Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️

10K posts

Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️ banner
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️

Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️

@ScienceKiDuniy

روزانہ کی بنیاد پر خبریں سائنسی مذہبی معلومات اور اپ کی محبت!! https://t.co/1FJUZKIee6

Pakistan Katılım Haziran 2020
1.4K Takip Edilen7.2K Takipçiler
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️ retweetledi
Faisal Naseer
Faisal Naseer@fnakhi·
One hour & seventeen minutes. I tried. I did. The self proclaimed Imam Juggatbazaali @qaiseraraja went to this "academy" to give a lecture on liberalism. I looked up this "academy" first & turned out it's as credible as the University of Bedfordshire where our cute & adorable Raja jee studied. Only this AAS place appeared even more shady. No wonder QAR felt right at home & why they also invited this pupho as a guest "lecturer". Onto the lecture then. The first 17 minutes were QAR bragging about his wars & battles that took place on Twitter & his resounding victories. It was pathetically sexy watching a middle aged man bragging about being successful in picking online fights. Then there was Engineer. QAR's reason for existence. The center of his universe. The man who lives in QAR's head rent free. QAR really cannot seem to get over how Engineer has snubbed him. I think he's been traumatized for life. So, after the first mildly entertaining 17 minutes where QAR was basically bitching about other people, the actual lecture started. I really couldn't not bear to listen for more than 10 minutes. Life is too short to listen to QAR's half baked theories & lectures. I feel sorry for the people who were sitting there & listen to this ignoramus making an ass of himself. Whatever AAS University people paid QAR for this visit, he was overpaid. They really should demand a refund. The people, after leaving that lecture hall, would probably be more jaahil than before. @revivalistsorg @SahilAdeem @SecwatchPak
Faisal Naseer tweet media
English
8
5
34
2.3K
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
عبدالستار صاحب روزانہ ویڈیو ڈال رہے ہیں اور انہوں نے بھارت اور پاکستان کے فراڈیوں کا بہت خوبصورت موازنہ کیا ہے جیسے ساحل عدیم طارق جمیل مفتی مسعود وغیرہ علم کو اگے بڑھائیے اور شیئر کیجئے بہت شکریہ youtu.be/Conicx4bNA4?si…
YouTube video
YouTube
اردو
1
13
31
1.1K
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
مسلمانوں کا کہنا ہے کہ سائنس کو مذہب کے اندر دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے ہاں مگر پورا مذہب مولوی قران حدیث سائنس کے اندر دخل اندازی کا پورا حق رکھتے ہیں
اردو
3
0
7
484
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
اب ہم آتے ابتدائی پرائمیٹس کی ارتقاء پر،2021 میں ایک ریسرچ کی گئی جس میں سائنس دانوں نے یہ جانا کہ سارے پرائیمٹس کا جو کامن اینسسٹر تھا وہ قریب آج سے 65 ملین سال پہلے ڈائنا سورز کے ساتھ موجود تھا ابتدائی پرائیمیٹس کی ایک بڑی شاخ تھی میملز میں سے جن سے بعد میں گوریلا،چیمپینزی،بندر،اور بال آخر انسان ارتقاء پذیر ہوئے۔۔!! اگر آپ نے اس سیریز کی سبھی اقسام کو پڑھا ہے تو یہ آپ کو معلوم ہوگا کہ کتنے ایویڈنس ہیں اس تھیوری کو مظبوط ثابت کرنے کیلئے،کوئی ایک بھی ایسا ایویڈنس آج تک نہیں ملا جو اس تھیوری کو غلط ثابت کرے،آج کے دن بھی قریب 97 فیصد سائنس دان کا ماننا ہے کہ ایوولوشن ایک حقیقت ہے۔۔اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو کچھ بھی ہوا اس کی وضاحت اور ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔اصل میں یہ بہت شرم کی بات ہے کہ کچھ انتھا پسند لوگ اس نظریے کو غلط ثابت کرنے پر تلے ہیں،اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے اسکولز کے سلیبس میں سے اس کو نکال دیا جائے،لیکن اتنا ثبوت ہونے کے باوجود بھی کوئی سمجھدار انسان اس نظریے سے انکار نہیں کرے گا۔۔۔!! جاری ہے غلام نبی سولنگی #سائنس_اور_سماج
اردو
0
0
0
58
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
