تغريدة مثبتة
PEACE LOVER
178.3K posts

PEACE LOVER أُعيد تغريده
PEACE LOVER أُعيد تغريده
PEACE LOVER أُعيد تغريده

عمران خان جب درخت لگانے کی مہم چلا رہا تھا تب شعور سے عاری Minions اُس کا مذاق اُڑایا کرتے تھے۔ یہ Climate Change اور گلوبل وارمنگ جیسی چیزیں ان لوگوں کے لیے نہیں بنی ہیں۔
شجرکاری نہیں قیمے والے نان اور بریانی کو عام کریں۔
Javeria Siddique@javerias
ابھی اپریل میں گرمی کے یہ تیور ہیں تو مئ جون جولائی میں کیا ہوگا ؟ درخت لگ لگاو پاکستانیو 🥴😓
اردو
PEACE LOVER أُعيد تغريده

پی ٹی آئی لیڈر شپ کے پاس 15 دن کا وقت ہے عمران خان کی رہائی کا۔ ورنہ جرگے میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ خرم زیشان
ڈاکٹر شہباز گل کا مکمل اردو ویلاگ دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
youtu.be/-RzFyZgajKU?si…

YouTube
اردو
PEACE LOVER أُعيد تغريده

بریکنگ نیوز: عمران خان کا سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ میں اپیل دائر کرنے کیلئے وکالت نامہ پر دستخط کرانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر، خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ نے درخواست میں لکھا کہ کئی بار کوشش کے باوجود سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عمران خان سے وکالت نامہ دستخط کروا کے نہیں دے رہے، وکالت نامہ دستخط کروا کے دینے کا حکم دیا جائے اور سپریٹنڈنٹ کا دستخط نہ کروا کے دینے کا اقدام خلافِ قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جائے

اردو
PEACE LOVER أُعيد تغريده
PEACE LOVER أُعيد تغريده

PAF is murdering babies ‼️

Afghan Journalist@Afghan0344
یہ ننھی معصوم بچی بھی آج فوجی رژیم کے حملے میں زخمی ہو گئی، #ISPR اور #ISI سے منسلک ہینڈلز کا دعویٰ ہے کہ یہ معصوم بچی مبینہ طور پر دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتی تھی اور ٹی ٹی ٹی کی حمایت کرتی تھی، جس کی وجہ سے اس کے خلاف کارروائی کی گئی اور وہ زخمی ہو گئی۔😰
Filipino
PEACE LOVER أُعيد تغريده

