Pakhtun Students Federation
1.1K posts

Pakhtun Students Federation
@PSFMarkaz
Official handle for Pakhtun Students Federation - Students' wing of @ANPMarkaz
Peshawar, Pakistan 가입일 Şubat 2021
45 팔로잉4.4K 팔로워

مرکزی صدر پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن ملک احتشام الحق نے پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن بلوچستان کا صوبائی کونسل اجلاس 27 دسمبر 2025 بروز ہفتہ طلب کیا ہے.
#PSF

اردو
Pakhtun Students Federation 리트윗함
Pakhtun Students Federation 리트윗함
Pakhtun Students Federation 리트윗함
Pakhtun Students Federation 리트윗함

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن صوابی یونیورسٹی کے زيراہتمام "پختونخوا کے قدرتی وسائل اور مائنز اینڈ منرلز بل 2025" کے موضوع پر سیمینار، آگاہی مہم کے سلسلے میں سیمینار میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین، جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی، جائنٹ سیکرٹری ایاز شعیب، سیکرٹری یوتھ افیئرز طارق افغان ایڈوکیٹ، پی ایس ایف کے صوبائی صدر اچک خان، چیئرمین الیکشن کمیٹی منصور زیب، ضلعی صدر اے این پی آصف الرحمان، جنرل سیکرٹری نوابزادہ، سینئر نائب صدر توصیف اعجاز یوسفزئی، تحصیل رزڑ چیئرمین ملک غلام حقانی، تحصیل خدوخیل چیئرمین گلزار بابک، اشفاق ایڈوکیٹ اور دیگر ضلعی و تحصیل ذمہ داران سمیت کثیر تعداد میں پی ایس ایف اراکین اور طلباء شریک ہیں۔ شرکاء ملی ترانے کے احترام میں کھڑے ہیں۔
#حقوق_یا_آزادی




اردو

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن، عوامی نیشنل پارٹی کی ہر اول تنظیم کے طور پر، خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ جیسے استحصالی بل کو پختون قوم کے قدرتی وسائل اور اٹھارہویں آئینی پر حملہ تصور کرتی ہے۔
ملک احتشام الحق
مرکزی صدر پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن
#PSF | #حقوق_یا_آزادی


اردو
Pakhtun Students Federation 리트윗함

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کے ساتھ معروف اینکر پرسن جاوید چودھری کا خصوصی انٹرویو
youtube.com/watch?v=Lp42Rs…

YouTube
اردو
Pakhtun Students Federation 리트윗함

عوامی نیشنل پارٹی چیئرمین سینیٹ سے تین گزارشات کرتی ہے:
1: دہشتگردوں کی ری سیٹلمنٹ کی غلطی کا اعتراف ہوا، لیکن صرف اقرار کافی نہیں۔ یہ غلطی پختون قوم کو لے ڈوبی ہے۔ ایک ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کا قیام کرکے اس میں غلطیاں کرنے والوں کا تعین ہونا چاہیئے اور غلطی کرنے والوں کو پابند کیا جانا چاہیئے کہ یہ غلطیاں دوبارہ نہیں دہرائی جائیں گی۔
2: گزارش کرتے ہیں کہ دہشتگردی میں پختونوں کے نقصانات کے ازالہ کیلئے کوئی لائحہ عمل بنایا جائے۔
3: پچیسویں آئینی سے فاٹا کا انضمام ہوا، لیکن آج حکومت ان سات اضلاع کو بھول گئی ہے، ان ضم اضلاع کی بحالی بہت ضروری ہے۔
پاکستان کے ہر شہری کو نظریاتی طور دہشتگردی کے خلاف ہونا چاہیئے اور ایک بیانیہ بنا کر اس کا خاتمہ کرنا چاہیئے۔
ایمل ولی خان
مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی
اردو
Pakhtun Students Federation 리트윗함

