Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
9.9K posts

Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
@ScienceKiDuniy
روزانہ کی بنیاد پر خبریں سائنسی مذہبی معلومات اور اپ کی محبت!! https://t.co/1FJUZKIee6
Pakistan Katılım Haziran 2020
1.4K Takip Edilen7.1K Takipçiler

@ScienceKiDuniy آپ کی باتیں بالکل درست ہیں۔ شاید شلپا کی تصویر اس لیے لگائی گئی ہو کہ یہ بتانے کے لیے کہ ایسا فگر شارٹ کٹ سے نہیں بلکہ محنت سے بنتا ہے یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟ 😄
اردو

اس طرح کی بے شمار کہانیاں اس معاشرے میں سالوں سال سے نسل در نسل چلتی ارہی ہے۔ کبوتر کے کھانے سے لقوا ٹھیک ہونا۔ سانڈے کا تیل۔ شیر اور سانپ کی چربی ۔دودھ جلیبی،فلاں فلاں تیل لگانے سے گنجے کوبالوں کا ا جانا۔ کشتے۔چڑے، طاقت کا خزانہ، اور پتہ نہیں کیا کیا۔۔ اصل میں یہ تب کی کہانیاں ہیں جب کچھ نہ ہونے سے کچھ صحیح غلط ہونا ہی بہتر تھا میڈیکل سائنس کی ترقی کے بعد بھی ایک خاص طبقہ نسل در نسل ان کہانیوں کو ساتھ لے کر چلتا رہا اور چلتا ہی رہے گا۔۔کیونکہ اسان سستے اور جلدی سمجھنے جانے والے گھریلو طریقے ہیں یہ۔ ۔

اردو
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️ retweetledi

ذرا یہ چول پنا دیکھیے گا۔
انگریزی میں ایک کہاوت ہے کہ جب آپ ایک خنزیر سے کُشتی کرتے ہیں تو کیچر میں آپ اور خنزیر دونوں لت پت ہوتے ہیں پر مزا صرف خنزیر کو ہی آتا ہے۔
جناب قیصر راجہ صاحب نے پچھلے هفتےحسن الیاس سے عقلی کُشتی کرنے کی کوشش کی، جو وہ کافی عرصے سے کرنے کی کر رہے ہیں۔ اور جناب راجہ صاحب کی کافی کوشش اور خواہش کے باوجود حسن الیاس انھیں منہ لگانے کو تیار نہیں۔
تو اب جناب قیصر راجہ صاحب نے اپنا اوچھا اور گھٹیا پن اور زیادہ بڑھا کر جاوید غامدی صاحب پر حملے شروع کر دیئے ہیں، اس اُمید پر کہ اگر غامدی صاحب نے جواب نہیں دیا، تو کم از کم شاید حسن الیاس تو دے ہی دیں گے۔
قصور جناب قیصر صاحب کا بھی نہیں ہے۔ انہیں اب اپنی روزی روٹی ذلیل و رسوا ہو کر کھانے کی ہی عادت پر گئی ہے۔ ہر ویڈیو میں کسی نہ کیسی اور بازاری اور گھٹیا جملے کس کے اپنی تربیت کا ثبوت اس اُمید پر دیتے ہیں کہ شاید کوئی تو اُنہیں جواب دے دے گا۔
جنابِ قیصر راجہ صاحب کی یہ حالت، کہ جہاں دو وقت کی دال روٹی کے لیے اتنا ذلیل و رسوا ہونا پڑتا ہے، سبق ہونا چاہیے لوگوں کے لیے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیصر راجہ کو اس ذلت سے اب آزاد کرائے اور عزت سے روزی کمانے کی توفیق دے۔ قیصر صاحب کو بھی مشورہ ہے کے جناب اتنا نہ گریں۔ جب آپ کے بچے بڑے ہوں گے اور دیکھیں کہ اُنکے والد نے کیا کیا حرکتیں کی تھیں تو آپ ہی کی عزت کم ہوگی۔
خوش رہیں۔
@qaiseraraja @revivalistsorg

