
Rafidhi
40.4K posts




Faisalabad has much better roads than Karachi.



اب جن کی روزی روٹی چلتی ہی نفرت سے ہو، ان کے لیے صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ دوا کا وقت گزر چکا۔

شبر زیدی بعض اوقات لا یعنی باتیں بھی کر جاتا ہے مگر یہ بات اسکی 16 آنے درست ہے کہ پنجاب ناکام ترین صوبہ ہے ۔۔۔۔جو کسی پروڈکٹیوٹی کا حامل نہیں ۔۔۔یہ فقط شوبازی سے ترقی یافتہ دکھتا ہے۔۔۔پنجاب کی واحد انکم سورس ایگریکلچرل تھا جو اس نا اہل حکومت نے تباہ کر دیا۔۔۔اندازہ کریں باقی صوبوں کو گندم فراہم کرنے والا صوبہ گندم کی کمی کا شکار ہے۔۔۔وائٹ گولڈ (کپاس) جو جنوبی پنجاب کی پہچان تھی اسے باقاعدہ پلاننگ کے تحت تباہ کیا گیا ۔۔۔ جنوبی پنجاب جو کاٹن بیلٹ تھا کو سیاسی اثر و رسوخ کے تحت شوگر کین بیلٹ میں تبدیل کیا گیا۔کپاس کے علاقوں میں شوگر ملیں لگانے کی اجازت دی گئی ۔۔کپاس کاشت کی حوصلہ شکنی کی گئی ۔۔ پاکستان کی کپاس کی کل پیداوار جو کبھی 1 کروڑ 40 لاکھ بیلز تک پہنچ چکی تھی حالیہ سالوں میں گر کر تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیلز تک رہ گئی ہے۔۔۔ہم کپاس برامد کرتے تھے اب نیم مردہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو چلانے کے لیے ہر سال اربوں ڈالر کی کپاس درآمد کرنے پر مجبور ہے۔۔ انکی ترجیحات کا اندازہ لگائیں کہ کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کو سرے سے ختم کیا جارہا ہے۔۔ پنجاب جو پورے ملک کا پیٹ پالنے کا دعویدار تھا۔۔۔حالیہ حکوم کی ناقص پالیسیوں مارکیٹ کی بدانتظامی اور گندم اسکینڈلز کی وجہ سے خود بحران کا شکار ہے۔۔۔۔پنجاب میں پہلی بار گندم کی شارٹیج دیکھی جارہی ہے ۔۔۔حکومت کی طرف سے کسانوں سے سرکاری ریٹ پر گندم نہ خریدنے کے فیصلے نے کسانوں کو مالی نقصان پہنچایا جس سے مجبور ہو کر کئی کسانوں نے گندم کاشت کرنا ہی چھوڑ دی یا کم کر دی۔۔۔جسکا نتیجہ سامنے ہے۔۔ کھادوں کی بلیک مارکیٹنگ، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے،مہنگی بجلی اور جعلی بیجوں کی وجہ سے فی ایکڑ پیداواری لاگت بڑھ گئی اور منافع ختم ہو گیا۔۔رہی سہی کسر حکومتی خریداری پالیسی نے نکال دی۔۔ پنجاب کا زیادہ تر بجٹ سڑکوں، میٹرو اور نمائشی منصوبوں انفراسٹرکچر پر لگایا گیا جبکہ زراعت اور لائیو اسٹاک جیسے حقیقی پیداواری شعبوں کی جدید خطوط پر تحقیق کے لیے فنڈز نہ ہونے کے برابر رکھے گئے۔۔۔ پنجاب کی معیشت کا دارومدار زراعت پر تھا، لیکن کپاس کی فصل کو گنے سے بدلنے اور گندم کے کسانوں کو ریلیف نہ دینے کی وجہ سے یہ صوبہ اپنی معاشی خودمختاری کھو چکا ہے اور اب پنجاب صرف "کنزیومر مارکیٹ" بن کر رہ گیا ہے۔












