置顶推文
شہناز بی بی
22.3K posts

شہناز بی بی
@Pak__JUI
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيْم ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ please subscribe My YouTube Channel
Islamabad, Pakistan 加入时间 Ekim 2020
1.4K 关注9.9K 粉丝
شہناز بی بی 已转推

*ٹاپ بریکنگ*
*آئی ایس پی آر*
*راولپنڈی، 7 اپریل 2026ء:*
*فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، نشان امتیاز (ملٹری)، ہلال جرات، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈر ز کانفرنس*
فورم نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصوم شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی
فورم نے شہداء کی بے مثال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ؛
شہداء کی لازوال قربانیاں پاکستان کی سلامتی کی اساس ہے
آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کی مسلح افواج کی غیر متزلزل پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل کارکردگی، دفاع وطن کے لئے پائیدار انٹیلی جنس کی بنیاد پر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ثابت قدمی کو سراہا
حکومت، مسلح افواج ، عوام کے باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے پاکستان اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے کامیابیوں کو مزید مستحکم،معاشی استحکام کو مضبوط اور علاقائی و عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو بہتر بنا نے میں گامزن ہے ، *فیلڈ مارشل*
بھارت اور دیگر بیرونی سرپرستوں کی ایما پر کام کرنے والے تمام دہشت گرد پراکسی عناصر، ان کے سہولت کاروں اور معاونین سمیت، بلا امتیاز اور مسلسل تعاقب کے ذریعے ختم کیے جائیں گے، *فورم*
آپریشن غضب لِلحق کی رفتار برقرار رکھی جائے گی یہاں تک کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ ہو جائے اور پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو فیصلہ کن طور پر مکمل ختم نہ کر دیا جائے ، *شرکاء کانفرنس*
فورم نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے حکومت کی بھرپور کوششوں کو سراہا اور پاکستان متحمل مذاکرات ، کشیدگی میں کمی اور اصولی سفارتکاری کیلئے پرعزم ہے
ایک ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کے طور پر پاکستان علاقائی سلامتی کے استحکام کے طور پر فعال ریجنل سیکیورٹی سٹیبلائزر کا کردار ادا کر رہا ہے، *فورم*
کورکمانڈرز کانفرنس نے سعودی عرب کے پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور تشویش کا اظہار کیا
سعودی عرب پر حملے ایک غیر ضروری کشیدگی ہیں، *کور کمانڈرز*
ایران کے سعودی عرب پر حملے پرامن ذرائع سے تنازع کے حل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، *فورم*
سعودی عرب نے سنگین اشتعال انگیزیوں کے باوجود اب تک جس تحمل اور محتاط رویے کا مظاہرہ کیا، اس سے ثالثی اور سفارتی حل کی راہ ہموار ہوئی، *فورم*
اس نوعیت کے حملے اور بلاجواز جارحیتیں ،جاری پرامن کوششوں اور سازگار ماحول کو سنگین طریقے سے متاثر کرتی ہیں، *کورکمانڈر ز کانفرنس*
فورم نے بھارت کی جانب سے منسوب مسلسل گمراہ کن معلومات، بے بنیاد الزامات اور جھوٹے فلیگ آپریشنز کے بیانیے کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈے عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیں
