضرورت اور غذائی قلت پاکستان میں بچے اور بڑے پروٹین کی کمی اور اسٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ ہم اس وقت گوشت باہر بھیجنے کی بات کر رہے ہیں جب ہم اپنے بچوں کا گوشت پورا نہیں کر پا رہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ کے معاہدے تب ہی کامیاب ہوں گے جب ملک کے اندر جانوروں کی تعداد اتنی وافر ہو کہ ہم اپنی ضرورت بھی پوری کریں اور دنیا کی بھی۔ ### 4. لائیوسٹاک ریلوے کوریڈور: شہ رگ کی بحالی ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ **"پاکستان ریلوے لائیوسٹاک کوریڈور"** کو فوری ترجیح دی جائے۔ یہ وہ راستہ ہے جو ان پیداواری فیکٹریوں اور بچھڑوں کو ذبح ہونے سے بچا کر واپس فارمز تک پہنچا سکتا ہے۔ اس کوریڈور کے بغیر جانوروں کی ترسیل مہنگی ہے، جس کی وجہ سے فارمر جانور پالنے کے بجائے قصائی کو بیچنے پر مجبور ہے۔ ### ہمارا مطالبہ اور وژن وزیراعلیٰ صاحبہ! لائیو اسٹاک کی پیداوار ایک طویل عمل ہے، یہ ایک دن کا کام نہیں کہ راتوں رات جانور تیار ہو جائیں۔ اگر آپ واقعی 10 لاکھ جانور ایکسپورٹ کرنا چاہتی ہیں تو: * مادہ مویشیوں اور **ڈے اولڈ کاف** کی سلاٹرنگ پر فوری پابندی لگائیں۔ * ریلوے کوریڈور بحال کریں تاکہ جانوروں کی نسل بچائی جا سکے۔ * کٹا پال اسکیموں کے ذریعے "مستقبل کی فصل" (بچھڑوں) کو تحفظ دیں۔ ہماری یہ تجاویز لائیو اسٹاک کی بہتری اور ان کی زندگی بچانے کے لیے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آپ اور وزیراعظم شہباز شریف زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شعبے کی بقا کے لیے ہنگامی اقدامات کریں گے۔ **شاکر عمر گجر** مرکزی صدر، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان رابطہ: president@dcfa.com.pk | +923008281786











