
پاکستان افغانستان کے راستے وسط ایشیاء میں تقریباً ایک سے دو ارب ڈالرز کی سالانہ تجارت کرتا تھا۔افغانستان کو بطور ٹرانزٹ استعمال کیا جاتا تھا،لیکن حالیہ کشیدگی کے باعث راستوں کی بندش کے باعث ایک متبادل روٹ کا استعمال کیا گیا ہے،جس کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے۔
ایران کے راستے وسطی ایشیا تک ایک نئی تجارتی راہداری کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے۔ پہلی کھیپ پیر کے روز گوادر بندرگاہ سے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کے لیے روانہ کی گئی ہے۔
ابتدائی مرحلے میں پاکستان اس راہداری کے استعمال سے سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالرز کماسکتا ہے اور اگر اس راہداری کا مکمل طور پر استعمال کیا جائے،طویل مدت کے لئے اقدامات کیے جائیں تو سالانہ 10 سے 15 ارب ڈالرز کی تجارت ہوسکتی ہے۔
کیوں کہ یہ مستحکم راہداری ہوگی،افغانستان کی طرح غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا،گوادر اور کراچی سے براہ راست منسلک ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بلوچستان میں روزگار اور ترقی کے مواقع بڑھیں گے،تاہم اس دوران بی ایل اے جیسے گروہ اپنی سرگرمیاں تیز کریں گے تاکہ اس کو سبوتاژ کیا جاسکے
اردو