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور ماورائے عدالت اموات چھپانےاور جعلی مقابلوں پر بھی تشویش کا اظہار ، فورم
کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کمانڈرز کو آپریشنل تیاری، نظم و ضبط، تربیت، جسمانی فٹنس ، نئی جدتیں اور میدان جنگ میں پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی
آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے مسلح افواج کی ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے اور پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا

اردو
شہناز بی بی 已转推
شہناز بی بی 已转推

رکن قومی اسمبلی محترمہ شاہدہ اختر علی کا اہم خطاب
اس وقت پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ایک تشویشناک صورتحال پیدا کر چکا ہے۔
پاکستان کی میڈل کلاس تقریباً ختم ہونے کو ہے اور خط غربت کے نیچے لوگ جا رہے ہیں۔
جنگی صورتحال ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے۔ تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ جنگیں زیادہ تر سفارتی اور قیادت کے جذبے سے کامیاب ہوتی ہیں۔
مسلمان کا جذبہ شہادت ہے اور جو ارادہ ہے اگر اس سے جنگ لڑی جائیں تو یہ یقینا کامیابی ہوتی ہے اور اس کا ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ایران جس طرح اس جنگ میں کامیابی کی طرف جا رہا ہے وہ قابل تحسین ہے۔
ایک طرف امریکہ کا ڈونلڈ ٹرمپ ایک بد مست ہاتھی کی طرح اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے روز دھمکیوں پہ دھمکیاں دے رہا ہے دوسری طرف یورپ اپنی پہچان کی کوشش میں لگا ہوا ہے اپنی خود مختاری منوا رہا ہے ۔
تیسری طرف چین جو ہے وہ اپنے اثر رسوخ کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے اور سب سے زیادہ اگر ہم دیکھیں تو مشرق کے وسطہ میں اس وقت مسلمان جو ہے وہ نقصان پہ نقصان اٹھا رہے ہیں ایک عالمی جنگ چھڑ چکی ہے جس میں الٹیمیٹلی نقصان پھر مسلمانوں کا ہے اور اس وقت حالت ہے اس میں پاکستان کا ایک قلیدی کردار ہے انتہائی اہم کردار ہے
میری تجویز ہے کہ پاکستان او آئی سی میں اپنا فعال کردار ادا کرے اور اقوام متحدہ میں بھی آواز بلند کرے۔ جس پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ خاموشی ہے۔
پاکستان کو مسلم ممالک کے ایک متحدہ بلاک کے قیام کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ دنیا میں مسلم ممالک کی اہمیت اور قوت بڑھ سکے۔
جہاں پہ پاکستان کی اہمیت ہے تو اس کردار کو نبھاتے ہوئے یو این میں بھی اواز اٹھانی چاہیے وہ یو این وہ معاہدات جہاں پہ امریکہ میں اگر ایک کتے کو بھی مارا جاتا ہے تو وہاں پہ بھی وائلیشن ہوتی ہے اور ہیومن رائٹ کی تنظیم میں اٹھتی ہیں کہ یہ جانوروں کی حقوق کی پاسداری نہیں کی گئی تو یہاں پہ جو فلسطین غزا شام عراق ہر جگہ بمباری کر رہا ہے کون کر رہا ہے اسرائیل کر رہا ہے امریکہ کر رہا ہے تو کیوں واضح پیغام نہیں دیا جا رہا ۔
ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ جس کے منہ کو خون لگ چکا ہے مسلمانوں کا۔جو کہ جنگی جرائم کا مجرم ہے اس کو ہم پیس نوبل انعام کے لیے تو منتخب کرتے ہیں لیکن ایک واضح پالیسی نہیں آرہی اخر کیوں؟
ایک واضح پالیسی آنی چاہیے ہمیں مسلم ممالک کا ایک یونائٹڈ بلاک بننے چاہیے کیونکہ اس وقت جو دنیا ہے وہ ایک نئی نظام کی تشکیل کی طرف جا رہی ہے ۔