حیدر سعید کا پاکستانیوں کے نام پیغام
میرے پاکستانیوں، ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں:
سدا بادشاہت میرے اللہ کی ہے۔
دنیا میں جو بھی زمینی خدا بنا ہوا ہے، وہ صرف عارضی ہے، اور میرے اللہ کی بادشاہت تا حیات ہے۔
حقیقی خدا صرف میرا اللہ ہے۔ کتنے فرعون آئے اور چلے گئے، کتنے آئے خدائی کا دعویٰ کرنے والے اور غرق ہو گئے۔
نام صرف اور صرف میرے اللہ کا قائم ہے اور رہے گا۔
جن لوگوں نے حق کا ساتھ دیا اور حق پہ چلتے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے، ان کے نام آج بھی زندہ ہیں اور آج بھی ہم سب کو اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔
لیکن جو لوگ اللہ اور اس دین کے خلاف چلتے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے، ان سب کے نام سیاہ الفاظ میں لکھے اور پڑھے جاتے ہیں۔
"خدا بادشاہ کو گدا اور امیر کو فقیر بنا دیتا ہے۔"
اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس اور ناامید نہ ہونا۔
اللہ سے امید رکھیں، وہ ہمارے مرشد عمران احمد خان نیازی کو رہا کروائے گا۔
میں ہمیشہ یہ بات کرتا ہوں اور آج اٹک جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے بھی کر رہا ہوں کہ عمران احمد خان نیازی صرف پاکستان کے لیڈر نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیڈر ہیں۔
پاکستان کی ترقی کی کنجی صرف عمران احمد خان نیازی کی رہائی میں ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھیں، دنیا میں امن صرف عمران احمد خان نیازی ہی کروا سکتے ہیں، کیونکہ مرشد عمران احمد خان نیازی امتِ مسلمہ کے لیڈر ہیں۔
جب میرے اللہ نے مرشد عمران احمد خان نیازی کی رہائی کا سبب پیدا کیا تو دنیا کی کوئی بھی طاقت خان صاحب کو رہا ہونے سے روک نہیں سکتی۔
میرا اللہ کوئی نہ کوئی سبب ضرور پیدا کرے گا، اور عمران احمد خان نیازی ضرور رہا ہوں گے۔
امید اور صبر کے دامن کو کبھی ہاتھ سے چھوڑنا نہیں۔
اپنی محنت اور کوشش جاری رکھیں، کامیابی اللہ دے گا۔
حق پہ چلنا مشکل ہے اور حق کے راستے پر چلتے ہوئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
جب ہم سب اپنے حصے کی قربانی دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اللہ ہم سب کو جلد ہی فتح عطا فرمائے گا۔
اللہ کبھی کسی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک ماں اپنے بچوں سے کتنا پیار کرتی ہے؟
اور میرا اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔
جب ہم تکلیف میں ہوتے ہیں تو ہماری ماں کو سکون نہیں ہوتا۔
جب تک ہم تکلیف سے باہر نہ نکل آئیں، ماں پریشان رہتی ہے اور رو رو کر اللہ سے دعائیں کرتی ہے۔
جب ہماری ماں ہمیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی، تو جو 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا رب ہے، وہ کبھی بھی اپنے بندے کو اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں دیتا۔
میرا اللہ ہمیں آزماتا ہے کہ میرا بندہ مشکل میں مجھے یاد کرتا ہے یا نہیں۔
میرا اللہ بہت زیادہ دے کر بھی ہمیں آزماتا ہے اور کچھ مشکلات دے کر بھی ہمیں آزماتا ہے۔
ہمیں اللہ کی رضا میں راضی ہونا چاہیے اور ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس سے مدد مانگنی چاہیے۔
میرا اللہ اس بندے کو پسند کرتا ہے جو اللہ سے بچوں کی طرح مانگتے ہیں۔
اللہ نے جو دیا ہے اس پر شکر ادا کرنا چاہیے، اور جو نہیں دیتا وہ ایسے بول کر مانگنا چاہیے:
"یا اللہ، اگر یہ چیز میرے لیے بہتر ہے تو مجھے عطا کر دے۔"
میرا اللہ بہت بے نیاز ہے۔
اللہ کہتا ہے: "مجھ سے مانگو، میں تمہیں عطا کروں گا۔"
جو بھی مانگنا ہے اللہ سے مانگو، جو نہ گنتا ہے، جو نہ احسان جتاتا ہے۔
میرے اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔
اللہ سے مانگو، جو بھی مانگنا ہے، تہجد میں رو رو کر مانگو، وہ ضرور عطا کرے گا۔
جس اللہ نے حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں محفوظ رکھا،
جس اللہ نے حضرت ابراہیم کو آگ سے محفوظ رکھا،
جس اللہ نے حضرت یوسف کو کنویں اور زندان میں محفوظ رکھا،
وہ اللہ میرے اور آپ کے مرشد عمران احمد خان نیازی کو بھی محفوظ رکھے گا۔
اور حضرت ابراہیم، حضرت یوسف، حضرت یونس کی طرح امتِ مسلمہ کے لیڈر عمران خان کو بھی محفوظ رکھے گا۔
خان صاحب کا اللہ پر پختہ ایمان ہے اور وہ اسی اللہ پر پختہ ایمان کی بدولت ابھی تک ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
اگر ہم بھی اپنا ایمان اللہ پر پختہ کر لیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں بھی مرشد عمران احمد خان نیازی کی طرح ہمت اور بہتری عطا فرمائے گا۔
جب زندگی، موت، عزت، ذلت سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں تو پھر کسی چیز کا ڈر نہیں ہونا چاہیے۔
تو بس اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔ اس دنیا میں سب سے بڑی طاقت ایمان کی طاقت ہے۔
جس کے پاس ایمان کی طاقت ہے، اس کے پاس دنیا کی طاقت ہے۔
جس کے پاس ایمان کی طاقت ہو، اس کو ظاہری طور پر تو ہرایا جا سکتا ہے لیکن حقیقی طور پر کبھی اور کسی صورت ہرایا نہیں جا سکتا۔
میرے پاکستانیوں، اپنے ایمان کو مضبوط سے مضبوط تر کرو، کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔
اللہ پاک ہم سب کے ایمان کو مزید مضبوط کریں۔
اللہ پاک عمران خان سمیت تمام سیاسی اسیران کو رہائی عطا فرمائے۔
اللہ پاک ایران، فلسطین سمیت دنیا کے مسلمانوں کی مدد اور نصرت عطا فرمائے۔
1/2
اردو
PEACE LOVER أُعيد تغريده