باریک جانداروں سے ایک ذہین مخلوق کیسے بنی۔۔؟؟؟ تحریر: غلام نبی سولنگی قسط:4 (سیریز ایوولوشن) پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ مئملز کی مختلف شاخیں کیسے وجود میں آئیں،اور کچھ جاندار انڈے دیتے رہے جبکہ کچھ نے اپنے بچوں کو پیٹ اور تھیلی میں پالنا شروع کیا،،، اب ہم ان سوالات کو سمجھنے کی کوشش کرے گے کہ انہی مئملز میں سے انسان جیسا جاندار کیسے وجود میں آیا؟؟؟ بندر اور انسان کا رشتہ کیا ہے؟؟؟انہیں سوالات کے جوابات کیلئے میں نے اس سیریز کا آغاز کیا ہے جو کہ قسط وائز تحریر کی شکل میں یھاں پوسٹ ہو گی اپنی موجودگی کو اس دلچسپ بحث میں حصہ لے کر ظاہر کریں۔۔!! اب ہم اس ٹائیم لائن کے دلچسپ حصے کی طرف آتے ہیں جب ایک بڑے شہاب ثاقب نے ڈائنا سورز کا خاتمہ کیا،ڈائنا سورز کے خاتمے کا مطلب یہ تھا کہ میملز کو ابھرنے کا سنہری موقع ملا،زمین کے ایکو سسٹم میں بہت سی خالی جگہ بچ گئی جھاں پر یہ میملز بلکل فٹ ہوسکتے تھے،سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ڈائنا سورز کے خاتمے کے بعد پلیسینٹلز میملز اتنی جلدی ارتقاء کر گئے،اگر یہ شہاب ثاقب زمین پر نا گرتا تو انسان کبھی بھی ارتقاء پذیر نا ہوتا،قریب 40 ملین سال پہلے جب انڈین کانٹینٹ پلیٹس ایشیا سے ٹکرائی تو ہمالیہ کے پھاڑ وجود میں آئے اور یہی وہ وقت تھا جب پلیسینٹلز میملز الگ الگ شاخوں میں تقسیم ہوگئے، اور انہیں میں سے ایک شاخ ہے جسے (Ungulates) "انگولیٹس" کہا جاتا ہے یہ وہ میملز ہیں جو "کھر" والے پیروں پر چلتی ہیں،ان کھر والے جانداروں میں گائے،اونٹ،گہوڑا،،،،ہرن،گینڈا وغیرہ شامل ہیں،،یہ جانور گھاس کو اپنا چارا بناتے ہیں یہ زمین پر تیز دوڑ سکتے ہیں کیونکہ ان کے پائوں مضبوط اور کھر والے ہوتے ہیں۔۔۔!! پھر آگے چل کر یہ جاندار دو برانچز میں تقسیم ہوگئے،،پہلا جاندار (even toes) (ایون ٹوڈ) اور دوسرا (odd toe)(اوڈ ٹوڈ)اب اوڈ کی کٹیگری میں آتے ہیں گھوڑا،گینڈا،زیبرا،ان جانوروں کا زیادہ تر وزن ایک انگلی پر ہوتا ہے،،،اور ایون ٹوڈ کی کٹیگری میں گائے،بکری،ہرن،اونٹ،سوئر وغیرہ آتے ہیں ان کا زیادہ تر وزن دو انگلیوں پر ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اب ان کے علاؤہ میملز کی ایک اور شاخ ہے جس کا نام ہے Carnivora (کارنی وورا) یہ وہ میملز ہیں جو زیادہ تر گوشت کھاتے ہیں ان میں شامل ہیں شیر،چیتا،بھیڑیا،ریچھ،بلی وغیرہ ان کو گوشت خور میملز کی شاخ میں رکھا گیا ہے،اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہیل اور ڈالفن کو Cetaceans سیٹیشینز میملز کی کٹیگری میں رکھا گیا ہے اور یہ زیادہ تر گائے اور بھینس سے ملتی جلتی ہیں،،،اب ان کے علاؤہ ایک اور شاخ ہے میملز کی جس کو Afrotheria افروتھیریا کہا جاتا ہے اب ان میں شامل ہیں ہاتھی،Hyrax (ہائراکس) ایک چھوٹا سا خرگوش نما جاندار،اب یھاں اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ایک اتنا بڑا جانور ہاتھی اور ایک چھوٹا سا جانور (ہائراکس) یہ دونوں ایک ہی کٹیگری میں کیوں آتے ہیں؟؟ان کا ایک ہی کامن اینسسٹر کیسے ہوسکتا ہے؟؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ ارتقاء ایک ہی ڈاریکشن میں نہیں چلتی بلکہ ہر ڈاریکشن میں چل سکتی ہے جھاں وہ فٹ ہو سکے۔۔۔!! اب ایوولوشن ہونے کے اصل میں چار اسٹیج ہوتے ہیں پہلا ہیں ڈی این اے میوٹیشن (DNA Mutation)،جب جاندار کے DNA میں اچانک چھوٹی سی تبدیلی آ جائے،،دوسرا ہے ویرائیشن (Variation)،،یعنی ایک ہی نسل کے جانداروں میں فرق پیدا ہو جاتا ہے (کچھ لمبے، کچھ چھوٹے، کچھ طاقتور وغیرہ)۔اور تیسرا ہے نیچرل سلیکشن (Natural Selection)،،یعنی جو جاندار ماحول میں بہتر survive کرتا ہے وہ بچ جاتا ہے، باقی کم ہو جاتے ہیں۔اور چوتھا اسٹیج ہے ایڈاپٹیشن اور نئی اسپیشیز (Adaptation & Speciation)،،یعنی وقت کے ساتھ جو جاندار ماحول کے مطابق بدل جاتے ہیں اور نئی قسم کی (species) بن جاتی ہے۔اب آپ کے ذہین میں یہ سوال ہوگا کہ ایوولوشن کی ٹائم لائن کیا ہے؟ یہ کتنے سالوں میں ہوتی ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟تو اس کا کوئی ایک جواب نہیں ایوولوشن عام طور پر لاکھوں سالوں میں ہوتی ہے، یہ بہت آہستہ اور دھیرے دھیرے چلنے والا عمل ہے۔ اس میں جاندار وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور ماحول کے مطابق خود کو ڈھالتے ہیں۔لیکن کچھ صورتوں میں یہ تبدیلی ہمیں جلدی بھی نظر آ سکتی ہے، جیسے کہ وائرس میں۔وائرسز میں یہ تبدیلی جلدی دیکھنے کو ملتی ہے،،،،،،،،،،اس لیے یہ بہت حیرانی کی بات ہے کہ آج کے دور میں بھی کچھ لوگ ایوولوشن کو غلط مانتے ہیں،اور یھاں اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ایوولوشن صرف ایک تھیوری ہی نہیں بلکہ ایک fact حقیقت بھی ہے جب ہم لفظ تھیوری کا استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب سائنس میں یہ ہے کہ جو چیز مکمل ثبوت کے بنیاد پر ہو اسے سائنس میں تھیوری کہتے ہیں جیسے کہ بنگ بینگ،ریلیٹیویٹی،نظریہ ارتقاء یہ سب سائنس کی مستند تھیوری ہیں۔۔۔!!
