Mindless🇲🇾جیدی
9.1K posts

Mindless🇲🇾جیدی
@mindles_jay
#Computer #Engineer #Business #Messi #Barcelona #Movies #Travel

اپ خیر سے پاکستان سے باہر ہیں اب زرا سرچ کریں گوگل پر یہ اک رئیل شے ہے خواتین سوسائیڈل تک ہوجاتی ہے اپنے بچوں کو مارنے کے کئی واقعات مغرب میں بھی ہوتے ہیں جن کے پیچھے عموما یہی پوسٹ ڈپریشن وجہ ہوتی ہے مسلہ یہ ہے کہ آپ کے غیر فطری ملک بمعہ معاشرے میں اس چیز پر بات تو درکنار اسکا نام تک اکثریت کو شائد نہ پتہ ہو نہ ایسے سیریس ایشوز ہمارے ہاں ڈسکسس ہوتے مغرب میں افٹر پریگنسی خواتین کو میڈیسن ریکمنڈ کی جاتیں ہیں اس ڈپریشن کے حوالے سے جو انھیں عمر بھر لینی پڑتی ہیں اس ڈپریشن پر قابو پانے کے لیے

واضح رہے کہ اس بد بخت عورت کے جرم کا دفاع نہیں کیا جارہا لیکن اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہئے ان تین بچوں کی ماں نے ان بچوں کا گلا کاٹ دیا کوئی اسکو قیامت کی نشانی کہہ رہا کوئی ماں پر بدکاری کا الزام لگا رہا جواب اسی تصویر میں چھپا ہے پانچ ، چار اور ڈیڑھ سال کے یہ بچے پانچ اور چار سال میں والے دو بچوں میں بس اک سال کا وقفہ یعنی ابھی ماں کے جسم نے مکمل اپنی توانائی بھی بحال نہیں کی اور دوبارہ ماں بننے کے عمل سے گزرنے لگی ماں کے ہارمون بدلتے ہیں اس میں چڑچڑا پن آتا ہے کبھی بےتحاشہ تھکن محسوس کرتی ہے مگر جب اک بچہ گود میں بھی ہو جو کھانے پینے سےبول و براز تک کیلئے محتاج ہو ماں کا اس ماں کو کتنا آرام ملا ہوگا جس طبقے سے تعلق وہاں خوراک کتنی ملی ہوگی کون جانے ان دو جانوں کو پالنے میں اس عورت کی کتنی توانائیاں خرچ ہوئیں کتنی بحال ہونا نصیب ہوئیں صرف دو بچوں کی ذمہ داری ہی نہیں یہ ماں ساتھ گھر بھی پورا سنبھالتی ہوگی۔ اسکے بعد جب پھر دو سے تین سال میں ایک اور جان پلنا شروع ہوگئ پوسٹ پارٹم ڈپریشن تو بالکل ہی کوئی غیرملکی زبان کا لفظ ہے پاکستانیوں کیلئے یہاں تو کہا جاتا ہے ہر عورت ماں بنتئ ہے سب بچوں کے گلے نہیں کاٹتیں بالکل ایسا ہی ہے مگر ہر عورت کو اتنا پیسو بھی مت کہ ان میں سے کوئی اس حد تک چلی جائے پاکستانی باپ بچوں کو بیت الخلا تک لے جانے کو تیار نہیں ہوتے کجا انکا کوئی اور کام کردیں عورت ماں بن کے درجہ پا لیتی ہے یہ اللہ نے اسے دیا ہے مگر اسے بار بار ماں بنتے رہنے کا حکم تو اللہ نے نہیں دیا نا اک باپ کو صرف کفالت کرنی ہے اس پر وہ ڈپریشن میں آکر اپنے بچوں کی جان لے لیتا یے تو ماں نے تو بچوں کو اپنے جسم میں پہلے سینچنا ہے پھر پالنا ہے اور اس سب کے ساتھ اس نے گھر کے دیگر کام بھی نپٹانے ہیں اسے اتنا انسان تو سمجھیں کہ شائد کبھی وہ تھک بھی جاتی ہو


ہم کہاں جا رہے ہیں : گزشتہ دو رز قبل اقرار الحسن کا ایک سرکاری افسر سے الجھنا بہت وائرل ہوا اور اقرار کے حامی اور مخالفین نے اس معاملے کو اپنے اپنے سیاسی چشمے سے دیکھنا شروع کر دیا.. لیکن کسی نے بھی تیسرا اینگل نا دیکھا اگر یہ سرکاری اہلکار اقرار جیسے مشہور انسان کے ساتھ طنزیہ گفتگو کرتے ہیں اپنی ڈیوٹی کے بجائے تو سوچیں عام آدمی کے ساتھ کیا رویہ ہوتا ہوگا لیکن ہم ہر غلط کو صرف اس وجہ سے جسٹی فائی کرنے کہ عادی ہوگئے ہیں جو ہمارے سیاسی مفاد کو سوٹ کرتا ہو

وفادار شریکِ حیات کی موجودگی میں بھی مرد دوسری عورتوں اور دوستیوں میں دلچسپی کیوں لیتے ہیں؟

🤒🤧😥


@hayyat89 بلیو ٹک اچھے خاصے ارگینگ بندے کو synthetic بنا دیتا یے

مجھے ایک اچھی سی مووی سجیسٹ کریں جسے آپ نے تین چار بار ضرور دیکھا ہو۔



سیاسی، نظریاتی اور ذاتی اعتبار سے جواد احمد عمران خان سے ہزار گنا بہتر ہے کیونکہ اس نے کبھی اپنی بیٹی کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا، کبھی کسی کی گھر جا کر اُس کی بیوی اور پانچ بچوں کی ماں کو گمراہ کر کے اسے طلاق نہیں دلوائی، کبھی فوجی ڈکٹیٹروں ووٹ نہیں دیا، کبھی کسی جرنیل کو جمہوری نہیں کہا، کبھی جرنیلوں کے تلوے نہیں چاٹے۔۔۔ سو مجھے جواد احمد سے ملائے جانے پر کوئی مسئلہ نہیں، مجھے جواد احمد کو ذلیل کہنے اور خود کو فیملی کی موجودگی میں تحقیر کا نشانہ بنائے جانے پر اعتراض ہے۔ ایسے موقع پر تحمل اور برداشت کا مطلب ہے کہ آپ اس شخص کو یہ حوصلہ دے رہے ہیں کہ وہ آئندہ ائیرپورٹ پر ہر نظریاتی مخالف کو ذلیل کرے اور اُس کی دیکھا دیکھی ایئرپورٹس، گلیوں اور بازاروں میں لوگ دوسروں کو فیملیوں کے ساتھ گالیاں دیتے رہیں۔



