Naka-pin na Tweet
m Azam
11K posts

m Azam
@RehanAz42
بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
Pakistan Sumali Temmuz 2020
18.2K Sinusundan19.9K Mga Tagasunod
m Azam nag-retweet
m Azam nag-retweet
m Azam nag-retweet
m Azam nag-retweet
m Azam nag-retweet
m Azam nag-retweet

اپنے گھر یا آفس میں بیٹھ کر پنجاب گورنمنٹ کا ای اسٹامپ پیپر خود پرنٹ کرنے کا طریقہ (بیانِ حلفی 300 روپے والا):
سب سے پہلے PLRA کی ویب سائٹ اوپن کریں۔
وہاں موجود Get an e-Stamp کے آپشن پر کلک کریں۔
اس کے بعد Challan Form (Low Denomination) کو اوپن کریں۔
فارم میں مطلوبہ تمام تفصیلات درست طریقے سے درج کریں۔
فارم مکمل کرنے کے بعد اسے Save کر لیں، اس سے آپ کا چالان تیار ہو جائے گا۔
اب اس چالان کو Easypaisa / JazzCash یا کسی بینک کے ذریعے جمع کروا دیں۔
چالان جمع ہونے کے بعد دوبارہ ویب سائٹ پر جا کر Download Stamp Paper کے آپشن پر کلک کریں۔
وہاں Challan Number / PSID درج کریں۔
جو موبائل نمبر آپ نے فارم میں دیا تھا، اس پر Stamp Number آئے گا، اسے بھی درج کریں۔
اس کے بعد اپنا شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر لکھیں۔
پھر Download Stamp پر کلک کریں۔
آخر میں ایک Password / OTP مانگا جائے گا، جو آپ کے موبائل پر آئے گا۔ اسے درج کرنے کے بعد e-Stamp Paper ڈاؤن لوڈ ہو جائے گا اور آپ اسے پرنٹ کر سکتے ہیں۔
اردو
m Azam nag-retweet
m Azam nag-retweet
m Azam nag-retweet

لیپ ٹاپ پورٹل اوپن ہو چکا ہے، سرکاری اور نجی جامعات کے تمام اہل طلبہ اپلائی کر سکتے ہیں.
65% marks or above can apply
Apply now: cmlaptophed.punjab.gov.pk
Closing date Feb 15, 202
اردو
m Azam nag-retweet

پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کو کسی نے ایک مصرعہ بطورِ طرح دیا کہ اگر آپ اس میں چھ اشعار کہہ دیں تو آپ کو استاد مان لوں گا، پیر صاحب نے 12 اشعار کہہ بھیجے، اور ساتھ یہ بھی لکھ بھیجا
"مجھے استاد بیشک تسلیم نہ کریں، بلکہ اساتذۂ فن کا شاگرد ہی رہنے دیں، غزل کہہ کر بھیج رہا ہوں۔
غزل
"ہر بول اُس کا روح کے آزار چاٹ لے"
جس کی زبان خاکِ درِ یار چاٹ لے
گُل چِیں نہ پا سکا کبھی جوہر پہ دسترس
مشکل ہے کوئی پھول کی مہکار چاٹ لے
ملتا ہے اور تشنگئ راہرو کو چین
پانی جو آبلے کا کوئی خار چاٹ لے
رہتا ہے زلفِ یار تیری چھاؤں میں یہ دِل
جب تیز دھوپ سایۂ اشجار چاٹ لے
مٹتا نہیں کسی سے بھی رسوائیوں کا داغ
کس کی مجال سُرخئ اخبار چاٹ لے
مل پائے ایسے قاتلِ شاطر کا کیا ثبوت
جو قتل کر کے خنجرِ خونخوار چاٹ لے
ایسے میں کیا پٹے کوئی سودا سرِ دُکاں
بائع جو اُٹھ کے مغزِ خریدار چاٹ لے
اے خوش قدم ! ذرا نظرِ بد سے ہوشیار
ایسا نہ ہو کہ شوخئ رفتار چاٹ لے
اس خوف سے وہ رکھتے ہیں زلفیں لپیٹ کر
افعٰی کہیں نہ زلف کا رخسار چاٹ لے
واعظ کی بات دِل میں جو اُترے تو کس طرح
جب کان اُس کی کثرتِ گفتار چاٹ لے
اِترائیے نہ شوکتِ فانی پہ اس قدر
دیمک کہیں نہ کرسئ سرکار چاٹ لے
منکر جو ہو نصیر کے فضل و کمال کا
کہہ دو اُسے نوشتۂ دیوار چاٹ لے
پیر سید نصیر الدین نصیرؒ