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️ tweet media
اردو
1
0
1
210
Sonia Khan khattak(SK)
Sonia Khan khattak(SK)@Soniakhan1pak·
عام عورت بمقابلہ فیمنسٹ میرے خیال میں پاکستان میں فیمنزم کو سمجھنے سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آخر عام عورت کی زندگی کے مسائل کیا ہیں۔ یہاں فیمنزم صرف کتابوں یا سوشل میڈیا کے نعروں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عام عورت کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ ایک ایسی عورت جو شاید تعلیم مکمل نہ کر پائی ہو، جو گھریلو تشدد برداشت کر رہی ہو، جسے وراثت سے محروم کر دیا گیا ہو، یا جس کی زندگی کے فیصلے ہمیشہ دوسرے لوگ کرتے ہوں۔ سادہ لفظوں میں اگر دیکھا جائے تو فیمنزم کا مطلب صرف یہ ہے کہ عورت کو بھی مکمل انسان سمجھا جائے۔اُس کی اپنی عقل،اپنی مرضی،اپنے خواب اور اپنی عزت ہو۔اُسے صرف کسی کی بیٹی، بہن، بیوی یا ماں کے کردار میں محدود نہ کیا جائے بلکہ اُس کی اپنی انفرادی حیثیت کو بھی اہم سمجھا جائے۔ لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں مسئلہ صرف مرد اور عورت کی لڑائی نہیں ہے۔ یہاں مسئلہ طاقت،جہالت،طبقاتی فرق، کمزور قانون،مذہب کے غلط استعمال اور بعض پرانے سماجی رویوں کا بھی ہے۔ اسی لیے اگر فیمنزم صرف غصے، طنز یا “تمام مرد ظالم ہیں” جیسے نعروں تک محدود ہو جائے تو عام لوگ اُس سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں تبدیلی شاید اُس زبان سے آئے گی جو انصاف، عزت اور انسانیت کی بات کرے،نہ کہ صرف نفرت اور تقسیم کی۔ ایک اور بات جو میں نے خاص طور پر سوشل میڈیا پر دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ بہت سی خواتین خود کو “فیمنسٹ” کہنے سے ہچکچاتی ہیں۔اب اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ وہ عورتوں کے حقوق کے خلاف ہوتی ہیں۔بعض دفعہ وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ self-proclaimed feminists کا اندازِ گفتگو بہت سخت، تحقیر آمیز یا judgmental محسوس ہوتا ہے۔ عام عورت اکثر اپنی زندگی کو مکمل طور پر “مرد بمقابلہ عورت” کی جنگ کے طور پر نہیں دیکھتی۔اُس نے اپنی زندگی میں برے مرد بھی دیکھے ہوتے ہیں اور اچھے مرد بھی۔ ایک باپ،بھائی، شوہر یا بیٹا جو اُس کے لیے کھڑا رہا ہو،اُس کی عزت کرتا ہو یا اُس کی زندگی آسان بناتا ہو۔اسی لیے جب کچھ feminist discourse ہر مرد کو ایک potential ظالم یا patriarchal oppressor کے طور پر پیش کرتا ہے تو عام عورت خوف زدہ ہو جاتی ہے۔اُسے لگتا ہے کہ شاید فیمنزم کا مطلب مرد سے نفرت، خاندان سے بغاوت یا ہر تعلق کو شک کی نظر سے دیکھنا ہے۔ خاص طور پر جب بعض خواتین اپنے ذاتی تلخ تجربات کو اس انداز سے بیان کرتی ہیں کہ جیسے ظلم مرد کی فطرت کا حصہ ہو اور ہر مرد بنیادی طور پر طاقت،کنٹرول اور استحصال کی علامت ہو، تو بہت سی عام عورتیں اُس discourse سے emotionally disconnect ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ اُن کے اپنے تجربات ہمیشہ ایسے نہیں ہوتے۔ اور جب یہی عام عورت اپنے مثبت تجربات کا حوالہ دیتی ہے جیسے ایک supportive شوہر، باپ یا بھائی تو اُسے اکثر “privileged” کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔جیسے اُس کا ذاتی تجربہ قابلِ قبول نہیں کیونکہ وہ broader feminist narrative سے match نہیں کرتا۔بعض دفعہ تو ایسی خواتین کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ عورتوں کی جدوجہد کو نقصان پہنچا رہی ہیں یا “patriarchy ki foot soldier” ہیں۔یہ رویہ بہت سی خواتین کو خوف زدہ اور defensive بنا دیتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بعض عورتیں ایسے ماحول میں پلی بڑھتی ہیں جہاں مردانہ بالادستی اتنی نارملائز ہو جاتی ہے کہ وہ بعض toxic رویوں کو ہی محبت، تحفظ یا روایت سمجھنے لگتی ہیں۔ بعض دفعہ وہ انہی mindsets کے ساتھ emotionally connected ہو جاتی ہیں اور عورتوں کے حقوق کی بات اُنہیں اپنے خاندان،مذہب یا ثقافت پر حملہ محسوس ہوتی ہے۔ اس پہلو کو مکمل طور پر ignore بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن دوسری طرف ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عام عورت جو واقعی مسائل کا شکار ہے،وہ اکثر جنگ نہیں بلکہ حل چاہتی ہے۔وہ چاہتی ہے کہ اُس کا گھر بھی بچے، اُس کی عزت بھی محفوظ رہے، اور مرد بھی عورت کے مسائل کو سمجھے اور خود کو بدلے۔وہ confrontation سے زیادہ understanding چاہتی ہے۔ مگر سوشل میڈیا پر بیٹھے بعض لوگ feminism کو اتنا جنگی اور hostile بنا دیتے ہیں کہ عام عورت اُس تصادم کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین عورتوں کے حقوق کی بات سے تو اتفاق کرتی ہیں،مگر خود کو “فیمنسٹ” کہلوانے میں hesitation محسوس کرتی ہیں۔ کیونکہ اُنہیں لگتا ہے کہ اس label کے ساتھ ایک خاص قسم کی سختی، غصہ اور ideological rigidity جڑ چکی ہے۔ میرے خیال میں پاکستان میں مؤثر feminist discourse وہی ہوگا جو عورت کے حق کی بات کرے مگر عورتوں کے درمیان اختلاف کو بھی tolerate کرے، مردوں کو مکمل دشمن بنا کر پیش نہ کرے، اور سوشل میڈیا ایکٹیوزم کو انسانی وقار،دلیل اور زمینی حقیقتوں سے جوڑے۔ کیونکہ آخرکار کسی بھی معاشرے میں پائیدار تبدیلی صرف نعروں سے نہیں بلکہ رویوں، تربیت،گفتگو۔ سونیا خٹک
اردو
11
5
22
1.5K
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
انسان ابھی تک کوئی بھی نرو ریپیئر نہیں کر سکا۔ اس لیے ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہر ممکن طریقے سے نروو ڈیمیج سے بچا جائے اور اگر کہیں بھی نروو کو نقصان پہنچ رہا ہو تو اسے نقصان پہنچانے والی وجہ کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ نروو کو مزید نقصان نہ پہنچے۔ آپٹک نروو کو نقصان زیادہ تر گلاکوما سے پہنچتا ہے جو آنکھوں میں موجود مائع کا پریشر زیادہ ہو جانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آپٹک نروو کو نقصان ایک دن میں نہیں پہنچتا، برسوں آنکھوں میں پریشر زیادہ رہے تو اس پریشر کی وجہ سے آپٹک نروو پر دباؤ بڑھتا جاتا ہے جس سے آپٹک نروو کو نقصان پہنچنے لگتا ہے۔ اگر ہم ہم سال آنکھوں کا معائنہ کروائیں اور اگر آنکھوں میں پریشر زیادہ ہو تو اس کا فوری طور پر علاج شروع کریں تو آپٹک نروو کے نقصان کو وہیں پر روکا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں سالانہ آنکھوں کا معائنہ کروانے کا رواج نہیں ہے اور اکثر لوگ اسے پیسے کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ نظر خراب ہو رہی ہو تو بہت سے لوگ اسے 'عمر کا تقاضہ' سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جب نظر بالکل ختم ہو جائے (جسے کالا موتیا کہا جاتا ہے) اس وقت ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں۔ لیکن تب تک آپٹک نروو کو اس قدر نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے کہ بینائی مستقل طور پر ضائع ہو چکی ہوتی ہے۔ پھر اس کا علاج ممکن نہیں ہوتا
اردو
0
0
6
374
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
مجھے جو کچھ ملا اسی دیہاتی زندگی کی بدولت ملا. پھر اسے کیوں چھوڑوں۔ یوں بھی لندن میں سینکڑوں ڈاکٹر موجود ہیں. لیکن میرے قصبے میں تو کوئی دوسرا ڈاکٹر بھی نہیں, جو میرے بعد غریبوں کا علاج کر سکے". چیچک کا ٹیکہ اب تو بہت سستا ہو گیا ہے. آسانی سے ہر جگہ مل جاتا ہے. مگر ڈیڑھ سو سال پہلے چیچک کا ٹیکہ بہت مہنگا تھا. ایڈورڈ نے روپوں پیسوں کا لالچ کیے بغیر غریبوں کو مفت ٹیکے لگائے. ان کے مطب ہر صبح شام تک بھیڑ لگی رہتی. آج ایڈورڈ جینر کو دنیا سے رخصت ہوئے قریب پونے دو سو برس ہو چکے ہیں. لیکن ان کا نام رہتی دنیا تک روشن رہے گا. کیونکہ انہوں نے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو چیچک کے مہلک مرض سے نجات دلائی.
