Mansha Khan retweetledi
Mansha Khan
630 posts

Mansha Khan retweetledi

تسبیح گن کر پڑھنا فرض یا لازمی نہیں ہے،
لیکن سنتِ نبوی اور شریعت کی روشنی میں گن کر پڑھنا زیادہ افضل اور بابرکت ہے۔اس کے ضروری یا بہتر ہونے کی اہم ترین وجوہات درج ذیل ہیں:
۱. سنتِ نبوی کی پیروی
رسول اللہ ﷺ خود کلماتِ ذکر کو گن کر پڑھا کرتے تھے۔ احادیث کے مطابق آپ ﷺ اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں پر تسبیح گنتے تھے، اس لیے گنتی کا اہتمام کرنا سنت پر عمل کرنے کا ثواب دیتا ہے۔
۲. مخصوص فضائل اور تعداد کا تعین
شریعت میں کچھ وظائف اور تسبیحات کی خاص تعداد مقرر ہے، جیسے نماز کے بعد کی تسبیحات (33 بار سبحان اللہ، 33 بار الحمد للہ، 34 بار اللہ اکبر)۔مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ تعداد "تالے کی چابی کے دندانوں" کی طرح ہوتی ہے۔ اگر چابی میں ایک بھی دندانہ کم یا زیادہ ہو تو تالا نہیں کھلتا، اسی طرح مخصوص روحانی برکات کے لیے مقررہ تعداد کا پاس رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
۳. توجہ اور یکسوئی (Focus)
جب انسان بغیر گنتی کے پڑھتا ہے تو ذہن جلد بھٹک جاتا ہے۔ گن کر پڑھنے سے انسان بیدار مغز رہتا ہے، اس کا دھیان ذکر کی تعداد اور الفاظ پر قائم رہتا ہے اور شیطانی وسوسے کم آتے ہیں۔
۴. روزمرہ کا معمول اور پابندی
گنتی کا تعین انسان کو ایک ہدف (Goal) دیتا ہے۔ جب آپ طے کر لیتے ہیں کہ روزانہ 100 بار استغفار پڑھنا ہے، تو آپ اس کا حق ادا کرتے ہیں۔ بغیر گنتی کے انسان سستی کا شکار ہو کر تھوڑا سا پڑھ کر رک جاتا ہے۔
۵. قیامت کے دن انگلیوں کی گواہی
اگر آپ انگلیوں پر گن کر تسبیح پڑھتے ہیں، تو حدیثِ پاک کے مطابق قیامت کے دن یہ انگلیاں اللہ کے سامنے آپ کے ذکر کی گواہی دیں گی اور ان کو بولنے کی طاقت دی جائے گی۔
۱. انگلیوں پر تسبیح گننے کا سنت طریقہرسول اللہ ﷺ اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر تسبیح گنا کرتے تھے۔
طریقہ: دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو باری باری تمام انگلیوں کے جوڑوں (پوروں) پر پھیر کر گنتی کی جاتی ہے۔
فائدہ: حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ قیامت کے دن ان انگلیوں سے (ان کے اعمال کے بارے میں) پوچھا جائے گا اور یہ بول کر گواہی دیں گی۔ اس لیے انگلیوں پر گننا سب سے افضل ہے۔
۲. تسبیح کے دانے (سبحہ) استعمال کرناکچھ لوگ انگلیوں کے بجائے 100 یا 33 دانوں والی تسبیح استعمال کرتے ہیں۔
شرعی حکم: یہ بالکل جائز اور مباح ہے۔ صحابہ کرام اور صحابیات سے ثابت ہے کہ وہ گنتی کے لیے کھجور کی گٹھلیاں یا کنکریاں استعمال کرتے تھے اور نبی کریم ﷺ نے انہیں منع نہیں فرمایا۔
فائدہ: بڑی تعداد میں ذکر کرنے (جیسے 1000 یا 5000 بار پڑھنے) کے لیے یہ بہت مددگار ثابت ہوتی ہے تاکہ گنتی بھول نہ جائے۔
۳. ڈیجیٹل تسبیح یا کاؤنٹر (Digital Counter)آج کل انگلی میں پہننے والے ڈیجیٹل کاؤنٹر یا موبائل ایپس کا استعمال بہت عام ہے۔
شرعی حکم: اس کا حکم بھی تسبیح کے دانوں جیسا ہی ہے، یعنی یہ ذکر میں مدد کا ایک جدید ذریعہ ہے اور اس کا استعمال بالکل جائز ہے۔
شریعت میں اصل مقصد ذکر کی تعداد کو یاد رکھنا ہے، ذریعہ چاہے کوئی بھی ہو۔ایک اہم نصیحت (افضلیت کا فرق)نماز کے بعد کی تسبیحات: (33 بار سبحان اللہ، 33 بار الحمد للہ، 34 بار اللہ اکبر) ہمیشہ انگلیوں پر پڑھنی چاہئیں کیونکہ ان کی تعداد کم ہے اور یہاں سنت پر براہِ راست عمل کرنا آسان ہے