اردو


*پلسار کی دریافت اور بدقسمت لڑکی*
انیس سو سڑسٹھ کا زمانہ تھا جب آج کی طرح کمپیوٹر خود بخود سگنلز کی چھان بین نہیں کر سکتے تھے اور ہر چھوٹی بڑی چیز انسان کو اپنی آنکھوں سے دیکھنی پڑتی تھی۔ انہی دنوں ایک نوجوان ریسرچ اسٹوڈنٹ روزانہ ریڈیو دوربین کے ڈیٹا کی لمبی کاغذی پٹیاں دیکھا کرتی تھیں۔ وہ یونیورسٹی آف کیمبرج (University of Cambridge) میں پی ایچ ڈی (PhD) کر رہی تھیں اور ان کا کام آسمان سے آنے والی ریڈیو لہروں (Radio Waves) کو پڑھنا اور سمجھنا تھا۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا کام لگتا تھا مگر اصل میں یہ ایسا ہی تھا جیسے کسی بہت شور والے کمرے میں سے ایک مدھم سرگوشی پہچاننے کی کوشش کرنا۔
ایک دن جب وہ ان کاغذی پٹیوں پر بنی بے شمار ٹیڑھی میڑھی لکیروں کو دیکھ رہی تھیں تو اچانک ان کی نظر ایک غیر معمولی پیٹرن (Pattern) پر پڑی۔ وہ سگنل (Signal) بار بار ایک ہی وقفے سے آ رہا تھا۔ ٹک… ٹک… ٹک… بالکل برابر فاصلے پر۔ یہ عام بات نہیں تھی۔ قدرتی ریڈیو شور (Radio Noise) بے ترتیب ہوتا ہے، اس میں اتنی باقاعدگی نہیں ہوتی اور اسی لیے یہ سگنل باقی سب سے الگ دکھائی دیا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب کہانی دلچسپ اور پراسرار ہو گئی۔ سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ آخر کون سی چیز اتنی درستگی اور ترتیب سے سگنل بھیج سکتی ہے۔ یہاں ایک چونکا دینے والا خیال ذہن میں آیا کہ کہیں یہ کسی غیر زمینی ذہین مخلوق کا پیغام تو نہیں۔ مذاق میں اس سگنل کو “چھوٹی سبز مخلوق (Little Green Men)” کا سگنل کہا جانے لگا۔ یہ خیال سننے میں عجیب تھا مگر اُس وقت اسے سنجیدگی سے بھی لیا گیا کیونکہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسا لگ رہا تھا کہ شاید کسی نے واقعی ہمیں پکارا ہے۔
لیکن سائنس میں جذبات نہیں بلکہ ثبوت چلتے ہیں، لہٰذا مزید مشاہدات شروع ہو گئے۔ جیسے جیسے ڈیٹا (Data) بڑھتا گیا ویسے ویسے ایک نئی حقیقت سامنے آئی۔ ایسے سگنل صرف ایک جگہ سے نہیں بلکہ آسمان کے کئی حصوں سے ملنے لگے۔ اگر یہ کسی ایک تہذیب کا پیغام ہوتا تو ایک ہی سمت سے آتا۔ چنانچہ یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ کوئی قدرتی مظہر ہے، مگر کیسا؟
اس سوال کا جواب ستاروں کی زندگی کے آخری مرحلے میں چھپا تھا۔ بہت بڑے ستارے جب اپنی زندگی کے اختتام پر پہنچتے ہیں تو ان کے اندر موجود ایندھن ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کی اپنی کششِ ثقل اتنی طاقتور ہو جاتی ہے کہ ستارہ خود اپنے اوپر گر کر منہدم ہو جاتا ہے اور ایک انتہائی چھوٹے مگر بے حد کثیف گولے میں بدل جاتا ہے جسے نیوٹران ستارہ (Neutron Star) کہتے ہیں۔ یہ اتنا زیادہ کثیف ہوتا ہے کہ اس کا ایک چمچ بھر مادہ اربوں ٹن کمیت کا ہو سکتا ہے۔
یہ نیوٹران ستارے بہت تیزی سے گھومتے ہیں اور اس دوران ان کے مقناطیسی قطبین سے طاقتور شعاعیں نکلتی ہیں۔ جب کسی گھومتے ہوئے نیوٹران ستارے کا رخ زمین کی جانب ہوتا ہے تو ایک طاقتور شعاع ہماری زمین کی طرف آتی ہے اور ہمیں ایک سگنل ملتا ہے لیکن جب شعاع دوسری طرف چلی جاتی ہے تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ یوں ہمیں ایک باقاعدہ دھڑکن جیسا سگنل محسوس ہوتا ہے۔ اسی مظہر کو پلسار (Pulsar) کہا جاتا ہے۔
یہ دریافت اتنی بڑی تھی کہ اس نے فلکیات میں ایک نیا باب کھول دیا۔ پلسارز کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ان کی گردش انتہائی درست ہوتی ہے۔ کچھ پلسارز ایسے ہیں جو گھڑی سے بھی زیادہ درست وقت بتاتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں کائناتی گھڑیاں بھی کہا جاتا ہے۔ سائنسدانوں نے ان کی مدد سے وقت کی انتہائی درست پیمائش کی اور خلا میں موجود مادے کی خصوصیات کو بہتر انداز میں سمجھنا شروع کیا۔
وقت کے ساتھ ساتھ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پلسارز صرف عجیب و غریب ستارے نہیں بلکہ کائنات کو سمجھنے کا ایک عمدہ ذریعہ ہیں۔ جب دو نیوٹران ستارے ایک دوسرے کے گرد گھومتے ہیں تو ان کی حرکت میں آنے والی تبدیلیوں سے پتا چلتا ہے کہ وہ توانائی خارج کر رہے ہیں۔ اس سے جنرل ریلیٹیویٹی (General Relativity) کی پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں اور کششِ ثقل کی لہروں کی موجودگی کے مضبوط شواہد بھی ملے۔
مگر اس کہانی کا ایک افسوسناک انسانی پہلو بھی ہے۔ اگرچہ اس دریافت کا بنیادی مشاہدہ جوسلین بیل برنیل (Jocelyn Bell Burnell) نے کیا تھا مگر 1974 میں نوبل انعام برائے طبیعیات (Nobel Prize in Physics 1974) ان کے سپروائزر کو دے دیا گیا۔ اس فیصلے پر آج تک بحث ہوتی ہے۔ اگرچہ بعد میں انہیں ملکہ الزبتھ دوم (Queen Elizabeth II) کی جانب سے اعلیٰ اعزاز دیا گیا اور سائنسی برادری نے ان کے کام کو تسلیم کیا گیا لیکن جوسلین کو نوبل انعام کا نہ ملنا شاید سائنسی تاریخ کی سب سے بڑی بدقسمتی کے طور پر جانا جائے گا۔

