𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ

48.6K posts

𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ banner
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ

𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ

@Ahm5O

✍︎𝐄𝐥𝐢𝐭𝐞 𝐒𝐜𝐡𝐨𝐥𝐚𝐫𝐬 𝐒𝐜𝐡𝐨𝐨𝐥 𝐍𝐚𝐫𝐨𝐰𝐚𝐥✍︎

Punjab, Pakistan Katılım Nisan 2020
8.3K Takip Edilen7.3K Takipçiler
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں! اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا- مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔ فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔ پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔ قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔ مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا- جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“ ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
اردو
2.5K
26.8K
47.3K
1.3M
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“To strive for justice is a sacred duty, and I am ready to lay down my life for Haqeeqi Azadi (true freedom) of my nation. At this moment, Pakistan is being governed solely under “Asim Law”. Here, verdicts are pre-written and merely announced aloud. Like the baseless decisions and sentences of the past three years, the Toshakhana 2 verdict is nothing new for me. This ruling, too, was delivered in haste, without any evidence and without fulfilling legal requirements. Neither we nor our lawyers were even given opportunity to present our case. The sustained solitary confinement imposed on me and my wife constitutes severe mental torture. We are barred from books, television, and meetings. Although television access is granted to every other prisoner, even this fundamental facility has been withheld from me and Bushra Bibi. The books sent by my family are confiscated by jail authorities, and we are kept in solitary confinement for weeks at a time. This treatment is inhumane, yet all this oppression and brutality cannot weaken my resolve. It is not our tradition to target women and children. Our religion mandates mercy toward women even during warfare, yet here they are being persecuted purely out of political vendetta. I am deeply saddened and distressed by the mistreatment and brutality faced by my sisters and other women outside Adiala Jail. The treatment meted out to Bushra Bibi, Dr. Yasmin, Mahrang Baloch, and other women stands in clear violation of Islamic traditions and moral values. Bushra Bibi, my wife, has been subjected to solitary confinement purely because of personal hostility towards me, even though she has no political role and is a homemaker. The army is mine and belongs to the people of Pakistan. When I criticize Asim Munir, it is criticism of an individual, just as past dictators were criticized. Asim Munir did not come into power through a public referendum or popular vote. Whatever is happening to me in jail is being carried out on the instructions of a colonel acting under Asim Munir’s orders. The rule of law in Pakistan has been severely undermined. Just as in 2007, PCO judges who sided with a dictator and tarnished the sanctity of the judiciary earned no respect, while those who resisted were hailed as national heroes. Similarly, today, the judges who are resisting this system are our heroes, while those acting as puppets, obediently following orders, lack conscience and are no different from the PCO judges of the Musharraf era. For the struggle to restore the rule of law and uphold the Constitution, it is essential for the Insaf Lawyers Forum and legal fraternity to step forward decisively. Only a just legal system can safeguard the people; without it, neither economic progress nor moral development is possible. I have full confidence in Salman Safdar and his team and have instructed them to file an appeal against these bogus decisions in the Islamabad High Court. My message for Sohail Afridi is to prepare for a street movement. The entire nation must rise for their rights!! To strive for justice is a sacred duty, and I am ready to lay down my life for Haqeeqi Azadi (true freedom) of my nation.” Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his lawyers after the verdict of a military-style trial in Adiala Jail - (20 December, 2025)
English
1.1K
17.1K
30.8K
604K
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
"عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا اصل مطلب ہے ایسی ریاست جہاں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، عدل و انصاف کا نظام، اور جمہوری آزادی ہو، جہاں ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم ہو۔ جبکہ عاصم منیر کی "ہارڈ سٹیٹ" سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں جمہوریت کے تمام ستونوں کو کچل کر "عاصم لاء" نافذ ہو۔ یاد رکھیں، عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام ناممکن ہے۔ جو مظالم عاصم لاء کے تحت ڈھائے جا رہے ہیں، ان سے ریاست "ہارڈ" نہیں بلکہ اس کی جڑیں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔ 26 نومبر اور مریدکے کی طرح اپنی ہی فوج، رینجرز اور پولیس کے ذریعے اپنی ہی عوام پر گولیاں برسانے سے کوئی ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے تحریکِ انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ اس مینڈیٹ کے تحت یہ میرا آئینی اور جمہوری حق ہے کہ صوبے کی پالیسیاں خود مرتب کروں، کیونکہ میں براہِ راست عوام کو جوابدہ ہوں۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا بھی یہ حق ہے کہ وہ میرے ساتھ مشاورت سے صوبے میں ان پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنائیں، جن کے لیے عوام نے ہم پر اعتماد کر کے ہمیں ووٹ دیا ہے۔ تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔ میرے خلاف قائم جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں گزشتہ دس ماہ سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ مشکل سے 10 ماہ بعد کیس کی سماعت کی تاریخ ملی، مگر ضمانت کا فیصلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ میں تحریکِ انصاف کے تمام سیاسی قائدین، اراکینِ اسمبلی، اور وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب سے میرے تمام کیسز کی عدالتی کارروائیوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں، سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود رہیں، اور انصاف کے حصول تک اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔ اوپن کورٹ کے کیسز میں شرکت آپ کا قانونی و جمہوری حق ہے۔ تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں نواز شریف کو جیل میں روزانہ کثیر تعداد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت تھی، فیملی کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل تھی، بلکہ جیل میں دعوتوں تک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج مجھے مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس سے بڑی سیاسی انتقام کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مجھے جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ پچھلے دس مہینوں میں صرف ایک بار میرے بیٹوں سے بات کروائی گئی، وہ بھی تین تین منٹ کے دو مختصر وقفوں سے۔ مجھے ناصرف بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ بطور پارٹی لیڈر، اپنے سیاسی ورکرز سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ وکلاء، سیاسی رفقاء اور اہلِ خانہ سے ملاقات میں بھی مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ سراسر بنیادی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے” سابق وزیراعظم عمران خان کا بہنوں اور وکلأ کے ذریعے اڈیالہ جیل سے پیغام (21 اکتوبر، 2025)
اردو
1.4K
22.8K
38.2K
1.4M
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“The concept of a ‘hard state’ that Asim Munir is attempting to implement in Pakistan is entirely misguided. In its true sense, a “hard state” is one where the Constitution reigns supreme, justice remains independent, democratic freedoms are protected, and the national interest outweighs personal gain. In contrast, Asim Munir’s notion of a ‘hard state’ signifies a system in which the pillars of democracy are dismantled and ‘Asim Law’ prevails. No ‘hard state’ can ever be established without the support and will of the people. The atrocities being perpetrated under ‘Asim Law’ are not strengthening the state. They are, in fact, eroding its very foundations. No country can become strong by turning its guns on its own citizens, as witnessed on November 26th (2024) and in Muridke, where the army, paramilitary Rangers, and the police opened fire on their own people. The people of Khyber Pakhtunkhwa have given a clear and overwhelming mandate to Pakistan Tehreek-e-Insaf. This mandate grants me the constitutional and democratic authority to determine the province’s policies, for my accountability lies solely with the people. It is also the right of the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa, Sohail Afridi, to ensure the implementation of the policies, formulated in consultation with me, for which the people reposed their trust and cast their votes in our favor. During PTI’s tenure, prudent policies fostered peace across Khyber Pakhtunkhwa and beyond. Yet, since the regime change, the nation has witnessed a consistent deterioration in stability. Over the past three years, I have consistently emphasized the need for wisdom and foresight in dealing with Afghanistan through peaceful means. The current strained relations with Afghanistan are deeply concerning. Hatred and confrontation serve no one’s interests; only policies framed by genuine representatives of the people can bring about a lasting solution to terrorism. The baseless and fabricated cases against me are being deliberately prolonged. In the Al-Qadir University Trust case, justice has been systematically denied for the past ten months. After an extended delay, the case was finally scheduled for hearing, yet the decision on bail continues to be postponed. I instruct all PTI political leaders, members of assemblies, and lawyers to regularly attend and remain present during all court proceedings of my cases, and to continue their presence until justice is served. Participation in open-court hearings is your legal and democratic right. During PTI’s tenure in government, Nawaz Sharif was allowed daily meetings with numerous political figures in jail, with unrestricted access to family members. Even formal dinners were arranged. In stark contrast, I am being held in complete isolation. There is no precedent for such political vendetta in Pakistan’s history. I am not being provided the basic facilities guaranteed under prison regulations. Over the past ten months, I have been allowed to speak to my sons only once, and that too for two brief intervals of three minutes each. I am being deprived not only of my fundamental human rights but also of my rights as the head of a political party, to meet party officials and consult with them. Hurdles are constantly placed to obstruct my meetings with lawyers, political colleagues, and family members. This is a blatant violation of my fundamental and legal rights.” Message from former Prime Minister Imran Khan, delivered through his sisters and lawyers from Adiala Jail (October 21, 2025)
English
988
16.8K
28.9K
669.2K
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
"I extend my heartfelt congratulations to Sohail Afridi on assuming office as the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa. Sohail Afridi has been one of my long-standing and loyal companions from the Insaf Students Federation (ISF). Guided by the spirit and vision of PTI, I trust he will bring lasting and revolutionary progress to KP. I also appreciate Ali Amin Gandapur for ensuring a dignified and orderly transfer of Govt on this occasion. During the transition phase of the Chief Ministership in KP, Salman Akram Raja performed exceptionally well before the media and in the High Court. I commend him for discharging his responsibilities with great professionalism and integrity. I reiterate my demand for the establishment of a judicial commission to investigate the four major incidents of mass killings of civilians that have taken place over the past two years: May 9th (2023), Nov 26th (2024), Azad Kashmir, and Muridke. Since the beginning, my position on the May 9th false-flag operation has been firm and consistent. Transparency demands that the CCTV footage be made public and that an independent judicial