Sarang Joyo
25.2K posts

Sarang Joyo
@sarangjoyo
Writer, Researcher, Political and human rights activist and Central President Sindh Renaissance Forum






کیا آپ جانتے ہیں کہ "سندھ آئی بیکس" ایک حساس، چوکنا اور انسانوں سے ڈرنے والا جاندار ہے؟ محفوظ فاصلے سے بنائی گئی وڈیو میں سندھ آئی بیکس المعروف "سرھ" کے ایک بڑے گروپ کو کھیر تھر نیشنل نیشنل پارک حدود کی چراگاہوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ وائیلڈ لائیف بیالوجی، اکالوجی اور مینجمنٹ سائنس میں جانداروں کے مشاھدہ کرنے کی ٹیکنیکس بتائی گئی ہیں۔ شوقین حضرات کم از کم ایک دفعہ زندگی میں ان سبجیکٹس کا مطالعہ ضرور کریں۔ کھیرتھر نیشنل پارک کے جیوگرافیکل فیچرز اور دیگر معلومات کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا سندھ وائیلڈ لائیف کے رٹائرڈ افسر غلام سرور جمالی جنہوں نے اپنی زندگی کھیرتھر پہاڑی سلسلے میں تحفظ جنگلی حیات میں گزاری نوجوانوں کے لیے مشعل راہ جیسے ہیں اور انکے بنا کھیرتھر پہاڑیوں کا ذکر ادھورا رہتا ہے۔ سندھ آئی بیکس کا مشاھدہ کرنے اور وائیلڈ لائیف فوٹوگرافی کے شوقین حضرات سے گزارش ہے کہ عمودی پہاڑیوں پر واقع انکی آرام کرنے یا ریسٹنگ والی جگہوں تک پہنچنے سے گریز کریں کیونکہ انکی سونگھنے کی حس تیز ہوتی ہے اسلیے اپنے علاقے میں انسانی آمد کی خوشبو فوراً پہچان لیتے ہیں اور اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں اور ایسا غیر محفوظ علاقہ چھوڑنا انکی ترجیع بن جاتا ہے۔ انکے علاقوں میں جانے کا درست وقت صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ تجربہ کار گائیڈ لیں۔ جاتے وقت اپنے آپ کو کیموفلاج کریں اور ھوا کا رخ نوٹ کریں۔ انکو دیکھنے کے لیے ہانکا نہ کریں کیوں کہ یہ شدید تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کے اوپر ڈرون اڑانے سے گریز کریں بصورت دیگر یہ سنگین خلاف ورزی مانی جاتی ہے۔ انکو دیکھنے کا سائنسی طریقہ دوربین اور بہترین وقت " رٹ" سیزن ہوتا ہے جو کہ نروں اور ماداؤں کی ملاقات کا سالانہ میلہ جیسا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں آئی بیکس کی 5 اسپشیز پائی جاتی ہیں۔ ٹیکسانومسٹس میں اس حوالے سے تھوڑا سا اختلاف موجود ہے البتہ اکثریت کے مطابق دنیا بھر میں "آئی بیکس" کی اسپشیز جو کہ سائبیرین، الپائین، نیوبین، والیا اور اسپینش آئی بیکس ہیں۔ صوبہ سندھ کے پہاڑی سلسلوں میں پایا جانے والا 'سندھ آئی بیکس' سائبیرین آئی بیکس' برادری سے تعلق رکھتا ہے جن میں موسم اور خوراک کے فرق کی وجہ سے البتہ تھوڑی بہت جسمانی تبدیلی نظر آ سکتی ہے لیکن جینیاتی لکیر ایک ہی ہے۔ آئی بیکس کو "پہاڑی علاقوں کا 'اسٹنٹ مین" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ بے حد پھرتیلے اور انتہائی عمودی پہاڑی چڑھائیاں پلک جھپکتے میں عبور کرتے ہیں۔ انکا اکالوجیکل رول پہاڑی علاقے کی جنگلی ویجیٹیشن کو ریگیولیٹ کرنا اور پرے پریڈیٹر رلیشن شپ مین "آئی کونک" اسپشیز کے طور ہے۔ کھیرتھر نیشنل پارک جہاں 600 سے زائد چرند، پرند اور نباتات پائے جاتے ہیں ایک وسیع و عریض رقبہ پر مشتمل ہے اور ملحقہ پہاڑی علاقے سندھ آئی بیکس کا مسکن ہیں جہاں سندھ وائیلڈ لائیف ڈپارٹمنٹ کی چار وائیلڈ لائیف ڈویژنز کا ڈھائی سو کے لگ بھگ عملہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے محدود وسائل میں کام کر رہا ہے۔ آرکیالوجی ماھرین کے مطابق صوبہ سندھ میں کھیرتھر پہاڑی سلسلے سمیت دیگر پتھروں پر ملنے والے "راک آرٹ" میں 'آئی بیکس' کی نمایاں موجودگی سے تاریخ کے جھروکوں میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ دنیا کی ثقافتوں میں آئی بیکس کو مقام حاصل ہے، کچھ نے انکو چاند سے تشبیہہ دی، کچھ نے زرخیزی سے جبکہ کچھ ثقافتوں میں انکو بد روحوں کے اثر سے بچانے والا قرار دیا۔ بدقسمتی سے ہمارے موجودہ پس منظر میں جہالت کا لبادہ پہنے شکاریوں نے اسکو صرف شکار کرنے اور حلال گوشت کے طور جانا ہے۔ #SindhWildlife🇵🇰 #Sindh_Ibex #Biodiversity
















