Zaheer Baloch was forcibly disappeared on 13 March 2015. For years, his family has lived in uncertainty, with no information about his fate. This long silence reflects a pattern of enforced disappearances and continued impunity. It denies families their basic right to truth and justice.
The pain deepened when his son, Zeeshan Zaheer, stood up and demanded his father’s release. Instead of justice, he was also forcibly disappeared and later killed on 29 June 2025. This shows a dangerous cycle where even peaceful protest leads to punishment. Families who seek answers face further loss.
Raise your voice for Zaheer Baloch. Join the call for his release on 13 April 2026 from 6 pm to 12 am. Collective pressure can challenge silence and demand accountability.
#ReleaseZaheerBaloch
سندھ کے علاقے کشمور میں بلوچ ثقافتی پروگرام کے انعقاد پر مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ذمہ داران کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کا عمل انتہائی تشویشناک ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
چند روز قبل کشمور میں مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام بلوچ کلچر کے عنوان سے ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس پروگرام میں موسیقی سمیت مختلف ثقافتی رنگ شامل تھے۔ تقریب نہایت خوشگوار اور پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کر کے اسے کامیاب بنایا۔ بلوچ قوم، بلوچستان سمیت سندھ اور پنجاب میں اپنی ثقافت، روایات اور زبان کی ترویج کے لیے مستقل بنیادوں پر پروگرامز منعقد کرتی رہتی ہے، جن میں بالخصوص 2 مارچ 'بلوچ کلچر ڈے' اور 'عالمی مادری زبان کے دن' پر منعقد ہونے والی تقریبات نمایاں ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دنیا کی ہر زندہ قوم اپنی مادری زبان کی ترقی اور اپنی تہذیب و تمدن کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ بلوچ بھی بحیثیت ایک زندہ قوم اپنی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، جس کے لیے اس نوعیت کے پروگرام ناگزیر ہیں۔ اسی تسلسل میں سندھ کے مختلف شہروں میں آباد بلوچ قوم وقتاً فوقتاً مختلف تقریبات کا انعقاد کرتی ہے۔ کشمور میں مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کی یہ کاوش بھی اسی کڑی کا حصہ تھی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسے مثبت پروگراموں کی حوصلہ افزائی کے بجائے کچھ گروہ، جو طاقت کے نشے میں بدمست ہیں، ان سرگرمیوں کو منفی رنگ دے کر فتویٰ بازی کر رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف افسوسناک بلکہ قابلِ مذمت ہے، جس کی ہماری تنظیم بھرپور مذمت کرتی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اپنی قوم، زبان اور ثقافت سے لگاؤ ایک فطری امر ہے، جس پر ہر قوم فخر کرتی ہے۔ ایک تعلیمی و ثقافتی پروگرام پر کسی گروہ کی جانب سے بے بنیاد فتویٰ جاری کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومتِ وقت ایسے عناصر کا محاسبہ کرے اور ان کو اتنی چھوٹ نہ دی جائے کہ وہ جب چاہیں فتویٰ جاری کر دیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف معاشرتی انتشار کا باعث ہے بلکہ مذہب کو بطور کارڈ استعمال کرنے کے مترادف ہے، جس کی دین میں قطعاً گنجائش نہیں ہے۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبگر بلوچ، بیبو بلوچ اور گل زادی بلوچ سمیت صعبت اللہ شاہ جی بلوچ کو ایک سال سے زائد عرصے سے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں قید رکھا جا رہا ہے۔ قومی حقوق کی جدوجہد، ظلم و جبر کے خلاف آوازیں بلند کرنے اور بلوچ قومی مفادات پر سمجھوتہ نہ کرنے کی پاداش میں انہیں اب بھی قیدِ تنہائی، ذہنی ٹارچر اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دوسری طرف، خود کو عوام کا خود ساختہ نمائندہ ظاہر کرنے والے سیاسی مداری قوموں کی محکومیت کے خلاف بولنا تو دور کی بات ہے، پشتون اور بلوچ اقوام پر جاری بربریت پر توجہ دینا تو کجا، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبگر بلوچ، گل زادی بلوچ، بیبو بلوچ اور صعبت اللہ شاہ جی بلوچ کی غیر قانونی اور غیر آئینی قید کی مذمت کرنے اور ان پر ہونے والے تشدد کی عوام و میڈیا کے سامنے آواز اٹھانے کی بھی ہمت نہیں کرتے۔ کہیں ان کا صاحبِ بہادر ناراض نہ ہو جائے اور مستقبل میں ان کی کرسیوں سے محروم نہ کر دے۔
