ابواحمدحقانى ری ٹویٹ کیا
ابواحمدحقانى
8.4K posts

ابواحمدحقانى ری ٹویٹ کیا

جمعیت علماء اسلام کے کارکنان قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کے حکم پر ملک بھر میں 8 فروری کو یومِ سیاہ منائیں۔
ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں، ریلیاں نکالی جائیں اور پریس کلبوں کے سامنے بھرپور اور پُرامن احتجاج ریکارڈ کرایا جائے۔ یومِ سیاہ کو منظم اور مؤثر انداز میں کامیاب بنا کر اس بات کا عملی ثبوت دیا جائے کہ 8 فروری کو الیکشن کے نام پر جو ڈرامہ رچایا گیا وہ قوم کے لیے ناقابل قبول ہے۔
فارم سینتالیس کے ذریعے الیکشن کمیشن اور مقتدر قوتوں کی ملی بھگت سے کامیاب امیدواروں کو ہرایا گیا اور ناکام امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا، جو عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے۔
8 فروری کا دن پاکستان کی انتخابی تاریخ میں الیکشن کمیشن کے چہرے پر ایک بدنما داغ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
قائد جمعیت کی اپیل پر تمام کارکنان اللہ پر توکل کرتے ہوئے، پُرامن، منظم اور پرجوش انداز میں یومِ سیاہ کو بھرپور کامیاب بنائیں اور حق، آئین اور جمہوریت کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔
مولانا عبدالغفورحیدری
مرکزی سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے اسلام پاکستان

اردو
ابواحمدحقانى ری ٹویٹ کیا

جے یو آئی کا 8 فروری 2024 کے متنازع اور بدترین دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ
8 فروری کو ملک بھر میں یومِ سیاہ منائیں گے ۔اسلم غوری
جمہوریت دن بدن کمزور ہو رہی ہے۔ ترجمان جےیوآئی
آئین پاکستان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔اسلم غوری
مولانا فضل الرحمان راولپنڈی میں مرکزی احتجاجی پروگرام سے خطاب کریں گے ۔ترجمان جے یو آئی
تمام صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔اسلم غوری
غیور عوام حکمرانوں کی قرآن و شریعت کے متصادم آئین سازی کے خلاف احتجاج کریں گے ۔ترجمان جے یو آئی
مہنگائی ،بے روزگاری ،بدامنی ،،لاقانونیت ، کے خلاف عوام کے شانہ بشانہ ہونگے ۔اسلم غوری
عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ قبول نہیں ۔اسلم غوری
شریعت ،آئین اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن راستہ اختیار کریں گے ۔ترجمان جےیوآئی
کارکن تیاری مکمل کریں ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
اردو

اگر کوئی مولوی ڈرتا ہے تو میرے پاس آئیں میں نکاح پڑھاؤں گا
میں شریعت کی خاطر جیل جانے کیلیے تیار ہوں
عوام کو میدان میں آنا ہوگا قرآن و سنت سے بغاوت منظور نہیں
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن کا بڑا اعلان
#SayNoTo_BoardOfKillers
اردو
ابواحمدحقانى ری ٹویٹ کیا
ابواحمدحقانى ری ٹویٹ کیا
ابواحمدحقانى ری ٹویٹ کیا