اگر یہاں پالیسی واضح نہیں ہے تو پھر ہم کہاں جائیں گے؟ یہاں وہ معاہدات سامنے لائے جائیں، وہ ایم او یوز جو سائن کیے جاتے ہیں، ان پر یہاں بحث ہو تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ ان کی میریٹس کیا ہیں اور ڈی میریٹس کیا ہیں۔ ہمیں یہ بتائے جائیں۔
یہاں پہ انرجی کرائیسز کس وجہ سے ہیں؟ آئی پی پیز کے وہ معاہدات جنہیں ہم نہیں بدل سکتے، لیکن جہاں بھی حکومت نے رینیو ایبل انرجی کو انسینٹیوائز کیا، لوگوں نے اسے لگایا، اور آج سولر پالیسی پر مختلف غیر مستحکم پالیسیز ہر روز بدلتی رہتی ہیں۔
آج ایک بیان، کل دوسرا، پھر تیسرے دن تیسرا تو لوگ کہاں جائیں گے؟
ہمارا ملک بھی ہے اور سب سے پہلے ہمیں اپنی شناخت اور ملک کی سالمیت مقدم رکھنی چاہیے۔ ہم ایک وقت کا کھانا چھوڑ کر ملک کی حفاظت کر سکتے ہیں، لیکن آپ بھی خدارا وہ پالیسیاں سامنے لائیں جن پر عوام عمل کر سکیں۔ ایسا نہ ہو کہ موجودہ پالیسیز، جو انصاف پر مبنی نہیں ہیں، عوام میں ناپسندیدگی پیدا کریں۔
بجلی اور انرجی کے بحران میں، اگر بجلی کا بل دیکھا جائے تو اس پر متعدد ٹیکسز لگائے گئے ہیں
ایڈوانس ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، اور سیلز ٹیکس الگ سے، اس کے علاوہ فائنینسنگ کاسٹ بھی شامل کر دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، پندرہ یونٹ بجلی کے بل کا آج کا ریٹ ساڑھے چھے سے سات ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے، تو لوگ کہاں جائیں گے؟
ہمیں دیکھنا چاہیے کہ یہ پالیسیاں کیوں ایسی ہیں۔ سولر اور رینیو ایبل انرجی کو کمزور کیوں کیا جا رہا ہے؟ کم از کم اسے رہنے دیا جائے، کیونکہ یہ گرین انرجی میں مثبت اثر ڈالتی ہے۔
ہمیں ایکسپلوریشن کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے،معدنیات اور ذخائر کو دریافت کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنی انڈیپینڈنس حاصل کر سکیں۔ مستقبل میں، خلیجی ممالک فوڈ انفلیشن کا شکار ہوں گے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اور یہاں سکلڈ ورکرز کی کمی نہیں۔ ہمیں اپنی زراعت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ آنے والے وقت میں مشکلات سے بچ سکیں اور برآمدات کے قابل بن سکیں۔ ہم اپنے مشرقی اور مغربی مسلم ممالک کو بھی ایکسپورٹ کر سکیں۔
زراعت کے ساتھ ساتھ اگر ہم اپنا لائیو سٹاک دیکھیں، جہاں انڈیا اور برازیل ریڈ میٹر ایکسپورٹ کرتے ہیں، تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ ہم ان سے بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں، اور زیادہ اخراجات بھی نہیں آئیں گے اگر ہم پریزرویشن پر توجہ دیں۔
اردو
شہناز بی بی 已转推
شہناز بی بی 已转推
شہناز بی بی 已转推

Maulana Fazl ur Rehman calls for in-camera parliamentary session on regional tensions.
The News
It has become difficult for Israel to maintain its existence. The world has now seen its real face,” MFR said. He further criticised the Donald Trump administration for its support of Israel, claiming it had led to increasing isolation both globally and domestically, with protests emerging within the United States.
Maulana Fazlur Rehman alleged that despite these developments, the government was attempting to appease Washington while diverting public attention from core domestic issues, adding that the Muslim world was under mounting pressure.
