Omar bangash
115 posts


@ShowbizAndNewz Bachpan mein ham WWF dekhte thay aur undertaker wala scene bara interesting hota thaa
Jab golden Glass baba uthata thaa, UT khara ho jataa thaa
Kia Maryam ne koi Jadu to nhn kia hwaa is glass mein takay apne masashooq ko khara kr ske

Indonesia

@ASNsharif Apko idea nhn. Kpk ko hamesha poj ne dollar war k lye use kia hai
Wahan kabi aman Lana hee nhn chahte. Isk bawajud bhi kpk mein education, hospital and resource utilization behtr hai baqi suboo se
Sindh aur Punjab mein aman kion nhn khrab hota?
Kion k foj Punjabi hai.
Indonesia
Omar bangash retweetledi

کاش ہم سمجھ سکتے کہ ہماری اصل طاقت یہاں کی آبادی ہے جسکو ہم نے اگر تعلیم دی ہوتی، ہنر سکھاے ہوتے تو ہیومن رسورسس کا اتنا بڑا خزانہ ہمارے پاس ہوتا کہ آج سالانہ تیس ینتیس ارب ڈالر جو پاکستانی باہر سے بھیجتے ہیں وہ ساٹھ ستر ارب ڈالر ہوتا ہمیں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑتا-
لیکن ہماری ترجیحات تو سوویت یونین کا خاتمہ تھیں،امریکی ڈالرز سے چلنے والا جہاد تھا،دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنا تھیں،کب یہاں تعلیم ، صحت کے لئے رقم بچی کہ ہم اس طرف توجہ دیتے ،غیر ترقیاتی اخراجات بڑھاتے رہے اور عوام کی توجہ ہٹانے کو ٹرک کی بتیوں کے پیچھے لگاتے رہے-
اردو

@mooshee23 @ayesha16g Law and order ki bat pooray Pakistan mein nhn.
Yahan qanoon ghareeb k lye Alag hai aur Ameer k lye Alag hai.
Masla infradi level ka hai
हिन्दी

@ibangash87 @ayesha16g Sir with due respect jb law n order na hu tu yai sb hu ga aur aagy burhy ga b.
Filipino

Outrageous! Disgusting!
Feudal Waderas in Ghotki gang-raped a girl in front of her parents, filmed it, and blackmailed her. These powerful thugs rape freely while the #Pakistani state stays silent.
Feudalism is a cancer destroying #Sindh. Pure barbarism! #JusticeForVictim
English
Omar bangash retweetledi

مذہب جس علاقے میں پیدا ہوتا ہے وہاں کی ثقافت اس مذہب کا حصہ بن جاتی ہے اور وہ مذہب جب دوسرے علاقوں میں پہنچتا ہے تو یہی مذہب ان علاقوں کی ثقافت کو نگل کر خود وہاں کی ثقافت کی جگہ لے لیتا ہے . جیسے قصاص ، دیعت ,کثرت الازواجی ، ہاتھ اور گردن کاٹنے جیسی سزائیں ، فرسٹ کزن سے شادی, والد کی وفات کی صورت میں یتیم کو دادا کی وراثت میں حصہ نہ ملنا وغیرہ قبل از اسلام کے عرب معاشرے کے رہن سہن اور ثقافت کا حصہ تھیں۔ ان تمام مزکورہ باتیں من و عن یا کچھ ردو بدل کے ساتھ مذہب اسلام کا حصہ بن گئیں ۔
آصف جاوید
اردو

