Sabitlenmiş Tweet

آج آپ کو ایک ایسا سچ ایک ایساراض بتانے جارہی ہوں جس کے بعد ہماری زندگی اور عذاب بنائی جاسکتی ہے لیکن کب تک ہم یہ ظلم نا انصافیاں برداشت کرتے آئیں گے ؟؟ آج میں جو آپ سے کہنے جارہی ہوں اس کا ایک ایک لفظ سچ ہوگا میں اپنے اللہ کو گواہ بنا کر سب حقائق آپ کے سامنے رکھوں گی ۔ میرا شوہر شبیر علی قریشی ہے جو بائے پروفیشنل ڈگری ڈاکٹر ہے جس کے والدمحترم 2 دفعہ ایم۔ این ۔الے اور والدہ محترمہ بھی 2 دفعہ ایم ۔این اے اور ایک دفعہ senator رہی ہیں یہ ایک ایسا سیاسی خاندان ہے جس کی تعریف شاہد ہی آپ کو پاکستانی سیاست میں کہیں ملے گی اس خاندان نے سیاست کو عبادت سمجھ کر کیا صرف تو صرف خدمت خلق کامشن سمجھ کر کیا جس کی گواہی آج بچہ بچہ بھی دیتا ہے ان کے حلقے کا ۔ والد کی وفات کے بعد حلقے کے لوگوں اور والدہ نے مجبور کیا کے وہ اپنے والد کے کام کو جاری رکھے ورنہ اُس حلقے کے کرپٹ سیاستدان اقتدار میں آتے ہی وہاں کے غریب لوگوں پر ظلم ڈھا ئیں گے اُن کے حقوق پامال کیے جائیں گے اُن کا ہمدرد کوئی نہیں ہوگا اُن لاچار غریب لوگوں کی بے بسی دیکھتے ہوئے آخر شبیر علی نے حامی بھرلی اور سیاست کی طرف آگیا 2014 میں پی ٹی آئی میں شمولیت کرلی اور PTI نے یقین دہانی کروائی کے وہ ہی اُن کا MNA کا ٹکٹ ہولڈر ہوگا
تو جناب جب سارے جلسے کمپین مکمل ہوگئی تو عین ٹکٹ کے وقت کچھ سازشیوں نے شبیر کا ٹکٹ پنجاب کے نامور سیاستدان گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر کو دے دیا ایک بہت بڑی سفارش کے عوض خیر اس سب کی وجہ سے شبیر بہت دل برداشتہ ہوا اور ہمیشہ کیلئے سیاست کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا لیکن حلقے کے سارے بزرگ اور لوگ پھر ہاتھ جوڑ کر آگے آنکھوں میں آنسو تھے بولے آپ کے والد محروم ہمارا بہت خیال رکھتے تھے اُن کے ہوتے ہوئے کوئی ہمارے ساتھ ناانصافی نہیں کرسکتا تھا اب ہم آپ کے آسرے پر ہیں آپ ہمیں چھوڑ کر نہیں جائیں گے آپ آزاد کھڑے ہوجائیں ہم آپ کو ووٹ دیں گے آپ جیت جائیں گے ہمیں ایک موقع دیں ۔ خیر وہی ہوا جس کو اللہ نیک مقصد کیلئے چن لے تو دنیا کی کوئی طاقت کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ شبیر علی قریشی نے غلام مصطفی کھر جیسے طاقت ور سیاستدان کو پی ٹی آئی کے ٹکٹ سمیت بُری طرح شکست دی جس پر پی ٹی آئی کی سینئر قیادت نے اپنی غلطی پر معافی مانگی اور شبیر علی کو پارٹی میں شمولیت کروائی ساتھ ہی وازارت کا عہدہ دیا خیر وقت کے ساتھ ،ساتھ خان صاحب کا اعتماد بڑھتا گیا اور وہ اُس کے کام اور لگن سے بہت خوش ہوئے اور شبیر کے کہنے پر اُس حلقے کیلئے ایسے اقدامات اٹھائے ترقی کے جو آج تک کسی نے نہیں کئے اربوں روپوں کے منصوبوں کے ترقیاتی کام کروائے گئے
سوشل میڈیا اور پاکستانی سیاست میں شبیر علی کا نام مشہور نہیں ہے آپ لوگوں نے بھی پہلی دفعہ سنا ہوگا کیونکہ اُس نے کبھی بھی شہرت لینے کی کوشش نہیں کی اُسے یہ دنیا کی رنگینیاں دولت اور شہرت سے ذرا سا بھی لگاؤ نہیں تھا نہ ہے میں نے ایسا شخص اپنی زندگی میں پہلی دفعہ دیکھا ہے یہی وجہ ہے وہ کسی بھی نیوز چینل پر نہیں جاتا تھا کسی کو انٹرویو نہیں دیتا تھا کیونکہ اُس کیلئے ان سب چیزوں سے ٹائم کا ضیاع ہوتا ہے اُس کا فوکس اپنا حلقہ اُس کے کام اور لوگ تھے خیر جب رجیم چینج آیا تو دیگر پارٹیوں نے بڑی بڑی آفرز دیں اُن کے ساتھ شمولیت کی شبیر علی نہیں مانا کیونکہ اسے معلوم تھا PDM عوام کو لوٹنے آئی ہے عوام کیلئے کام کرنے نہیں آئی اور اُس نے جس پارٹی کے ساتھ حلف اٹھایا تھا وہ ہر صورت اور حال میں اسی کے ساتھ ہے دوسرا وہ خان صاحب کو اسلئے بھی پسند کرتا ہے کے خان صاحب نے پر اس کام میں ساتھ دیا جو اُس حلقے کی غریب عوام کی فلاح کیلئے تھا یہ وہ وجہ ہے کے اُس نے عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور خان صاحب کا ساتھ دینے کے جُرم میں 9 مئی سے لیکر اب تک شبیر علی روپوش ہے ۔ شبیرعلی کے اوپر 9 مئی کا الزام تو کمپنی نہ لگا سکی لیکن پی ٹی آئی نہ چھوڑنے کی وجہ سے اربوں روپوں کی جھوٹی کرپشن کے الزامات لگا دیے گئے اور اُسے اشتہاری قرار دیا گیا یہ ایسا شخص ہے جس نے سیاست سے ایک پیسے کی بھی کرپشن نہیں کی جس کے والدین نے ہمیشہ حلال کھلایا اور اس نے بھی اپنی اولاد کو حلال کھلایا آپ کو شاہد یقین نہ آئے ہمارے پاس اپنا ذاتی گھر نہیں ہے اسلام آباد میں اور جو آبائی گھر ہے شبیر کا جو اس کی والدہ کا ہے اُس کی حالت بھی انتہائی خستہ ہے ۔ وراثت میں دی گئی کچھ زمینیں ہیں جن سے ماہانہ خرچہ بمشکل نکلتا ہے ۔ مجھے اچھا پہننے کا شوق ہے میرے اوپر کے اخراجات والدین اور بھائی پورا کرتے ہیں
اب اختتام کی طرف چلتی ہوں تو جناب جب شبیر علی کو کمپنی اغوا کر کے بیان دلوانے میں ناکام رہی تو شبیر کی فیملی ذرائع کے ذریعے کمپنی نے یہ پیغام پہنچایا کے ہم جانتے ہیں




اردو


