thenews.pk/print/1408669-…
English
شہناز بی بی 已转推
شہناز بی بی 已转推
شہناز بی بی 已转推
شہناز بی بی 已转推
شہناز بی بی 已转推
شہناز بی بی 已转推

جےیوآئی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور اس موقف کو دہرایا ہے کہ اسرائیل ایک قابض ریاست ہے، حالات ایسے بن رہے ہیں کہ اب امریکہ کی پشت پناہی کے باوجود بھی اسرائیل کیلئے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ فلسطین سے جو جنگ ایران تک آ پھیلی ہے یہ کس کا فیصلہ ہے؟
یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ تنہا ہے اور یورپ بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہا، پہلی مرتبہ یورپ ایک جنگ سے لا تعلق رہا ہے کی جس کے قیادت امریکہ کر رہا ہے۔ امریکہ میں پوری امریکی عوام اس وقت ٹرمپ کے خلاف علم بغاوت بلند کر چکے ہیں، جو شخص ملک کے اندر بھی تنہا ہو، پوری یورپ میں تنہا ہو، پوری دنیا میں تنہا ہو
وہاں پاکستان کے حکمران ہم آج بھی ٹرمپ کی خوشامد اور اس کی رضا مندی کے لئے ہر اقدام کرنے پہ تیار ہو جاتے ہیں، کون سی آزادی ہے یہ؟ کونسی خود مختاری ہے؟ ہمارے حکمران اپنی خود اعتمادی کھو بیٹھے ہیں اور ایک غلامانہ ذہن کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں۔ عوام کی جھوٹی نمائندگی کو لے کر سیول حکمران اسٹیبلشمنٹ کے پیروکار اور اسٹیبلشمنٹ وہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے پیروکار، یہ وقت ہے کچھ مضبوط فیصلہ کرنے کا تمام وبال قوم کے اوپر ڈال دیا جاتا ہے، مصیبتوں کے پہاڑ، مہنگائی کے پہاڑ عام آدمی پر ڈال دیے جاتے ہیں، حکمران جوں کی توں عیاشیاں کر رہے ہیں۔
آج اسرائیل اس حد تک جری ہو رہا ہے کہ ایک نئے قانون کے ذریعے سے فلسطینیوں کو پھانسیوں تک لے جائیں گے، تمام قیدیوں کو پھانسیوں تک لے جانے کے لیے ایک قانون بنا دیا گیا ہے یہ قانون جنیوہ انسانی حقوق کنونشن سے متصادم ہے، یہ قانون اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر سے متصادم ہے، اقوام متحدہ ہو یا جنیوہ انسانی حقوق کنونشن اس کا فوری طور پر نوٹس لے، اسے انسانی حقوق کے منافع قرار دے اور قیدیوں کے حوالے سے جو عالمی قانون ہے اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی، جبر کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پشاور میں اہم پریس کانفرنس
اردو
شہناز بی بی 已转推

ہم نے کچھ ریاستی نزاکتوں کو سامنے رکھتے ہوئے نیک نیتی کے ساتھ تجویز دی کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور جو عالمی صورتحال ہے، پھر اسلامی دنیا میں جو نئی صورتحال بنی ہے اور اس سے جو پاکستان متاثر ہو رہا ہے، ہر پاکستانی اپنے وطن کے لئے فکر مند ہے، ہمیں بتایا تو جائے کہ کیا مسئلہ ہے؟ اگر آپ سرعام ایک بات نہیں کرنا چاہتے تو کم از کم عوام کے نمائندوں کو پارلیمنٹ کے اندر ان کیمرہ ہی بتا دیں، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ بلند کرنے والے ہمیں تو کہیں پاکستان پیچھے بھی نظر نہیں آرہا،
