PakLove 리트윗함

بریکنگ
ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی 45 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کو جمع کرائے گئے اپنے جواب میں ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ محض مختصر وقفے کے حق میں نہیں ہے، بلکہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام محاذوں، بالخصوص غزہ اور لبنان میں جنگ کا مستقل خاتمہ اور اس کی ٹھوس ضمانتیں چاہتا ہے۔
ایران کی جانب سے پیش کردہ شرائط میں خطے سے امریکی اثر و رسوخ کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خلیج فارس میں قائم تمام امریکی فوجی اڈوں کو ختم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے مکمل کنٹرول کو تسلیم کرانے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کے لیے ایک نئے بین الاقوامی پروٹوکول کے نفاذ کی شرط بھی رکھی ہے۔
ایران نے اپنے معاشی اور ایٹمی حقوق پر بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں فی الفور اٹھائی جائیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اس کے پرامن یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ مزید برآں، ایران نے جنگ کی وجہ سے ہونے والے اپنے تمام معاشی نقصانات کے بدلے مالی ہرجانے کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اردو