@soulat_pasha Unfortunately inko stereotype kr diya gya tha I guess.
English

یادگار غالب میں الطاف حسین حالی لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ غالب کو ایسے گمنام خط آنے لگے تھے جن میں ان کی شراب نوشی اور بدمذہبی کی وجہ سے ننگی گالیاں دی جاتی تھیں- میں اس زمانے میں صرف اپنے فرقے کے مسلمانوں کو جنت کا حق دار سمجھتا تھا اور اپنے پیاروں کو جنت میں لے جانے کے لیے فکرمند رہتا تھا- غالب سے بہت عقیدت تھی۔
غالب کی قوت سماعت بہت کمزور ہوچکی تھی۔ ان سے بات کرنے کے لیے کاغذ پر لکھ کر ان کو دی جاتی تھی۔میں نے مرزا کے بھلے کے لیے ایک لمبا سا تبلیغی نوٹ لکھا جس میں ان کو باقاعدگی سے نماز پڑھنے کی درخواست کی۔
غالب پہلے ہی اپنی بد عقیدگی کی وجہ سے خطوں میں موصول گالیوں کی وجہ سے بھرے بیٹھے تھے۔ انھوں نے فرمایا کہ میری ساری زندگی گناہ میں گزری ہے اب چار دن کی عبادت سے تو میری بخشش ہونے سے رہی۔ حق تو یہ ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرا منہ کالا کیا جائے اور میری لاش کو بازار سے گھسیٹ کر شہر سے باہر کتوں کے آگے پھینک دیا جائے (بشرطیکہ وہ اس کو کھانے پر آمادہ ہوں)-
حالی کہتے ہیں کہ میں ساری زندگی اپنی اس حرکت پر شرمندہ رہا-
یادگار غالب از الطاف حسین حالی صفحہ 52-53
اردو

@TheBabylonBee Sadgi to hamari Zara dekhye
aitebar apk wadae per kr diyaa
Indonesia


@soulat_pasha Same happened in swat and Waziristan.
Even rapes are reported
English

مئی1857 میں شروع ہونے والی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے دلی کے باشندوں کو شہر سے نکال دیا اور چھ مہینے تک شہر کے باہر رکھا. اس دوران محلوں کے محلے لوٹ لیے گئے۔دلی والوں نے چھ مہینے تک سردی اور برسات میں کھلے آسمان تلے گزارے۔
مرزا غالب اس سے کتنے دہشت زدہ ہوئے کہ انھوں نے 1857 کے بعد سے اپنی زندگی کے باقی 12 برسوں میں کل 11 غزلیں کہیں۔ یعنی ایک سال کی ایک غزل بھی نہیں بنتی ۔ تو شاعر مرزا غالب اور فنکار مرزا غالب یا جو وہ پوری کھیپ تھی 1857 کے بعد ختم ہو گئی۔
بی بی سی اردو
اردو

@soulat_pasha Ab is cheez ko samne rakhte hwe ap khud sochain k society kis kism ki bnaigee
हिन्दी

پاکستان میں چھ سے سولہا برس کے تین بچوں میں ایک تو اسکول مدرسہ جاتا ہی نہیں ، دو جاتے ہیں۔۔۔ جو ایک سکول نہیں جا رہا سماج اس کو اتنی مشکل زندگی دے رہا ہے کہ اس کی سوچ اور احساس میں تلخی بھرتی جا رہی ہے۔ جو دو سکول جا رہے ہیں ان کے سوچنے سمجھنے اور تخلیقی صلاحیتوں پر مذہب، کلچر اور اخلاقیات کے نام پر تالے چڑھائے جا رہے ہیں۔
کلاس روم کے اندر سوال کی جگہ موجود نہیں، بچے کے سوال کی جگہ موجود نہیں۔ اول استاد یہ جگہ دینا نہیں چاہتا، اور اگر استاد سوال کو جگہ دینے پر آمادہ ہو تو سسٹم کی بندشیں اور معاشرے میں پھیلی جنونی جہالت استاد کو ایسا کرنے نہیں دیتی۔
روبینہ شاہین
اردو

@NidaAhm16105291 Apka wastaa aise loggoo se para hoga. Karachi is different
Eesti
Omar bangash retweetledi