اردو

جی ان سے ملیے خان سر
👇
جن کے 25 ملین سبسکرائبرز ہیں یوٹیوب پر
جو بھارت کے مقابلے کی امتحان UPSCکی تیاری کرواتے ہیں اور ایجوکیٹر ہیں
دوسرے یوٹیوبر بھی کم نہیں جو کالج سے ڈراپ اؤٹ ہیں جن کے 16ملین سبسکرائبرز ہیں جن کا نام ہے راج شمانی
ان دونوں کی گفتگو ملاحظہ کیجئے جو ایک ہفتے پہلے ائی تھی اور
10 ملین سے زیادہ ویوز ہو چکے ہیں
اور جس میں بات کی جا رہی ہے کہ کس طرح سے پانی کے دریا میں زہر ملا کے پاکستانی معصوم لوگوں کو مار دیا جائے
یا پھر بلوچستان کو تو بھارت ٹکڑے کرے گا ہی
یا پھر پاکستان بھارت کا حصہ ہوگا اور لوگوں کے ارگنز کو بیچا جائے گا
پاکستان کو دہشت گرد کہنے والے یہ نام نہاد پڑھے لکھے لوگ اگر اتنی خطرناک اور جینوسائیڈ کی بات کر رہے ہیں تو اندازہ لگائیے کہ بھارت کے کم تعلیم یافتہ لوگوں کا کیا حال ہوگا
اردو

@BrownZionist منی لانڈرنگ کی ذرا سا ڈیفینیشن گوگل کیجیے بھائی ۔
کیا ہم اب بیسک بات پر بھی بحث کریں گے
مجھے معاف کیجئے تھوڑی سی تحقیق کیجئے اور پڑھائی کیجئے گا برا مت مانیے
اردو

@ScienceKiDuniy یار آپ دو الگ باتوں کو ملا رہے ہو - منی لانڈرنگ کا مطلب دو نمبر پیسہ نہیں ہوتا جب آپ حکومت سے چھپ کر اپنا مال بیرون ملک ٹرانسفر کرتے ہیں اس کو منی لانڈرنگ کہتے ہیں۔
اردو

