Sammar Javed🇵🇰
12.5K posts

Sammar Javed🇵🇰
@summerjaved
A Muslim | A Patriotic Pakistani |A PTI Man | A struggler Business Man | Full of confidence | Always Mercy Man | Trustworthy |

ایسے ترقیاتی منصوبوں میں عوام کا پیسہ لگائیں گے جن کے نتائج یقینی ہوں‘وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ائندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے اجلاس سے خطاب thepakistandesk.com/2026/05/pakist…


شہادت سے پہلے شیر کا بچہ ساری کہانی بیان کر گیا۔۔ آج چار سال بعد وہ سامنے آ رہی جو ارشد شریف شہید نے تین اکتوبر دو ہزار بائیس کو بتائی







مجھے نہیں معلوم یہ واقعہ پنجاب کے کونسے شہر کا ہے، لیکن منظر دیکھ کر لگتا ہے کہ سامنے والا شخص کافی بااثر ہے۔ آج کل عام شہری تو ٹریفک پولیس کے سامنے ذرا سی بات پر ذلیل ہو جاتا ہے، کہیں ڈانٹ، کہیں چھترول، کہیں بے عزتی۔ لیکن یہاں ایک شخص کھلے عام گالیاں دے رہا ہے، ہاتھ بھی اٹھا رہا ہے اور اتنے پولیس والے خاموش کھڑے ہیں۔ پنجاب پولیس کا یہ صبر عام آدمی کے لیے کم ہی نظر آتا ہے۔ غریب شہری ہو تو فوراً قانون یاد آ جاتا ہے، طاقت دکھائی جاتی ہے، تھانے اور مقدمے سامنے آ جاتے ہیں۔ مگر جب سامنے کوئی طاقتور یا “تگڑا بندہ” آ جائے تو اکثر زبانیں بند اور ہاتھ نیچے ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ جو شخص پولیس اہلکار کے ساتھ بدتمیزی اور ہاتھا پائی کر رہا ہے، اس کا عمل قابلِ مذمت ہے اور قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی۔ لیکن ہمارے نظام کا المیہ یہی ہے کہ پولیس بھی حالات اور طاقت کو بھانپ لیتی ہے، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کہیں اوپر سے فون نہ آ جائے۔ @OfficialDPRPP @OfficialDPRPP

"غربت جرم ہے"



