دو چار سوالات میں کھلنے کے نہیں ہم!
یہ عقدے ترے ہاتھ کے الجھائے ہوئے ہیں
ہر بات کو 'بے وجہ اداسی' پہ نہ ڈالو!
ہم پھول کسی وجہ سے کملائے ہوئے ہیں
سب دل سے یہاں تیرے طرف دار نہیں ہیں!
کچھ صرف مرے بُغض میں بھی آئے ہوئے ہیں
❤
اس طرح سے دلِ بے تاب میں لے آئیں گے
ہم تغافل کو بھی آداب میں لے آئیں گے
پہلے ڈھونڈیں گے کسی خواب کی تعبیر کو ہم
پھر تجھے بھولے ہوئے خواب میں لے آئینگے
تجھ سے اے دوست مرا ہاتھ چھڑانے کے لئے
تیرے دشمن تجھے گرداب میں لے آئینگے