F@isal retweetledi
F@isal
282K posts

F@isal retweetledi
F@isal retweetledi

8 فروری - ملک گیر ہڑتال !!!
“میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا! جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!
- عمران خان
#فوکس_8فروری_سب_بند
#February8thShutterDown
اردو
F@isal retweetledi
F@isal retweetledi
F@isal retweetledi
F@isal retweetledi
F@isal retweetledi
F@isal retweetledi
F@isal retweetledi
F@isal retweetledi

عمران خان سیاسی مؤقف مختصر ترین الفاظ میں بتایا جائے تو وہ پاکستان میں طاقت کے ڈھانچے کی تشکیل نو ہے۔ عمران خان طاقت کا توازن عوام کے حق میں کرنا چاہتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں بھی ایسی تحریک چلے، پرانے ڈھانچے سے جڑے طبقات پوری طاقت سے بروئے کار آتے ہیں۔ لاٹھی، گولی، جیل، مقدمے، سزائیں اور لوگوں کو خاموش کروانا معمول ہو جاتے ہیں۔ “
حبیب اکرم
@HabibAkram
#FreeImranKhan
#AsimLaw
اردو
F@isal retweetledi

انکے منہ سے جمہوریت کی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ 17 سیٹوں پر بیٹھ کر حکومت کر رہے ہیں۔ نوازشریف ہارتا ہے تو RO بدل دیا جاتا ہے۔ مریم نواز مہر شرافت سے ہار کر وزیراعلیٰ بنی بیٹھی ہیں اور ہمیں جو اخلاقیات کا درس دے رہے ہیں تو ہیلی کاپٹر سے تصویریں ہم نے نہیں پھینکوائیں۔۔گالی گلوچ اور چھانگامانگا کی سیاست کو ہم نے نہیں متعارف کرایا۔ یہ ساری چیزیں انکے کھاتے میں ہیں۔ یہ پاکستانی سیاست کا ایک بدنما داغ ہیں: شفیع جان
@ShafiJanPTI
اردو
F@isal retweetledi
F@isal retweetledi
F@isal retweetledi
F@isal retweetledi
F@isal retweetledi
F@isal retweetledi

عمران خان سیاسی مؤقف مختصر ترین الفاظ میں بتایا جائے تو وہ پاکستان میں طاقت کے ڈھانچے کی تشکیل نو ہے۔ عمران خان طاقت کا توازن عوام کے حق میں کرنا چاہتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں بھی ایسی تحریک چلے، پرانے ڈھانچے سے جڑے طبقات پوری طاقت سے بروئے کار آتے ہیں۔ لاٹھی، گولی، جیل، مقدمے، سزائیں اور لوگوں کو خاموش کروانا معمول ہو جاتے ہیں۔ “
حبیب اکرم
اردو