آپکی زندگی میں کوئی گرل فرینڈ نہ بھی ہو، پھر بھی اگر اچھی وہسکی کے دو تین پیگ پیتے ہوئے جگجیت سنگھ کی غزلیں سننے لگو تو ایسا لگے گا جیسے دس بارہ گرل فرینڈز نے دھوکہ دے کر چھوڑ دیا ہو۔کل جگجیت کی غزلیں سنتے ہوئے میں ایک گھنٹہ اپنی گرل فرینڈ کے خیال میں روتا رہا۔ پھر یاد آیا کہ میری کوئی گرل فرینڈ تھی ہی نہیں۔ تو میں اس دکھ میں مزید دو گھنٹے اور روتا رہا۔
پھر اچانک یاد آیا کہ میں تو شادی شدہ ہوں، تو پھر چار گھنٹے اور مسلسل روتا رہا۔۔۔سالا
اردو

طلعت حسین نے مشرف دور کے الیکشن آور پروگرام میں کاوس جی کو مدعو کیا تها.
کاوس جی سے پوچها. میاں نواز شریف آپ کو گورنر سنده بنانا چاهتے تهے آپ کیوں نہیں بنے؟
اس پر کاوس جی نے کہا..وه تو گدها تها هم کو بولتا تها گورنر بنو..هم کو کدهر یہ کام آتا هے هم تو لکهنے والا آدمی هے..
طلعت نے حیرت سے کہا...آپ نواز شریف کو گدها بول رهے هیں؟
کاوس جی..تو اور کیا بولے؟
طلعت....کیا آپ نے اس وقت نواز شریف کو یہ بات کہی تهی؟
کاوس جی..کیسا بات کرتا هے...ابهی وه پاور میں تها هم اس کو کیسے گدها بول سکتا تها..ابهی مشرف پاور میں هے کیا هم اس کو گدها بول سکتا هے؟؟؟
تم بهی گدها هے کیا ۔۔۔۔سالا۔۔ہیں۔۔؟
اردو


Omar bangash retweetledi

غوث اعظم کے والد محترم کے پاس ایک عورت آئی اور اولاد نرینہ کی فرمائش کی، انہوں نے لوح محفوظ میں دیکھا تو وہاں لڑکی لکھی ہوئی تھی. والد صاحب نے انکار کر دیا کہ تیرے نصیب میں بیٹی لکھی ہے.
عورت فریاد لے کر غوث اعظم کے پاس آ گئی، عبدالقادر جیلانی نے کہا بےفکر ہو جا لڑکا ہو گا. لیکن نو مہینے بعد لڑکی ہو گئی تو عورت بچی کو لے کر غوث اعظم کے پاس شکایت لے آئی حضور لڑکا مانگوں اور لڑکی ملے؟؟
غوث اعظم نے بچی پر سے کپڑا ہٹایا تو ٹھیک ٹھاک بڑا سودا بمع دو عدد طوطوں کے موقع پر موجود تھا. عورت حیران پریشان ہوئی اور حاضرین مجلس نے سبحان اللہ ماشاء اللہ الحمدللہ کے نعرے لگائے. کرامت ظاہر ہو گئی اور بچے کا سودا دیکھ کر کئی یہودیوں عیسائیوں نے اسلام قبول کر لیا.
یہ بچہ بڑا ہو کر شیخ شہاب الدین سہروردی بنا جس نے صوفی سلسلہ سہروردیہ کی بنیاد رکھی، غوث اعظم نے نیچے سے تو مرد بنا دیا لیکن اوپر سے بنانا بھول گئے. لہٰذا آپ کے حلیہ مبارک میں ہے کہ آپ کی پستان مثل عورتوں کے تھیں۔‘‘ کئی علمائے کرام اپنے خطبہ میں بھی یہ واقعہ بیان کر چکے ہیں، تلاش کریں ان کے خطاب کی ویڈیو بھی کہیں مل جائے.
(باغِ فردوس گلزارِ رضوی، صفحہ 26، اور کراماتِ غوث اعظم، صفحہ 81)
اردو