خبر ا رہی ہے کہ مشہور وہ معروف اداکار اور مذہبی سکالر حمزہ علی عباسی جنہوں نے حالیہ کتاب بھی لکھی لکھی تھی my Discovery of God ان کی بہن کو 25 بلین روپیز کی منی لانڈرنگ کے لیے گرفتار کر لیا گیا ہے .
دیکھنا ہوگا کہ اس کتاب سے تو ان کی بہن نے نہیں سیکھا تھا کہ خدا ملے نہ ملے منی لانڈرنگ سے پیسہ تو مل جائے ؟

اردو

@Irfan6780227493 بالکل ہے جب یہ عمران خان کے ساتھ جلسے میں کرپشن کے خلاف اواز اٹھاتا تھا تو اپنے گھر میں کیا اس کو اپنی بہن کا اتنا بڑا کرپشن نہیں نظر ارہا تھا بھائی ذرا سوچیے گا ؟
اردو

@ScienceKiDuniy As a self proclaimed intellectual and ambassador of science and knowlege, one should have a basic sense to connect an Effect with a corresponding Cause.
Hamza ali abbasi ki kitab ka ar us k opinion ka us ki behn ki criminal activity sa kia laina daina ha??
English

@BrownZionist کیا میں نے کہیں کہا کہ وہ ناکام پلاسٹک سرجن ہے ؟
اردو

@ScienceKiDuniy اس کی بہن ایک کامیاب پلاسٹک سرجن ہے ۔
اردو

حیرت ہوتی ہے ایسے نام کے لبرل دیکھ کر جو مذہب کے خلاف تو خوب باتیں کرتے ہیں اور مسلمانوں کی تاریخ کی بربریت بھی دکھاتے ہیں لیکن جو ان کی اپنی بربریت ہے اور جنگ کے بارے میں مذاق جہاں معصوم جانوں کا قتل عام ہوتا ہے
لوگ اپہاج ہوتے ہیں گھر برباد ہوتے ہیں اس کو مذاق میں لکھ دیتے ہیں جب تک ان کے گھر میں وہ اگ نہ پہنچے
@MubashirAZaidi

اردو

@MubashirAZaidi نہ جانے کیوں لوگوں کے لیے جنگ جس میں معصوم جانے ضائع ہوتی ہیں لوگ اپاہج ہو جاتے ہیں گھر برباد ہو جاتے ہیں جنگ ان کے لیے مذاق ہوتی ہے
یا شاید اپنے گھر تک نہ پہنچے
اردو

آج دو خبریں ایک ساتھ ملیں۔
نیویارک ٹائمز کے فرنٹ پیج پر رپورٹ ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے اس سال امریکا میں مہنگائی چار فیصد بڑھے گی۔
دوسری خبر ہماری کاونٹی کی ہے جہاں آئندہ مالی سال کے لیے اسکول ڈسٹرکٹ کا بجٹ طے ہوگیا ہے اور ٹیچرز کی تنخواہیں سات فیصد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یعنی بحران کے باوجود ہم تین فیصد فائدے میں رہیں گے۔
ٹھیک ہے۔ جنگ جاری رکھیں۔
Thank you for your attention to this matter
اردو

رچرڈ ڈاکنز آج 84 سال کے ہوگئے ، ساتھ ہی ساتھ ان کی سب سے پہلی اور مقبول ترین کتاب Selfish Gene کا پچاسواں ایڈیشن بھی اس سال شائع ہوا.
رچرڈ ڈاکنز سے ہزار اختلافات اپنی جگہ لیکن کارل ساگان کے بعد جس مصنف کی کتابوں نے مجھے سائنسی طرز فکر کی جانب مائل کیا اور مجھے اکسایا کہ میں حیاتیاتی سائنس کے شعبے میں اپنی تعلیم جاری رکھوں، وہ مصنف رچرڈ ڈاکنز ہے.
میں یہاں رچرڈ ڈاکنز کے ذاتی نظریات اور اس کے ذاتی افعال کا دفاع کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ، کیوں کہ جس نے جو بویا ہوگا وہی کاٹے گا.
سائنسی میدان میں رچرڈ ڈاکنز ایک سائنس دان کی حیثیت رکھتا ہے جس نے اپنے شعبے Evolutionary Ethology میں تحقیقی مقالے لکھے اور Ethology کے علم میں مزید علمی اضافے کیے جو دنیا بھر کے Zoology سے وابستہ طالب علم اپنی ماسٹرز ڈگری کے دوران پڑھتے ہیں.
چاہے وہ نظریہ Extended Phenotype کا ہو یا Evolutionary Arms Race کا ، یا پھر Meme کی اصطلاح ہو یا پھر ارتقائی حیاتیات کے شعبے میں Gene Centered View کو مقبول بنانا ... یہ سب خالص سائنسی خدمات ہیں جو رچرڈ ڈاکنز نے اپنی زندگی میں انجام دی ہیں ...
18 سے کتابیں لکھنا تو ایک الگ کارنامہ ہے جس میں سے تین کتابوں کے علاوہ باقی تمام کتابیں سائنسی موضوعات پر مبنی ہیں ، یہ کارنامہ بھی اپنی جگہ احترام کا مستحق ہے ، چاہے آپ ان سے اختلاف کریں یا اتفاق ...
کیوں کہ سائنسی طرز عمل میں کسی شخص کا ذاتی اخلاق یا اس کے ذاتی نظریات اس شخص کی اہمیت کا معیار نہیں ہوتے.
بہر حال ، ہر شخص کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ کیا سوچتا ہے .. لیکن عمل میں ہم اپنے علاقائی اور ریاستی قانون کے پابند ہوتے ہیں ... اگر کوئی مجرم ہے تو اسے سزا ضرور ملنی چاہیے. لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ اس کی علمی خدمات کو فراموش کردیں. اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یہ تعصب کہلائے گا ، منصف مجازی نہیں ......
✒️ مہدی حسین شاہ