🟥2013 میں قوم طالب اور دہشتگردی کے خلاف کھڑی ہوتی ہے تو ریاست طالب کی مرضی سے حکومتیں لے کر آتی ہے
🟥وزیرستان سے طالبان لیڈر اعلان کرتا ہے کہ طالبان کو پاکستان مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف قابل قبول ہے
🟥انتخابات کے بعد وفاق میں مسلم لیگ ن جبکہ پختونخوا میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی حکومت آئی ہے
🟥انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کھلم کھلا طالبان کی سپورٹ کا اعلان کرتی ہے
🟥پی ٹی آئی انکے لئے دفاتر کا مطالبہ کرتی ہے اور انکو مین سٹریم کرنے کی بات کرتی ہے
🟥اے پی ایس پشاور کے دلخراش واقعے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں، دفاعی اداروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے مل بیٹھنے سے نیشنل ایکشن پلان وجود میں آیا
🟥جب وفاق میں عمران کی حکومت آئی تو طالبان کو ایک دفعہ پھر پوری سپورٹ دی گئی
🟥اس رجیم نے ریاستی سطح پر نیشنل ایکشن پلان کی مخالفت کی
🟥نیشنل ایکشن پلان میں دہشتگردوں کے سہولتکاروں کی سزا واضح ہے
🟥جس پختون کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس کے گھر میں رات گزارے والا مہمان دہشتگرد تھا، اس کے ساتھ ریاست وہ سلوک کرتی ہے کہ اللہ معاف کرے
🟥لیکن دوسری طرف ایک فوجی جرنیل، ڈی جی آئی ایس آئی، وزيراعظم، صدر مملکت، 🟥وزیراعلی اور اسکی کابینہ اسی دہشتگردوں کی سہولتکاری کرتے ہیں انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی
🟥کرم میں آگ لگتی ہے لیکن دہشتگردوں کی حامی حکومت کو کرم اور پختونوں کی بجائے قیدی 804 کی فکر ہوتی ہے
🟥بدقسمتی سے پختونوں اور پختونخوا کیلئے نواز شریف ہو، شہباز شریف ہو یا عمران سب ایک نظریہ رکھتے ہیں
🟥یہ پختونوں کا مقدمہ ہے، تو سیاسی اور مذہبی وابستگی سے بالاتر ہوکر کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گا
ایمل ولی خان
مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی
اردو
Pakhtun Students Federation 리트윗함

🟥1988 سے لیکر نائن الیون تک پاکستان امریکی پیٹرو ڈالرز کے ذریعے طالبانائزیشن کو پروموٹ کرتا رہا
🟥پختونوں کی بدقسمتی ہے کہ جو بھی جرنیل یا سیاسی لیڈر آیا، پختونوں بارے پالیسی ایک ہی رہی
🟥1988 سے 1997 کے دور اقتدار تک میاں نواز شریف باقاعدہ طور پر طالبان کی حمایت کرتے رہے
🟥یہ ریکارڈ پر ہے کہ پیپلز پارٹی کے نصیراللہ بابر وزیر داخلہ تھے تو انہوں نے پختونوں کا خون چوسنے والے ان لوگوں کو اپنے بچے قرار دیا تھا
🟥مشرف آئے تو پیٹرو ڈالرز کو اور بھی آگے لیکر گئے اور طالب کو مزید پروموٹ کیا
🟥نائن الیون کے بعد امریکہ افغانستان پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان طالبان کیلئے اپنے دروازے کھول دیتا ہے
🟥ملا منصور جو ملا عمر کا دست راست تھا اسکے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھا
🟥ملا ہیب اللہ کو کچلاک میں بٹھا کر طالبان کا لیڈر بنا دیا اور حقانی نیٹ ورک کو وزيرستان میں سیٹل کیا گیا
🟥ملا فضل اللہ کو سوات میں اپنی تشہیر کیلئے ایف ایم چینل دیا گیا
🟥2007 میں بیت اللہ محسود نے ان سب کو اکٹھا کرکے ٹی ٹی پی کا اعلان کردیا
🟥ڈمہ ڈولہ ڈرون حملے کے بعد پاکستان اور طالبان کی پالیسی میں تبدیلی آجاتی ہے
🟥2008 میں پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت آئی اور ہم نے پانچ سال مسلسل جنگی حالات کا سامنا کیا
🟥اے این پی نے صف اول کا کردار ادا کرتے ہوئے طالبان کے خلاف اپنی قوم کا مقدمہ لڑا اور اپنی دھرتی کیلئے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیں
🟥2008 تک قوم پر اتنی سرمایہ کاری ہوئی تھی کہ پوری قوم طالبان کے ساتھ کھڑی تھی
🟥پچھلے 50 سال میں طالبانائزیشن پر اتنا کام ہوا کہ آج ہر ادارہ پرو طالب سے بھرا ہوا ہے
🟥دفاعی ادارے سے لیکر سیاستدانوں تک میں طالبان کے حامی موجود ہیں
ایمل ولی خان
مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی
اردو
Pakhtun Students Federation 리트윗함