اردو
0
2
13
884
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
ایک رات نپولین اپنی ملکہ کے کمرے میں داخل ہوا تو ملکہ بیٹھی خط پڑھ رہی تھی۔ 'کس کا خط ہے؟....... نپولین نے پوچھا. ملکہ نے خط اس کی جانب بڑھا کر کہا، 'ڈاکٹر ایڈورڈ کا....... اس نے آپ سے درخواست کی ہے. کہ انگریز قیدیوں کو آزاد کر دیا جائے " نپولین نے ہنکارا بھرا اور کچھ دیر سوچ کر کہا. 'ڈاکٹر ایڈورڈ نے دنیا پر بڑا احسان کیا ہے۔ اس کی بات ٹالی نہیں جا سکتی." اور........ دوسرے دن انگریز قیدی رہا کر دیے گئے۔ واقعی ڈاکٹر جینر نے دنیا پر بڑا احسان کیا تھا. اس نے چیچک کا ٹیکہ ایجاد کیا تھا. اور لاکھوں آدمیوں کو ایک بھیانک اور موذی مرض سے بچا لیا. ایڈورڈ جینر انگلستان میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ پادری تھا۔ ایڈورڈ بڑا ہوا تو شاعری کرنے لگا۔ مگر اس کا باپ چاہتا تھا کہ ہونہار ایڈورڈ ڈاکٹر بنے. چنانچہ اس نے اسے تعلیم کیلیے برسٹل شہر کے ایک ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا. ایک دن ایڈورڈ چیچک کی بیماری کا حال پڑھ رہا تھا. کہ اسے اپنے گاؤں کے بڑے بوڑھوں کی بات یاد آ گئی. اس نے بچپن میں بڑے بوڑھوں سے سنا تھا. کہ اگر کسی آدمی کو گائے کے تھن میں ہونے والی (گئوتھن سیتلا) چیچک لگ جائے .تو پھر اسے چیچک کبھی نہیں ہو سکتی. اس نے سوچا بزرگوں کی اس بات میں تھوڑی بہت سچائی تو ضرور ہوگی. لہذا اس کی کھوج لگانی چاہئیے. اس نے اپنے جاننے والے ڈاکٹروں سے اس پر بات چیت کی مگر ہر شخص نے اس کی بات کا خوب مذاق بنایا. کہ دیہات کے جاہل گنواروں کی باتوں کو سائنس سے کیا واسطہ؟ مگر جینر کو تسلی نہ ہوئی. برسٹل سے فارغ ہو کر وہ لندن چلا گیا۔ اور جان ہنٹر جیسے نامی گرامی ڈاکٹر کی نگرانی میں اپنی تعلیم مکمل کرنے لگا. وہیں ایڈورڈ کو معلوم ہوا. کہ ایشیا کہ بعض ملکوں میں لوگ چیچک سے بچنے کے لئے چیچک کا تھوڑا سا مواد اپنے خون میں داخل کر لیتےہیں. اس طرح انہیں چیچک تو نکلتی... مگر ہلکی سی. یوں اسے یقین ہو گیا کہ چیچک کا مواد ہی انسان کو چیچک سے بچا سکتا ہے. ایڈورڈ نے ڈاکٹری کا امتحان پاس کر لیا. تو جان ہنٹر نے اسے مشورہ دیا. کہ گاؤں واپس جا کر لوگوں کی خدمت کرے.وہیں مطب کھولے اور فرصت کے اوقات میں چیچک پر تجربات بھی کرے. لندن میں تو گائے دیکھنے کو بھی نہ ملے گی. پھر تم اس کے تھن پر سیتلا کے جو دانے نکل آتے ہیں ان کی جانچ کیسے کر سکو گے؟ جینر ہنٹر کی بات سے قائل ہو کر گاؤں آ گیا. وقت گزرتا رہا. دھن کا پکا ایڈورڈ برابر تجربات کرتا رہا. بالآخر بیس سال کی لگاتار محنت کے بعد اس نے چیچک کا ٹیکا تیار کر کے دم لیا. پہلے پہل اس نے یہ ٹیکہ آٹھ سال کے ایک بچے پر آزمایا. جس کا بام جیمز فلپس تھا. ایڈورڈ نے لڑکے کو گئوتھن سیتلا کے مواد کا ٹیکہ دیا. پھر ڈیڑھ ماہ بعد چیچک کے مواد کا ٹیکہ دیا. ایڈورڈ کے ان تجربات پر بڑا شور مچا. کہ 'ڈاکٹر جینر ایک معصوم بچے کی زندگی سے کھیل رہا ہے' . 'ڈاکٹر جینر گنواروں کی باتوں میں آ کر سائنس کی توہین کر رہا ہے'. 'ڈاکٹر جینر قدرت کے معاملات میں دخل دے رہا ہے۔' وغیرہ وغیرہ." غرض چاروں جانب سے اعتراضات کی بوچھاڑ تھی. مگر ڈاکٹر کو اپنے تجربے پر پورا بھروسہ تھا. وہ جانتا تھا کہ لڑکے کو چیچک ہر گز نہیں نکل سکتی. اور اس کی پیش گوئی سچ نکلی..... لڑکے کو چیچک نہیں نکلی. ڈاکٹر جینر نے اب ایک ایسے آدمی کو چیچک کے مواد کا ٹیکہ دیا .جس کو اس سے پہلے گئوتھن سیتلا کے مواد کا ٹیکہ نہیں دیا گیا تھا. اس آدمی کو چیچک نکل آئی. ڈاکٹر جینر کا تجربہ کامیاب رہا. اب سارے ملک میں ایڈورڈ کے ٹیکے کی دھوم مچ گئی تھی. برطانیہ کی پارلیمنٹ نے ایڈورڈ کو بیس ہزار پونڈ کا انعام دیا۔ آکسفورڈ نے اسے ڈاکٹری کی اعزازی ڈگری عطا کی. اس کی شہرت ملک سے باہر پہنچی. تو روس کے بادشاہ نے اسے سونے کی انگوٹھی بھیجی. نپولین نے اسے تعریف کا خط لکھا. اور امریکہ سے لوگ ایڈورڈ سے ملاقات کو آئے. اس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں کیونکہ ایڈورڈ نے اپنی ایجاد سے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی جان بچا لی تھی. اس ایجاد سے پہلے ایک سو سال میں یورپ میں چھ کروڑ آدمی چیچک سے مرے تھے. اب یورپ میں ایک آدمی بھی چیچک سے نہیں مرتا. ایڈورڈ سے لوگوں نے کہا اپنا نسخہ کسی کو نہ بتائے. بلکہ اسے خفیہ رکھے. تو گھر بیٹھے سالانہ لاکھوں کماسکتا ہے. مگر ایڈورڈ نے جو جواب دیا.اس نے اسے ہر لحاظ سے ایک عظیم انسان ثابت کر دیا. اس نے کہا " میں ڈاکٹر ہوں .میرا کام لوگوں کی جان بچانا ہے. میں سوداگر نہیں ہوں." چنانچہ اس نے اپنے ٹیکے کا نسخہ اخباروں میں چھاپ دیا. تا کہ دنیا میں ہر جگہ لوگ اس دوا سے فائدہ اٹھا سکیں. اس کے پاس دولت بھی تھی. اور شہرت بھی. مگر اس نے اپنا دیہات میں مطب نہیں چھوڑا. ہر کسی نے کہا لندن چلے جائیں .اب تو آپ مشہور ہو گئے ہیں. وہاں آپ کا مطب خوب چلے گا. مگر ایڈورڈ اس کیلئے بھی نہ مانا اور کہا. '
