Azmat Sheikh ری ٹویٹ کیا

آج صبح جب میں آفس جا رہا تھا، تو راستے میں ایک کالج کی بچی کو سڑک کنارے اپنی سکوٹی کے ساتھ پریشان کھڑا دیکھا۔ اخلاقی طور پر یہی مناسب سمجھا کہ اس کی مدد کی جائے۔ میں نے اپنی بائیک گھمائی اور اس کے قریب جا کر رکا
موجودہ حالات کے پیشِ نظر وہ بچی مجھے دیکھ کر سہم سی گئی، لیکن میں نے مناسب فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے بڑے ادب سے سلام کیا
"السلام علیکم بیٹا جی! آپ کیوں پریشان ہیں اور یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہیں؟"
بچی نے دبی آواز میں جواب دیا اور بتایا کہ سکوٹی اچانک بند ہو گئی ہے، موبائل گھر بھول آئی ہے اور کالج سے بھی لیٹ ہو رہی ہے۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا، کہنے لگی: "ابھی ایک لڑکا پاس سے گزرا، اس نے بہت بدتمیزی کی اور گندی باتیں کیں، میں بہت ڈر گئی ہوں۔"
میں نے اسے حوصلہ دیا: "بیٹا! آپ بالکل پریشان نہ ہوں، آپ میری بیٹیوں کی طرح ہیں۔"
میں نے خود کوشش کی لیکن سکوٹی ٹھیک نہ ہوئی۔ میں نے اسے اپنی بائیک پر بیٹھنے کا کہا تاکہ وہ محفوظ محسوس کرے، پہلے تو وہ ہچکچائی لیکن میرے اصرار اور لہجے کے خلوص نے اسے بھروسہ دلایا۔ میں نے مکینک کو بلوایا، جس نے آکر نقص دور کر دیا۔ جب میں نے مکینک کو پیسے دے کر رخصت کیا اور بچی کو بتایا کہ سکوٹی ٹھیک ہو گئی ہے، تو اس کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی ☺️
اس نے شکریہ کے طور پر پرس سے ہزار کا نوٹ نکال کر مجھے دینا چاہا، لیکن میں نے مسکرا کر انکار کر دیا۔ اسے تاکید کی کہ اب کالج کا وقت نکل چکا ہے، اس لیے سیدھی گھر جائیں۔ وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئی اور دور جا کر ایک بار پھر ہاتھ ہلا کر الوداع کہا
میری تمام بھائیوں سے گزارش ہے
یہ بچیاں ہماری اپنی ہیں۔ اگر وہ اپنی ضرورت یا تعلیم کے لیے سڑک پر نکلتی ہیں، تو انہیں تحفظ فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔ انہیں راستہ دیں، انہیں عزت دیں، نہ کہ انہیں اکیلا دیکھ کر ہوس زدہ بن جائیں☝️
حقیقی مرد وہ نہیں جس سے عورتیں ڈریں، بلکہ مرد ہونے کا اصل احساس یہ ہے کہ آپ کی موجودگی میں کوئی بھی عورت یا بچی خود کو غیر محفوظ نہ سمجھے 🌟
آئیں عہد کریں کہ ہم اپنے رویوں سے اس معاشرے کو اپنی بیٹیوں کے لیے محفوظ بنائیں گے تاکہ انہیں مرد ذات سے خوف نہیں، بلکہ تحفظ کا احساس ملے 🩵
یہ تحریر fbسے کاپی کی گئی ہے جو آگاہی کے لئیے پھیلائی جا رہی ہے ☝️
. copy

اردو






















