altaf ahmad retweetledi
altaf ahmad
14.3K posts

altaf ahmad retweetledi

جنگ کا اسلحہ اگرچہ بدل چکا ہے لیکن لاجسٹکس، سپلائی لائن ، راشن، جغرافیائی خدوخال اور سٹریٹیجی سے متعلقہ سوالات اور مسائل آج بھی وہی ہیں ورنہ ہزاروں سال پرانا چینی “ سن ژی” یوں بار بار نہ پڑھا جاتا اور نہ وہ بار بار درست ہوتا۔
روس پہ حملہ کے ضمن میں جو مسائل نپولین جیسے عسکری جینیئس کو پیش آئے یعنی ہموار زمین کے باوجود طولانی فاصلے ، جنگل ، شدید سردی اور مارشل کتوزوف بغیر لڑے پسپا ہوتا گیا لیکن زمین جلاتا گیا تاکہ راشن سے محروم کرے اور اسکی فوج صرف گوریلا حملوں کی طرح اسکی سپلائی لائن کاٹے رکھے۔ اور نپولین نہ صرف جنگ ہار گیا بلکہ اپنی “ گراں آرمی” سے ہی محروم ہوگیا۔ وہی سبق نازیوں نے دوبارہ اپنے میکنائزڈ ڈویژنز کے طوفانی دستوں کے ساتھ سیکھا جدید ترین ٹیکنالوجی کی حامل جرمن بلٹز کریگ Blitzkrieg ( بجلی کی کڑک) بری طرح سے ناکام ہوئی اور روسی برفستان میں دھنس کر ڈوب گئی۔
اسلحہ جنگیں نہین جیتا کرتا انسان جیتیے یا ہارتے ہیں ورنہ عربوں کے پاس ایران تو کیا پاکستان سے بھی جدید اسلحہ ہے۔ جب امریکہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نئی تہذیب ہے جبکہ چین و ایران و روس پرانی تہذیبیں ہیں تو انکی تاریخی عمارتون کی طرف اشارہ نہیں کیا جاتا بلکہ انکے اجتماعی لاشعور کے تجربہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
امریکی جنگی شعور کی ابتدا امریکن سول وار میں ہوئی اور انہون نے کلازوٹز کی تھیوری کو پوری طرح سے اپنا لیا کہ “ خدا ہمیشہ بڑی فوج کے ساتھ ہوتا ہے “ امریکن سول وار میں شمال ، جنوب پہ اپنی بے پناہ صنعتی طاقت اور افرادی قوت کی وجہ سے غالب آیا۔ کلازوٹز کی اس تھیوری پہ مبنی امریکی جنگی سٹریٹیجک سوچ کو مزید مہمیز دوسری جنگ عظیم میں ملی جہاں جرمنی کا بلاکیڈ ہوچکا تھا اسکی صنعتی طاقت محدود ہوگئی تھی اور امریکہ نے اپنی صنعتی طاقت اور افرادی برتری کی بنا پہ “ ٹوٹل وار” کا نظریہ تخلیق کیا یعنی مخالف کے صنعتی سول ٹھکانوں کو بمباری سے تباہ کرکے اس پہ فوج کا تعدادی)quantitative ( غلبہ پاؤ۔
صدام کے خلاف پہلی عراق جنگ میں یہی نظریہ اگلی سٹیج لے گیا shock and awe کی تھیوری کی شکل میں کہ دشمن کی قیادت ٹھیک ٹھیک درست precise حملوں سے تباہ کردو، بے تحاشا کارپٹ بمباری سے اسکی کمیونیکشن ختم کرکے زمین نرم کردو تاکہ بکھری ہوئی بدحواس فوج کوئی مزاحمت کر ہی نہ سکے وہ اندھی اور بہری ہوچکی ہو۔ سب اپنے اپنے طور پہ ہتھیار ڈالتے جائیں۔ لیکن اس جنگی ڈاکٹرائن کا تمام تر انحصار ٹیکنالوجیکل برتری پہ تھا جو اب چھن چکی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکی فوجی کو ہر حالت میں بچانا لازمی تھا کیونکہ یہ قومی جنگیں نہ تھیں بلکہ محض ایمپائر کی غلبہ کی جنگیں تھیں۔
اب یہ سب بدل چکا ہے۔ ایرانی asymmetrical war کی تھیوری اسی امریکی shock and awe کی تھیوری کا توڑ ہے جبکہ صنعتی اور افرادی قوت کے غلبہ کی مساوات بدل چکی ہے اب دوسری جنگ عظیم کے دور کا امریکہ درحقیقت چین ہے اور امریکہ خود اس دور کا جرمنی بن چکا ہے جسے نایاب دھاتوں کی شکل میں جرمنی ہی کی طرح خام مال کی کمی کا سامنا ہے۔ یہاں ایک بار پھر کلازوٹز غلط اور سن ژی درست ثابت ہورہا ہے۔ حتئ کہ خود کلازوٹز کے مطابق خدا امریکہ کا ساتھ چھوڑ چکا ہے کیونکہ اس کے پاس تعداد میں بڑی فوج نہیں ہے۔
یہ ہیں وہ حالات جن میں ٹرمپ نے ایران پہ حملہ کی دھمکی دی ہے۔ ہم نے جنگی تھیوریاں تو ڈسکس کر لیں جغرافیائی خدوخال اور سپلائی لائن کو دیکھنا باقی ہے۔ نپولین نے کہاتھا کہ فوج اپنے پیٹ کے بل پہ رینگتی ہے، ہمارے جرنیلوں کا پیٹ کے بل پہ رینگنا الگ چیز ہے ،اس نے راشن اور سپلائی لائن کا کہا تھا۔
اگر ملا جات کو بھول گیا ہو تو یاد دلا دیں کہ محمد بن قاسم کے سندھ پہ حملہ سے قبل بھی بنی امیہ کے دور میں یہاں فوج کشی کا مشورہ ہوا تھا تو تب یہاں کی ریکی کرنے والے عرب جرنیل نے رپورٹ دی تھی کہ خوزستان وغیرہ سے فوج بھیج کر یہاں حملہ اس لیے ناقابل عمل ہے کہ زیادہ فوج بھیجی تو اسکی راشن کی سپلائی ممکن نہیں اور وہ بھوک سے ہار جائے گی اور اگر کم فوج بھیجی تو مقامی قبائل ہی انکو مار مار کے ختم کردینگے۔
جاری ہے 👇
اردو
altaf ahmad retweetledi