اردو
Mansha Khan retweetledi
Mansha Khan retweetledi

حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ کی بیٹی کا عظیم توکل
حاتم اصم بزرگانِ دین میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک سال ان کے دل میں حجِ بیت اللہ کی شدید خواہش پیدا ہوئی، مگر ان کے پاس اتنا خرچ نہ تھا کہ گھر والوں کا خرچہ بھی چھوڑ جاتے اور خود حج پر بھی روانہ ہوتے۔
جب حج کا موسم قریب آیا تو وہ غمگین بیٹھے تھے۔ ان کی نیک سیرت بیٹی نے پوچھا:
"ابا جان! آپ کیوں پریشان ہیں؟"
انہوں نے فرمایا:
"حج کا وقت آ گیا ہے، مگر میرے پاس خرچ نہیں۔"
بیٹی نے فوراً کہا:
"آپ حج پر جائیں، اللہ ہمیں رزق دے گا۔"
انہوں نے فرمایا:
"اور تم لوگوں کا خرچہ؟"
بیٹی نے جواب دیا:
"رزق دینے والا اللہ ہے۔"
پھر بیٹی نے اپنی والدہ اور گھر والوں سے بات کی، سب نے رضامندی ظاہر کی اور کہا:
"آپ حج کے لیے روانہ ہوں، اللہ ہمارا کفیل ہے۔"
حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ گھر والوں کے لیے صرف تین دن کا خرچ چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔
راستے میں قافلے کے سردار کو بچھو نے ڈس لیا۔ لوگ علاج کے لیے پریشان تھے۔ حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ نے دم کیا، اللہ نے فوراً شفا عطا فرما دی۔
قافلے کے سردار نے خوش ہو کر کہا:
"آپ کے آنے جانے کا تمام خرچ میرے ذمے ہے۔"
انہوں نے دعا کی:
"اے اللہ! یہ تیرا میرے لیے انتظام تھا، اب میرے گھر والوں کے لیے بھی اپنی رحمت دکھا۔"
ادھر تین دن گزر گئے، گھر کا خرچ ختم ہو گیا اور بھوک لگنے لگی۔ گھر والے بیٹی کو ملامت کرنے لگے، مگر وہ مسکرا رہی تھی۔
انہوں نے حیرت سے پوچھا:
"ہم بھوک سے پریشان ہیں اور تم ہنس رہی ہو؟"
بیٹی نے کہا:
"ہمارے والد رزق دینے والے ہیں یا رزق کھانے والے؟"
سب نے کہا:
"رزق کھانے والے ہیں، رزق دینے والا تو اللہ ہے۔"
بیٹی بولی:
"تو رزق کھانے والا چلا گیا ہے، مگر رزق دینے والا اللہ تو موجود ہے۔"
اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی۔
آواز آئی:
"امیر المؤمنین نے پانی طلب کیا ہے۔"
انہوں نے پانی دیا۔ جب خلیفہ نے پانی پیا تو اس کی مٹھاس سے حیران رہ گئے۔
پوچھا:
"یہ پانی کہاں سے آیا ہے؟"
جواب ملا:
"حاتم اصم کے گھر سے۔"
خلیفہ نے فرمایا:
"انہیں بلاؤ تاکہ میں انعام دوں۔"
عرض کیا گیا:
"وہ حج پر گئے ہیں۔"
یہ سن کر خلیفہ نے اپنا قیمتی کمر بند اتار کر فرمایا:
"یہ ان کے لیے ہے۔"
پھر وزراء اور تاجروں نے بھی اپنے قیمتی کمر بند اتار دیے۔ اتنا مال جمع ہو گیا کہ گھر سونے سے بھر گیا، اور زندگی بھر کی کفالت ہو گئی۔
جب گھر والے خوشی سے سامان خرید رہے تھے تو وہی بیٹی رونے لگی۔
ماں نے پوچھا:
"پہلے ہم بھوک سے رو رہے تھے تو تم ہنس رہی تھی، اب اللہ نے کشادگی دی ہے تو تم کیوں رو رہی ہو؟"
بیٹی نے جواب دیا:
"ایک مخلوق، جو اپنے نفع و نقصان کی بھی مالک نہیں، اس نے ہم پر ایک نظرِ کرم کی تو ہم مالدار ہو گئے… پھر سوچو مالکُ الملک اللہ کی رحمت کیسی ہو گی!"
سبق:
جو اللہ پر سچا بھروسہ کرتا ہے، اللہ اس کے لیے وہاں سے راستے کھول دیتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا۔