پاکستان کی دو سرحدیں ہیں ایک مغربی سرحد جو افغانستان سے ملتی ہے اور ایک مشرقی سرحد جو ہندوستان سے ملتی ہے ہم نے دونوں سرحدیں بند کرا دی ہیں اور ہماری تجارت نہ اب مغربی دنیا کے ساتھ ہو سکتی ہے اور نہ مشرقی دنیا کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ افغانستان کے پاس تجارت کے بہت سے راستے ہیں اور انہوں نے وسطی ایشیا ممالک کو رابطے میں بھی لے لیا ہے اور اپنے تاجروں سے کہہ دیا ہے کہ تجارت کا رخ بدل دو، ہندوستان پورے مشرقی اور جنوبی ایشیا کے ساتھ تجارت کر سکتا ہے، لیکن کیا زبردست قسم کے دماغ ہمیں اللہ نے عطاء کی ہے کہ دونوں سرحدیں اپنے اوپر بند کر دی اور اب کہہ رہے ہیں کہ
تیل کم خرچ کرو اس لیے کہ آبنائے ہرمز بند ہو گیا ہے، تیل کی ترسیلات بند ہو گئی ہیں، لیکن پاکستان تو اس بات کا دعوے دار ہے کہ پاکستانی جھنڈے کے نیچے دس جہاز آبنائے ہرمز کو عبور کر چکے ہیں، وہ کہاں چلے گئے ہیں؟ اگر وہ پاکستان آئے ہیں تو پھر پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کیا گیا؟ اگر وہ پاکستان سے کسی دوسرے ممالک کی طرف گئے ہیں تو بتایا جائے کہ کراچی میں اترے ہیں، تیل وہاں سے اتارا گیا ہے، تیل دوسرے جہاز پر چڑھایا گیا ہے، دوسرے جہازوں کو یہاں کراچی میں پورٹ عطاء کیا گیا ہے، وہاں سے ان کو دوسرے ملکوں میں بھیجا گیا ہے، اس پر جو آمدن ہے وہ کیا ہے؟ یہ قوم کو کیوں نہیں بتایا جا رہا؟
اور ایک صاحب نے بڑے خوبصورت تبصرہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز تو پل صراط بن گیا ہے اور ایک حافظ جی جو ہے پل صراط سے دس لوگوں کو گزار سکے گا ہمارے حافظ جی نے دس جہاز گزروا لئے ہیں، یہ قوم کے ساتھ مزاق کیا جا رہا ہے، سنجیدہ چہروں کے ساتھ قوم کے ساتھ کھلواڑ کرنا اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پشاور میں اہم پریس کانفرنس
#JUI #Maulana #Petrol
اردو
شہناز بی بی 已转推

چھبیسویں آئینی ترمیم کے دوران ہم نے کچھ ترامیم دی تھی جو تسلیم کر لی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے پاکستان کے اندر دستور کے مطابق اب سود بند ہوگا، لیکن دو ہزار چھبیس شروع ہے ایک سال بیچ میں رہ گیا ہے اور اس وقت تک سود کے خاتمے کیلئے کوئی اقدامات ہمیں بینکوں میں یا محکموں میں نظر نہیں آ رہے ہیں، کیا چاہتی ہے حکومت؟ یہ تو ایک ڈنگ ٹپاو سیاست والی بات ہے کہ جب مجبوری ہے تو ہر بات مان لی، جب اس مجبوری سے نکل گئے تو پھر اپنی وہی خوہ، وہی عادت، وہی روش، اس طرح تو عوام نہیں چلیں گے آپ کے ساتھ، جمعیۃ علماء اسلام، اسلامی قوانین کا دفاع کرے گی۔ اس وقت بھی جو آئین میں ترمیم کی گئی تھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ڈیبیٹ کے لئے ایوان میں لائی جائیں گی، ایک بھی ابھی تک کوئی سفارش وہ بحث کے لئے ایوان میں پیش نہیں کی گئی، اس سے حکمرانوں کی بدنیتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
بدنیتی سے حکومتیں نہیں چلا کرتیں، جھوٹی نمائندگی کے ساتھ حکومتیں نہیں چلا کرتیں، ہم عوام میں ہیں اور ہم ملک کی نزاکتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سے چیزوں پر ابھی آخری اقدام سے پہلو تہی کر رہے ہیں، ورنہ یہ ایک دن کی مار ہیں۔
