🇸 🇲 🇦 🇱 🇮➰

93.7K posts

🇸 🇲 🇦 🇱 🇮➰ banner
🇸 🇲 🇦 🇱 🇮➰

🇸 🇲 🇦 🇱 🇮➰

@2sms2_

We Promote You, Head of #𝕄ℙ𝔾 ( @1sms1_ @3sms3_ @4sms4_ @5sms5_ @6sms6_ @7sms7_ @8sms8_ @9sms9_ )

Beigetreten Haziran 2022
4.6K Folgt4K Follower
Saif AFridi
Saif AFridi@SaifSolicitor·
اقبال افریدی اور شفقت عوان نے بازی پلٹ لی نظریاتی لوگ ایسے ہوتے ہیں👇
اردو
6
262
1.2K
10.6K
🇸 🇲 🇦 🇱 🇮➰ retweetet
Imran Riaz Khan Fan
Imran Riaz Khan Fan@ImranRaizKhan·
الرٹ ⚠️ یہ ٹویٹ ہر پاکستانی تک پہنچائیں، اس ہیش ٹیگ #خان_کی_زندگی_کیخاطر_سب_بندکرو پر ایک ٹویٹ لازمی کریں، اپنے حصے کی آواز بلند کریں ‼️ اب بھی خاموش رہو گے تو لیڈر کو کھو دو گے ۔۔۔۔
Imran Riaz Khan Fan tweet media
اردو
124
1.4K
1.6K
35.3K
🇸 🇲 🇦 🇱 🇮➰ retweetet
S Ahmed
S Ahmed@sahmed850·
سب کے سب بے غیرت نمک حرام نکلے 💔
اردو
202
4K
9.3K
48.8K
🇸 🇲 🇦 🇱 🇮➰ retweetet
Hamza Khan
Hamza Khan@HamxaaTweets·
یہی حل اور یہی راستہ ہے ۔ اب راستے کھولنے ہو گے ایسے آگے بڑھنا ہوگا ۔ زبردست اقبال آفریدی صاحب ۔
اردو
22
796
2.9K
52.3K
🇸 🇲 🇦 🇱 🇮➰ retweetet
Murad Saeed
Murad Saeed@MuradSaeedPTI·
تمہیں کیا لگتا ہے کہ پاکستانی قوم جانتی نہیں ہے کہ آج قاسم سوری، علی امین گنڈاپور، علی اعوان، حماد اظہر، مراد سعید مطلوب کیوں ہیں؟ فرخ حبیب، حسان نیازی لاپتہ کیوں ہیں؟ تمہیں کیا لگتا ہے کہ انہیں علم نہیں کہ یاسمین راشد، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، طیبہ راجہ جیسی درجنوں خواتین جیلوں میں کیوں ہیں؟ عمر چیمہ، اعجاز چوہدری، محمود الرشید کونسی گستاخی کی قیمت چکا رہے ہیں؟ اسد قیصر، تیمور جھگڑا، عاطف خان، جنید اکبر جیسے زیر عتاب کیوں ہیں؟ بات اگر ایک عمارت کی تکریم کی ہوتی تو پریس کانفرنسوں والے معاف نہ ہوتے۔ بات اگر کسی ادارے کی تعظیم کی ہوتی تو اس کو سرِ عام گالیاں دینے والے آج منظورِ نظر نا ہوتے. بات اگر “ملک کی سالمیت” کی ہوتی تو ڈان لیک والو، ممبئ حملوں کا الزام اپنی ایجنسیوں پر لگانے والو کے لیے لیول پلئنگ فیلڈ نا سجائ جارہی ہوتی۔ بات جرم کی ہوتی تو عدالتوں میں فیصلے ہوتے۔ ثبوت آتے، دلائل دیے جاتے۔ نو مئی کا تو محظ بہانہ ہے، اصل بات کسی کی انویسٹمنٹ کی ہے۔ بات کسی کی خوشنودی کی ہے۔ بات کسی کی انا کی ہے۔ بات تو ان دکانوں کی ہے جو بند ہوجاتی ہیں اگر ‘آوٹ آف سیلیبس’ قاسم سوری کرسی پہ بیٹھ جاتا ہے۔ اگر علی امین تمہارا جبر سہتے ہوئے قہقہے لگاتا ہے۔ اگر علی اعوان ۱۸ مارچ کو تمہاری گولیوں کے سامنے پلک بھی نہیں جھپکتا۔ اگر حماد اظہر اپنے کاروبار کو تالے لگنے پہ تمہارے قدموں میں نہیں گرتا۔ اگر فرخ حبیب بے خوف ہوکر کالے ڈالوں کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ اگر یاسمین راشد تمہاری ٹیسٹ ٹیوب سیاستدانوں کی اگلی کھیپ کے لیے راستہ نہیں چھوڑتی۔ اگر عالیہ حمزہ، طیبہ راجہ، صنم جاوید تمہیں صنفِ آہن کی اصل تعبیر بن کر دکھا دیتی ہیں۔ اگر عمر چیمہ، محمود الرشید، اعجاز چوہدری بڑی محنت سے بنائے اس متعصبانہ تاثر کو زائل کردیتے ہیں کہ پنجاب کبھی حاکمِ وقت کے خلاف نہیں کھڑا ہوتا۔ اگر اسد قیصر، تیمور جھگڑا، عاطف خان اپنی تمام تر نرم خوئ کے باوجود اصول پر سمجھوتا نہیں کرتے۔ اگر جنید اکبر تمہاری چالوں کو تمہی پر الٹ دیتا ہے۔ بات اس جسارت کی ہے جو ان ہزاروں کارکنان نے کی جنہیں تم نے کبھی اپنے اصل مجرموں سے سوال پوچھنے کا حق نہیں دینا تھا۔ بات تو ان گناہوں کی ہے جن پر پردہ ڈالنا مطلوب ہے۔ بات اس غداری کی ہے جو ملک کے منتخب سربراہ سے کی گئی۔ بات اس قتل کی ہے جہاں قاتلوں کو یقین تھا کہ ان کے جُبہ پر لگی خون کی چھینٹوں کی جانب کوئ اشارہ نا ہوگا۔ بات اُس عالمی سیاست کی ہے جہاں ہمارے جیسے ملکوں کی عوام کو ایندھن بنا کر افراد کی طاقت کو دوام بخشا جاتا ہے۔ وہ سیاست جس میں قابلِ قبول وہی عناصر ہیں جو بند کمروں میں تسلی دیتے ہیں کہ تم قتل کیے جاؤ ہم زبانی کلامی مذمت سے آگے نا بڑھینگے۔ وہ سیاست جو اپنے کاروباری مراسم کو ان پر ترجیح دیتی ہے کہ جو ۷۶ سال سے اپنے مُردے بھی پاکستان کے جھنڈے میں لپیٹ کر دفناتے ہیں۔ وہ سیاست جو اپنی سرزمین کی تقسیم کے نعرے پر قائم ہے۔ وہ سیاست جو دین کی دستار سے اپنے تر دامن ڈھانپتی ہے۔ اسی سیاست سے ہی تو تمہاری طاقتوں کو دوام ہے۔ اسی میں تو ڈیلیں ہوتی ہیں۔ باریاں لگتی ہیں۔ مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ نوراکشتی ہوتی ہے۔ اسی کی بدولت تو تم سی قوتوں کو قبولیت ملتی ہے۔ اُس سیاست کی پروردہ کسی طاقت کو کیونکر ریاستِ مدینہ کا کوئ نام لیوا گوارا ہوگا۔ کسی کا ایبسلوٹلی ناٹ کہنا قبول ہوگا۔ کیسے وہ لوگ قبول ہونگے جو اپنے حق کا سوال کرنا جانتے ہیں۔ جو مقابلہ کرتے ہیں، جو ڈٹ جاتے ہیں۔ جو ملک کو اپنی میراث اور عوام کو اپنی رعایا نہیں سمجھتے۔ تمہیں کیا لگتا ہے قوم نہیں جانتی کہ تمہیں مطلوب قاسم سوری، علی اعوان، علی امین، حماد اظہر، مراد سعید نہیں ہیں تمہیں مطلوب وہ شعور ہے جس نے انہیں تمہاری طاقت کے آگے حرِف سوال بلند کرنے کی جرات عطا کی۔ تمہیں مطلوب ان کی فکری آزادی ہے۔ تمہیں مطلوب وہ ادراک ہے جس سے تم نے انہیں بے بہرا رکھنا تھا۔۔ یہ ادراک کہ وہ ریاست کا استعارہ ہیں، کوئ ایک فرد، چند عہدیدار نہیں!
اردو
2.9K
22.6K
53K
1.3M
🇸 🇲 🇦 🇱 🇮➰ retweetet
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
چیئرمین عمران خان ایک مرتبہ پھر سُرخرو ہوئے کیونکہ عدالتِ عظمیٰ نے نیب قانون میں ترامیم کو غیرقانونی قرار دیتے اور مجرموں کےٹولے کیخلاف کرپشن کےمقدمات بحال کرتے ہوئے این آر او-ٹو (NRO-2) پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ #PTISMT
اردو
1.3K
18.4K
50.2K
926.3K