اردو

@Q_261 اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّی وَعَلٰی آلِه وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً
اردو
Mansha Khan retweetledi

@MariaBalochPK اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّی وَعَلٰی آلِه وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً
اردو

کائنات کی ہر وہ شے جو رسولِ کریم ﷺ کو جانتی ہے، وہ حضور ﷺ کے غلاموں کو بھی پہچانتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اپنے بعد جن ہستیوں کو دین کا وارث بنایا، ان میں سب سے پہلے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم ہیں، جنہیں آقا ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت عطا فرمائی۔
جن خوش نصیبوں نے رسولِ اکرم ﷺ کی غلامی اختیار کی، صحابۂ کرامؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ سے محبت رکھی، دنیا نے ان کے چہروں میں نور دیکھا۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کیا خوب فرماتے ہیں:
"بنے گی محبانِ چار یار کی قدر
جو اپنے سینے میں یہ چار باغ لے کے چلے"
الحمدللہ! چودہ سو سالہ تاریخِ اسلام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جنہوں نے حضور ﷺ کے صحابہؓ اور اہلِ بیتؓ سے محبت کی، اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو نور اور عزت عطا فرمائی۔
یہاں تک کہ امام محمدؒ کو دیکھ کر یہودی کہا کرتے تھے:
“اگر غلامِ محمد ﷺ اتنے خوبصورت ہیں، تو آقا محمد ﷺ کیسے ہوں گے!”

اردو

حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے محبت و عقیدت کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں ایک ہنڈیا میں پکا ہوا گوشت پیش کیا۔
جب کھانا سامنے رکھا گیا تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
“اس میں سے ایک دستی نکال کر دو۔”
حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ نے فوراً ایک دستی نکال کر پیش کر دی۔
کچھ دیر بعد نبی کریم ﷺ نے دوبارہ فرمایا:
“ایک اور دستی نکال کر دو۔”
انہوں نے دوسری دستی بھی پیش کر دی۔
پھر کچھ دیر بعد حضور اکرم ﷺ نے تیسری مرتبہ فرمایا:
“ایک اور دستی نکال دو۔”
یہ سن کر حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے:
“یا رسول اللہ ﷺ! ایک بکری کی آخر کتنی دستیاں ہوتی ہیں؟”
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم خاموش رہتے تو اس ہنڈیا سے دستیاں اسی طرح نکلتی رہتیں، جب تک تم نکالتے رہتے۔”
یہ مبارک واقعہ نبی کریم ﷺ کے عظیم معجزات اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے مثال برکت کی روشن دلیل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں ایسی برکت عطا فرمائی تھی کہ تھوڑی سی چیز بھی کثیر ہو جاتی اور بہت سے لوگ اس سے سیراب ہو جاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پیارے نبی ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے، ان کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق دے، اور ہمارے رزق میں بھی برکت عطا فرمائے۔ آمین
حوالہ:
مسند احمد، حدیث: 17726
دلائل النبوۃ للبیہقی، باب برکات النبی ﷺ
اردو
Mansha Khan retweetledi

میں ایک دن جہانگیر ترین کے گھر تھا وہاں میٹنگ تھی،
عمران خان نماز پڑھ رہے تھے تو میں بھی نماز ادا کرنے لگ گیا،
عمران خان نے سنتیں ادا کر کے سلام پھیرا اور تیزی سے کہیں چلے گئے،
واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں جائے نماز تھا، انہوں نے میرے سامنے بچھائی کیونکہ وہ خود جائے نماز پر نماز ادا کر رہے تھے میں کلین پر تھا، تو عمران خان کو اچھا نہیں لگا کہ وہ جائے نماز پر تھے اور میں کلین پر۔ مجھے یہ ادا ان کی بہت پسند آئی کہ وہ بہت کئیرنگ لیڈر ہیں، علی محمد خان
اردو
