عوام میں ناراضی ہے حکومت سے بھی ناراض، ریاستی اداروں سے بھی ناراض، ان کے آپریشنز بھی نہ عوام کو امن مہیا کر رہے ہیں اور نہ اس کی طرف کوئی پیش رفت، بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کا والی بات ہے۔
#نکلو_مولانا_کے_سنگ
اردو
شہناز بی بی 已转推

امن وامان کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے، حکومتی رٹ ختم ہے یہاں کی صوبائی حکومت نہ ہی میں نہ شی میں ، آپریشن کے خلاف بھی اور فوج کے
شانہ بشانہ بھی، اس قسم کی ڈاما ڈول پالیسیوں سے حکومتیں نہیں چلا کرتیں، عوام کو ایک پرسکون حکومت چاہیے ایک ایسی حکومت جو عوام کو بھی سکون دے سکے، حکومت بھی مضطرب اور عوام بھی مضطرب، یہ پھر سٹیٹ نہ ہوا اس کو کوئی اور نام دینا ہوگا۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پشاور میں پریس کانفرنس
#نکلو_مولانا_کے_سنگ
اردو
شہناز بی بی 已转推

ہماری کوئی کسی سے ذاتی لڑائی تو نہیں ہے، ان نظریات کے بنیاد پر ہم ایک موقف رکھتے ہیں کہ یہ حکومت جعلی ہے ایک طرف مسلم لیگ کی حکومت جعلی، پھر دوسری طرف صرف پیپلز پارٹی کے سہارے کھڑی، پھر خلاف شریعت اپنی اختیارات کو اور اسمبلی کو اور اکثریت کو استعمال کرنا پھر جس طرح وہ اللہ کے قانون سے بغاوت کر رہے ہیں، پھر ہمیں بحیثیت ایک پاکستانی شہری کے یہ حق حاصل ہے کہ ہم ایسی حکومتوں کے خلاف عالم بغاوت بلند کر دے۔
یہ سب کچھ اس لئے بھی کیا جا رہا ہے کہ ہمارے حکمران امریکہ کے غلام ہیں، امریکہ اس وقت اسرائیل کے پشت پہ کھڑا ہے، انہوں نے فلسطینیوں کا قتل عام کیا، ابھی ان کا فلسطینی مسلمانوں کے خون سے پیٹ نہیں بھرا کہ انہوں نے ایران پر حملہ کر دیا، لبنان پہ وہ قتل و غارت گری کر رہے ہیں، اسلامی دنیا کو گھیرہ ہوا ہے پورا خلیج امتحان سے گزر رہا ہے اور ہماری حکومت یہ سب کچھ اس لئے کر رہی ہے کہ وہاں سے لوگوں کی توجہ ہٹ جائے اور یہاں کے مقامی مسائل پر ان کی توجہ مرکوز رہے۔ تو یہ بھی پبلک کے نظر میں بھی ہونا چاہیے کہ یہ سارے حالات اپنے قوم کے لئے اس لئے پیدا کیا جا رہے ہیں کہ اسرائیل جیسے سفاک، قاتل اور قابض ایک قوت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور ان کو پس منظر میں لے جایا جا سکے اور اسلامی دنیا میں جو قتل و غارت گری ہو رہی ہے وہاں پر امریکہ کو ریلیف دی جا سکے۔ لہٰذا اس سیاست کو ہمیں سمجھنا ہوگا ان کے ناپاک ارادوں کو ہمیں سمجھنا ہوگا اور ان شاءاللہ العزیز بارہ اپریل کو مردان سے ایک بہت بڑے عوامی اجتماع سے ہم ان کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے کے لئے آغاز کر رہے ہیں اور ان شاءاللہ یہ سلسلہ پھر ملک بھر میں جاری و ساری رہے گا ان شاءاللہ العزیز۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی مرکزی مجلس شوری کے اجلاس کےبعد میڈیا بریفنگ
#JUI #Maulana #Presser #GovtOfPakistan #US
اردو
شہناز بی بی 已转推
شہناز بی بی 已转推
شہناز بی بی 已转推

















