Ray

1.3K posts

Ray banner
Ray

Ray

@RayhanMusings

Kaifiyat shifts; the writing follows. I write on X anonymously, for myself and for those who believe in constitutional supremacy & real freedom.

가입일 Kasım 2025
96 팔로잉3.3K 팔로워
고정된 트윗
Ray
Ray@RayhanMusings·
گریزاں واپسی (میری واپسی اور اس کا حقیقی محرک) ایک سال قبل، ٹویٹر اور سیاست کی ہماہمی سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ 2010 سے 2024 تک جو کچھ میری استطاعت میں تھا وہ میں نے دیانت داری سے کیا۔ سخت ترین حالات میں بھی قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔ یہاں سے جانے کی وجہ ذاتی تھی اور کچھ ذمہ داریاں ایسی تھیں جن پر یکسوئی درکار تھی۔ میں نہ کوئی رہنما ہوں اور نہ کسی بڑے منصب کا دعوے دار۔ آپ سب کی طرح ایک عام پاکستانی ہوں۔ واپسی کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اپنی رائے رکھ سکوں۔ یہ ممکن ہے کہ پسند نہ آئے، مگر میں نے برسوں کی سیاسی کشمکش میں عمران خان کی سیاست کو قریب سے دیکھا۔ اس کا ظاہر بھی اور اس کا مزاج بھی۔ وہ شخص ہمیشہ پرامن رہا۔ کبھی بھی قانون کو توڑ کر اپنی راہ بنانے کی کوشش نہیں کی۔ اس نے صبر، ثابت قدمی اور سیاسی حکمت سے مقابلوں کو شکست دی۔ عمران خان جیل سے کیا کہتا ہے یا اس کے اکاؤنٹ سے کیا پیغام نشر ہوتا ہے، یہ میرا موضوع نہیں۔ نہ یہ میری اوقات ہے کہ اس پر تجزیہ چسپاں کروں۔ ایک بات مگر واضح ہے کہ اس نے کبھی کسی منصب کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا۔ اگر کسی فرد کا نام لیا بھی تو اس کے عہدے کی توہین نہیں کی، کیونکہ منصب اور ادارہ ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہی وہ نزاکت ہے جسے دیکھنے کے باوجود اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پاکستان، ریاست یا اداروں کے خلاف اس نے کبھی زبان درازی نہیں کی۔ شاید اسی لئے آج بھی اس قوم کا بڑا حصہ اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس کے برعکس کچھ اکاؤنٹس اداروں کے سربراہان کی وردیاں لگا کر پوسٹ کرتے ہیں، اور اندرونی معاملات کو عام بحث بنا دیتے ہیں۔ سیاسی لوگوں کا اداروں کے اندرونی عمل سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ یہ عمل غیر قانونی بھی ہے اور غیر آئینی بھی۔ اگر کہیں کوئی غلطی ہوتی ہے تو یہ جواز نہیں بنتا کہ آپ بھی وہی روش اپنا لیں۔ آپ تو آئین کے احترام کا پرچم اٹھانے والے ہیں۔ عمران خان نے آج تک کسی ادارے کے داخلی عمل پر نہ تنقید کی اور نہ اشارہ کنایہ۔ وہ تو یہ تک کہہ چکا ہے کہ ملک بھی میرا ہے اور ادارے بھی۔ مجھے سب سے زیادہ دکھ تب ہوا جب تحریک انصاف کے آفیشل اکاؤنٹ نے وہ حد پار کی جو ایک سیاسی جماعت کو زیب نہیں دیتی۔ تصاویر، جملے بازی، براہ راست حملے۔ یہ سب وقتی جوش میں مقبول تو ہو جاتا ہے مگر نتیجہ نہ فائدہ دیتا ہے نہ تحریک کی ساکھ بڑھاتا ہے۔ اس کے الٹا کارکنوں کے لئے مشکلات بڑھتی ہیں۔ سیاسی تحریک اس وقت زور پکڑتی ہے جب اخلاقی برتری برقرار رہے۔ شدت پسندی کی طرف جانا تب ممکن ہوتا ہے جب فیصلہ ہو چکا ہو کہ اب ٹکر کے سوا راستہ نہیں۔ موجودہ حالات میں ایسا کوئی فیصلہ نظر نہیں آتا۔ پارٹی کی ذمہ داری جن لوگوں کے ہاتھ میں ہے وہ سب آئین، قانون اور سیاسی عمل کے قائل ہیں۔ تمام پاکستانی سیاست سے بالاتر ہوکر جب سرحد پر تنازع ہو تو اداروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی ادارے جن پر روزمرہ سیاست میں انگلیاں اٹھتی ہیں۔ اس سے ایک سادہ بات سامنے آتی ہے کہ جب دشمن سامنے ہو تو قوم متحد ہو جاتی ہے۔ تو کیا یہ اتحاد اپنے ہی ملک کی بہتری کے لئے ممکن نہیں؟ کیا سیاسی جماعتیں مل کر ایک اجتماعی حکمت عملی نہیں بنا سکتیں؟ کیا اداروں کو آئینی حدود میں واپس لانے کے لئے سیاسی جماعتیں، وکلا، صحافی ایک سمت نہیں چل سکتے؟ یہ ممکن ہے، مگر شرط یہ ہے کہ سب اپنے مفاد سے اوپر اٹھ کر عوام کو ترجیح دیں۔ میری واپسی کی حقیقی وجہ یہ ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ملک اس کھینچا تانی میں مسلسل پسپائی کی طرف جا رہا ہے۔ پچھلے ایک برس میں حالات مزید بگڑے ہیں۔ سب سے زیادہ ضرب غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہی ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے، روزگار کم ہوتا جا رہا ہے، سرمایہ کاری سکڑ گئی ہے۔ اگر ہم آئین اور قانون کی بالادستی قائم نہ کر سکے تو آنے والا وقت اور بھی سخت ہوگا۔ سرمایہ کار کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے۔ تحفظ اور بڑھوتری۔ جہاں امکانات ہوتے ہیں وہاں سرمایہ جاتا ہے۔ ہندوستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ وہاں کاروباری طبقہ اعتماد سے کہتا ہے کہ اگلی دو دہائیوں میں انہیں کوئی بڑا خطرہ نہیں۔ پاکستان میں اس کے برعکس ایک کاروباری شخص اگلے دو برس کا اندازہ بھی نہیں لگا پاتا۔ یہی غیر یقینی سب سے بڑا زخم ہے جو روزگار، سرمایہ اور ترقی سب کو کمزور کر دیتا ہے۔ جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی اسی وقت قائم ہوگی جب سیاست دان ایک دوسرے سے خوف چھوڑیں اور ادارے آنے والی حکومت سے۔ اختلافات کو ایک طرف رکھ کر سیاسی قائدین ایک میز پر بیٹھیں اور بنیادی اصول طے کریں۔ اسی کے بعد معیشت پر ایک قومی معاہدہ کیا جائے تاکہ حکمرانوں کی توجہ صرف عوام کے مسائل پر ہو۔ اگر مقصد ملک میں امن، حقیقی جمہوریت اورمعاشی ترقی ہے تو پھر ایک نئی ابتدا درکار ہے۔ ایسا آغاز جو پرانے تعصبات کو پیچھے چھوڑ دے۔ ورنہ موجودہ راستہ ہمیں مزید بکھیر دے گا۔ 🙏🏼
اردو
190
32
260
110.5K
Ray
Ray@RayhanMusings·
Someone should collect Iranian embassies’ hilarious posts roasting Trump, the US, and Israel and turn them into a comic book after the war. Their humor is insane, even in all the chaos.
English
0
4
21
362
Ray
Ray@RayhanMusings·
Pakistanis may find this analysis unpopular, but logic suggests that if anyone can end a war between Israel, America and Iran, it is India. India can engage with the leaders of all three countries simultaneously, has better relations, and wields greater influence due to its strong economy and large market. Pakistan can make sincere efforts, but it is not feasible for its government to engage with Israel, which is a key party in this conflict.
