A M Gohar
1.6K posts

A M Gohar retweetledi

گذ شتہ برس خان صاحب کا پیغام موصول ہوا کے سینیٹ کے لیے کاغذات جمع کراؤ۔ مجھے کچھ مناسب نہیں لگا کہ حلقے کی سیاست کرنے والے کو سینیٹ لڑوانا اور اس کا سینیٹ پر راضی ہوجانا دونوں ہی زیادہ دانشمندانہ باتیں نہیں لگتیں۔ دوبارہ پیغام آیا کہ لازمی اپلائی کرنا ہے، سو کیا۔
پھر وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ جنرل الیکشن میں کاغذات ریجیکٹ ہوئے، تائید کنندہ اور تجویز کنندہ کو اغوا کرکے ان پر تشدد کیا گیا۔ اپیل میں گیا وہاں سے بھی فیصلہ خلاف آیا۔ سینیٹ کی نامزدگی پر بھی یہی متوقع تھا یہی ہوا۔ ابھی چونکہ چھبیسویں ترمیم کے زریعے آئین کا مکمل کباڑہ نہیں نکالا گیا تھا، پارٹی نے آئی ایل ایف کے وکلاء کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ وکیل ہائیر کرکے ہائیکورٹ میں فیصلہ چیلنج کردیا۔ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ حق میں دیا تو سینیٹ انتخابات ملتوی کردیے گئے۔ شرط ایک؛ جس نام پہ کاٹا لگا تھا اس پر کاٹا لگا رہیگا۔ ہم خدا ہیں ہمارا فیصلہ ہے اول تو ہوگا نہیں، ہوا تو جیتے گا نہیں، جیتا تو آ نہیں سکتا، آیا تو واپس نہیں جائیگا۔ اور ساتھ ہی بیانیے؛ کیا کرلیگا؟ سیٹ ضائع، ووٹ ضائع (جیسے ووٹ، اکثریت جیسی چیزیں یہ اب تلک خاطر میں لائے ہوں)۔ آج دن تک خدائی کی لڑائی جاری رہی۔ مجھے یقین ہے آگے بھی جاری رہے گی، دنوں کی بات ہے ارادے واضح تھے واضح تر ہوجائیں گے۔ اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہ مجھے عمران خان کے بغیر اس پارلیمانی نظام کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی ہے نہ اس کا کوئی فائدہ۔ انتخابات کی واضح اکثریت۔ فارم ۴۷ کی حکومت مسلط کرنے کے باوجود نوے سے اوپر ایم این ایز۔ سینکڑوں نمائندگان دیگر اسمبلیوں میں کیا کرپائے ہیں جو ایک سینیٹ کی نشست کر لے گی کہ جب ملک میں آئین ہی نہیں۔ جب عدل ہی تماشہ ہے اور ڈنڈے کے زور پر ڈگڈگی تماشہ لگا کر ملک کے ہر ادارے کو مافیہ کے مفادات کے تحفظ کا ننگا ناچ نچوایا جارہا ہے۔ ایسے میں کون سے ایوان کی کوئی تقدیس باقی رہ گئی ہے کہ جس کا نمائندہ بننا کوئی قابلِ تحسین امر ہو (اور جو ایوان بنا ہی ووٹ کا استحصال کرکے ہو وہاں آپ اپنے لوگوں کے حقوق کا ہی کیا تحفظ کر پائیں گے)۔
سچ کہوں تو مجھے خان صاحب کی سوچ بھی نہیں سمجھ آئی کیا کرنا ہے مراد سعید کو سینیٹر بنوا کر؟ فائدہ؟ ایوانِ بالا کا احترام نہ شبلی فراز کا گریبان بچا سکا، نہ اعظم سواتی کی چادر اور چاردیورای اور قید تو وہ ہے جو اعجاز چوہدری دو سال سے کاٹ ہی رہا ہے۔ مراد سعید کا سر کیا بچا لینا ہے اس نے؟
بہت منطق ڈھونڈی نہیں ملی تو بسم اللہ پڑھ کر دستخط کردیے۔ دوسری جانب جو بھاگ دوڑ شروع ہوئی اور جو ایڑھی چوٹی کا زور لگا تو خان صاحب کی منطق سمجھ آئی؛”آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے، کاٹا صرف اللہ کی ذات لگاتی ہے“۔
۲۰۱۳ کے الیکشن میں جب پارٹی کے بڑوں نے میرے ٹکٹ کی مخالفت کی تو خان صاحب نے ایک جملہ کہا تھا ”مراد میرا پوسٹر بوائے ہے“۔ آپ کو اپنا پرایا، کوئی مراد سعید کے بغض میں، کوئی محبت کے لبادے میں تو کوئی کھلم کھلا عمران خان کی نفرت میں تو کوئی مایوسی میں تنکے کا سہارہ کھوجتے اور کم فہمی میں وراثت کے منجن بیچے گا، مگر میں بس یہی ہوں۔ پوسٹر بوائے؛ ایک استعارہ۔ بس یہی بتانا تھا کہ اس سے زیادہ ایڑھی چوٹی کا زور لگا لو، چاہے ایوانوں اور عدالتوں کو قحبہ خانے بنا دو، ملک کی ہر قابلِ فروخت زبان سے اپنی خدائی کے بیانیے بنوالو آج عمران خان نے آپ کی آنکھوں کے سامنے محض ایک پوسٹر رکھا ہے، جس کا ٹائٹل ہے؛ “آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے“۔
انشاءاللہ عمران خان واپس آئیگا!
اردو
A M Gohar retweetledi