تازہ صورتحال یہ ہے کہ ایرانی سمجھتے ہیں امریکی انہیں دھوکہ دے رہے ہیں۔ مذاکرات ایک ایک deception plan کا حصہ ہے جس کے پردے cover میں امریکہ اور اسرائیل کوئی نیا خطرناک منصوبہ بنا رہے ہیں۔
۔۔۔۔
مذاکرات کی کامیابی کے لئے پہلے امریکہ کو اپنا اخلاص ثابت کرنا ہوگا۔
طریقہ: محاصرہ ہٹا کر ایران کے 120 ارب ڈالرز میں سے ایک تہائی فوری ریلیز کر دیں۔
اردو
altaf ahmad retweetledi
altaf ahmad retweetledi

No Irani delegation will come to Pakistan for the negotiations if the American blockade is not lifted as it is a blatant violation of the ceasefire agreement. Iran will not cave in to illogical American demands.
Irani officials to
@Tasnimnews_EN
Trump is using threats and threats never work in any negotiations. Prevalence of sense does.

English
altaf ahmad retweetledi

عاصم منیر ایک پروفیشنل جرنیل ہے، البتہ الیکشن جس نے چرایا، وہ ضرور کوئی حرامی نسل کا ہوگا۔
عاصم منیر ایک ایماندار جرنیل ہے، البتہ عمران خان کے خلاف جھوٹے، جعلی مقدمات بنوانے والا ضرور کسی کنجر گھرانے سے تعلق رکھتا ہوگا۔
عاصم منیر ایک فرض شناس جرنیل ہے، البتہ ماتح ججوں سے لے کر عدالت عظمی تک، جو کوئی بھی عدالتی فیصلوں پر اثرانداز ہورہا ہے، وہ ضرور کسی گشتی کا بچہ ہوگا۔
ہمارا عاصم منیر سے کوئی اختلاف نہیں، ہماری دشمنی تو اس مادرچود سے ہے جو آئین توڑتا ہے، سیاسی کارکنان پر ظلم کرواتا ہے، سیاست میں مداخلت کرتا ہے اور کرپٹ لوگوں کو جعلی حکمران بنواتا ہے۔
عاصم منیر زندہ باد۔
آئین کے خلاف چلنے والا حرامزادہ مردہ باد۔
کسی کو اختلاف ہے تو سامنے آئے!!!
منقول
اردو
altaf ahmad retweetledi
altaf ahmad retweetledi
altaf ahmad retweetledi

