مارچ میں شرکت کرنے والے تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اس فیصلہ کن موڑ پر چند اصول ضرور اپنائیں۔
اپنے علاقے، محلے یا گاؤں کے لوگوں کے ساتھ منسلک رہیں، عوام میں گل ملنے کے بجائے اپنے پہچان کے لوگوں کیساتھ رہیں۔۔
پانی کی بوتل لازماً ساتھ رکھیں۔
شیلنگ کی صورت میں ماسک، رومال یا گیلا کپڑا استعمال کریں اور ہوا کے رخ کے مخالف سمت میں استعمال کریں۔
اپنے موبائل فون کو چارج رکھیں اور اہم نمبرز محفوظ کرلیں۔ اہم نمبر علاقے کے زمہ داران ، ایکشن کمیٹی کے زمہ داران جن کے ساتھ آپ مارچ میں آئے ہیں۔
بزرگوں اور کا خصوصی خیال رکھیں۔
کسی بھی افواہ یا غیر مصدقہ اطلاع پر یقین نہ کریں، صرف ذمہ دار ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔ پروپگنڈے سے ہر دو صورتوں میں بچنے کی کوشش کریں۔
نظم و ضبط برقرار رکھیں اور طے شدہ قیادت یا منتظمین کی ہدایات پر عمل کریں۔
ہنگامی صورتحال میں ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور کسی ساتھی کو تنہا نہ چھوڑیں۔
اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور ہر حال میں پرامن رہیں۔
اپنے ساتھ ہلکا پھلکا کھانا، ضروری ادویات اور بنیادی ضروریات کی اشیاء رکھیں۔ جیسے خشک میوہ جات ، چنے ، کجھوریں
یاد رکھیں۔ کسی بھی اجتماعی جدوجہد کی اصل طاقت اس کے لوگوں کا اتحاد، نظم و ضبط، صبر اور باہمی تعاون ہوتا ہے۔ اپنے مقصد، اپنے ساتھیوں اور اپنی ذمہ داری کا احساس رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور ہر حال میں پُرامن منظم اور باوقار رہیں۔یہی رویہ کسی بھی مارچ کو مضبوط اور مؤثر بناتا ہے۔
مشکوک افراد کی صورت میں زمہ داران کو اطلاع کریں۔
عوامی مسائل کے حل کے لیے وسائل نہیں، مگر آوازیں دبانے کے لیے انعامات مقرر کیے جا رہے ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری پر انعام کا اعلان مسائل کے سیاسی حل کے بجائے طاقت کی پالیسی کا عکاس ہے۔ یہی طرزِ حکمرانی آج کے بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
تو ہم سے ہے مگر ہم سا کہاں ہے
اب تو دشمن پہ نہیں تجھ پہ نظر رکھتے ہیں
جو زبان بولے گا تو وہی زبان بولیں گے
ہم پہاڑوں میں پلے اس کا ہنر رکھتے ہیں
کشمیریت زندہ باد
Kashmiri Diaspora Protests in Three UK Cities Over Rawalakot Killings, Internet Blackout, and JAAC Ban
برطانیہ کے تین شہروں میں کشمیری ڈائسپورا کا راولاکوٹ ہلاکتوں، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور JAAC پر پابندی کے خلاف احتجاج
لندن، برمنگھم اور بریڈفورڈ میں کشمیری ڈائسپورا نے راولاکوٹ میں حالیہ ہلاکتوں، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے آزادانہ تحقیقات، انٹرنیٹ سروسز کی بحالی اور شہری آزادیوں کے احترام کا مطالبہ کیا۔
شرکاء نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور برطانوی حکومت سے اپیل کی کہ آزاد کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لیا جائے، JAAC پر پابندی ختم کی جائے اور بنیادی جمہوری و انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
#عوامی_ایکشن_کمیٹی
#آواز_دو_ہم_ایک_ہیں
#RightsMovementAJK
@SKKHAN1971 This is why we separated most of kashmiri areas out of kashmir and renamed them. AJK is now a small 90 mile area, where kashmiris have destroyed it, results will be catastrophic, more surveillance, road stops, Disappearences, torture, death, ISI office, more troops
پورے آزاد کشمیر میں افراتفری کا عالم ہے، عوام تقسیم ہو چکے ہیں اور امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔ متعدد لوگوں کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ مگر وزیراعظم ہاؤس اب بھی خاموش ہے۔ آرمی چیف سیاست سے دور رہنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہے۔ حالات بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔
کشمیریو!!! 9 جون آخرکار آ ہی گیا ہے۔
یہ وہ دن ہے جس کے لیے دی جانے والی ہر قربانی اور جدوجہد بنیادی حقوق کے حصول کی ایک طویل داستان ہے۔ افسوس کہ حکمرانوں اور نام نہاد سیاستدانوں نے نہ صرف عوامی اتحاد کا مذاق اڑایا بلکہ اسے تقسیم کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی۔ یہاں تک کہ عوامی اتحاد کو مختلف منفی الزامات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی—کبھی اسے کسی ایجنڈے کا حصہ بتایا گیا، تو کبھی اسے ریاست مخالف یا ادارہ مخالف رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔
لیکن جب تمام حربے ناکام ہوئے تو یہی لوگ، جو کبھی ایک دوسرے کے مخالف تھے، آل پارٹیز کانفرنس کے نام پر اکٹھے ہوئے اور یہ فیصلہ کیا کہ جس عوام سے وہ ووٹ مانگتے ہیں، انہیں پہلے طاقت کے زور پر دبایا جائے۔ مگر ہر بار انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کی اصل وجہ عوام کا اتحاد، اتفاق اور اپنے مقصد کی طرف یکجہتی کے ساتھ بڑھنا تھا۔ آج پھر وقت ہے کہ ہم اپنے گھروں سے نکلیں، اپنے پرانے ریکارڈ توڑیں اور نو جون کو یومِ اتحادِ کشمیر کے طور پر ایک نئی تاریخ رقم کریں۔
ہم ایک صف میں کھڑے ہوں تو ہلا نہ سکے زمانہ ہمیں
یہ اتحاد ہی ہے جو لکھ دے نئی صبح، نئی کہانی ہمیں
#آواز_دو_ہم_ایک_ہیں
#جوائنٹ_عوامی_ایکشن_کمیٹی
#RightsMovementAJK