“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
اردو
A M Gohar retweetledi

Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with his Family and Lawyers at Adiala Jail - 15 July 2025:
"There is absolutely no question of bowing down, even if I have to spend my entire life in prison. I convey this same message to the people of Pakistan: under no circumstances should you submit to this tyrannical system.
The time for negotiations has passed. What remains now is the time for the nation to rise in protest.
Hardships inflicted upon me in jail have intensified in recent days. The same is true for my wife, Bushra Bibi, who is also facing increasing restrictions. The television in her cell has been shut down. All fundamental human rights and basic prisoner entitlements, both mine and hers, have been suspended. This must be accounted for.
I am fully aware that a certain Colonel and Jail Superintendent Anjum are carrying out these actions at the behest of Asim Munir.
I issue a clear directive to my party: if any harm comes to me while I remain imprisoned, Asim Munir must be held accountable.
Bushra Bibi is being subjected to this cruelty because, during my tenure, after Asim Munir was removed from his position, he sent her a message through Zulfi Bukhari requesting a meeting, which she categorically declined. Since then, he has targeted her with continuous retribution. From day one, it has been his deliberate strategy to break my will by tormenting her.
In the very jail where I am being held under inhumane conditions, terrorists and known murderers of hundreds of Pakistanis enjoy better treatment. A military officer named Rizwan is being held in the lap of luxury, while every form of cruelty is inflicted upon me. No matter what they do, I did not bow before this oppression before, nor will I do so now.
Under the oppressive watch of Maryam Nawaz and Mohsin Naqvi in Punjab, fascism has taken root for the past two years, extinguishing democracy and crushing all political activity.The arrival of elected representatives in Punjab in the form of a political caravan, in such an environment is a welcome development.
At this time, many, including myself, are enduring some of the harshest imprisonments. Therefore, I direct every member of the party to put aside all personal grievances. Publicly airing internal matters or individual concerns before the media is entirely unacceptable. My instruction is firm: whether a senior officeholder or a junior member, no one is to express internal differences on social media, electronic media, print media, or any other platform. Focus exclusively on the protest movement so that fundamental human rights are restored in Pakistan. If any party official fails to participate in this movement, I will make the final decision about them myself, even from within jail.
I instruct all party members and office-bearers to personally retweet my messages on Twitter (now X), and ensure they are shared as extensively as possible.
The party should decide on nominations for the Senate tickets through mutual consultation."
English

✅ Verifying my account on #SUNWAVES with the nickname: "amgohar"
👉 Learn more about @sunwaves_token!
#IceOpenNetwork #ION #Binance #OKX #Bybit #Kucoin #HTX #Gateio #Upbit #Bithumb
SUNWAVES Token@sunwaves_token
🌊 The #SUNWAVES revolution is here, and MILLIONS are already on board! 🎉 Ready to upgrade your festival game with a touch of #Blockchain magic? We’re transforming the way you experience events! 🚀 Don’t wait—join us today and get your welcome bonus. #IceOpenNetwork #ION #ElectronicMusic #Festivals
English