پختونخوا کو ایک دفعہ پھر جان بوجھ کر بارود کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔ پختونوں کو درپیش دہشتگردی کا مسئلہ نیا نہیں، بلکہ 50 سالہ پرانا ہے۔ پختونوں کیلئے یہ ریاست کا خود بنایا ہوا مسئلہ ہے۔ کیا ضرورت پڑی ضياء الحق کو کہ وہ امریکی پیٹرو ڈالرز کے بدلے پختون سرزمین کا سودا کرے۔ دروازے کھول کر افغان شہریوں کو یہاں لایا گیا، مجاہدین کیلئے ٹریننگ کیمپس بنائے۔ سٹریٹیجک ڈیپتھ کی پالیسی بنا کر ایک خونخوار فورس بنائی گئی جو امریکہ کیلئے افغانستان کی تباہی میں استعمال ہوئی۔ جینیوا معاہدے کے بعد روس اور امریکہ چلے جاتے ہیں لیکن طالبان آپس میں لڑ پڑتے ہیں اور پاکستان طالبان کے ایک گروپ "طالبان آف کندھار" کو سپورٹ کرتا ہے۔ ریاست نے انکو سپورٹ کرتے ہوئے افغانستان کے حاکم وقت کو چوک میں لٹکا دیا اور افغانستان کو پانچواں صوبہ قرار دیا۔
ایمل ولی خان
مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی
اردو
Pakhtun Students Federation 리트윗함

کل سینیٹ میں جو بحث ہورہی تھی اگر وہ سنجیدہ تھی تو پی ٹی آئی اراکین آرام سے بیٹھ بات کرلیتے
انکے سینیٹر کے پروڈکشن آرڈر پر بحث تھی تو یہ لوگ آرام سے بات کرلیتے
یہ لوگ نہیں چاہتے کہ اس پر بات ہو اس لئے "اووو آ" شروع کردیا اور سینیٹ کا مذاق بنا دیا
کل اجلاس سے نکل گئے، آج آکر کہتے ہیں کہ ہمیں کل والے موضوع پر بات کرنی ہے
کل اووو اووو کی بجائے اگر یہ لوگ بات کرلیتے تو بہت اچھا ہوتا
بدقسمتی سے اووو آآآآ، رہا کرو، قید کرو، مذاق رات کرو آج پاکستان کے مسئلے بن گئے ہیں
ایمل ولی خان
مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی
اردو
Pakhtun Students Federation 리트윗함

عسکری قیادت کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی ملاقات میں ہمیں یہ باور کرایا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف ریاست کی طرف سے زیرو ٹالرنس ہے اور اسکا خاتمہ کرنا ہے۔ ملاقات میں تلخ باتوں سمیت اچھی باتیں بھی ہوئیں۔ ملاقات میں اے این پی نے نیشنل ایکشن پر مکمل عملدرآمد اور سابق آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، عمران، عارف علوی اور دہشتگردوں کی حمایت اور انکو ری سیٹل کرانے والے دیگر لوگوں کے خلاف کارروائی کی بات دہرائی۔ ملاقات میں انٹیلجنس بیسڈ آپریشنز پر سب کا اتفاق ہوا۔ ملاقات میں اے این پی نے سنجیدگی دکھا کر عوام اور سٹیک ہولڈرز کو مطئمن کرنے پر زور دیا۔ بدقسمتی سے یہاں کبھی ایک جرنیل طالبان کو ختم کرکے جبکہ دوسرا بنا کر ہمیں تباہ کرتا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے ذمہ دار دفاعی ادارے اور ریاست ہے۔ دہشتگردوں کے خلاف ایک مستقل پالیسی ہونی چاہیئے۔
ایمل ولی خان
مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی
اردو
Pakhtun Students Federation 리트윗함

اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کا سینیٹ اجلاس سے خطاب:
#ANP | #AimalWaliKhan
اردو
































