عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جو امن، برداشت اور ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے۔ پاکستان کی قیادت نے ہمیشہ مکالمے، تعاون اور باہمی احترام پر زور دیا ہے، جس سے عالمی برادری میں اس کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔
#RiseOfGreenNation
پاکستان نے نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی امن کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جیسے ثالثی کی پیشکش سفارتی روابط کا فروغ اور بین الاقوامی فورمز پر امن کی آواز بلند کرنا تمام عوامل پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ملک کے طور پر پیش کرتے ہیں
#RiseOfGreenNation
پاکستان کی خارجہ حکمتِ عملی امن، استحکام اور باہمی تعاون پر مبنی ہے، جو اسے عالمی سطح پر منفرد بناتی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی امن کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں،
#RiseOfGreenNation
پاکستان عالمی امن کے قیام میں ایک اہم اور ذمہ دار کردار ادا کر رہا ہے خارجہ پالیسی اور مؤثر سفارتکاری کے ذریعے پاکستان نے مختلف ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
#RiseOfGreenNation
🚨 بڑا انکشاف: پاکستان کے خلاف منظم ڈیجیٹل پروپیگنڈا
بھارت اور افغانستان سے منسلک نیٹ ورکس جعلی ایرانی شناختوں کے ذریعے X پر جھوٹی اور گمراہ کن مہم چلا رہے ہیں۔
یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اور منظم منصوبہ ہے۔
بھارت اور افغانستان پر مبنی مشترکہ ڈس انفارمیشن نیٹ ورک بے نقاب ایران کے نام پر پاکستان کے خلاف منظم اور منصوبہ بند پروپیگنڈا مہم سامنے آگئی
Context (پس منظر)
“پاکستان نے ایران سے غداری کی” کا بیانیہ کسی مستند خبر یا حقیقی واقعے پر مبنی نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی، منظم اور مربوط ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ تھا۔
زیرِ نظر دستاویز (page 1 infographic) اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ یہ مہم بھارت اور افغانستان سے منسلک آپریٹرز کے درمیان ایک مشترکہ اور مربوط (coordinated) نیٹ ورک کے ذریعے چلائی گئی، جہاں جعلی ایرانی شناختوں کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بیانیہ تخلیق اور پھیلایا گیا۔
اس مہم کا آغاز ان اکاؤنٹس سے ہوا جو خود کو ایرانی ظاہر کرتے تھے، جیسے INN Iran National News (@INNewx) اور Iran TV (@Irania_TV)۔
دستاویز میں یہی پیٹرن “initiator” اکاؤنٹس کے طور پر سامنے آتا ہے، جہاں ابتدائی مواد ایرانی شناخت کے پردے میں تیار کیا جاتا ہے تاکہ بیانیہ مستند اور مقامی معلوم ہو، حالانکہ اس کا کنٹرول بیرونی نیٹ ورک کے پاس ہوتا ہے۔
ان پلیٹ فارمز نے بغیر کسی تصدیق شدہ ثبوت کے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان امریکہ کے لیے تیل کی ترسیل میں مدد فراہم کر رہا ہے، جس کے ذریعے ایک مصنوعی ایرانی ردعمل تخلیق کیا گیا۔
دستاویز کے مطابق اس نوعیت کے اکاؤنٹس درحقیقت ایسے نیٹ ورک کا حصہ تھے جو اپنی اصل شناخت اور جغرافیائی وابستگی چھپا کر بیانیہ گھڑتے ہیں۔
بعد ازاں اس بیانیے کو وسعت دینے کے لیے افغان بیسڈ اکاؤنٹس کو بطور proliferators اور amplifiers استعمال کیا گیا۔ W.A. Mubariz (115 ہزار فالوورز) اور Burhan Uddin (86 ہزار فالوورز) جیسے اکاؤنٹس نے اس بیانیے کو مزید بڑھایا اور اسے معاشی غداری اور مذہبی حساسیت سے جوڑ کر عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی۔
یہ مرحلہ دستاویز میں دکھائے گئے اسٹرکچر سے مطابقت رکھتا ہے جہاں افغان نیٹ ورک بیانیے کو تیزی سے پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
اسی دوران بھارتی اکاؤنٹس اس پورے آپریشن کے اسٹریٹجک کنٹرولر اور بیانیہ ساز کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ Ravikumar M (114 ہزار فالوورز)، JanNayak Raghu اور Sumit Tomar جیسے اکاؤنٹس نے مسلسل اس بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کو ایک غیر قابلِ اعتماد اور مغربی ایجنڈے کا حصہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
دستاویز میں بھی بھارتی آپریٹرز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جو بیانیہ تشکیل دیتے، اسے سمت دیتے اور مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے amplify کرواتے ہیں۔
اس مشترکہ نیٹ ورک میں Times of Iran News (176 ہزار فالوورز) کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جسے دستاویز میں واضح طور پر “main amplifier” کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
اس کے بھارت سے آپریٹ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ پلیٹ فارم جھوٹے دعوؤں کو خبر اور تجزیے کی شکل دے کر انہیں قابلِ اعتبار بنانے اور عالمی سطح پر پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
مزید شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی اور افغان آپریٹرز باہمی ہم آہنگی کے ساتھ ایرانی شناخت اختیار کر کے اکاؤنٹس چلا رہے تھے، جہاں مسلسل ہینڈل تبدیلی (handle renaming)، مختلف ناموں کا استعمال، اور coordinated پوسٹنگ کے ذریعے ایک ہی بیانیے کو تقویت دی جاتی رہی۔
دستاویز کا “initiator → proliferator → amplifier” ماڈل اسی مربوط اور مرحلہ وار آپریشن کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ ایک کثیر سطحی اور مشترکہ آپریشن تھا:
جعلی ایرانی ذرائع → افغان پھیلاؤ (proliferation) → بھارتی بیانیہ سازی اور کنٹرول → عالمی سطح پر amplification
یہ تمام شواہد اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ یہ کوئی اتفاقی سوشل میڈیا سرگرمی نہیں بلکہ بھارت اور افغانستان پر مبنی ایک مکمل، منظم اور اسٹریٹجک انفارمیشن وارفیئر مہم تھی، جس کا مقصد خطے میں بداعتمادی پیدا کرنا، مذہبی جذبات کو بھڑکانا، اور پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنا تھا۔
ایک نظریہ ہے جو پاکستان کے روشن مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ نوجوانوں، قیادت اور قوم کے اجتماعی عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ترقی، امن اور اتحاد کے راستے پر گامزن ہے۔ آنے والے وقت میں پاکستان عالمی سطح پر مزید مضبوط اور بااثر کردار ادا کرے
گا۔
#GreenFlagRising
جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطوں میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشیدگی کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ #GreenFlagRising اس عزم کی نمائندگی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں استحکام اور ترقی کے لیے کام کرتا رہے گا۔
پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی نے اسے عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد ملک بنا دیا ہے۔ ایران، امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے پاکستان ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ #GreenFlagRising اس اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو عالمی برادری پاکستان پر کر رہی ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ امن تعاون اور مکالمے پر مبنی رہی پاکستان نے مختلف ممالک کے درمیان رابطہ کاری کر کے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ #GreenFlagRising اس وژن کو ظاہر کرتا ہے کہ طاقت کا اصل استعمال امن قائم کرنے میں ہے، نہ کہ تصادم بڑھانے میں
#GreenFlagRising
پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے مکالمے اور مذاکرات کو فروغ دیا ہے۔ #GreenFlagRising اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنی سرحدوں کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت تبدیلی کا علمبردار بن رہا ہے۔
#GreenFlagRising