ویسے تو تقریباً ہر ویک اینڈ پہ ٹرمپ تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور کمی بیشی سے شاید کچھ فائدہ اٹھانے کی کوشش کیا کرتا ہی ہے۔ لیکن اس بار ایک دلچسپ امر کا مشاہدہ ہوا کہ ایرانیوں کی طرف سے بھی کچھ ایسا ہی رویہ تھا۔
جمعہ کے دن انکا بیان بہت حوصلہ افزا تھا یہ تاثر ملا کہ شائد ہرمز بغیر کسی شرائط کے کھل گئی ہے کچھ بعد وضاحت آئی لیکن آج انکا رویہ بہت سخت تھا بلکہ انہون نے یہ بھی بتادیا کہ امریکہ نے پاکستانیون کی توسط کیا شرائط بھیجی تھیں اور یہ انہیں ہرگز قبول نہین۔
کیا یہ اسرائیل کی طرف سے لبنان سے جنگ بندی پہ عمل نہ کرنے اور ٹرمپ کی بڑھکون کا ردعمل ہے ؟ جو دوست ایرانیوڻ کا کم سے کم اس جنگ میں مشاہدہ کر رہے ہیں انہین یہ تو اندازہ ہوچلا ہے کہ وہ کبھی رینڈم یا غصہ کا ردعمل نہین دیتے انکا ردعمل ہمیشہ میتھاڈیکل اور ویل کیلولیٹڈ ہوتا ہے۔ حتئ کہ سید علی خامینائی کی شہادت پہ امریکی بھی یہی سمجھے کہ غصہ کا ردعمل آئے گا لیکن تب بھی انکا کیلکولیٹڈ ردعمل تھا اور دو ہی دنوں میڻ انہوں نے خطے کے امریکی ایئربیسز اڑا کر رکھ دیے۔
اب بھی ایسا ہی ہے یہ انکا سوچا سمجھا ردعمل ہے۔ ساری صورت حال کو ذہن مین رکھیڻ۔ جنگ بندی پہ ہی عرض کردی تھی کہ صرف ہتھیار بدل گئے ہیں جنگ جاری ہے اور اب ٹینک توپ طیارے میزائل نہیں بلکہ تیل اور خلیج کی فوڈ سپلائی کا ہتھیار ہے۔ کم سے کم ایرانی اسے زاویے سے آگے چل رہے ہین۔
ٹرمپ کی سٹریٹیجی تو بچے بچے کو پتہ ہے کہ وہ تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھ کر مذاکرات کے ذریعے اس جھنجھٹ سے نکلنا چاہتا ہے اسکا اصل مسئلہ ہرمز اور تیل کی سپلائی ہے جبکہ صیہونی اسے نکلنے نہیں دے رہے۔ ادھر ایران بھی یہ خوب جانتا ہے۔ اب یہ سوچیں کہ وہ تیل آ کہاں سے رہا ہے جس کی وجہ سے قیمتیں مستحکم ہیں ؟ تو جواب ہے ممالک کے سٹریٹیجک ریزرو سمیت انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے ریزروز مارکیٹ میں پھینک کر جو تین ماہ کے ریزروز ہوا کرتے ہیں اور یہ جون کے شروع میں ختم ہو جائیں گے۔
اور جون میں ہی امریکہ کا بجٹ پیش ہونا ہے۔ ایرانی ان مذاکراتی سلسلہ کو تب تک کھینچیں گے مئی میں تیل کے ریزرو ختم ہوتے دیکھ کر ممالک کے ہوش اڑنا شروع ہو جائیں گے بشمول امریکہ کے کہ تیل کی قیمتیں کہاں تک جائیں گی اور مہنگائی کا ڈومینو افیکٹ معیشت کو کس طرح اپنی لپیٹ میں لے گا ایرانی یہی چاہیں گے کہ دنیا ٹرمپ کو ضدی پاگل اور بلیک میلنگ کا شکار سمجھ کر نظرانداز کرنے پہ مجبور ہو اور ٹرمپ نتن یاہو کے ہاتھ تنگ آجا ئے
اس لئے چند ہفتے مزید انتظار کریں البتہ ایرانی فیلڈ مارشل سے ضرور اچھے رابطہ میں رہیں گے کیونکہ انہیں بھی خوب علم ہے کہ یہ ٹرمپ کا قابل اعتماد قاصد ہے ، جب بھی کوئی معقول پیغام آیا تو اسی کی توسط آئے گا۔ ادھر فیلڈ مارشل بھی خوش ہے اسکی ایران سے جنگ کے امکان سے جان چھوٹی ہوئی ہے عوام کی توجہ مبذول ہوچکی ہے اور اس نے اپنے ڈھولچیوں کے ذمہ لگایا ہوا ہے کہ پاکستان یعنی اس کی عالمی مقبولیت کے گیت گائیں اور بتائیں کہ بھوک سے مارا پاکستان یعنی فیلڈ مارشل کا طیارہ اب اونچی ہواؤں میں اڑ رہا ہے۔ یہ ایران آتا جاتا رہے گا اور ٹرمپ کی چانپوں کی بجائے ایرانی زرشک پلاؤ اڑاتا رہے گا عوام بھوک اور مہنگائی سے مرتے رہیں گے عوام بولے تو انکو اسی طرح بھوُن کے رکھ دے گا جس طرح مشرقی پاکستان میں لاکھوں بھُون کے رکھ دیے تھے۔
عمیر فاروق