PEACE LOVER أُعيد تغريده

کتنے ہی سورج ڈھل گئے، کتنے ہی چاند نکلے، مگر ان بے گناہوں کی قید ختم ہوئی، نہ فیملی سے ملاقات، نہ وکلاء تک رسائی کسی عدالت سامنے پیشی ہوئی💔
581 دن۔۔۔۔۔ یہ صرف گنتی نہیں، بلکہ انصاف کے انتظار میں کٹی ہوئی دو بے گناہ زندگیوں کے کرب میں گزری ساعتوں کا حساب ہے۔ سید سلمان رضا اور جنید جہانگیر کو ان کے سیاسی نظریات کی سزا دی جا رہی ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔
#ReleaseJunaidAndSalman #ReleaseJunaidJahangir
@amnesty @hrw @UNHumanRights @amnestysasia @hrw_asia @ICJ_org @volker_turk @MaryLawlorhrds

اردو
PEACE LOVER أُعيد تغريده
PEACE LOVER أُعيد تغريده

اللہ کی شان دیکھیں، جو عمران خان پر بھونکتا ہے آخرکار خود ہی ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے۔ یہ کہہ رہا تھا “عمران خان کے فالور ہو، مرد بنو، یوتھیاپا نہ کرو،میرے پاس ثبوت ہیں مجھے گالی دی” سے لیکر “میرے پاس ثبوت نہیں ہے کہ مجھے گالی دی “
یہی انجام ہوتا ہے جب جھوٹ، تکبر اور شہرت کی بھوک انسان پر حاوی ہو جائے تو، ایسے لوگوں کا معاشرتی شجرہ آخرکار اپنے جیسے لوگوں سے ہی جا ملتا ہے۔


اردو
PEACE LOVER أُعيد تغريده
PEACE LOVER أُعيد تغريده
PEACE LOVER أُعيد تغريده

پٹواری ایک طرف ایران کو پشپا اور شیطان العرب کی محبت میں گالیاں دیتے ہیں۔ دوسری طرف کروڑ پتی بننے کے لئے ایرانی کرنسی خریدتے ہیں۔
ایسے ہی ایک پٹواری نے اپنے گھر کا سارا سامان مال مویشی سب ڈنگر بیچ کر بیس لاکھ روپے جمع کیے۔ اور ایرانی کرنسی بلیک مارکیٹ سے چار گنا مہنگی خرید لی۔
کل مجھے فون کیا۔ کہا بھائی میرے پاس اتنے ایرانی ریال ہیں۔ آپ کو اگر بیجھ دوں تو وہاں مہنگے داموں بیچ کر مجھے کروڑ پتی بنا سکتے ہیں؟
میں نے ریٹ چیک کیا تو اس کے بیس لاکھ اب پانچ لاکھ رہ چکے ہیں۔ میں نے اسے بتایا تو وہ پھر ایران کو گالیاں دینے لگ پڑا۔
میں نے کہا او ڈنگر اس میں ایران کا کیا قصور ہے؟ قصور تو سمگلرز اور بلیکیوں کا جنہوں نے تمہیں دھوکہ دیا۔ اور تمہارا قصور ہے کہ تم نے دھوکہ کھایا۔ تم نے کرنسی پانچ گنا مہنگی خریدی۔ اب دعا کرو دوبارہ جنگ نہ ہو ورنہ پانچ لاکھ روپے بھی اڑھائی لاکھ رہ جائیں گے۔
اردو
PEACE LOVER أُعيد تغريده
PEACE LOVER أُعيد تغريده