commission be constituted to investigate the incident. Regrettably, no such measures have been taken. Instead, fabricated cases have been lodged against the victims themselves, and in the absence of transparent investigations or credible evidence, they have been handed ten-year sentences by military and summary courts. reality, it was unarmed citizens and peaceful supporters who came under fire that day. The same pattern of state brutality was repeated on Nov 26th, when unarmed & peaceful demonstrators were directly targeted with live fire. Had the truth about May 9th been revealed, the tragedies of Nov 26th, as well as others like it, could have been averted. Later, in Azad Kashmir and now in Muridke, protesters have again been subjected to state violence. The establishment of an independent judicial commission has become imperative to ensure that the victims receive justice and those responsible for these massacres are held accountable. If a judicial commission is once again not established to transparently investigate the killing of unarmed citizens, then, God forbid, as this reign of terror intensifies, an even greater tragedy may follow. Today, everything in the country is being run under “Asim’s Law.” All courts have effectively turned into military courts, and even the civilian judiciary is being operated in the same manner. In the aftermath of the 26th unconstitutional amendment, the prospect of justice from the judiciary has all but faded. The growing lawlessness and injustice across the country are direct consequences of this amendment. Our cases and petitions were presented before Justice Qazi Faez Isa, Justice Aminuddin, Justice Amir Farooq, and Justice Dogar, but justice was denied at every level. Asim Munir, Qazi Faez Isa, and Sikandar Sultan Raja have stolen our mandate and imposed an incompetent and illegitimate regime through Form 47. This regime lacks the vision, competence, and legitimacy required to steer Pakistan out of its current crises. There exists no coherent policy framework or strategic direction to confront the pressing challenges of terrorism, internal instability, and foreign relations. History has repeatedly shown that military dictatorships & their reliance on the use of force have never yielded lasting solutions. The issue with Afghanistan, in particular, demands a political, not military, solution. It is therefore the duty of political leadership to ensure lasting peace through dialogue and wisdom. The Form 47 regime lacks both the legitimacy & the capability to play any effective role in establishing peace. During our Govt, the level of terrorism in Pakistan had reached its lowest point. If I am released on parole, I am ready to play my role in resolving disputes with Afghanistan & in the restoration of peace in the region." Former PM Imran Khan’s message from Adiala, Oct 16, 2025
English
587
16.6K
31.7K
550.6K
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے مرحلے کے دوران سلمان اکرام راجہ نے میڈیا اور ہائی کورٹ میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے جس احسن طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھائی، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں” سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اپنی ہمشیران سے گفتگو (16 اکتوبر، 2025) 2/2
اردو
673
18.5K
37.1K
667.9K
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
"ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز سے ثابت ہے۔ مجھے اس بات کی بھی بہت تکلیف اور افسوس ہے کہ قتلِ عام کے جتنے بھی واقعات ہوئے نہ ہی ان پر کوئی جوڈیشل کمیشن بنا نہ ہی انکوائری ہوئی اور نہ ہی ذمہ داران کو سزا سنائی گئی۔ میں چاہتا ہوں کہ مریدکے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن بنا کر آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں تعداد کے حوالے سے شدید ابہام پایا جاتا ہے جیسا کہ مریدکے واقعے میں سرکاری اطلاعات کے مطابق 4 مظاہرین جان سے گئے جبکہ متاثرہ فریق کے مطابق حقیقی تعداد 400 سے 600 تک ہے۔ قتلِ عام کی جوڈیشل انکوائری میں ظلِ شاہ کے قتل میں ملوث آئی جی پنجاب عثمان انور سمیت آئی جی اسلام آباد ناصر رضوی کو ضرور شاملِ تحقیقات کیا جائے کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں یہ بھی حصے دار ہیں۔ میں تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں ہمارے کارکنان اور عوام بعد از نمازِ جمعہ مریدکے قتلِ عام کیخلاف احتجاجاً نکلیں۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اس بربریت کیخلاف آواز اٹھائیں اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔ اس ظلم اور بربریت کا راستہ نہ روکا گیا تو باری باری سب اس کی زد میں آئیں گے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی باعثِ تشویش ہے۔ دو مسلم ہمسایہ ممالک کے درمیان لڑائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو لڑائی کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے۔ جس طرح یہاں تین نسلوں سے مقیم افغان پناہ گزینوں کو دہائیوں کی مہمان نوازی کے بعد دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا ہے، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان ہمارا مسلم ہمسایہ ملک ہے۔ دہشتگردی سے متعلق معاملات بات چیت سے حل کیے جائیں۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ڈکٹیٹرز کبھی بھی امن نہیں لاسکتے- کیونکہ ملٹری ڈکٹیٹرز کو Military Solution کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا- یحیٰی خان سمیت تمام ڈکٹیٹرز کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں- یہ معاملات سیاستدان معاملہ فہمی سے حل کرتے ہیں۔ اگر ان سے نہیں ہوتا تو مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ دیرپا امن کے قیام اور افغانستان سے تنازعے کے حل کے لیے میں اپنا کردار ادا کروں۔ ملکی حالات سے مایوس ہو کر پہلے ہی تیس لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ملک سے تیزی سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلاء جاری ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری آنا تو دور کی بات ملک کے اندر سے بھی سرمایہ تیزی سے باہر جا رہا ہے۔ جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔ اور سیاسی استحکام کی عدم موجودگی میں معاشی استحکام ممکن نہیں- ملک میں لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے ہی غیر محفوظ ہیں۔ کسی کو یہ نہیں پتہ کون کب سڑک پر مارا جائے یا اٹھا لیا جائے۔ آزادی اظہار پر شدید قدغن ہے، میڈیا کو بولنے کی آزادی نہیں، جس طرح علیمہ خان پر بےجا مقدمہ بنایا گیا ایسا کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا ہے” سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (15 اکتوبر، 2025)