اردو
1
8
33
7.7K
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
وائرس میں کوئی میٹابولزم نہیں ہوتا۔ بغیر میٹابولزم کے وقت کا احساس اصولاً بھی ممکن نہیں ہے۔ وائرس صرف کچھ جینز اور کچھ پروٹینز پر مشتمل ہوتے ہیں جو لپڈ یعنی چربی کے ایک خول میں مقید ہوتے ہیں۔ وائرس اپنی کاپیاں خود نہیں بنا سکتے، یہ دوسرے خلیوں میں داخل ہو کر ہوسٹ خلیوں کے کاپی بنانے کے میکانزم پر 'قبضہ' کر لیتے ہیں اور اس میکانزم سے اپنی کاپیاں بناتے ہیں۔ وائرس کے مقابلے میں قدرے بڑے جانوروں مثلا مکھی مچھر وغیرہ کے بارے میں ہم قدرے اعتماد سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے دماغ میں نیورونل پراسیسنگ بہت تیز ہوتی ہے، اس لیے انہیں وقت تیزی سے گزرتا محسوس ہوتا ہے اور انہیں انسان سلو موشن میں حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔
اردو
1
0
7
1.6K
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
Do people really think that the human body is perfectly designed? The human body with its S-shaped spine that causes a ton of back problems or its incredibly small pelvis relative to a baby's head making childbirth far more dangerous for humans than it is for other animals. It's throat anatomy that makes it super easy to choke and its eyes that have a literal blind spot where the optic nerve passes through the retina. And its immune system that can fairly easily overreact and attack its own healthy tissues. And its teeth situation where for whatever reason we only get two sets of teeth, one that lasts us for about 10 years and the other that's supposed to last us for 70 plus years, which results in a whole lot of tooth decay and gum disease. That human body? Human body is not perfect. It's good enough. It's good enough to survive and reproduce in our very specific environment. There's lots of things about the human body that don't necessarily have a beneficial purpose because not all evolutionary adaptations are beneficial. Some are neutral and some are deleterious. Some are tradeoffs like the size of the human brain being really good for cognitive abilities but making childbirth a lot harder and more dangerous. And we could theorize about why evolutionary adaptations resulted in babies being born with low vitamin K but the assumption that it's solely a positive adaptation is incredibly flawed thinking. It's very likely just an adaptation that didn't result in too many babies dying. Enough babies survived so there wasn't strong enough selective pressure for a different adaptation to occur. Thankfully though, because of our big brains, humans identified that we could save the babies who were experiencing bleed shortly after birth with a safe and effective shot of vitamin K. So now, even though it wasn't enough babies for evolution in nature to care, those babies who wouldn't have survived vitamin K deficiency bleeding get to survive too.
English
1
0
0
178
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
یار یوٹیوب پر ایک نیا چینل بنا ہے جس پر مسلسل کنٹینٹ یوٹیوب پر اتا ہے عبدالستار صاحب جو ساحل عدیم قیصر احمد راجہ جیسے مداریوں کو ایکسپوز کرتے ہیں مگر اس چینل کے ویوز بہت کم ہیں عبدالستار صاحب صحافی ہیں تحقیق دان ہیں اور کتابوں کے حوالے کے ساتھ بہت مفید معلومات دیتے ہیں اگر اپ کو لگتا ہے کہ ایسے پڑھے لکھے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے تو برائے مہربانی نیچے دیے ہوئے لنک کا چینل شیئر کریں اور سبسکرائب کر لیں شکریہ youtu.be/-ZEWTScgXzY?si…
YouTube video
YouTube
اردو
3
9
41
1.7K
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
سورج میں نیو کلئیر فیوژن کوئی پانچ ارب سال سے جاری ہے. سورج ابھی اتنا عرصہ مزید روشنی دیتا رہے گا. ایٹم بم میں فشن ہوتا ہے نہ کہ فیوژن. فشن اور فیوژن کے فرق کو سمجھیں. سائنسدان نیو کلئیر فیوژن کے ذریعے توانائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں.