صبح کی اذان دیوار سے ٹکرا کر لوٹ آتی تھی، بے رنگ، لرزتی، جیسے کوئی پرانا نام دہلیز پر رک جائے اور آگے قدم نہ اٹھا سکے۔ وہ کمرے کے کونے میں بیٹھا تھا، دائیں آنکھ سے روشنی کے دھندلے دھبے پہچاننے کی کوشش کرتا، جیسے پانی کی گہرائی میں سے آسمان دیکھنے کی کوشش کی جائے اور پانی خود آسمان بن جائے۔ نو گز اور یارہ فٹ۔ بس اتنی دنیا بچ گئی تھی۔ اوپر ایک کیمرہ تھا جو جھپکنا بھول گیا تھا۔
ستمبر میں ایک خط لکھا تھا۔ چیف جسٹس کے نام، اس امید کے ساتھ کہ شاید کاغذ وہاں تک پہنچ جائے جہاں آواز نہیں پہنچتی۔ ہاتھ قلم پر رکھا اور بہت دیر سوچتا رہا، جیسے ہر لفظ کا بوجھ پہلے جانچنا ضروری ہو۔ پھر لکھا: نو گز یارہ فٹ۔ کوئی کتاب نہیں، کوئی اخبار نہیں، ملاقاتیں منسوخ، پیغام رک جاتے ہیں، صرف یہ کیمرہ ہے جو چلتا رہتا ہے اور جو میرے ہر لمحے کا گواہ ہے مگر جس کی گواہی کسی کو نہیں چاہیے۔ خط بھیج دیا۔ جواب نہیں آیا۔ یا شاید آیا مگر رک گیا، جیسے باقی سب کچھ۔ انتظار بھی ایک مہارت ہے جو یہاں آ کر سیکھی۔
اکتوبر میں آنکھ پہلی بار دھندلائی تھی۔ پہلے صرف اخبار کی سرخیاں مدھم ہوئیں، پھر پتہ چلا کہ اخبار ہی نہیں ہے۔ آنکھ دھندلاتی رہی اور درخواستیں کاغذ پر جمع ہوتی رہیں، جیسے پت جھڑ کے پتے جنہیں کوئی نہ اٹھائے۔ مہینے بیتے۔ جنوری آئی، فروری آئی۔ ڈاکٹر نے بتایا: پندرہ فیصد بینائی بچ گئی ہے دائیں آنکھ میں۔ پندرہ۔ وہ یہ ہندسہ دیوار پر لکھنا چاہتا تھا، مگر قلم نہیں تھا۔ قلم بھی ایک عرصے سے نہیں تھا۔
بیٹوں سے فون کی اجازت عدالت نے دی تھی، حکم لکھا ہوا، مہر لگی ہوئی۔ حکم کاغذ پر تھا، کاغذ کسی میز پر تھا، میز کسی دفتر میں تھی، اور دفتر میں وہ نہیں تھے جن کے دستخط سے فون ممکن ہوتا۔ ایک بار آواز آئی، مختصر، جلدی میں، ادھوری۔ بیٹے کی آواز، جس میں ابھی بچپن کی کچھ باقیات تھیں۔ اس نے کہنا چاہا: ٹھیک ہوں۔ مگر لائن کٹ گئی۔ اس نے اپنا نام سنا خود اپنی آواز میں اور سمجھ نہ آیا کہ وہ کہہ رہا ہے یا پوچھ رہا ہے۔ اذان ہوئی، مغرب کی۔ اس نے آنکھیں بند کیں۔
جس رات ملاقات ممکن ہوئی، اس کی بہن آئی۔ وہ بہت دیر چپ رہی۔ پھر بولی:
"کچھ چاہیے؟"
اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا، جیسے جواب وہاں لکھا ہو۔