یہ ہمارے لیہ میں گائوں جیسل کلاسرا کی آج کی ویڈیو ہے جو میرے مسات سمیع اللہ کلاسرا کے کھیت کی ہے جہاں آج اس کی فصل کٹ کر تھریشر کے زریعے گندم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ سمیع اللہ نے برسوں کے بعد ہمارے علاقے کی بھولی بسری روایت کو زندہ کر دیا ہے. گندم تھریشر سے نکالنے کے موقع پر زبردست علاقائی ڈھولچی منگوائے اور مزدورں کے ساتھ مل کر ڈھول پر زبردست جھمر ماری ہے۔۔ اپریل کا ماہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں جہاں گندم کی کٹائی ہوتی ہے بڑا خوشیوں والا ہوتا ہے۔ اس خوبصورت ناچتی گاتی ویڈیو نے مجھے اپنے گائوں کا بچپن اور لڑکپن یاد کرا دیا جب گندم کی فصل کاٹنے لے لیے ونگاریں ہوتی تھیں؛ شاندار دیگ پکتی تھی، دیسی گھی کی روٹیاں، مکھن اور تازہ تازہ لسی کے ڈول۔ ڈھول والے بلائے جاتے تھے اور فصل کاٹنے کے مقابلے ڈھول کی تھاپ پر ہوتے تھے کہ کون سا گروپ کتنی زیادہ فصل کاٹتا ہے۔ ونگار ( گائوں کے رضاکاروں کی ٹولیاں) میں دو دو گروپ فصل کاٹنے اکٹھے ہوتے تھے تاکہ ایک دن ایک زمیندار کی پوری فصل کاٹ دیں۔ پورے علاقے کے لوگ کسی ایک کی فصل کاٹنے مفت میں اکٹھے ہوتے۔ کوئی مزدوری کوئی پیسہ نہیں۔ سب مل کر کاٹتے اور اگلے دن وہ زمیندار اس زمیندار کی فصل کاٹنے میں شریک ہوتا جو کل اس کی کٹائی آیا تھا۔ اس طرح پورے علاقے کی گندم کٹتی تھی۔ بس ایک شرط ہوتی تھی کہ کھانا بہت اچھا اور ڈھولچی زرا تگڑا ہو۔ ہر کوئی اپنی اپنی تیز درانتی گھر سے لے کر کھیت پہنچ جاتا۔ دو دو گروپ بنائے جاتے مقابلہ پر۔ صبح سویرے سویرے سورج ابھرنے سے پہلے سب کھیت میں موجود اور ڈھول کی پہلی تھاپ پر کٹائی کا مقابلہ شروع۔ اس سے پہلے سب کو مکھن روٹی گڑ کے ساتھ ناشتہ اور دوپہر کے بعد دیگ کا سالن اور گرم روٹی اور سوجی کا حلوہ یا میٹھی سویاں اور پھر ٹھنڈی لسی اور پھر ڈھول کی تھاپ پر کٹائی شروع۔ شام کو گندم کے گھٹے گنے جاتے اور جس کے زیادہ ہوتے تو وہ ڈھول کی تھاپ پر ناچ ناچ کر پورا کھیت برابر کر دیتے۔ ہارنے والے گروپ پر تبرے اور لطیفے نعرے۔۔ رات گئے گھروں کو لوٹ جاتے۔۔ سارا دن گرم کھیت میں ڈھول بجتا رہتا اور اس کی تھاپ پر درانتیوں کی رفتار بھی تیز ہوتی رہتی۔ یوں لگتا مردوں کی کلائیوں سے زیادہ درانتی ڈھول کی دیوانی ہے جو گندم کے کھیت میں مستی سے جھومتے جارہی ہے۔ پوری بستی اس موسیقی بھرے رنگ میں بسنتی کی طرح رنگ جاتی۔ ہر طرف ہنستے مسکراتے چہرے، ڈھول پر گیت گاتے مزدور کسان اور پھر جس دن تھریشر کے بعد گندم نکالی جاتی تو پھر گائوں کے بچے اپنا حصہ لینے پپنچ جاتے ( میں بھی یہ حصہ لیتا رہا ہوں) اور کھیت کا مالک سب کو کچھ نہ کچھ گندم دیتا کہ خوشی کا دن ہے اور ہم بچے وہ گندم دکان پر فورا بیچ کر مٹھائی کھاتے۔ گندم کی فصل اچھی پیداوار دے جاتی تو زمیندار بیٹے کی شادی کر دیتا اور اگر زیادہ اچھی ہوجاتی تو اپنی بھی ساتھ دوسری شادی کر لیتا اور اگر بمپر کراپ کے بعد جیب بھر جاتی تو دو تین پرانی دشمنیاں نکال کر جیبیں بھر کر تھانے اور وکیل کے پاس پپنچ کر وہیں جیبیں خالی کر آتا۔ اب سمیع اللہ سے پوچھنا پڑے گا اس کی فصل کس لیول کی ہوئی ہے۔۔ 😎 ابھی آپ ڈھول کی تھاپ پر ہمارے دیہاتیوں کے محنتی خوبصورت مزدورں کی خوشی سے لطف اندوز ہوں۔ زندگی سے لطف اندورز اور مزہ لینا کےلیے بہت امیر یا ارب پتی ہونا ضروری نہیں۔ روز مزدوری مل جائے، عزت سے سارا دن کام کر لیں، شام کو اپنا کام ختم کر کے ناچنے کے لیے ایک تگڑا ڈھولچی مل جائے۔ اور انسان کو زندگی سے اور کیا چائیے۔۔ مزہ لیں ڈھول کی تھاپ پر ناچتے ہمارے ان مزدورں کی خوشی بھری اس سادگی بھری خوبصورت زندگی کا ۔۔ تحریر/رئوف کلاسرا #RaufKlasra #village #VillageLifeBeauty



اوکاڑہ، رینالہ خورد مقامی صحافی اور تاجروں نے AC رینالہ خورد سے سوال کیا کہ Beautification پراجیکٹ کے پیسے کہاں لگنے ہیں؟ یہ سوال ناگوار گزرا، شہری کے مطابق اے سی صاحبہ نے کہا آپ ہوتے کون ہیں سوال کرنے والے؟جس پر اس شہری پر انتظامیہ کے اہلکاروں پر حملے کا مقدمہ درج ہوگیا۔










