Sabitlenmiş Tweet
M Tanveer Nandla
612 posts

M Tanveer Nandla
@nandla
Bureau Chief at @DailyUrduPoint Multan|PM's Highest Achievers Award '24 | Pride of Pakistan '22 | PSL Hamaray Heroes SEO/Digital Marketing | RTs ≠ Endorsement
Multan, Pakistan Katılım Aralık 2009
672 Takip Edilen11.5K Takipçiler

رات کی تاریکی میں ایک ایسا طیارہ پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا جسے ٹرانسپونڈر بند ہونے کی وجہ سے ہر آنکھ نہیں دیکھ سکتی تھی۔
اس کا سگنل خاموش تھا، کیونکہ راستہ غیر معمولی تھا۔
اس کے گرد پاکستان ایئر فورس نے سیکیورٹی کی تہہ در تہہ دیوار کھڑی کی ہوئی تھی۔
فضاؤں میں ایک اور طیارہ بھی ساتھ چل رہا تھا، جیسے اصل طیارہ کو اوجھل رکھتے ھوئے دشمن کو دھوکہ دینے کی لیے اڑایا گیا تھا۔
نیچے زمین پر سخت پہرہ، اوپر آسمان میں نگرانی کا سخت حصار۔
اواکس، لڑاکا طیارے، اور انتہائی محتاط فضائی کنٹرول، سب ایک ایسے سفر کے محافظ تھے جو ایک حساس سفارتی لمحے کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا۔
اسلام آباد پہنچنے والی یہ پرواز خطے کی کشیدہ فضا میں چھپی ہوئی ایک بڑی پیش رفت تھی۔
جسے پاکستان ایئر فورس کی تہہ در تہہ (ملٹی لیئر) سیکورٹی نے ممکن بنایا!
سورس: جنگ

اردو

کل کے پائلٹ ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیں تو ایسا لگتا ھے آپ ہالی ووڈ کی کوئی فلم دیکھ رہے ہوں!
پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے لیے “دشمن” ملک کی سرزمین پر ایک عارضی بیس بنانا، سی ۱۳۰ لینڈ کروانا، اور اپنے ہی جہازوں کو تباہ کر کے صرف ایک پائلٹ کو لیکر نکلنا جہاں محلے کے چوہدری کے لیے فخر کی بات ھے
وہیں
ایک ایسا ملک جس پر دہائیوں سے پابندیاں ہیں، اسکا کریڈٹ کارڈ ڈومین ہوسٹنگ تک نہیں خرید سکتا؛
آج وہ چوہدری صاحب کا جدید ترین طیارہ گراتا ھے، پائلٹ کو ریسکیو کے لیے آنے والے مہمانوں کی خاصی “تواضع” کرتا ھے۔
اتنی تواضع کہ انہیں مزید ایف پینتیس اور سی ۱۳۰ منگوانے پڑتے ہیں۔
اور پھر ایف پندرہ، جنگی ہیلی کاپٹرز گنوانے اور سی ۱۳۰ کو خود تباہ کرنے کے بعد وہ نکل لیتا ھے!
اس پر مستقبل میں فلمیں بنا کریں گی۔۔۔
اردو
M Tanveer Nandla retweetledi
M Tanveer Nandla retweetledi
M Tanveer Nandla retweetledi

