Angehefteter Tweet
Dིeིcིeིnིtི Gིuིjིjིaིrི
48.2K posts

Dིeིcིeིnིtི Gིuིjིjིaིrི
@D3G39
Murshd lover falwo me get 100%Fb 👈👌✨trust on God ✨👌 #Pti_Folllowers
Beigetreten Ağustos 2022
52.2K Folgt61.2K Follower
Dིeིcིeིnིtི Gིuིjིjིaིrི retweetet

“میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن فرعونیت اور یزیدیت کے سامنے نہیں جھکوں گا!!
قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے-
جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔
میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا-
پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔ مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔
نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔
پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اس سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آیا ہے یا 45 سے۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن مجھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں- مجھے جیل کے جس سیل میں 22 ماہ سے قید کیا ہوا ہے وہ ایک “چکی” ہے۔ اسی ملک میں چوروں کو وی وی آئی پی سیل میں رکھا گیا جو کسی “سویٹ”سے کم نہیں تھے۔
یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے اور ایک کرنل کے کہنے پر تمام عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے جاتے ہیں- میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ میری کتابوں سے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ڈھائی ماہ سے مجھ تک کوئی کتاب نہیں پہنچنے دی گئی، صرف وہی کتابیں دی جاتی ہیں جو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں- میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں لیکن میری جماعت کے لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی حالانکہ ان کے پاس عدالتی احکامات موجود ہوتے ہیں-
صرف مجھے اذیت دینے کے لیے میری اہلیہ کو سزائیں سنائی گئیں اس سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو سکتا ہے۔ ایک ہفتے میں میری اہل خانہ یا وکلاء سے صرف 30 منٹ کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ میری اہلیہ پر صرف سہولت کاری کا جھوٹا الزام تھا جو ثابت بھی نہیں ہو سکا۔
کل ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں تمام اپوزیشن اراکین لازمی شرکت کریں۔چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بلکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہا-
سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے-
بھارت کے جواب میں ہماری فورسز خصوصاً پاک فضائیہ نے زبردست جواب دیا ہے اور پوری قوم نے بھی ساتھ دیا۔ میں جیل میں مقید ہوں مگر یہاں بھی لوگوں نے پاکستان کے جواب پر خوشی منائی۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی دوران ٹرائل کارکنان، وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو اور سوالات کے جوابات
اردو
Dིeིcིeིnིtི Gིuིjིjིaིrི retweetet

عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا ٹیم اور وکلاء سے گفتگو!!!
اردلی حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام سے مسلسل اس لیے بھاگ رہی ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ نو مئی کا واقعہ خود اسٹیبلشمنٹ نے کروایا تھا، اسٹیبلشمنٹ نے خود آگ لگا کر سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کی۔ میرا عدالت سے اغواء کیا ہی اس لیے گیا تھا کیونکہ ان کو ردعمل کا اندازہ تھا اور عوام کے جذبات سے کھیل کر انہوں نے اپنا مقصد پورا کرنا تھا۔ ایک پرامن احتجاج کو اپنے بندے شامل کروا کے فالس فلیگ میں تبدیل کر دیا گیا۔ نو مئی کی آڑ میں ہماری لیڈر شپ اور کارکنان سمیت ہزاروں لوگوں کو اغواء کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اغواء برائے بیان کی روایت ڈال کر لوگوں سے زبردستی تحریک انصاف چھڑوائی گئی۔ ہمارے 16 افراد شہید اور 4 افراد کو معذور کر دیا گیا۔ سب ظلم ہمارے ساتھ کر کے ہم پر ہی مقدمات بنا دئیے گئے۔نو مئی کا سارا ڈرامہ تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے رچایا گیا تاکہ لوگ ڈر کر تحریک انصاف کو چھوڑ جائیں۔ نو مئی کے بیانیے کا دھڑن تختہ تو 8 فروری کے انتخابات میں ہو گیا تھا جب تمام تر پابندیوں کے باوجود تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا۔ انتخابات ملتوی کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ جھوٹا پروپگینڈا کر کے عوام کو تحریک انصاف سے بد ظن کیا جائے مگر یہ اس میں ناکام رہے۔ 26 نومبر بھی اسی مقصد کے تحت کیا گیا تاکہ نہتے پرامن مظاہرین کو گولیاں مار کر خوف و ہراس پیدا کیا جاسکے اور عوام کو ان کی آواز بلند کرنے سے روکا جا سکے۔ 26 نومبر کو ہماری کال ملک میں جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے تھی مگر اس پر سیدھے فائر کھول کر عوامی خون سے اس حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہاتھ رنگ لیے۔ 26 نومبر تحریک انصاف کو کچلنے کی دوسری کوشش تھی۔
کٹھ پتلی حکومت نے جمہوریت پر کاری ضربیں لگا کر عوام سے بنیادی انسانی حقوق مکمل طور پر چھین لیے ہیں۔ پیکا ترمیمی ایکٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پہلے آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ارشد شریف کا قتل کیا گیا، صحافیوں کو اغواء کیا گیا انکو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ اب فارم 47 اسمبلی نے آزادی اظہارِ رائے پر قدغن کے لیے کالا قانون منظور کر لیا ہے۔ سیاسی اختلافات کو دبانے کے لیے پیکا قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔ آزاد عدلیہ، قانون کی حکمرانی اور آزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت پنپ نہیں سکتی۔ اس جعلی اسمبلی نے سوائے جمہوریت پر حملے کے قوانین منظور کرنے کے کچھ نہیں کیا پھر چاہے وہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری ہو یا پیکا ترمیمی ایکٹ۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد چیف آف آرمی سٹاف کی ایکسٹینشن تھا اور ان کو یہ خوف تھا کہ عدلیہ آزاد ہوئی تو الیکشن فراڈ سامنے آ جائے گا۔ اپنے ذاتی فوائد کے لیے عدلیہ کی خودمختاری کو سلب کر دیا گیا ہے۔
آٹھ فروری کو ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کی تیاری کی جائے۔ اس دن عوامی مینڈیٹ چھین کر 1971 کی یاد تازہ کی گئی۔ صوابی میں خیبرپختونخوا اور شمالی پنجاب کے لوگ اکٹھے ہو کر احتجاج کریں۔ دیگر علاقوں کے افراد اپنے اپنے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کریں۔ پوری دنیا میں اوورسیز پاکستانی بھی اس دن اپنی آواز بلند کریں۔ اوورسیز پاکستانیوں سے ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ ترسیلات زر کا بائیکاٹ جاری رکھیں۔ اس حکومت نے سوائے جمہوری اقدار کی پامالی کے کچھ نہیں کیا ان کو ترسیلات زر بھیجنا ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے جو آپ کی ہی گردن دبوچ رہے ہیں۔
ہم جمہوریت کی بحالی کے لیے پاکستان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں گے۔ اپنی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ دیگر جماعتوں سے اس مقصد کے تحت روابط کو تیز کریں تاکہ جلد از جلد عوام کو جمہوریت کی آڑ میں نافذ اس ڈکٹیٹر شپ سے نجات مل سکے۔
علی امین گنڈاپور پر بطور وزیراعلٰی گورننس کا بہت دباؤ ہے لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جنید اکبر خان جو ہمارے دیرینہ ساتھی اور کارکن ہیں انکو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر منتخب کر دیا جائے اور تنظیمی امور انکے حوالے کر دئیے جائیں
اردو
Dིeིcིeིnིtི Gིuིjིjིaིrི retweetet

Chairman Imran Khan had already intimated the nation about the London Plan on numerous occasions. With absconder Nawaz Sharif’s return, the plan appears to be unfolding as anticipated.
State protocol, public resources, and use of public money to facilitate a convict can’t sway the public’s opinion who want nothing less than immediate, free, and fair elections.
#PTISMT
English
Dིeིcིeིnིtི Gིuིjིjིaིrི retweetet
Dིeིcིeིnིtི Gིuིjིjིaིrི retweetet

Dིeིcིeིnིtི Gིuིjིjིaིrི retweetet
Dིeིcིeིnིtི Gིuིjིjིaིrི retweetet
Dིeིcིeིnིtི Gིuིjིjིaིrི retweetet