رفتار کی غیر ضروری "رفتار" اور مولانا فضل الرحمان!
تحریر: #عبدالجبارناصر
گزشتہ شب ڈیجیٹل پلیٹ فارم "#رفتار" کی جمعیت علماء اسلام پاکستان (#JUIP) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی سیاسی اور عملی زندگی کے حوالے سے تیار کردہ 61 منٹ کی ڈاکومنٹری دیکھی۔ ڈاکومنٹری کی بازگشت تقریباً ایک ماہ سے تھی اور امید تھی کہ انتہائی اہم اور انکشاف پر مبنی مواد پر مشتمل ہوگی، مگر توقع کے عین مطابق "ادارتی شخصی پالیسی" کے مطابق خلافِ حقیقت ثابت ہوئی، یعنی وہی پرانی باتیں اور الزام و افواہیں۔
ویسے تو ڈاکومنٹری کے تقریباً ہر منٹ کے مواد کا تسلی بخش جواب یا اس کے خلاف حقیقت ہونے کی دلیل ہو سکتی ہے اور جمعیت علماء اسلام کو اس مبینہ پروپیگنڈے کا جواب گالی کے بجائے دلیل سے دیناچاہیے۔
تاہم ڈاکومنٹری دیکھنے کے بعد سرسری طور پر ہمارے نزدیک ڈاکومنٹری کے ایک بڑے حصے کے خلاف حقیقت ہونے کی چند باتیں سامنے آئی ہیں، مثلاً:
1۔ ڈاکومنٹری میں یہ بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کبھی جیل گئے اور نہ قید ہوئے۔
حقیقت!
غالباً یہ بات خلافِ حقیقت ہے کیونکہ مولانا فضل الرحمان مجموعی طور پر تقریباً نصف درجن بار قید ہوئے اور کئی برس قید یا نظر بند رہے، تاہم یہ قید کسی اخلاقی، مالی یا قابلِ تعزیر جرم پر نہیں بلکہ ختمِ نبوت اور سیاسی ایشوز پر ہوئی ہے۔
2۔ ڈاکومنٹری میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مولانا محمد خان شیرانی کا مولانا فضل الرحمان سے اختلاف جمعیت علماء اسلام کے ساتھ "فضل الرحمان یا ف" لاحقے کے استعمال پر اختلاف ہواتھا اور یہی اختلاف ان کی علیحدگی یا اخراج کا سبب بنا۔
حقیقت!
مولانا محمد خان شیرانی صاحب جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمان) کے پورے 32 سال تک نہ صرف رکن بلکہ اہم مرکزی عہدوں اور صوبائی امیر رہے۔ ایک ہی وقت میں صوبائی امیر، سینیٹر یا ممبر قومی اسمبلی اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کے عہدے پر بھی جمعیت علماء اسلام (ف) کے کوٹے پر فائز رہے۔ تاہم جب تنظیمی طور پر کمزور ہوئے تو غالباً 2019ء میں اختلاف ہوا، وجۂ اختلاف تنظیمی طور پر اہم ذمہ داری نہ ملنا بھی تھی۔ غالباً 2020ء میں جمعیت علماء اسلام کے نام میں سے "فضل الرحمان یا ف" لاحقہ کو حذف کر کے "پاکستان" کا اضافہ کیا گیا، یعنی "جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمان)" کے بجائے "جمعیت علماء اسلام پاکستان" بنایا گیا، اور غالباً اس فیصلے کے وقت بھی مولانا محمد خان، مولانا فضل الرحمان والی جمعیت کا حصہ تھے۔ شدید اختلاف کے بعد 2020ء کی آخری سہ ماہی میں مولانا محمد خان شیرانی کا اخراج ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹی عہدے سے لے کر پارلیمان تک مولانا محمد خان شیرانی کا سیاسی عروج و زوال جمعیت علماء اسلام (ف) میں ہی رہا ہے۔
3۔ ڈاکومنٹری میں کراچی کے مولانا شیر محمد مرحوم کے فرزند مولانا محمد کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ جمعیت علماء اسلام کراچی ڈویژن کی تنظیم 1990ء کے بعد اور 2000ء سے پہلے ختم کی گئی۔
حقیقت!
جمعیت علماء اسلام کراچی ڈویژن کے سیٹ اپ کو 2014ء میں ڈاکٹر خالد محمود سومرو مرحوم کے قتل کے بعد غالباً 2016ء یا 2017ء میں مولانا راشد محمود سومرو کے دور میں ختم کیا گیا، اور کراچی ڈویژن کے آخری امیر قاری محمد عثمان تھے۔
4۔ مولانا فضل الرحمان کا 30 سال سے اپنی جماعت پر کنٹرول ہے۔
حقیقت!
مولانا فضل الرحمان اپنے والد مفتی محمود رحمہ اللہ کے 1980ء میں انتقال سے جماعت میں اہم رہے ہیں، یعنی 45 سال سے ان کا کنٹرول ہے۔
5۔ مولانا فضل الرحمان اپنے والد کے انتقال کے وقت سیاست سے لا بلد تھے۔
حقیقت!
مولانا فضل الرحمان اپنے والد کی زندگی میں ہی سیاسی طور پر متحرک تھے اور جمعیت علماء اسلام کے طلبہ ونگ جمعیت طلبہ اسلام سے منسلک رہے ہیں۔
6۔ یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جماعت اسلامی کے حوالے سے "ایک مودودی سو یہودی" کا نعرہ مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علماء اسلام منسلک علماء کا تھا اور مولانا فضل الرحمان نے اس نعرے کے برخلاف 2001ء میں جماعت اسلامی سے اتحاد کیا۔
حقیقت!
نمبر 1: یہ نعرہ جمعیت علماء اسلام ہزاروی گروپ کا تھا۔
نمبر 2: جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کا اتحاد مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کے زمانے میں ہی ہوا تھا، یعنی "پاکستان قومی اتحاد" اور 1977ء کے انتخابات دونوں جماعتوں نے اسی پلیٹ فارم سے ایک ہی انتخابی نشان پر لڑے۔
7۔ جماعتی پالیسی سے ہٹ کر مولانا فضل الرحمان نے ضیاء الحق مرحوم کے جنازے میں شرکت کی۔
حقیقت!
پوری ڈاکومنٹری میں ہمارے لیے یہ انکشاف ہے۔ مزید یہ کہ اگر یہ بات حقیقت ہے تو یہ عمل مولانافضل الرحمان کے سیاسی قد و قامت کو مزید بلند اور سیاسی بصیرت کی تحسین کرتا ہے، یعنی مولانا سیاسی اختلاف کو کفر و اسلام کی جنگ سمجھتے اور نہ سیاسی اختلاف کو جنازوں اور قبروں تک لے جاتے ہیں۔
جاری ہے
1/2

Karachi, Pakistan 🇵🇰 اردو