اردو
m Azam nag-retweet
m Azam nag-retweet

صوفی غلام مصطفٰی تبسّم کی اصل وجہِ شہرت:-
صوفی تبسّم صاحب نہ صرف بہت اچھے شاعر تھے بلکہ گورنمنٹ کالج لاہور میں بطور استاد ان کا ایک اپنا مقام تھا.
ایک اور بہت کمال خوبی تھی جو ان کی تمام خوبیوں اور پہچانوں پر بھاری تھی کہ وه اپنے عزیزوں اور حلقہ احباب میں ایک بہت اچھے "برتاوے" یعنی بانٹنے والے کے طور پر مشہور تھے.
وه عزیز و اقارب کی بیٹیوں کی شادی میں جاتے تو مہمانوں کو کھانا کھلانے کا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیتے اور اس خوبی سے برتاتے کہ کبھی کھانے کی تقسیم میں کوئی کمی بیشی نہ رہتی. جتنے مرضی لوگ آ جائیں, اب گھر والوں کو کوئی فکر نہ ہوتی. صوفی صاحب بخوشی اس بار کو اٹھاتے اور پیش آمده مشکلات سے خود ہی نبردآزما ہوتے اور خود ہی حل نکالتے....
مشہور دانشور اور افسانہ نگار جناب اشفاق احمد نے ایک بار اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے پھیکی چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے ہمیں بتایا کہ جن دنوں وه گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم تھے, ان کے استاد صوفی تبسّم صاحب نے ایک دن اپنے Fifth Year کے طلبہ سے کہا چلو بھئی فلاں گھر میں بارات آنے والی ہے, جاکر کھانا برتانا ہے.
بھاٹی دروازے میں بتّیاں والی سرکار کے پیچھے ایک گھر تھا, وہاں پہنچے...
کچھ دیر بعد نائی دیگیں بھی لے آئے. گھر والے بڑے خوش اور مطمئن تھے کہ اب صوفی صاحب آگئے ہیں فکر کی کوئی بات نہیں. بارات میں 80 لوگوں کا بتایا گیا تھا اور اسی حساب سے انتظامات کئے گئے تھے. مگر جب بارات آئی تو وه لوگ 160 سے بھی زیاده تھے...
صوفی صاحب کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے اور ناک تک آ گئے.
انہوں نے قریب موجود اشفاق احمد سے کہا...!
"اشفاق ہُن کی کرئیے؟"
اشفاق احمد نے اپنی طالبعلمانہ سمجھ سے کہا...!
"دیگوں میں مزید پانی ڈال دیتے ہیں, سالن کا ہی مسئلہ ہے, وه بڑھ جائے گا اور سب کو پورا آ جائے گا."
انھوں نے گھبرا کر ایک چپت لگائی اور بولے...!
"احمق لڑکے! پانی ڈال کر مرنا ہے, سالن تو اور جلدی ختم ہو جائے گا. اب طریقہ یہ اختیار کریں گے کہ سالن میں گھی کا پورا " پِیپا" یعنی 16 کلو کا پورا ٹین ڈالیں گے. جب سالن میں "تریِر" زیاده ہو تو کم کھایا جاتا ہے."
پھر اسی طریقے سے کھانا تیار ہوا...
لڑکوں نے بھاگ بھاگ کر کھانا Serve کیا. وه اندر سے ڈر بھی رہے تھے کہ کھانا کہیں کم نہ پڑ جائے, آخر عزت کا سوال تھا...
باراتیوں سے پوچھتے بھی جاتے تھے کہ اور لائیں!
اور لائیں...
ادھر کھانا ختم ہونے ہی والا تھا جب اچانک باراتیوں میں سے کسی نے آواز لگائی "بس جی...!"
پھر باقی ہر طرف سے بھی یہی آوازیں آنے لگیں. ایسے موقعوں پرلوگ ہمیشہ کسی پہلی آواز کے منتظر ہوتے ہیں. صوفی صاحب کے ہاتھ میں کپڑا اور کڑچھا تھا, وه اندر سے خدا جانے کتنے پریشان تھے. یونہی یہ آواز آئی, وه تیورا کر زمین پر گرے. وہاں ایک بڑا سا لوہے کا کڑاها پڑا تھا. شکر ہے اس سے ان کا سر نہیں ٹکرا گیا....
شاگردوں نے بھاگ کر اٹھایا, لٹایا, ٹانگیں دبائیں, ہاتھ پاؤں کی مالش وغیره کی اور وعده لیا کہ خدا کے واسطے ایسی ٹینشن والا کام دوباره ذمہ نہیں لینا. انہوں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا...!
"میری توبہ! آج تو پریشانی نے مار ہی ڈالا تھا."
وہاں سے نکلے تو استاد صاحب آگے آگے اور شاگرد پیچھے پیچھے چل رہے تھے. پندره بیس قدم چلے ہوں گے کہ ایک گھر سے ایک مائی نکلی. اس نے صوفی صاحب کو دیکھا اور دور ہی سے پکاری....
"وے غلام مصطفیٰ! میں تَینوں لبھدی پِھرنی ساں. کُڑی دی تاریخ رکھ دِتّی اے, بھادوں دی تیراں....
کَھان پِین دا اِنتظام تُوں اِی ویکھنا ایں".
صوفی صاحب جو تھوڑی ہی دیر پہلے توبہ کر کے نکلے تھے, جھٹ سے بولے...
" کاغذ لاؤ, یہ لو پینسل اور لکھو,
تیراں سیر گوشت, ایک بوری چَول........,
بس اَسی پہنچ جاواں گے."
کبھی صوفی تبسم نے بھی تو اپنی Self Examination کی ہو گی. تبھی تو استاد ہوتے ہوئے بھی دوسروں کے لئے بڑے آرام سکون سے تنور پر روٹیاں لگانے بیٹھ جاتے تھے. ایسی خوبیاں جو ذات کا حصہ بن جائیں اور پھر دور و نزدیک آپ کی پہچان ٹھہریں, ذاتی تجربے کے نتیجے میں ان میں اور نکھار آتا ہے, ان پر پیار آتا ہے, شرمساری نہیں ہوتی....
(اختر عباس کی کتاب "قابل رشک ٹیچر" سے ماخوذ)

اردو
m Azam nag-retweet
m Azam nag-retweet
m Azam nag-retweet

غالباً یہ وڈیو PKLI لاہور کی ہے
جہاں ایک مریض جو زندگی موت کے کشمکش میں ہے اسے ڈاکٹر صاحب پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت مبارک سنا رہا ہے ساتھ اسکا ٹریٹمنٹ بھی اور وہ مریض پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں جھوم رہا ہے اپنی بیماری کو بھول کر
اللہ ایسے اسٹاف کو بھی اپنی امان میں رکھے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے مریضوں کو صحت و تندرستی عطا فرمائے۔
بہت خوشی ہوئی یہ عمل دیکھ کر
اردو
m Azam nag-retweet

ابنِ انشاء
فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو
فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈھے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے مے خانے ہوں
فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو
فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو
دیکھ مری جاں کہہ گئے باہو کون دلوں کی جانے 'ہو'
بستی بستی صحرا صحرا لاکھوں کریں دوانے 'ہو'
جوگی بھی جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں
کاسہ لیے بھبوت رمائے سب کے دوارے پھرتے ہیں
شاعر بھی جو میٹھی بانی بول کے من کو ہرتے ہیں
بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں
ان میں سچے موتی بھی ہیں، ان میں کنکر پتھر بھی
ان میں اتھلے پانی بھی ہیں، ان میں گہرے ساگر بھی
گوری دیکھ کے آگے بڑھنا سب کا جھوٹا سچا 'ہو'
ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچا 'ہو'

اردو
m Azam nag-retweet
m Azam nag-retweet

ساغر صدیقی کی بہت ہی عمدہ غزل
وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو
یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو
بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشا ہو
آج ہم بھی تری وفاؤں پر
مسکرائیں تو کیا تماشا ہو
تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو
وقت کی چند ساعتیں ساغرؔ
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو
ساغر صدیقی

اردو
m Azam nag-retweet

یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب
یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو
ایسا نہ ہو یہ درد بنے دردِ لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو
شاید تمھیں بھی چین نہ آئے مرے بغیر
شاید یہ بات تم بھی گوارا نہ کر سکو
کیا جانے پھر ستم بھی میسر ہو یا نہ ہو
کیا جانے یہ کرم بھی کرو یا نہ کر سکو
اللہ کرے جہاں کو مری یاد بھول جائے
اللہ کرے کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو
میرے سوا کسی کی نہ ہو تم کو جستجو
میرے سوا کسی کی تمنا نہ کر سکو
کیوں چاہتا ہوں تم کو تبسّم یہ ہے وہ راز
چاہو بھی تم اگر، کبھی افشا نہ کر سکو
صوفی غلام مصطفٰی تبسم

اردو
m Azam nag-retweet