اردو
1.7K
22.4K
37.7K
1.4M
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟” ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام (9 اکتوبر، 2025)
اردو
1.6K
24.2K
41.7K
1.8M
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“The circumstances in Khyber Pakhtunkhwa necessitated a change in the Chief Minister, a step fully in line with the constitutional process followed in other provinces as well. This process must be allowed to proceed without interference, ensuring its timely completion. Any attempt to interfere in this process will be met with a vigorous public protest.   Sohail Afridi was chosen because of his long-standing affiliation, dating back to his student days with ISF, and the ideology of Pakistan Tehreek-e-Insaf. This decision also reinforces the narrative of involving grassroots workers in decision-making instead of relying solely on electables.   Attempts by certain quarters to link the change in Khyber Pakhtunkhwa’s Chief Minister to my family are completely unfounded. The decision is purely political and no member of my family in any way influenced it. No family member has any connection to my political decisions.   Ali Amin is among my old and loyal associates, but he is embroiled in disputes. These disputes from Asim Munir’s policy of confronting terrorism through empty displays of force rather than a comprehensive political strategy. The year 2025 marks the worst period in Pakistan’s history in terms of terrorist incidents, and Khyber Pakhtunkhwa can no longer withstand the crisis. I hope the new Chief Minister and his team will work with public representatives to adopt a comprehensive policy aimed at eliminating terrorism and establishing lasting peace.   For the past two decades I have consistently outlined a clear strategy to combat terrorism. Because of that strategy, terrorism was largely brought under control during Pakistan Tehreek-e-Insaf’s three-and-a-half-year government. At that time, PTI even negotiated with the then anti-Pakistan and India-aligned Ashraf Ghani government, and issues involving tribal communities and Afghan refugees were resolved through understanding.   In 2021, the military leadership at the time proposed a plan for the resettlement of militants who had laid down their arms. However, our elected representatives from Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas opposed it, and therefore it was never implemented during our tenure. Yet, contrary to these facts, the PTI government is being falsely accused of having allowed terrorists to be settled in the country and thereby causing the present wave of terrorism. If these accusations hold any truth, the nation deserves to know precisely which terrorists were resettled, and the details of when, where, and how.   At times, it is alleged that the Afghan government is responsible for terrorism in Pakistan because militants based in Afghanistan carry out operations here; at other times it is claimed that decades-long settlement of Afghan migrants in Pakistan is responsible. Both claims are unfounded, for even after the disgraceful expulsion of millions of Afghan refugees, terrorism has only intensified. Such contradictions leave no doubt about the ill intentions behind the Asim Munir-imposed system and its hostility toward the people.   My position on confronting terrorism has always been unequivocal. History has proven time and again that when force replaces political foresight and strategy, failure is the only outcome. Collateral damage resulting from military operations often forces the public, in revenge, to take up arms, perpetuating a cycle that grows progressively worse.   Politically motivated reprisals have produced a stream of baseless cases against me, repeatedly refiled. Cases large and small, including Tosha Khana, Al-Qadir, cipher, iddat, and again Tosha Khana, have been brought against me and my wife, Bushra Bibi, solely to coerce me into abandoning my commitment to true freedom. I want to send my nation this message once more: no matter what they do, I will not bow before them, nor will I allow my nation to bow.” Message from former Prime Minister Imran Khan from prison - October 9th, 2025
English
633
18.2K
31.1K
602.6K
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“خیبرپختونخوا کے حالات کے تناظر میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی ناگزیر تھی اور یہ ایک آئینی عمل ہے جو اس ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ہوتا آیا ہے اور اس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیئے تاکہ یہ عمل جلد از جلد مکمل ہو۔ اگر کسی نے اس میں مداخلت کی کوشش کی تو بھرپور احتجاج ہو گا۔ سہیل آفریدی کا انتخاب زمانہ طالب علمی سے ان کے آئی ایس ایف اور تحریک انصاف کے نظرئیے سے وابستگی کی وجہ سے کیا۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کی الیکٹیبلز کی جگہ گراس روٹ ورکرز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے بیانیے کو بھی تقویت بخشتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کو بعض حلقے میرے خاندان کے افراد سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس پر میرے خاندان کا کوئی فرد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہوا۔ میرے خاندان کے کسی فرد کا میرے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ علی امین میرے پرانے اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں لیکن وہ تنازعات کی زد میں ہیں۔ یہ تنازعات عاصم منیر کی کسی جامع سیاسی حکمت عملی اپنائے بغیر خالی گولہ بارود سے دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کی پالیسی کے باعث پیدا ہوا- 2025 دہشتگری کے واقعات کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا بدترین سال ہے اور خیبرپختونخوا کا صوبہ مزید اس صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امید کرتا ہوں کہ نیا وزیراعلیٰ اور اس کی ٹیم دہشتگردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے حوالے سے عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی اپنائیں گے۔ میں گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی بیان کرتا رہا ہوں۔ اسی حکمت عملی کے باعث تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں دہشتگری پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔تحریک انصاف نے اس وقت کی پاکستان مخالف اور بھارت نواز اشرف غنی حکومت سے بھی مذاکرات کئے اور قبائلی عوام اور افغان پناہ گزینوں کے معاملات بھی افہام وتفہیم سے طے کئے۔ 2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟ کبھی یہ کہا جاتا ہے پاکستان میں دہشتگردی کی ذمہ دار افغان حکومت ہے جس کی تائید سے افغانستان میں بسنے والے دہشتگرد پاکستان میں کاروائیاں کرتے ہیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ دہشتگردی دہائیوں سے پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کی وجہ سے ہے۔ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں کیونکہ لاکھوں افغان مہاجرین کو بے عزت اور رسوا کر کے نکالنے کے باوجود دہشتگردی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ متضاد بیانات عاصم منیر کے مسلط کردہ عوام دشمن نظام کی بد حواسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دہشتگردی سے نمٹنے کے حوالے سے میرا موقف ہمیشہ سے دوٹوک رہا ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے دہشتگردی کے خلاف اگر باقاعدہ سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کے بجائے صرف طاقت کا استعمال کیا جائے تو ناکامی ہی مقدر بنتی ہے۔ ملٹری آپریشن کے نتیجے میں ہونے والا “کولیٹرل ڈیمج “ عوام کو انتقاماً ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے اور یوں یہ سلسلہ بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے۔ سیاسی انتقام میں میرے خلاف مسلسل بے بنیاد مقدمات نہ صرف بنائے جا رہے ہیں بلکہ بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ توشہ خانہ، القادر، سائفر، عدت اور پھر توشہ خانہ سمیت کئی چھوٹے بڑے مقدمات مجھ پر اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر صرف اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ میں جھک کر حقیقی آزادی کا عزم ترک کر دوں۔ میں اپنی قوم کو پھر سے پیغام دینا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں ان کے سامنے نہ جھکوں گا نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا” - سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (9 اکتوبر، 2025)
اردو
1.4K
21.7K
39.1K
1.4M
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“پارٹی کے تمام عہدیداران کو پیغام ہے کہ جس میں بھی دباؤ برداشت کرنے کی قوت نہیں ہے وہ عہدے سے الگ ہو جائے اور اپنی جگہ انہیں موقع دے جو پریشر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ لہذا کم حوصلہ عہدیداران براہ مہربانی خود ہی پیچھے ہٹ جائیں تاکہ انکی جگہ ہم دلیر اور نظریاتی ورکرز کو آگے لائیں جو قانون اور آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہوسکیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اس قدر ظلم نہیں ہوا جو تحریکِ انصاف کیساتھ ہوا۔ ایسے میں ہمارے پاس ملک گیر احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ میں خود جیل سے بطور پارٹی سربراہ احتجاج کی قیادت کروں گا۔ میں نے پوری پارٹی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ ملک گیر عوامی احتجاج کی تیاری کریں۔ ہمارے پرامن احتجاج پر گولیاں چلائی جاتی ہیں اب ہم گولیاں نہیں کھائیں گے۔ پوری قوم اور اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پرامن احتجاج کیلئے کمر کس لیں۔ میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی آئین کی بحالی کے لیے اس ملک گیر احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔ سپیکر قومی اسمبلی جس طرح ایوان کو چلا رہا ہے ہم اس کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے۔ اس کے ہوتے ہوئے ایوان سے اراکین قومی اسمبلی کو اغوا کیا گیا، ہمارے ایم این ایز کی تقاریر سنسر کر دی جاتی ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر پارلیمنٹیرینز پر تشدد ہوتا ہے مگر یہ ہر معاملے میں ممبران قومی اسمبلی کی نمائندگی میں ناکام رہا ہے۔ حیران کن طور پر الیکشن دھاندلی کی اپیل چیف الیکشن کمشنر ہی کے پاس جارہی ہے جو اس دھاندلی کا سہولت کار اور مینڈیٹ چوروں کی ٹیم “بی” ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد ہی یہ تھا کہ 8 فروری کے الیکشن فراڈ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور تحریک انصاف کو victimize کیا جائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ محض حکومتی عدلیہ بن کر رہ گئی ہے۔ ہم سے مخصوص نشستیں چھیننے کی پوری تیاری ہے مگر آپ سب نے حوصلہ نہیں ہارنا اور جم کر کھڑے رہنا ہے-“ اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو 3/3
اردو
1.6K
25.6K
48.5K
1.2M
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس، عدالت میں تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ چند ہفتے قبل اس کیس کے مرکزی سرکاری گواہ کو عدالت میں جھوٹا ثابت کر دیا گیا تھا، اسکے بعد کیس بوگس ثابت ہو چکا، اس کے بعد میرے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر احمد اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کرنل ریحان نے بھی تصدیق کی کہ قوائد کے عین مطابق تحفے کی دستاویزات مکمل تھیں۔ تمام وکلاء کی رائے بھی یہی تھی کہ یہ کیس جج کی طرف سے اسی وقت خارج کر دیا جانا چاہیے تھا، اس سب کے باوجود بدنیتی پر مشتمل یہ کیس ابھی تک چلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح میرے خلاف دوسرا جھوٹا مقدمہ سائفر کیس، جو کہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین کیس ہے، اور جس پر قومی خزانے سے عوام کے کروڑوں خرچ کیے گئے، ہائی کورٹ میں اتنا کمزور ثابت ہوا کہ بنیادی طور پر یہ ٹرائل کورٹ میں ہی قائم نہیں رہنا چاہیے تھا۔ تیسرا بڑا مقدمہ القادر یونیورسٹی کے خلاف بنایا گیا۔ القادر ایک فلاحی تعلیمی ادارہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بیک وقت سائنسی و مذہبی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ سپریم کورٹ میں فنڈز آنے سے ایک سال قبل قائم کیا گیا تھا- ایک فلاحی ادارے پر بھونڈے سوالات اٹھا کر بے بنیاد کیس قائم کیا گیا جو کہ ٹرائل کورٹ میں ہی ختم ہو چکا تھا۔ اس کیس کے حوالے سے ہم جنوری سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاریخ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس ڈوگر نے 10 ماہ بعد 16 اکتوبر کو اس کی سماعت مقرر کی ہے۔ توشہ خانہ 2 میں جج ارجمند کی جلد بازی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا دے دی جائے تاکہ اس کے بعد القادر کیس میں ضمانت ہو بھی جائے تو بھی میری رہائی ممکن نہ ہوسکے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں میں توشہ خانہ سے متعلق تین کیسز اسی جج کے پاس رہے ہیں۔ قانوناً توشہ خانہ سے گاڑیاں گھر نہیں لی جائی ج سکتیں، مگر نواز شریف نے خلافِ قانون توشہ خانہ سے بلٹ پروف مرسڈیز نکلوائی، آصف زرداری نے توشہ خانہ سے ناجائز طور پر 3 گاڑیاں نکلوائیں اور مریم نواز نے توشہ خانہ سے گاڑی نکلوانے کے بعد اسے ٹیکس ریٹرن میں دکھایا اور نہ کہیں ڈیکلیئر کیا۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تینوں کیسز کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں مگر ان تینوں کے کیسز لگائے ہی نہیں جارہے جبکہ شفاف طریقے سے حاصل کئے گئے تحائف کے خلاف سیلیکٹو ٹرائل ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔ القادر ٹرسٹ کے کیس میں چونکہ زلفی بخاری نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دینے سے مسلسل انکار کیا، اس لئے انتقام کی سیاست کے تحت پاکستان میں موجود ان کی جائیداد کو نیلام کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ یہی لاقانونیت عاصم لاء ہے۔ اس وقت ملک میں عاصم لاء فیصلوں کی بنیاد ہے کہ اسکے حق میں یا خلاف گئے تو آپ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔ جب آپ عاصم لاء کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ پر کرامات ہوتی ہیں، آپ کا گندم کا اتنا بڑا اسکینڈل بھی ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، آپ توشہ خانہ سے گاڑیاں بھی لے نکلتے ہیں، تو بھی آپ پر کوئی کیس نہیں بنتا۔ شوگر مافیا ہو یا لینڈ مافیا، عاصم لاء کی چھتری تلے ہیں تو آپ کسی قانون کی پکڑ میں نہیں آتے لیکن اگر آپ عاصم لاء کے خلاف جاتے ہیں تو آپ پر بےبنیاد من گھڑت کیس بنائے جاتے ہیں، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، آپ اور آپ کے خاندان پر ہر وہ ظلم کیا جاتا ہے جو اس ملک کی تاریخ میں کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔ میں اپنے پاکستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بنیادی اخلاقی اور عدالتی اقدار کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ اگر آپ آج اپنے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے نہیں اٹھیں گے تو آنے والا وقت تباہ کن ہوگا۔ ناانصافی اور فسطائیت کے باعث معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ پچھلے تین سالوں میں تیس لاکھ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ موجودہ نااہل اور جعلی حکومت کی پالیسیوں نے معیشت کو آگے ہی شدید نقصان پہنچایا ہے، ٹیکسٹائل ملیں اپنی برآمدات بند کر رہی ہیں اور غریب عوام تیزی سے غربت کی لکیر کے نیچے جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کا پیغام دیتا ہوں کہ "تیاری پکڑیں"۔ سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (یکم اکتوبر، ۲۰۲۵)
اردو
1.1K
22.3K
35.5K
1M
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
27 ستمبر کو پشاور جلسہ جمہوریت کی بحالی اور قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے امن اور انسانی حقوق کی تکریم بحال کروانے کے لیے ہو گا۔ میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے جھیل رہا ہوں تاکہ میری قوم کو حقیقی آزادی مل سکے۔ ملک بھر سے شہری ہفتے کے دن پشاور جلسے میں شرکت کریں اور ظلم کے خلاف اعلان بغاوت کریں۔ سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (25 ستمبر، 2025)
اردو
872
18.3K
31.1K
605.7K
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“اپنی پارٹی اور پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں!! پشاور جلسے کی کال پر خیبرپختونخوا کے علاوہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی عوام کی بھرپور شرکت پر پوری قوم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ جبر کے اس ماحول میں لوگوں کا نکلنا خوش آئیند ہے” ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (29 ستمبر، 2025) 3/3
اردو
704
20.6K
37.2K
701.1K
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“مجھے بار بار ڈیل آفر ہوئی اور کہا گیا کہ ملک چھوڑ کر چلا جاؤں یا خاموش ہو جاؤں تو میرے کیسز ختم کر دئیے جائیں گے، لیکن پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ میں ان مقدمات کا سامنا عدالتوں سے کر کے ہی باہر آؤں گا کسی ڈیل کے نتیجے میں ہرگز نہیں۔ اسی لیے مجھ پر بے بنیاد 300 مقدمات بنائے گئے ہیں۔ کوئی بھی اور شخص ہوتا تو ان مقدمات کا سامنا نہیں کر پاتا لیکن میں جانتا ہوں کہ میں بے گناہ اور حق پر ہوں۔ اب توشہ خانہ کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان برگیڈیر احمد اور کرنل ریحان نے اقرار کیا ہے کہ توشہ خانہ کے تحفے میرے گھر نہیں گئے بلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے اور ان کے کاغذات مکمل ہیں۔ اب اس مقدمے میں ایک دن میں بریت ہو جانی چاہیئے، خصوصی طور پر بشرٰی بیگم کی ضمانت تو ہو جانی چاہیئے کیونکہ وہ خاتون ہیں اور اس کیس میں ان پر aiding and abetting کا ہی جھوٹا الزام ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ چھبیسویں ترمیم والی عدالتیں اوپر سے لکھے لکھائے فیصلے ہی سناتی ہیں جو قانون کے مطابق نہیں عاصم لأ کے مطابق ہوتے ہیں۔ ترتیب بھی یوں رکھی جائے گی کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا سنائی جائے گی پھر القادر میں ضمانت کا فیصلہ آئے گا۔ یہی سکرپٹ ہے اور عدلیہ فی الحال قانون کے بجائے سکرپٹ پر ہی چل رہی ہے” سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو(24 ستمبر، 2025) 2/2
اردو
1.3K
24.4K
41.1K
1.8M
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
The key witness, whose testimony formed the very basis of this case, has been conclusively discredited in court. There is no justification for dragging this case any further, especially since the prosecution’s own witnesses, Brigadier Ahmed and Colonel Rehan, has testified that the documents of the gifts taken from Toshakhana were complete. Yet, despite all evidence and government witnesses being discredited, the hearings continue. If this were not a matter of political vendetta, both Bushra Begum and I should be acquitted of this baseless case within the week. On Thursday, a date was finally set for the Al-Qadir case as well. I still hope that the court, guided by merit and law, will deliver justice in these cases and grant me release from this fabricated charge. Mohsin Naqvi has done to cricket what Asim Munir has done to Pakistan, left it in ruins. Every institution in Pakistan is currently in a state of collapse. Cricket, the sport that unites and inspires the nation, has suffered steadily since it was placed under the stewardship of Mohsin Naqvi. In 2021, the Pakistan team had defeated India by 10 wickets and was a confident side at that time. The only way they can win a match is if Asim Munir and Mohsin Naqvi are sent in as opening batsmen, Sikandar Sultan Raja and Qazi Faez Isa are made the on-field umpires, and Dogar is appointed as the third umpire, because under the current