Imran Habib
36.9K posts







*وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر اعلی سطح کمیٹی تشکیل دے دی* وزیرِ قانون و وانصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری کابینہ اور کامرس سیکریٹری اس کمیٹی کے ارکان ہونگے. کمیٹی آئندہ ایک ہفتے میں پورے معاملے کا جائزہ لے کرے ایک جامع رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی. اس دوران اس معاملے میں کوئی بھی متاثرہ شخص اپنی معروضات کمیٹی کو پیش کر سکے گا اور کمیٹی بلا کسی تفریق کے فریقین اور متاثرین کو سنے گی. وزیراعظم کے اس معاملے پر حتمی فیصلے تک اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی طرف سے کسی بھی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی. وزیرِ اعظم نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کی ہدایات جاری کی ہیں.



😮 قیوم صاحب میں نے انگریزی جواب اس لیے مانگا تھا کیونکہ آپ خود کہہ چکے تھے کہ اردو جواب آپ کا اپنا ترجمہ ہے اصل نہیں۔ برا مت منائیں جناب۔ مجھے آپ کی ترجمہ کاری پر مکمل اعتماد ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ جس جج کی باتوں کا آپ ترجمہ کر رہے ہیں انہوں نے خود کو اردو میں بیان نہیں کیا۔ انہیں جسٹس جواد ایس خواجہ کے فیصلے کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جہاں تک ضیاء کے مارشل لا کا تعلق ہے مارشل لا آئین سے انحراف ہے اور میں کبھی اس کی حمایت نہیں کروں گا۔ تب برا آج برا۔ لیکن چونکہ آپ اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رحیم الدین خان کا پوتا وہی ہے جو جناح صاحب کے سپاہی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ڈاکٹر محمود حسین کا پرپوتا ہے، جس کا آپ نے ذکر نہیں کیا۔ لیکن اس بات کی کوئ اہمیت نہیں کیونکہ ہم سب کو اپنے اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا ۔ چاہے وہ قاضی محمد عیسیٰ کا فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان کی حمایت کرنا ہو یا رحیم الدین خان کا بلوچستان میں تمام فوجی آپریشنز بند کرنا اور انخلا کروانا یا سینئر صحافیوں کا ضیاء الحق کا ساتھ دینا۔ میری اپنی کوشش ایک نہایت معمولی وکیل کے طور پر یہی رہی ہے کہ میں آئین کے ساتھ کھڑا ہوں۔ باقی قاضی صاحب کا بنیادی گلہ یہ تھا کہ لوگوں نے ان کے فیصلے نہیں پڑھے۔ فیصلے پڑھ لیے اور بتا دیا کہ بہت برے تھے اور ان کو جسٹس منیر کے برابر سمجھا جائے گا۔

آزادئ رائے اور درست حقائق پیش کرنا وطن عزیز میں کبھی آسان نہیں رہا۔ چند دنوں سے حکمران جماعت کے مخصوص اکاؤنٹس جنہیں ن لیگ کی اعلیٰ قیادت follow کرتی ہے ، میرے خلاف باضابطہ اور منظم مہم چلا رہی ہے۔ اُن کا مقصد میری رائے کو میرے عقیدے کے ساتھ منسلک کرنا ہے۔ اُن سے سوال ہے کہ اسرائیل مخالف بیانیہ اُن کا ذاتی موقف ہے یا اُن کو جماعت کی حمایت حاصل ہے؟ یہ سوال اُن کی پنجاب اور وفاق کی اعلیٰ قیادت سے بھی ہے۔ باقی ہم اپنا فریضہ پہلے بھی ادا کرتے رہے ہیں اور آئیندہ بھی کرتے رہیں گے۔
