وہ مسکرایا، اس طرح جیسے کچی دیوار پر رنگ ہو، جو اندر کی نمی کو چھپا نہ سکے۔
"اخبار، اگر ہو سکے تو۔"
بہن نے کچھ نہ کہا۔ مگر اس کی آنکھیں وہ سب کہہ گئیں جو وہ خود سے کہنا نہیں چاہتی تھی۔
اپریل کی چودہ تاریخ کو وہ پھر آئیں، دونوں بہنیں۔ اس بار انہوں نے ایسی جگہ کھڑی ہو کر انتظار کیا جہاں کیمرے تھے، تاکہ ثابت رہے کہ وہ آئی تھیں۔ اپنے آنے کی گواہی دینے کے لیے آئی تھیں۔ دروازہ نہیں کھلا۔
اندر اذان کی آواز آئی، کون سی نماز کی، معلوم نہیں۔ جب باہر کی دنیا کا کوئی حوالہ نہ ہو تو وقت کی تمیز آہستہ آہستہ مٹ جاتی ہے۔ پہلے دن، پھر ہفتے، پھر موسم۔
اس روز وہ اٹھا اور دائیں آنکھ سے کمرے کو دیکھنے کی کوشش کی۔ روشنی تھی۔ ہاں، تھی۔ مگر شکلیں نہ تھیں۔ دیوار کا اندازہ تھا، کیمرے کی سمت کا اندازہ تھا، سلاخوں کا احساس تھا، مگر سب ایک ملگجی دھند میں گم۔ اس نے سوچا: آنکھ بھی اسی طرح بند ہوتی ہے جیسے دروازہ، آہستہ، خاموشی سے، اور پھر ایک دن مکمل طور پر، بغیر کسی اعلان کے۔ اور جب آنکھ دیکھنا چھوڑ دے تو وہ صرف یاد کرتی ہے، روشنی کو، آسمان کو، چہروں کو، اور یاد اتنی گہری ہوتی ہے کہ دیکھنے اور نہ دیکھنے کا فرق مٹ جاتا ہے۔
اذان ہوئی، عشاء کی۔ اس نے چہرہ آواز کی سمت موڑا۔ آنکھیں بند کیں۔ دائیں آنکھ کے اندر ایک دھندلا نور تھا، شاید یاد تھی، شاید امید، جس کا کوئی نام نہیں ہوتا اور جسے کوئی ضبط نہیں کر سکتا۔
کیمرہ چلتا رہا۔

اردو
PEACE LOVER أُعيد تغريده

“Prisoner No. 804 is no longer just a detainee but a political idea - one that continues to circulate far beyond the walls that confine him.” @RanaAyyub for the @washingtonpost.
#FreeImranKhan

English
PEACE LOVER أُعيد تغريده

یہ ہمارے گوجرانوالہ والے ساتھی ہیں، ہم انھیں بھی بھولے نہیں ہیں- ہم جانتے ہیں کہ یہ سب اپنے اپنے گھر والوں کے بازو تھے، واحد کفیل تھے، واحد سہارا تھے-
یہ آج جیل میں ہیں تو کچھ کے گھروں میں شدید مالی مشکلات چل رہی ہیں، اہلخانہ روزانہ عاصم منیر کو اور اس جعلی حکومت کو بد دعائیں دیتے ہیں-
#خان_کی_جدوجہد_کے_30_سال

اردو
PEACE LOVER أُعيد تغريده