setup, this seems to be their only way of winning. Asim Munir should reflect on everything he has done just to prolong his illegitimate rule. First, democracy was dismantled, a false flag operation on May 9 was staged to crush the country’s largest political party. Then, on February 8 (2024), the two-thirds majority vote that the people had given to me in the elections was stolen and power was handed over to the same thieves who have done nothing except loot the nation’s wealth. Despite being a dictator, Musharraf still had some degree of public support for two reasons: first, he had freed the media; second, he was holding the country’s two most corrupt families, the Sharifs and the Zardaris accountable. Now, by once again imposing this convicted corrupt mafia on the nation, the country has been pushed back by decades. Secondly, through the 26th Amendment, the independence of the judiciary has been stripped away, turning it into just another state-controlled institution. Yet, those judges who still stand firm today for the rule of law and the supremacy of the Constitution are truly commendable. They are the heroes of the entire nation, and the whole country stands behind them for raising the banner of truth even in these most difficult times. On the other hand, those judges who have bowed before Asim Munir will never be forgiven, neither by history, nor by this nation. Thirdly, the moral order has been dismantled, and human rights are being grievously violated. Innocent citizens have been imprisoned, subjected to military trials, and handed unlawful sentences, all without fear of accountability. I want to send a message to my party, especially Ali Amin, Barrister Saif, and Barrister Gohar to completely cut off all contact with the establishment. If the establishment has anything to say, let them come to Adiala Jail and speak with me. The more you try to negotiate with them, the more they escalate their cruelty and try to crush our party. What an inhumane act it is that innocent prisoner Qasim Khokhar, who had been jailed in Gujranwala for two years, was denied timely medical treatment, leading to his death in prison. Previously, several other workers have also died after being released from jail. I extend my heartfelt condolences to their families. Former Prime Minister Imran Khan’s Message – 22 September 2025 1/2
English
691
18.5K
29.5K
397.6K
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے کیونکہ یہ کیس جس شخص کے بیان کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا وہ گواہ ہی عدالت میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ اس کیس کو مزید کھینچنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ بریگیڈیئر احمد اور کرنل ریحان نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحفوں کے کاغذات مکمل تھے۔ لیکن تمام ثبوتوں اور سرکاری گواہوں کے جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود کیس کی سماعت جاری ہے۔ اگر سیاسی انتقام ہی مقصد نہ ہو تو اس جھوٹے کیس میں بھی میری اور بشرٰی بیگم کی بریت اسی ہفتے ہو جانی چاہیئے۔ جمعرات کو القادر کیس کی بھی بالآخر تاریخ دے دی گئی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ عدالت میرٹ اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ان مقدمات میں انصاف دے گی اور اس جھوٹے کیس میں رہائی ہو جائے گی۔ محسن نقوی نے کرکٹ اور عاصم منیر نے پاکستان کا ایک جیسا حال کر دیا ہے۔ پاکستان میں ہر ادارہ اس وقت تباہی کا شکار ہے۔ کرکٹ واحد کھیل ہے جو پوری قوم شوق سے دیکھتی ہے۔ کرکٹ کو بھی جب سے منظور نظر محسن نقوی کے حوالے کیا گیا ہے تباہی ہی تباہی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے 2021 میں بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی اور تب ایک باعتماد ٹیم تھی- ان کے پاس میچ جیتنے کا ایک واحد طریقہ یہ ہے کہ عاصم منیر اور محسن نقوی کو اوپننگ بیٹسمین کے طور پر بھیجا جائے اور سکندر سلطان راجہ، قاضی فائز عیسٰی کو امپائرنگ دی جائے اور ڈوگر کو تھرڈ امپائر بنا دیا جائے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ کو جیتنے کا یہی ایک طریقہ معلوم ہے عاصم منیر کو سوچنا چاہئے کہ اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لیے اس نے کیا کچھ کیا ہے: سب سے پہلے جمہوریت ختم کی- 9 مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جو مجھے دو تہائی اکثریت دی اسے چھین کر اقتدار ان چوروں کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے عوام کا پیسہ لوٹنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ باوجود ڈکٹیٹرشپ کے مشرف کو اگر کوئی عوامی حمایت حاصل تھی تو اس کی دو وجوہات تھیں: ایک، اس نے میڈیا کو آزاد کیا تھا۔ دو، وہ ملک کے دو کرپٹ ترین خاندانوں یعنی شریف و زرداری خاندان کا احتساب کر رہا تھا۔ اب اسی سزا یافتہ کرپٹ مافیا کو دوبارہ ملک پر مسلط کر کے ملک کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ دوسرا، چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری سلب کر کے اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ ججز قابل تحسین ہیں جو آج بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ججز پوری قوم کے ہیروز ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے جنھوں نے ان کٹھن ترین حالات میں بھی حق کا علم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب، وہ ججز جو عاصم لأ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، انھیں نہ تو تاریخ اور نہ ہی یہ قوم کبھی معاف کرے گی۔ تیسرا ملک میں ظلم کا بازار گرم کیا گیا، اخلاقی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کی گئیں- لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ملٹری ٹرائل کر کے غیرقانونی سزائیں دی گئیں، اور یہ سلسلہ بنا کسی احتساب کے خوف کے جاری ہے۔ اپنی جماعت بالخصوص، علی امین ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر، کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اگر کوئی بات کرنی ہے تو اڈیالہ جیل آ کر مجھ سے کریں۔ آپ ان سے جتنی مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنا ہی ظلم و ستم کی شدت بڑھا کر ہماری جماعت کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کس قدر غیر انسانی عمل ہے کہ گوجرانوالہ میں دو سال سے بےگناہ قید قاسم کھوکھر کا بروقت علاج نہیں کروایا گیا جس سے اس کی جیل میں ہی موت واقع ہو گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی ورکرز جیل سے آ کر فوت ہو چکے ہیں۔۔۔ میں ان کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ 27 ستمبر کے پشاور جلسے میں پوری قوم شرکت کرے۔یہ جلسہ قانون کی بالادستی، آزاد میڈیا ، خودمختار عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو یک زبان ہو کر نکلنا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور اس جلسے کے انتظامات کریں اور جنید اکبر ان کا ساتھ دیں۔ پوری پارٹی اور ورکرز اس جلسے کو تاریخی بنانے کے لیے محنت کریں” سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو 22 ستمبر ، 2025