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️ tweet media
اردو
0
0
1
208
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
یہ ایک عام تصور ہے کہ دنیا میں لڑکیوں کی شرح پیدائش بڑھ رہی ہے، لیکن سائنسی اور طبی حقائق اس کے تھوڑا برعکس ہیں۔ عالمی سطح پر قدرتی طور پر ہر 100 لڑکیوں کے مقابلے میں تقریباً 105 سے 106 لڑکے پیدا ہوتے ہیں۔ اسے سائنسی زبان میں "Secondary Sex Ratio" کہا جاتا ہے۔ ​اگر کہیں خواتین کی تعداد زیادہ محسوس ہوتی ہے، تو اس کی وجوہات درج ذیل ہیں: ​1. حیاتیاتی بقا (Biological Survival) ​فطرت نے خواتین کے مدافعتی نظام کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنایا ہے۔ ​بیماریاں: لڑکے بچپن میں جینیاتی بیماریوں اور انفیکشنز کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ​اوسط عمر: خواتین کی اوسط عمر (Life Expectancy) مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی عمر کی آبادی میں خواتین کی تعداد زیادہ نظر آتی ہے۔ ​2. تولیدی عمل اور کروموسومز (Chromosomes) ​جنس کا تعین والد کے سپرم (Sperm) سے ہوتا ہے: ​Y-Sperm (لڑکا): یہ تیزی سے حرکت کرتے ہیں لیکن کمزور ہوتے ہیں اور جلد ختم ہو جاتے ہیں۔ ​X-Sperm (لڑکی): یہ سست ہوتے ہیں لیکن زیادہ "سخت جان" ہوتے ہیں اور مادہ کے جسم میں زیادہ دیر تک زندہ رہ کر حمل ٹھہرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ​3. ماحولیاتی دباؤ (Environmental Stress) ​سائنسی تحقیق کے مطابق، جب معاشرہ شدید تناؤ، قحط یا قدرتی آفات کا شکار ہو، تو "نر جنین" (Male Embryo) کے ضائع ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، کیونکہ وہ رحمِ مادر میں مادہ جنین کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتا ہے۔ ​4. جدید طرزِ زندگی اور کیمیکلز ​موجودہ دور میں پلاسٹک اور دیگر اشیاء میں موجود کیمیکلز (Endocrine Disruptors) انسانی ہارمونز پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عوامل سپرم کی کوالٹی کو متاثر کر کے صنفی تناسب میں معمولی تبدیلی لا سکتے ہیں
اردو
0
0
2
332
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
5. جمائی رحمِ مادر میں بھی متعدی ہوتی ہے ایک دلچسپ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ جمائیاں صرف پیدائش کے بعد نہیں بلکہ رحمِ مادر میں بھی “متعدی” (Contagious) ہو سکتی ہیں۔ سائنس دانوں نے حمل کے دوران الٹراساؤنڈ مشاہدات کے ذریعے دیکھا کہ اگر ایک جنین جمائی لیتا ہے تو قریب موجود دوسرا جنین بھی اسی طرح ردعمل ظاہر کر سکتا ہے اور جب حاملہ مائیں جماہی لیتی ہیں، تو ان کے جنین (Fetus) بھی اکثر تھوڑی دیر بعد جماہی لیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس بات کی علامت ہے کہ سماجی رویوں اور اعصابی رابطوں کی ابتدائی بنیادیں انسان کی پیدائش سے پہلے ہی قائم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ محققین اس رجحان کو دماغی ارتقاء، سماجی ہم آہنگی اور جذباتی رابطے کے ابتدائی اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس تحقیق نے انسانی رویوں کی ابتدا کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حوالہ : haaretz.com/science-and-he… 6. 10,000 سے زائد نئے سیاروں کی نشاندہی ماہرین فلکیات نے ناسا کے ٹی ای ایس ایس (TESS) خلائی مشن کے ڈیٹا سے 10 ہزار سے زائد نئے ممکنہ سیاروں کی نشاندہی کی ہے، جو ہماری کہکشاں میں موجود ہو سکتے ہیں۔ محققین نے 8 کروڑ سے زیادہ ستاروں کے روشنی کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا اور مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ کی مدد سے 11,554 ممکنہ سیاروں کی فہرست تیار کی، جن میں سے 10,091 پہلے کبھی دریافت نہیں ہوئے تھے۔ ان میں سے کئی سیارے “ہاٹ جیوپیٹر” جیسے بڑے گیس سیارے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہو سکتے ہیں جہاں زندگی کے لیے سازگار حالات پائے جائیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت سیاروں کی تلاش کے میدان میں ایک غیر معمولی سنگ میل ہے اور مصنوعی ذہانت مستقبل کی فلکیاتی تحقیق میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ حوالہ : earthsky.org/space/10000-ne… 7. پہلے مرد نینڈرتھل جینوم کی نقشہ سازی سائنس دانوں نے پہلی بار ایک نیینڈرتھل مرد کے مکمل جینوم کا تفصیلی نقشہ تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کی باقیات روس کے ایک غار سے ملی تھیں۔ اس سے پہلے صرف خواتین نینڈرتھل کے جینوم دستیاب تھے۔ اس جینیاتی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نینڈرتھل چھوٹے گروہوں میں رہتے تھے اور ان میں جینیاتی تنوع موجودہ انسانوں کے مقابلے میں بہت مختلف تھا۔ اس تحقیق سے قدیم انسانی نسلوں کے ارتقاء، باہمی اختلاط اور جینیاتی تاریخ کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ محققین نے قدیم ہڈیوں سے حاصل شدہ ڈی این اے کا جدید جینیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے تجزیہ کیا اور پایا کہ نیینڈرتھلز اور جدید انسانوں کے درمیان جینیاتی تعلقات پہلے کے اندازوں سے زیادہ پیچیدہ تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ قدیم انسانی آبادیوں کے درمیان مسلسل جینیاتی تبادلہ ہوتا رہا، جس کے اثرات آج بھی جدید انسانوں کے جینز میں موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی انسانی ارتقاء کے مطالعے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ حوالہ : pnas.org/doi/10.1073/pn… 8. جینیاتی کوڈ کی نئی تحریر اور 19 امینو ایسڈز حیاتیاتی انجینئرنگ کے میدان میں سائنس دانوں نے ایک حیران کن تجربے میں بیکٹیریا کو اس طرح تبدیل کر دیا کہ وہ عام 20 کے بجائے صرف 19 امینو ایسڈز کے ساتھ زندہ رہ سکے۔ محققین نے ای کولی بیکٹیریا کے جینیاتی نظام اور رائبوسوم میں تبدیلیاں کر کے “آئیسولیوسین” نامی ایک بنیادی امینو ایسڈ کی ضرورت تقریباً ختم کر دی۔ اگرچہ یہ بیکٹیریا معمول سے سست رفتار سے بڑھتا ہے، لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا کہ زندگی کے بنیادی جینیاتی نظام کو دوبارہ ترتیب دینا ممکن ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ تحقیق مصنوعی حیاتیات، نئے بایو ٹیکنالوجی نظام، اور مستقبل میں مکمل طور پر نئے طرزِ حیات تخلیق کرنے کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے۔ حوالہ : nature.com/articles/d4158… نوٹ: اس پوسٹ کی تیاری میں مصنوعی ذہانت (AI) سے معاونت حاصل کی گئی ہے۔ #sciencenews #scienceinurdu