لاہور حادثہ پر خاوند کے ساتھ پولیس نے کیا سلوک کیا، اس پر تین سال پہلے کی آپ بیتی یاد آگئی!
لمبی سٹوری ہے، مکمل سٹوری بعد میں کبھی۔
مختصرا یہ کہ؛
سنہ 2023 کے محرم کی بات ہے میرے ایک ریلیٹو کو گو*لی مار دی گئی۔ متعلقہ ڈی ایس پی صاحب موقع پر آئے، اور آفس آنے کا کہہ کر چلے گئے۔
اگلے دن میں ان کے آفس میں گیا، سلام دعا ہوئی۔
انکا ایک بھتیجا پاس ہی کھڑا تھا جو کہ میرا سٹوڈنٹ تھا، اس نے میرا تعارف کروایا۔ خیر، ڈی ایس پی صاحب کو میں نے کہا کہ ایف آئی آر کٹوائیں، بندے گرفتار کریں۔
ڈی ایس پی صاحب نے دھمال مووی میں ایروپلین لینڈنگ والا سین شروع کر دیا؛
کہتے تنویر بیٹا کیا پوچھتے ہو۔۔۔
ایک بار 15 پر مجھے کال موصول ہویئ کہ ایک لڑکی کو فا*ئر لگ گیا ہے، میں موقع پر گیا، فورا سے پہلے میں پہچان گیا کہ لڑکی نے خود کو فا*ئر مارا ہے۔
تنویر بیٹا پوچھو بھلا مجھے کیسے پتہ چلا۔
میں جو نہایت ٹینشن میں تھا، غصے کے مارے خاموش بیٹھا رہا۔
کہتے میں نے لڑکی کے بازو کی قمیض دیکھی جو اوپر کو ہوئی ہوئی تھی، جیسے بازو میں فا*ئر مارنے کے لیے کی گئی ہو۔
میں نے اس کے خاوند کو پکڑا تو اس نے اقرار کر لیا کہ ہاں ہم نے وقوعہ بنایا ہے تاکہ الزام اپنے مخالفین پر لگا سکیں۔
میں جو سٹپٹایا بیٹھا تھا، عرض کی، حضور وہ مجرموں کو پکڑیں۔ بندہ نشتر ہسپتال میں زندگی موت کی کشمکش میں ہے۔
بولا بیٹا تنویر!
ایک دفعہ میں یہاں (علاقہ کا نام بول کر) ایس ایچ او لگا ہوا تھا کہ ایک کال آ گئی کہ ایک بندہ ق*تل ہو گیا ہے۔ میں فورا وہاں پہنچا تو میں نے کہا یہ ق*تل نہیں خود کشی ہے۔
بیٹا بوجھو بھلا مجھے کیسے پتہ چلا؟؟؟
میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ یہ بات کو کہاں لے کے جا رہا ہے۔
میں نے کہا سر وہ ایف آئی آر، مجرم۔۔۔
بولا جب میں وہاں پہنچا تو سی سی ٹی وی لگا ہوا تھا، فورا سے پتہ چل گیا کہ اس نے بزنس کی ٹینشن لیکر خود کو خود ہی۔۔۔
میں وہاں سے اٹھا اور مایوسی کے عالم میں گاڑی چلاتے ہوئے آفس کی طرف روانہ ہوا۔
اتنے میں مجھے ایم پی اے صاحب کا فیس بک سٹیٹس نظر آیا 'میرے اندر کا جانور سویا ہوا ہے، مرا نہیں'۔
خیر بات ساری سمجھ آ گئی کہ ڈی ایس پی صاحب کیا اور کیوں فرما رہے تھے اور پیچھے کون ہے۔
خیر، بڑے آفیسر کو میسج کیا، انہوں نے کہا جاو ایڈیشنل آئی جی ساوتھ پنجاب کو جا کر ملو میرے ریفرنس سے۔
میں نے Sajid کو ساتھ لیا اور پہنچ گئے۔
ہم بیٹھے، ایک فوٹو سیشن ہوا کہ سائل آئے ہیں اور ان کی شنوائی ہو رہی۔
وہ نہایت سلیقے سے ملے اور پوچھا بتاو کیا مسئلہ ہے۔
ساجد نے بات شروع کی اور میرے بارے میں بتانے لگا۔
آئی جی صاحب ازراہ مزاح بولے پہلا انسان دیکھا ہے جو اپنی تعریف کرنے کے لیے بندہ ساتھ لے آیا ہے۔
خیر، اتنے میں انہوں نے بیل دبائی اور اپنے پی اے کو بلایا۔
پی اے کو کہا کہ جاو آئی ٹی ہیڈ کو بلا کر لاو۔
آئی ٹی ہیڈ آ گئے۔
آئی جی صاحب میری طرف اشارہ کر کے بولے۔
اسے جانتے ہو؟
آئی ٹی ہیڈ بولے، جی سر۔
کہا کون ہے۔
تنویر نانڈلہ۔
کیسے جانتے ہو؟
سر، یہ آئی ٹی کا بڑا نام ہیں، ہم بھی جہاں پھنس جائیں تو ان سے ہیلپ لیتے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی صاحب کا ایک پاو خون بڑھ گیا اور بولے اب بتاو بیٹا۔
میں نے انہیں سب بتایا۔
خیر، انہوں نے Qazi Ali Raza Awan کی سربراہی میں ایک سپیشل انوسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی اور قاضی صاحب کو اللہ لمبی زندگی دی، نے میرٹ پر تفتیش کر کے مجرمان کا تعین کر لیا۔
میں نے سوچا، یہ تو میں تھا، جو پہنچ سکتا تھا ایڈیشنل آئی جی صاحب کے پاس۔
بیچاری عام عوام کا کیا حال ہوتا ہوگا۔۔۔

اردو
M Tanveer Nandla retweetledi
M Tanveer Nandla retweetledi

@jazzpk
220 Kbps internet.
In 2025.
You keep selling fast internet while customers are stuck with speeds worse than 2G.
This isn’t a minor issue anymore, it’s constant negligence.
Please fix your network or stop pretending it works.
People’s work and income depend on this.
@PTAofficialpk

English
M Tanveer Nandla retweetledi

M Tanveer Nandla retweetledi

I’m out 😂
@iemziishan
Syed Zeeshan Aziz@iemziishan
جواد بھائی آپکے "367" ووٹ تھے اگر کچھ اوپر نیچے ہو جائیں تو معذرت، لیکن آپ نے ان 367 میں سے بھی 2 ووٹ ختم کر دیئے یعنی میں اور میرا ایک دوست تنویر نانڈلہ - باقی کل ایک دوست نے میرے ریکارڈ میں درستی فرمائی کہ جواد بھائی کی زندگی سے عمران خان مائنس کرنے کے بعد "اوچیاں مجاجاں والی" کے ساتھ ساتھ "تک دھنا دھن" بھی باقی رہ جائے گا۔ اللہ آپ کو جلد صحت یاب فرمائے : آمین
English