اردو
1.4K
22.1K
36K
943.6K
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“کامن ویلتھ کی 8 فروری کے الیکشن پر جو رپورٹ لیک ہوئی ہے اس نے بھی انتخابی دھاندلی کا پول کھول دیا ہے کہ کیسے بےشرمی اور ڈھٹائی سے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔ کامن ویلتھ کے مطابق یہ رپورٹ پہلے ہی سرکاری سطح پر حکومت پاکستان کو دے دی گئی تھی مگر یہاں سکندر سلطان راجہ جیسے بے ضمیر لوگ ہیں جنھوں نے انتخابی چوری کی سہولت کاری سمیت اس پر پردہ ڈالنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا- پاکستان میں ووٹ چوری کا قانون سخت ہے اور ایسا کرنے پر آرٹیکل 6 کا نفاذ ہوتا ہے- لیکن ملک میں اس وقت عاصم لا کے سوا سب قانون ختم ہو چکے ہیں۔ یہاں پر لیاقت چٹھہ جیسے لوگ قابل تحسین ہیں جنہوں نے اپنے عہدے پر ضمیر کی آواز کو ترجیح دی۔ اس چوری کے بعد عوام کا قتل عام کیا گیا اور چھبیسویں آئینی ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے خلاف بھی جن ججز نے آواز بلند کی وہ تعریف کے قابل ہیں۔ دھاندلی پر قائم حکومت کو قانونی طور پر قبول کرنے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ اسی لیے سینیٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفے دئیے گئے ہیں۔ اپنے ارکان پارلیمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ملک میں نافذ عاصم لاء سے بالکل نہ گھبرائیں نہ ہی جیل سے گھبرائیں۔ایک فرد واحد اپنے اقتدار کی ہوس کو پورا کرنے کی خاطر آپ کو دبانا چاہتا ہے۔ آپ جتنا ان سے ڈریں گے یہ اتنا ہی آپ کو دبائیں گے۔ آپ حق پر ہیں اور حق اور سچ انسان کو بہادر بناتا ہے، اور حق کی ہی فتح ہوتی ہے” سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵) 1/3
اردو
1K
23.9K
35.6K
805.9K
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“A false flag operation is being orchestrated along the lines of May 9th (2023) against Afghans and people of the tribal areas. Relations with Afghanistan have been deliberately sabotaged since Asim Munir assumed charge, with continuous provocations to push them into war with Pakistan, all to appease the lobby that opposes the current Afghan government and to project himself before the West as the supposed ‘savior’. First, grave threats were issued to the Afghan government; then, in blatant violation of religious, moral, and international refugee rights, Afghan brothers who had been residing in Pakistan for three generations were forcibly expelled. Then attacks were launched on Afghan soil, and now, operations have been initiated in the tribal areas under the pretext that ‘terrorists have arrived’. Because of these policies, our own people are being martyred everywhere: police personnel, soldiers, and innocent civilians being martyred are all our own. This approach can never establish peace. Lasting peace only comes through dialogue. Now, for the establishment of peace in Afghanistan and the tribal regions, three stakeholders must necessarily be brought together. First, the people of Pakistan’s tribal areas; second, the Afghan government; and third, the Afghan people. No operation can succeed without the cooperation of these three stakeholders, nor can any sustainable solution be found. What is being attempted in Khyber Pakhtunkhwa is merely to discredit the PTI government. A military operation will only fuel further terrorism, and as the police are diverted to counter rising terrorism, governance and law-and-order will collapse. Such policies were also adopted during the tenure of the ANP government. All MPAs, MNAs, and Senators of Khyber Pakhtunkhwa must sit together with the Chief Minister to urgently resolve the challenges of the province. Special measures must be taken to maintain peace in those areas recently affected by floods. Our allies, under the leadership of Mahmood Khan Achakzai, should take a peace delegation to Afghanistan and seek solutions through dialogue.” Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025) 2/3
English
571
16.9K
25.9K
548.7K
𝐀ʜᴍᴇᴅ 𝐑ᴀᴢᴀ 𝐃ʜᴀʀɪᴡᴀʟ retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
"دنیا میں نظام حکومت کی بنیاد اخلاقیات پر ہوتی ہے جبکہ پاکستان کا اخلاقی نظام ہر سطح پر، مکمل تباہ کر دیا گیا ہے۔ جمہوریت کا حسن بھی اخلاقیات ہے لیکن عاصم لأ کے تحت موجودہ نظام میں اخلاقیات کی پستی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ قرآن پاک میں بارہا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حکم کی پیروی کرتے ہوئے پوری قوم کا فرض بنتا ہے کہ حق کے ساتھ اور باطل کے خلاف ڈٹ جائیں۔ موجودہ نظام ظلم اور اخلاقی گراوٹ کی جس ڈگر پر چل نکلا ہے، اس کا خاتمہ یقیناً اسی نظام کی تباہی پر ہی ہو گا۔ قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ گھبرانا نہیں ہے، فتح آپ کی ہی ہو گی۔ افغانستان نا صرف دیرینہ ساتھی ہے بلکہ برادر اسلامی ملک بھی ہے۔ ایسے میں پوری قوم اور بالخصوص خیبر پختونخوا حکومت کا فرض بنتا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں افغانستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور جس قدر ممکن ہو انہیں امداد فراہم کریں۔ علی امین کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف جاری آپریشن کے خلاف کھڑے ہوں۔ اس آپریشن کو ہر حال میں رکنا چاہیے۔ تاریخ سے سبق سیکھیں۔ صرف بیرونی قوتوں کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑیں گے۔ موجودہ سیلابی صورتحال میں ہمارے “بلین ٹری منصوبے” کی اہمیت و ضرورت کا ایک مرتبہ پھر بھرپور اندازہ ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف نے میرے ویژن کی روشنی میں بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا جس کو بورس جانسن، ورلڈ اکنامک فورم سمیت عالمی سطح پر شاندار پذیرائی ملی۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو ہدایت کرتا ہوں کہ “ٹین بلین ٹری” مہم پر ازسرنو توجہ مرکوز کریں۔ سوشل میڈیا بھی اس ضمن میں آگہی مہم کا آغاز کرے تاکہ درخت موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے خلاف ڈھال بن سکیں۔" سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے وکلأ کے ذریعے پیغام (9 ستمبر، 2025) 1/3
اردو
982
17.5K
28K
871.1K