English
2
2
16
769
Ray
Ray@RayhanMusings·
پاکستان مشکلات میں گھرا نظر آتا ہے اور حالات انتہائی خراب۔ جب سب امیدیں ختم ہوں گی، تب عمران خان کی رہائی ہوگی۔ وہ قوم کو متحد کرے گا، بیرون ملک پاکستانیوں سے مدد حاصل کرے گا، اور ملک کو مشکلات سے نکالے گا۔ اگر جنگی حالات ہوئے تو وہ ایران کی طرح قوم کو ساتھ ملا کر مقابلہ کرے گا۔
اردو
5
30
103
973
Ray
Ray@RayhanMusings·
تحریکِ انصاف پر ٹھنڈی ہوا کے جھونکے تب ہی چھوڑے جاتے ہیں جب جعلی حکومت مشکل، غیرمقبول یا اسٹیبلشمنٹ کو اپنے مفاد میں فیصلے کروانے ہوں۔ حکومت کو عمران خان کا خوف دکھا کر وہ سب کچھ کروا لیا جاتا ہے جس کے لیے ماضی میں حکومتوں کے آئین توڑ کر تختے الٹنے پڑتے تھے۔
اردو
0
28
83
696
Ray
Ray@RayhanMusings·
جب اس جعلی حکومت کو دیکھتا ہوں تو یہ مجھے زنجیروں میں جکڑے کسی سیاہ فام ملک کے وہ غلام قیدی نظر آتے ہیں جنہیں ڈچ اسٹیبلشمنٹ استعمال کرتی تھی۔ جب عمران خان کے بارے میں سوچتا ہوں تو وہ ببر شیر کی طرح سلاخوں کے پیچھے پوری شان و شوکت کے ساتھ غرّاتا اور چہل قدمی کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اردو
1
17
63
399
Ray
Ray@RayhanMusings·
قومی ہیرو عمران خان پر قاتلانہ حملہ، گرفتاری اور قیدِ تنہائی، اور جنون کی حدتک پاکستان سے محبت کرنے والے تحریک انصاف کے حامیوں کا اغوا، گرفتاریاں اور ظلم کرنے والے لوگ پاکستانی تو ہو سکتے ہیں، مگر محبِ وطن نہیں۔ یہ ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور پاکستانیت کو ختم کر رہے ہیں۔
اردو
0
51
134
709
Ray
Ray@RayhanMusings·
ایران، جس کے پاس نہ نیوکلیئر طاقت ہے، نہ جدید ٹیکنالوجی، نہ فضائیہ، وہ امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے کو ناکام بنا سکتا ہے، اور برابر کی ٹکر دے کر مقابلہ کر سکتا ہے۔ اور پاکستان؟ پاکستان نے سرینڈر کیوں کیا؟ رجیم چینج کیوں ہونے دیا؟ کیا ایمان کی کمی تھی؟ کیوں اپنے قومی ہیرو اور مقبول ترین لیڈر کو اقتدار سے برطرف کیا؟ قاتلانہ حملہ کیا؟ اغواہ اور پابندسلال کیا؟ الیکشن ہار کے عوام کے خلاف گئے، امریکی دباؤ تھا؟ یا مقصد اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کو قائم رکھنا تھا۔
اردو
3
28
98
1.6K
Ray
Ray@RayhanMusings·
Ray Dalio – The Changing World Order دنیا کا توازن بدل رہا ہے۔ رے ڈیلیو نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ تاریخ میں طاقتور امپائرز ابھرتے ہیں، عروج پاتے ہیں، زوال آتا ہے اور پھر کوئی نیا امپائر ان کی جگہ لیتا ہے۔ ہر طاقتور ملک کے عروج کے پیچھے کچھ عوامل ہوتے ہیں: تعلیم، ٹیکنالوجی، معیشت، عالمی تجارت، فوج، مالی مارکیٹس، ریزرو کرنسی، اور مقابلہ کرنے کی صلاحیت۔ جیسے ہی قرض بڑھتا ہے، مالیاتی ببل بنتے ہیں اور معیشت دباؤ میں آتی ہے۔ ہر بڑی کرپشن یا بحران کی ابتدا عام طور پر اسی مرحلے سے ہوتی ہے۔ اندرونی سیاسی اختلافات اور سماجی تقسیم ملک کو کمزور کرتے ہیں۔ دولت کی غیر مساوی تقسیم اور عوام کا اعتماد کم ہونا بڑے بحران کی نشانی ہے۔ باہر کی طاقتوں کے ساتھ تنازعات بڑھتے ہیں: تجارتی جنگیں، ٹیکنالوجی کے ٹکراؤ، کبھی کبھار حقیقی جنگیں۔ موجودہ امریکہ-چائنا صورتحال اس ماڈل کے مطابق ہے۔ ہر ریزرو کرنسی کا دورانیہ محدود ہوتا ہے۔ ہالینڈ کی گیلڈر، برطانیہ پاؤنڈ، اور اب امریکی ڈالر بھی اپنی حد تک اثر رکھتا ہے۔ رے ڈیلو کہتے ہیں کہ ہم ابھی ایک منتقل ہوتے ہوئے عالمی نظام میں ہیں۔ بلند قرض اندرونی سیاسی کشمکش بڑھتی ہوئی عالمی رقیب (چین) تاریخی نمونوں کو سمجھنا ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا کس رخ میں جا رہی ہے۔ یہ پیشن گوئی نہیں بلکہ ایک فریم ورک ہے۔ خلاصہ: تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ اگر ہم سمجھیں کہ ماضی میں کیا ہوا، تو آج کے عالمی تعلقات اور اقتصادی رجحانات کو بہتر طور پر پڑھ سکتے ہیں۔
Ray tweet media
اردو
0
4
17
296
Ray
Ray@RayhanMusings·
عوام میں شدید غیر مقبولیت، جعلسازی سے اقتدار پر قبضہ، اور اب دیگر ممالک سے تعلقات کے خراب ہونے کی خبریں، یہ رجیم قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
اردو
0
15
59
482
Ray
Ray@RayhanMusings·
جب آپ جعلسازی کے ذریعے اقتدار میں آتے ہیں تو آپ حکومت نہیں کرتے، بلکہ وہ طاقتیں حکومت کرتی ہیں جنہوں نے آپ کو اقتدار میں رکھا ہوتا ہے۔
اردو
1
14
60
584
Ray
Ray@RayhanMusings·
عمران خان اکثر اپنے خطابات میں یہ بات دہراتے رہے ہیں کہ جب ملک کے حکمرانوں کی دولت اور اثاثے بیرون ملک ہوں، تو وہ آزادانہ فیصلے نہیں کر سکتے اور بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے ہیں۔
اردو
0
64
231
1.5K
Ray
Ray@RayhanMusings·
When Iran emerges from this war, it must take control of its future; invest in cutting-edge technology and build a modern air force to defend its skies. No country can afford to rely on others for critical technology forever.
English
0
2
22
421
Ray
Ray@RayhanMusings·
Taking or repaying a loan is routine. I don’t see why it was leaked via Absar Alam and turned into a major story. A lot of Pakistanis work in the UAE; there are companies, jobs, and they can’t risk damaging those relationships. Be mindful and deliberate with your statements.
English
2
8
29
630
Ray
Ray@RayhanMusings·
پاکستان نے جب سعودیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا اور ٹرمپ کی دنیا کے سامنے غیرضروری تعریف کی، حتیٰ کہ نوبل انعام کے لیے نامزدگی کیا، تو اپنی نیوٹرل پوزیشن ختم کر دی۔ ثالثی صرف نیوٹرل ملک کر سکتا ہیں۔ اب چین، متحدہ عرب امارات یا ایران پاکستان پر بھروسہ کیوں کریں؟ ہم نے کسی اور سمت جھکاؤ یا اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔
اردو
0
23
113
1.8K
Ray
Ray@RayhanMusings·
I haven’t followed Raftar’s documentary slate, including recent IK piece. The playbook is transparent; target PTI’s rivals to accrue traction, then pivot against IK. I avoid both them and mainstream media. Disengagement is often wiser than absorption into orchestrated narratives.
English
1
33
107
1.3K
Ray
Ray@RayhanMusings·
Brand Imran Khan.
Ray tweet mediaRay tweet mediaRay tweet mediaRay tweet media
Indonesia
0
6
25
772