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️ tweet media
اردو
0
0
1
173
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
اس ہفتے کی سائنسی خبریں پیشکش: تنویر حسین صاحب مورخہ: 7 مئی 2026 1. بیہوشی کے دوران انسانی دماغ کی لسانی صلاحیت عمومی بے ہوشی (جنرل اینستھیزیا) کے دوران دماغ کے کام کرنے سے متعلق نئی تحقیق نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا ہے۔ امریکی محققین نے ایسے مریضوں کے دماغی سگنلز کا مطالعہ کیا جو مرگی کے آپریشن کے دوران مکمل بے ہوشی میں تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگرچہ مریض شعوری طور پر بے خبر تھے، لیکن ان کے دماغ، خاص طور پر “ہپوکیمپس” نامی حصہ، آوازوں اور زبان کو مسلسل پراسیس کر رہے تھے۔ دماغ نہ صرف الفاظ کی پہچان کر رہا تھا بلکہ جملوں کے اگلے ممکنہ الفاظ کی پیش گوئی بھی کر رہا تھا، بالکل اسی طرح جیسے جدید مصنوعی ذہانت کے زبان ماڈلز کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نے یہ بھی دیکھا کہ بے ہوشی کے دوران دماغ میں “نیورل پلاسٹیسٹی” یعنی سیکھنے اور خود کو ڈھالنے کی صلاحیت برقرار رہتی ہے۔ اس دریافت نے اس نظریے کو چیلنج کیا ہے کہ پیچیدہ ادراکی عمل صرف شعور کی حالت میں ہی ممکن ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق مستقبل میں دماغی امراض، یادداشت، زبان کی تفہیم اور برین-کمپیوٹر انٹرفیسز کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ حوالہ : medicalxpress.com/news/2026-05-p… 2. ہلدی کا جزو اور ادویات کے خلاف مزاحم بیکٹیریا ہلدی اور ادرک میں پائے جانے والے ایک قدرتی مرکب 'کرکیومن' (Curcumin) کے بارے میں تحقیق سے امید پیدا ہوئی ہے کہ اسے اینٹی بایوٹک مزاحم بیکٹیریا کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف گیلف کے محققین نے تقریباً چار ہزار حیاتیاتی مرکبات کی جانچ کی اور معلوم کیا کہ “جیرانیل جیرانوئک ایسڈ” (GGA) نامی فیٹی ایسڈ، جو ہلدی اور ادرک میں پایا جاتا ہے، خطرناک بیکٹیریا MRSA کو کمزور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ مرکب بیکٹیریا کو مارنے کے بجائے ان کی جسم سے چپکنے، پھیلنے اور بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ سائنس دانوں نے بتایا کہ روایتی اینٹی بایوٹکس بیکٹیریا پر شدید دباؤ ڈالتی ہیں جس سے مزاحمت بڑھتی ہے، جبکہ یہ نئی حکمت عملی بیکٹیریا کو “غیر مؤثر” بنانے پر مبنی ہے۔ چوہوں پر تجربات میں یہ مرکب جلدی انفیکشن کی شدت کم کرنے اور زخم بننے سے روکنے میں کامیاب رہا۔ ماہرین نے واضح کیا کہ صرف ہلدی یا ادرک کھانے کو علاج نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ ابھی مزید تحقیق اور کلینیکل تجربات درکار ہیں۔ تاہم یہ دریافت اینٹی بایوٹک مزاحمت کے بڑھتے ہوئے عالمی بحران کے خلاف ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ حوالہ : phys.org/news/2026-04-c… 3. وٹامن ڈی اور بریسٹ کینسر کا علاج چھاتی کے کینسر کے مریضوں میں وٹامن ڈی کے استعمال سے کیموتھراپی کے نتائج بہتر ہونے کی خبر نے طبی ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے۔ تحقیق کے مطابق جن مریضوں میں وٹامن ڈی کی سطح بہتر تھی یا جنہیں وٹامن ڈی سپلیمنٹ دیا گیا، ان میں کیموتھراپی کا اثر زیادہ مؤثر دیکھا گیا۔ سائنس دانوں کے مطابق وٹامن ڈی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے، سوزش کم کرنے اور کینسر کے خلیات کی نشوونما محدود کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ بعض مریضوں میں ٹیومر کے سائز میں بہتر کمی اور علاج کے بعد صحت یابی کے امکانات زیادہ دیکھے گئے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگرچہ نتائج امید افزا ہیں، لیکن وٹامن ڈی کو خود سے علاج کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے اور اس حوالے سے مزید وسیع طبی تحقیق کی ضرورت باقی ہے۔ حوالہ : miamiherald.com/living/article… 4. فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ریکارڈ سطح فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ایک نئی تاریخی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے، جسے ماہرین ماحولیات نے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔ ہوائی کے “ماؤنا لوآ آبزرویٹری” سے حاصل کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی اوسط مقدار تقریباً 431 پی پی ایم تک پہنچ گئی۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ اضافہ بنیادی طور پر فوسل فیول کے مسلسل استعمال، جنگلات کی کٹائی اور صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ اگرچہ ہر سال بہار کے موسم میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح عارضی طور پر بڑھتی ہے، لیکن مجموعی رجحان مسلسل اوپر جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق زمین کا ماحول صنعتی انقلاب سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرمی، خشک سالی، سمندری سطح میں اضافہ اور موسمیاتی تباہیاں بڑھ سکتی ہیں۔ حوالہ : scientificamerican.com/article/carbon… #sciencekiduniya2026