اردو
altaf ahmad retweetledi
altaf ahmad retweetledi

Mr. President Donald Trump,
@realDonaldTrump
I would like to offer you a sincere piece of advice—fully aware that you will ultimately act according to your own judgment. However, given the current situation in the region and the complexities of this conflict, there is a path that could help you exit with dignity while avoiding further costs and escalation.
In my view, if anyone can help navigate this situation effectively, it is Imran Khan. He demonstrated remarkable vision, courage, and diplomatic skill during the Afghanistan conflict, playing a constructive role in paving the way for a resolution.
Imran Khan @ImranKhanPTI is a leader who understands ground realities and possesses the ability to balance relations among global powers. Under his leadership, doors to meaningful dialogue can open—and it is dialogue, not prolonged conflict, that ultimately ends wars.
If you truly seek a dignified way out of this crisis, consider bringing Imran Khan on board. I firmly believe his leadership and strategic insight can help guide you through this challenging situation.
مسٹر پریزیڈنٹ Donald Trump،
@realDonaldTrump
میں آپ کو ایک مخلصانہ مشورہ دینا چاہتا ہوں—
یہ جانتے ہوئے بھی کہ فیصلہ بہرحال آپ نے اپنی صوابدید پر ہی کرنا ہے۔ مگر خطے کی موجودہ صورتحال اور اس پیچیدہ جنگی تناظر کو دیکھتے ہوئے، ایک راستہ ایسا بھی ہے جو نہ صرف آپ کے لیے باوقار نکل سکتا ہے بلکہ غیر ضروری اخراجات اور مزید کشیدگی سے بھی بچا سکتا ہے۔
میری رائے میں، اس صورتحال سے نکلنے کے لیے اگر کوئی مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ
عمران خان @ImranKhanPTI ہیں۔
انہوں نے ماضی میں افغانستان کے معاملے پر جس بصیرت، جرات اور سفارتی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ مشکل ترین تنازعات میں بھی راستہ نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
عمران خان ایک ایسے لیڈر ہیں جو نہ صرف زمینی حقائق کو سمجھتے ہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں مذاکرات کا دروازہ کھل سکتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو جنگوں کو ختم کرتا ہے—نہ کہ مزید بھڑکاتا ہے۔
اگر آپ واقعی اس بحران سے باعزت انداز میں نکلنا چاہتے ہیں، تو ہمت کیجیے اور عمران خان کو آن بورڈ لیجیے۔
میرا یقین ہے کہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور وژن کے ذریعے آپ کو اس مشکل صورتحال سے نکال سکتے ہیں۔
English
altaf ahmad retweetledi

ایک وفادار بہن کا اپنے بہادر بھائی کو خراج تحسین۔
ترجمہ:
تم سفارتی مصروفیات کی چمکتی روشنیوں میں نظر نہ بھی آؤ،
وہ لوگ بھی تمہیں بھول جائیں جنہیں تم اقتدار میں لائے،
تم چاہے وہ سب حاصل نہ کر سکے جس کی تمہیں خواہش تھی، اس لیے تکلیف میں بھی ہو سکتے ہو،
لیکن یاد رکھو:
تم ہمارے دلوں میں بستے ہو، ہماری دعاؤں میں ہو، اور ہماری چھوٹی سی جدوجہد کا حصہ ہو۔
ہم تمہارے لیے بولیں گے، تمہارے لیے دعا کریں گے، اور جو کچھ بھی ہم سے بن پڑے گا کریں گے،
کیونکہ تم نے اپنی پوری زندگی بھر جو کچھ بھی کر سکتے تھے، وہ کیا!
Noreen Khanum@noreen_khanum
You may not be visible amidst the dazzling lights of diplomatic errands, you may have been forgotten by people you put in power, you may be suffering because of not achieving what you would have wanted but remember YOU ARE IN OUR HEARTS, IN OUR PRAYERS, AND PART OF OUR SMALL STRUGGLES We will speak for you, pray for you, and do whatever we can because YOU DID WHAT YOU COULD ALL YOUR LIFE! @ImranKhanPTI #imrankhan #ImranKhanHealthEmemrgency
اردو
altaf ahmad retweetledi
altaf ahmad retweetledi

اس سے اچھا خطاب شیعہ سُنّی اتحاد کے بارے میں اور امام خامنائکے بارے میں شاید کسی اہلِ سُنّت عالم نے پہلے نہ کیا ہو۔۔۔۔۔۔
ضرور دیکھیں۔ x.com/Aliwala72/stat…
اردو
altaf ahmad retweetledi
altaf ahmad retweetledi
altaf ahmad retweetledi
altaf ahmad retweetledi
altaf ahmad retweetledi
altaf ahmad retweetledi