اردو

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ درخت ہماری سانس لینے والی آکسیجن کا اصل ذریعہ ہیں لیکن سچائی یہ ھے کہ اگرچہ جنگلات اور بارانی جنگلات (rainforests) ہمارے سیارے کے لیے انتہائی اہم ہیں لیکن وہ زمین کی آکسیجن میں صرف 28 فیصد حصہ ڈالتے ہیں جبکہ آکسیجن فراہم کرنے والے اصل ہیرو فائٹوپلینکٹن (phytoplankton) ہیں، جو سمندروں میں رہنے والے خوردبینی جاندار ہیں- یہ ننھے طاقتور جاندار سطحِ سمندر کے قریب تیرتے ہیں، سورج کی روشنی کا استعمال کرتے ہوئے ضیائی تالیف (photosynthesis) کے ذریعے آکسیجن بناتے ہیں اور ہمارے سیارے کی آدھی سے زیادہ آکسیجن کے ذمہ دار ہیں-

اردو

اگر آج سائنس اور ٹیکنالوجی نہ ہوتی تو ہم اب بھی جہالت اور خوف کے اسی دور میں جی رہے ہوتے جہاں انسان کو اپنی رائے رکھنے یا سچ بولنے کی اجازت نہیں تھی۔
پہلے زمانے میں اگر کوئی شخص کائنات کے بارے میں کوئی نئی سچائی بیان کرتا تھا تو اسے باغی یا کافر قرار دے کر کڑی سزائیں دی جاتی تھیں۔ سائنس نے ہمیں وہ پلیٹ فارم دیا جہاں ہم عقل اور دلیل کی بنیاد پر بات کر سکتے ہیں اور جابرانہ سوچ کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں موبائل، انٹرنیٹ اور فیس بک ہی ہیں جنہوں نے دنیا کو ایک بستی بنا دیا ہے۔ آج ایک عام انسان بھی اپنی آواز پوری دنیا تک پہنچا سکتا ہے، جو پہلے صرف بادشاہوں یا طاقتور لوگوں کے بس میں تھا۔
کوانٹم فزکس اور جدید سائنس نے ہمیں بتایا کہ یہ کائنات اتنی سادہ نہیں جتنی نظر آتی ہے۔ ہم نے ذرے سے لے کر ستاروں تک کو پہچانا، جس سے انسان کی سوچ کے بند دروازے کھل گئے۔
سائنس نے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ تمام انسان برابر ہیں اور ہر ایک کو جینے اور اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا حق ہے۔ اس نے ہمیں غلامی اور ظلم کے زنجیروں سے نکال کر ایک روشن مستقبل کی راہ دکھائی۔
سائنس صرف مشینوں کا نام نہیں، بلکہ یہ سوچ کی آزادی اور حق و سچ کی تلاش کا نام ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی نہ ہوتی، تو شاید ہم آج بھی وہی پرانی کہانیاں سن رہے ہوتے اور ہمیں سچائی کا کبھی پتہ ہی نہ چلتا۔

اردو