ہماری جدوجہد ہمارا حق ہے، کیونکہ پاکستان کی 80 فیصد عوام میرے ساتھ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ دھاندلی کا 90 فیصد عمل پولنگ کے بعد سے لے کر نتائج کے درمیان ہوا ہے۔ میں نے دو سال الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے لیے کوشش کی، اگر ۸ فروری کو EVM ہوتی تو گیم وہیں ختم ہو جاتی۔ آج بھی کہتا ہوں، اگر انتخابات میں شفافیت چاہیئے تو EVM کا نظام لایا جائے، دھاندلی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔”
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو (24 جولائی 2025)
2/2
اردو
Dིeིcིeིnིtི Gིuིjིjིaིrི retweetet

ٹرینڈ الرٹ 🚨
انصافینز سب یہ ٹرینڈ #ReleaseAndTreatImranKhan شروع کریں کیونکہ اس وقت سب سے ضروری خان صاحب کی رہائی اور علاج ہے۔ عمران خان کی بیماری کو نورمالائز نہیں ہونے دینا۔
آپ عمران خان کی رہائی کے لئے جو بھی کر سکتے ہیں وہ ضرور کریں لیکن خاموش نہیں بیٹھنا

اردو
Dིeིcིeིnིtི Gིuིjིjིaིrི retweetet

“The circumstances in Khyber Pakhtunkhwa necessitated a change in the Chief Minister, a step fully in line with the constitutional process followed in other provinces as well. This process must be allowed to proceed without interference, ensuring its timely completion. Any attempt to interfere in this process will be met with a vigorous public protest.
Sohail Afridi was chosen because of his long-standing affiliation, dating back to his student days with ISF, and the ideology of Pakistan Tehreek-e-Insaf. This decision also reinforces the narrative of involving grassroots workers in decision-making instead of relying solely on electables.
Attempts by certain quarters to link the change in Khyber Pakhtunkhwa’s Chief Minister to my family are completely unfounded. The decision is purely political and no member of my family in any way influenced it. No family member has any connection to my political decisions.
Ali Amin is among my old and loyal associates, but he is embroiled in disputes. These disputes from Asim Munir’s policy of confronting terrorism through empty displays of force rather than a comprehensive political strategy. The year 2025 marks the worst period in Pakistan’s history in terms of terrorist incidents, and Khyber Pakhtunkhwa can no longer withstand the crisis. I hope the new Chief Minister and his team will work with public representatives to adopt a comprehensive policy aimed at eliminating terrorism and establishing lasting peace.
For the past two decades I have consistently outlined a clear strategy to combat terrorism. Because of that strategy, terrorism was largely brought under control during Pakistan Tehreek-e-Insaf’s three-and-a-half-year government. At that time, PTI even negotiated with the then anti-Pakistan and India-aligned Ashraf Ghani government, and issues involving tribal communities and Afghan refugees were resolved through understanding.
In 2021, the military leadership at the time proposed a plan for the resettlement of militants who had laid down their arms. However, our elected representatives from Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas opposed it, and therefore it was never implemented during our tenure. Yet, contrary to these facts, the PTI government is being falsely accused of having allowed terrorists to be settled in the country and thereby causing the present wave of terrorism. If these accusations hold any truth, the nation deserves to know precisely which terrorists were resettled, and the details of when, where, and how.
At times, it is alleged that the Afghan government is responsible for terrorism in Pakistan because militants based in Afghanistan carry out operations here; at other times it is claimed that decades-long settlement of Afghan migrants in Pakistan is responsible. Both claims are unfounded, for even after the disgraceful expulsion of millions of Afghan refugees, terrorism has only intensified. Such contradictions leave no doubt about the ill intentions behind the Asim Munir-imposed system and its hostility toward the people.
My position on confronting terrorism has always been unequivocal. History has proven time and again that when force replaces political foresight and strategy, failure is the only outcome. Collateral damage resulting from military operations often forces the public, in revenge, to take up arms, perpetuating a cycle that grows progressively worse.
Politically motivated reprisals have produced a stream of baseless cases against me, repeatedly refiled. Cases large and small, including Tosha Khana, Al-Qadir, cipher, iddat, and again Tosha Khana, have been brought against me and my wife, Bushra Bibi, solely to coerce me into abandoning my commitment to true freedom. I want to send my nation this message once more: no matter what they do, I will not bow before them, nor will I allow my nation to bow.”
Message from former Prime Minister Imran Khan from prison - October 9th, 2025
English