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️ tweet media
اردو
0
2
8
520
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
سابقہ سوال و جواب ۱۳۳ عبد السلام سوال ۱۸۸۶: سورج اصل میں آگ کے گولے سے بنا ہے بتایا جاتا ہے پھر یہ بالکل پرفیکٹ گول گول کیوں نظر آتا ہے۔ آگ کے لپٹے تو کبھی کس رخ کبھی کس رخ ہوتے ہیں۔ گول نظر آنے کی وجہ ؟ جواب: اگر ہم سورج کو آگ کا گولہ تسلیم کر بھی لیں اگرچہ یہ زمینی آگ سے مختلف مادہ ہے، تو اس کی سطح سے واقعی آگ کی بڑی لپٹیں نکلتی ہیں جنہیں Solar Flares کہا جاتا ہے۔ یہ لپٹیں اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ بعض اوقات ہماری پوری زمین کے برابر ہوتی ہیں۔ لیکن چونکہ سورج کا اپنا حجم زمین سے 13 لاکھ گنا زیادہ ہے، اس لیے اتنے بڑے حجم کے سامنے یہ زمین جتنی بڑی لپٹیں بھی بہت معمولی محسوس ہوتی ہیں اور دور سے دیکھنے پر سورج کی مجموعی گولائی پر کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اور سورج کی شدید کششِ ثقل ان اٹھنے والی لپٹوں کو زیادہ دیر باہر رہنے نہیں دیتی اور انہیں فوراً واپس سطح کی طرف کھینچ لیتی ہے، جس سے اس کی گول شکل برقرار رہتی ہے۔ سورج کی مجموعی گولائی کی وجہ اس کی شدد کشش ثقل ہے، جس چیز کو آپ سورج کی آگ سمجھ رہے ہیں وہ مادے کی ایک خاص حالت ہے جسے پلازما کہتے ہیں۔ کشش ثقل کا اثر پلازما پر بھی بڑتا ہے &&&&& سوال ۱۸۸۷: میرا سوال ہے جس طرح ماضی میں بےشمار جنگیں ہوتے رہی ہیں بلکہ پوری تاریخ ہی جنگوں سے بھری پڑی ہے اور جس طرح ایک ایک جنگ میں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں انسان مر جاتے تھے اور وہ سب کے سب ہوتے بھی مرد تھے لیکن ان سب کے باوجود بھی دنیا میں کبھی مردوں کی تعداد کم کیوں نہیں ہوئی اس کی کیا وجہ ہے۔ یا مردوں کی پیداوار عورتوں کی نسبت زیادہ ہوتی ؟ جواب: جن ادوار میں جنگیں ہوئیں مرد واقعی میں کم ہو گئے۔ لیکن جب اگلی نسل پیدا ہوتی ہے تو مرد اور عورتیں تقریبا نصف نصف ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے مستقل طور پر زمین پر مردوں کی کمی نہیں رہی۔ جہاں تک پیدائش کی شرح کی بات ہے، پیدائش کی حد تک لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے پانچ فیصد زیادہ پیدا ہوتے ہیں، بعد میں لڑکیوں کی قوت مدافعت کی وجہ سے دونوں کی آبادی تقریبا برابر ہوجاتی ہے۔ یہ بات جدید طبی سہولیات کو نظر انداز کر کے کہی گئی۔ جنگوں کے باوجود آبادی کا متوازن ہونے کی وجہ یہ شرح پیدائش نہیں بلکہ یہ ہے کہ اگر مردوں کی آبادی کم بھی ہوجائے، اگلی نسل میں یہ توازن خودبخود ایڈجسٹ ہوجاتا ہے۔ ویسے ایک اور حیران کن بات نوٹ کی گئی ہے جسے Returning soldier effect کہتے ہیں اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد شامل ممالک میں لڑکوں کی پیدائش کی شرح اچانک بڑھ گئی تھی۔ سائنسدان اسے قدرت کا ایمرجنسی رسپانس کہتے ہیں، جہاں شدید تناؤ کے حالات میں ہارمونز کچھ اس طرح کام کرتے ہیں کہ لڑکے پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں تاکہ مردوں کی کمی کو تیزی سے پورا کیا جا سکے۔ لیکن ابھی سائنسدان اس کی مکمل وجہ نہیں جان سکے &&&&& سوال ۱۸۸۸: ایک دعوی کہ نئی تکنالوجی استعمال کر کے فضا میں بڑے شیشے لگا کر راتوں کا روشن کیا جائے گا جواب: اگر کسی جگہ پر قدرتی رات کے وقت سورج کی روشنی پیدا کی جانے لگے تو اس کا ایکو سسٹم تباہ ہو کر ماحولیات کے شدید مسائل پیدا ہوں گے۔ جانداروں کا کاڈیک رھیتم متاثر ہوگا۔ اس پروجیکٹ کا مقصد سولر فارمز کو رات کے وقت پاور دینا ہے۔ باقی کہیں پر بقدر ضرورت جیسے قدرتی آفات کے وقت روشنی پہنچائی جاسکتی ہے۔ اس طرح کی کرنے کرنے سے پہلے پوری تحقیق کر لینی چاہئے۔ &&&&&& سوال ۱۸۸۹: بکری پودے اور جھاڑیاں شوق سے کھاتی ہے ، اور اس کے دودھ سے جسم کی ساری غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں، مطلب ممکن ہے کہ پودوں اور جھاڑیوں سے انسان کی غذائی ضروریات پوری ہو جاتی ہو جواب: انسان اور بکری کا نظام ہضم مختلف ہوتا ہے۔ مویشیوں کے پیٹ میں بیکٹیریا کی ایک قسم ہوتی ہے جو گھاس پوس میں موجود سیلولوز کو پروٹین میں تبدیل کر سکتی ہے۔ انسانوں میں وہ بیکٹیریا نہیں ہوتے۔ &&&&& سوال ۱۸۹۰: سائنٹیفک میتھڈ میں ہم اج بھی لاجک استعمال کرتے ہیں۔ پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ فلسفہ ختم ہو چکا جواب: لاجک انسان کے سوچنے کا ایک فطری طریقہ ہے، یہ فلسفے کا محتاج نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ فلسفہ لاجک کو باقاعدہ ایک ڈسپلین کے طور پر ڈیفائن کرتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لاجک استعمال کرنے کے لئے فلسفہ ضروری ہے۔ ویسے کوئی نہیں کہتا کہ فلسفہ ختم ہوچکا ہے۔ البتہ میٹافزکس کے بڑے حصے پر جدید سائنس مداخلت کر چکی ہے۔ موجودہ کوسمولوجی، آنٹولوجی اور کسی حد تک ٹیلیولوجی پر جدید سائنس کی عملداری ہے
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️ tweet media
اردو
0
2
7
1.3K
Exposing ignorance لاعلمی بے نقاب✍️
یہ دو مشہور سائنسدان نوجوان نسل کو فزکس پڑھا رہے ہیں ماشاءاللہ چاند ٹوٹا اور پھر جوڑا کیسے قیصر راجہ اور ساحل عدیم سے پوچھ لو بھائی۔ آپ کو پی ایچ ڈی، چالیس سال ریسرچ، ساری عمر کوائنٹم پر کام کر کے، کتابیں لکھ کر اور کوائنٹم کی بڑی بڑی تھیوریاں اور تھیورم دے کر بھی نہیں پتا اور ہمارے ان شہزادوں نے ایم اے اسلامیات، منہ ٹیڑھا کر کے آئیلٹس اور پرائیویٹ ایم بی کر کے کوانٹم بلیک ہول پر مہارت حاصل کر لی ہے۔ پھر لوگ کہتے ہیں پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی ہے۔ ٹیلنٹ کی کمی تو باقی ممالک میں ہے نکمے بیٹھے ہیں اتنی تعلیم اور تجربے کے بعد بھی کچھ نہیں پتا۔
اردو
71
53
265
36.6K