
کیا ایمبریولوجی کے مطالعے سے میکرو ارتقاء ثابت ہوتا ہے؟
جواب:
چارلس ڈارون نے اپنی کتاب On the Origin of Species میں ایمبریولوجی کو ارتقاء کے سب سے بڑے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ ڈارون کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے جانور جو دیکھنے میں بالکل مختلف دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے ایمبریو شروع شروع میں بہت زیادہ مماثلت رکھتے ہیں۔ جیسے جیسے ایمبریو بڑا ہوتا جاتا ہے تو یہ مماثلت کم ہوتی جاتی ہے۔ ڈارون کے بقول یہ تمام جانوروں کے مشترکہ جد ہونے کی دلیل ہے۔
ڈارون بذات خود کوئی ایمبریولوجسٹ نہیں تھا۔ اس نے اپنا یہ ثبوت کارل ارنسٹ کی ایمبریولوجی کی کتاب سے اخذ کیا۔ کارل ارنسٹ وون بیئر اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
"پرندوں، ممالیہ جانوروں، چھپکلیوں،سانپوں اور کچھووں کے ایمبریوز اپنی شروعات کے مرحلوں میں ایک دوسرے سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ اگر میرے پاس سپیرٹ کے اندر ان مرحلوں کے دو انتہائی مختلف جانوروں کے ایمبریوز ہوں تو ان کو پہچاننا بہت مشکل ہے۔ کوئی نہیں بتا سکے گا کہ کہ یہ چھپکلی کا ایمبریو ہے یا پرندے کا"۔
کارل ارنسٹ وون بیئر نے اپنی یہ کتاب جرمن زبان میں 1828 میں شائع کی۔ اس کتاب کا انگریزی میں ترجمعہ تھامس ہنری ہگزلے نے 1853 میں شائع کیا۔ ڈارون نے اپنی کتاب کے پہلے دو ایڈیشنز میں اس کا کریڈٹ وون بیئر کو نہیں دیا کیونکہ وون بیئر نظریہ ارتقاء کا سخت مخالف تھا۔
وون بیئر کے مطابق ڈارون اور اس کے حمایتی ایمبریوز کو خود پرکھنے سے پہلے ہی نظریہ ارتقاء کو سچ مان چکے ہیں۔
یہ غلط تصور کے ایمبریولوجی ارتقاء کو سپورٹ کرتی ہے وون بیئر کی بجائے ارنسٹ ہیکل کا تھا۔ ارنسٹ ہیکل نے اس بارے میں ایک قانون پیش کیا جسے بائیوجنیٹک لاء کہتے ہیں۔ اس قانون کے مطابق ایک جانور کی ایمبریو کے مراحل اس کے ارتقائی مراحل کے آئینہ دار ہوتے ہیں"۔ اسے ری کیپچولیشن کا نظریہ بھی کہتے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ہیکل کا بائیوجنیٹک قانون اب مسترد کیا جا چکا ہے۔ اس بات کی تصدیق جیری کوئین (Jerry Coyne) نے اپنی کتاب "ارتقاء کیوں درست ہے" میں بھی کی۔ لیکن کوئین کہتا ہے کہ بے شک تمام جانوروں کے ایمبریو آپس میں ملتے جلتے نہیں ہیں لیکن ایک جانور کا ایمبریو اپنے اینسسٹر سے لازمی ملتا ہے۔ اس اینسسٹر کا ایمبریو اس سے پہلے والے اینسسٹر سے ملتا جلتا ہوگا اور یوں ایمبریوز میں بتدریج تبدیلیاں واقع ہوتی گئیں۔
جیری کوئین کی مندرجہ بالا سٹیٹمنٹ بھی مردہ بائیوجنیٹک لاء کو زندہ نہیں کر سکتی۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں۔
1۔فوسل ایمبریوز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسلئے ارتقائی سائنسدان آج کل کے جانوروں کے ایمبریوز کا موازنہ ان جانوروں سے کرتے ہیں جن کو وہ سمجھتے ہیں کہ ان میں ارتقائی لڑی والے اینسسٹرز کی خصوصیات ہیں۔ اس سے حاصل ہونے والا نتیجہ گول منطق ہے۔ ڈارون کے مطابق مچھلیاں انسان کے اجداد میں شامل ہیں۔ انسان کا ایمبریو چونکہ آج کل کی مچھلیوں سے ملتا جلتا ہے اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان کا ایمبریو اپنے اجداد سے ملتا جلتا ہے۔ یہ گول منطق کہلاتی ہے۔
2۔ انسان اور مچھلیوں کے ایمبریو میں مشابہت کے باوجود انسان کے ایمبریوز میں بہت سی اضافی چیزیں موجود ہوتی ہیں جو مچھلیوں کے ایمبریو میں نہیں پائی جاتی۔ اگر آپ ایک جھونپڑی کو ڈبل منزلہ بنالیں تو وہ جھونپڑی ہی رہے گے وہ مکان نہیں بن جائے گا۔ کیونکہ مکان اور جھونپڑی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔
3۔ تیسری بات یہ ہے کہ فقاریہ جانوروں کی ایمبریوز کی مماثلت جو ہیکل نے اپنی ڈرائنگ میں بتائی وہ فراڈ ثابت ہو چکی ہے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ارنسٹ ہیکل کے قانون کو اس کے ہم عصر ماہرین حیاتیات نے ہی مسترد کردیا تھا لیکن یہ قانون پاکستان اور دنیا کی دوسرے ممالک میں 2000 تک پڑھایا جاتا رہا۔ یہ تو بھلا ہو ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر اسٹیفن جے گولڈ کا جنہوں نے اس کے خلاف سخت آواز اٹھائی اور اسے فراڈ ثابت کرکے اس کا پڑھانا بین کر دیا۔
پاکستان جیسے ممالک میں ہیکل کا یہ قانون کچھ پرانے قدامت پسند ارتقائی سوچ رکھنے والے اساتذہ آج بھی بچوں کو زوروشور سے پڑھا رہے ہیں اور اس بات پر وہ ذرا بھی شرمندہ نہیں۔
#ڈاکٹرنثاراحمد

اردو

