اب واضح ہو چکا ہے کہ مفاد پرست سیاسی ٹھیکیداروں اور حقیقی قومی تحریکوں کے درمیان لکیریں کھنچ چکی ہیں۔ سیاسی لبادہ اوڑھنے والے ٹھیکیداروں کی حقیقت محکوم عوام پر آشکار ہو چکی ہے۔ تاریخ مثبت اور منفی کرداروں کو معاف نہیں کرتی۔
#ReleaseBycLeadership
Baloch Voice for Justice strongly condemns the enforced disappearance of two young students, Hatim, aged 17, son of Haji Mohammad, and Marwan, aged 18, son of Hamza. Both were abducted on 5 April 2026 at 5:00 PM from Legork Paroom, Panjgur. These incidents reflect a continued pattern of targeting youth, depriving families of their loved ones, and denying basic legal protections.
The abduction of students is a direct attack on the future of Baloch society. Authorities must immediately disclose their whereabouts and ensure their safe release. Continued silence and impunity deepen fear and mistrust. Urgent attention from national and international human rights bodies is required to end enforced disappearances and hold perpetrators accountable.
#EndEnforcedDisappearances
11 years ago, Zaheer Baloch was taken by secretive agencies. No charge. No trial. No return. Just silence. His family has lived every day since in unbearable uncertainty.
#ReleaseZaheerBaloch
ایک سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود، ریاست گل زادی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہیں بلاجواز پابندِ سلاسل رکھنا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، بلکہ بذاتِ خود ایک غیر قانونی اور انتقامی کارروائی ہے
#ReleaseBYCLeaders
بلوچ وائس فار جسٹس کی جانب سے ظہیر بلوچ کی جبری گمشدگی کو 11 سال مکمل ہونے پر ایکس پر مہم چلائی جائے گی!
آئیے، انصاف کے لئے آواز بلند کریں۔
ہم سب کی ایک ٹویٹ، ایک آواز – جبری گمشدگیوں کے خلاف مزاحمت ہے۔
تاریخ: 13 اپریل 2026
وقت: 6PM - 12AM
#ReleaseZaheerBaloch
چلتن نا ہکل پائک صوب ننا اے
ماہرنگ نا بخشندہ پائک صوب ننا اے
بیبو نا بہادری پائک صوب ننا اے
گلذادی نا معصومی پائک صوب ننا اے
صبیحہ نا مخلصی پائک صوب ننا اے
دین جان نا سمی پائک صوب ننا اے
#ReleaseBYCleaders#StopBalochGenocide
Healthcare is an investment, not an expense. Today, on World Health Day, this truth must be recognized. In Balochistan, health is still treated as a cost. People continue to suffer due to neglect and lack of priority.
The primary healthcare facilities are ill equipped and many are non functional. Patients travel long distances and still fail to receive care. Basic medicines, equipment, and trained staff remain absent. This reflects a clear failure in public health planning.
One of the major bottlenecks in delivering health services is the unavailability of health professionals, especially female health workers. Women and children face the highest risk. Without trained staff, even simple medical needs turn into life threatening conditions.
Maternal and childcare services are the worst affected victims of failed health policies. Mothers suffer in silence. Children lose access to basic care. Immediate action is required to ensure access, accountability, and dignity in healthcare.
#BalochHealthMatters