
Imran Shafique
1.5K posts

Imran Shafique
@imran_adv
Advocate Supreme Court; Politician; Expert on Human Rights & White Collar Crimes; Ex-Special Prosecutor NAB





ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ھادی چٹھہ کیخلاف پیکا قانون کے تحت جج مجوکہ کی عدالت میں ملزمان کی عدم موجودگی میں سرکاری گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کیخلاف کل صبح اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اعظم خان کی عدالت میں اپیل کی سماعت ہو گی۔ اس سے پہلے ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ھادی نے خود پر فردِ جرم عائد کئیے جانے کیخلاف بھی اپیل دائر کی گئی تھی جس پر جسٹس انعام امین منہاس کے علیل ہونے کے باعث سماعت نہ ہو سکی تھی۔ جیو ٹی وی نے بھی دونوں وکلا کیخلاف ٹرائل کی شفافیت پر متعلق سوال اُٹھا دئیے۔

شاہزیب خانزادہ کے بارے میں تو میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ ان سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے مگر۔۔۔ شاہزیب خانزادہ کے پروگرام کا مستقل ناظر ہوں اور ان سے اختلاف کرنا مشکل ہوتا ہے۔ شاہزیب اپنے ادارے کے شاید وہ واحد صحافی ہیں جنہوں نے جیو اور جنگ گروپ کے مکمل طور پر فوج کا “اے آر وائی” بن جانے کے فیصلے کے بعد بھی ممکن حد تک غیر جانبداری کو برقرار رکھا۔ مسلسل ن لیگ پر تنقید ہی نہیں کی، ان کی بڑی بڑی وارداتوں کا جواب لیتے ہوئے شریف فیملی کو لاجواب کر دیا۔ ایسے میں جب باقی اینکرز شریف فیملی کی غلط کاریوں کے بارے میں صرف تبصرے اور سخت الفاظ استعمال کرتے تھے، شاہزیب نے جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے فنانشیل اسکینڈل پر سلمان شہباز کو ساری دنیا کے سامنے ایکسپوز کر دیا۔ اس کے علاوہ بھی ن لیگی قیادت کی کرپشن کو ایکسپوز کرنے کی بیسیوں مثالیں ہیں۔ فوج کی سیاست، کاروبار اور گورننس میں مداخلت پر بھی وہ ایک وقت تک بلاواسطہ تنقیدی فقرے بولتے رہے۔ باقی صحافی اور اینکرز اپنے مین اسٹریم میڈیا پروگرامز میں یہ بھی نہ کر سکے۔ پی ٹی آئی کے فوج سے رومانوی تعلقات رکھنے کے بارے میں دہرے معیار کو عیاں کرنا یقیناً ضروری ہی نہیں، ہر صحافی کی صحافتی ذمہ داری بھی ہے۔ یہی شائزیب نے بھی کیا۔ مسلسل پروگرام دیکھتے رہنے کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ شاہزیب نے پی ٹی آئی کے ہر معاملے پر مؤقف کو بھی باقی اینکرز سے زیادہ وقت دیا۔پی ٹی آئی کی یہ خواہش ہی غلط ہے کہ ہر صحافی گلے میں ڈھول اور پاؤں میں گھنگھرو ڈال کر پی ٹی آئی کی بولی بولنا شروع کر دے۔ ایک آدھ غلط فیصلہ ہر انسان سے ہو جاتا ہے مگر شاہزیب نے اپنے باقی کولیکس کی طرح کبھی بھی دن رات ثنا خوانی اور فوجی جرنیلوں کی پرستش نہیں کی۔ سخت زبان کا استعمال اور یا آرمی چیف کی ایکسٹنشن پر مختلف نقطہ نظر رکھنے والوں پر طنز کے تیر نہیں چلائے۔ شاہزیب خانزادہ اور ان کے گھر کی خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے رنجیدہ کر دیا۔ جو بھی لوگ دوسروں کی فیمیلیز اور خواتین کی ہراسانی میں ملوث ہیں انہیں نشان عبرت بنا دیا جانا چاہیے۔ شرم آنی چاہیے پی ٹی آئی والوں کو لوگوں کی فیمیلیز کو ہراساں کرتے ہوئے۔ اگر طاقتور فوجی جرنیلوں کو جواب نہیں دے سکتے تو عام لوگوں اور صحافیوں پر حملہ کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا۔ شاہزیب کو مضبوط رہنا چاہیے اور اپنا زبردست صحافتی کام جاری رکھنا چاہیے۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے لیے تین بینچ تشکیل دے دیے! بینچ 1 چیف جسٹس امین الدین خان جسٹس علی باقی نجفی،جسٹس ارشد حسین شامل! بینچ 2 جسٹس حسن رضوی جسٹس کے کے آغا شامل ہیں جبکہ بینچ 3 جسٹس عامر فاروق جسٹس روزی خان بریچ شامل ہوں گے! آئینی عدالت آج سے مقدمات کی سماعت کا آغاز کرے گی

وفاقی آئینی عدالت میں بطور جج تعیناتی میں ایک غیر معروف نام ارشد حسین شاہ کا بھی سامنے آگیا

ارشد شریف کی مرحومہ والدہ نے انصاف کے حصول کی خاطر یہ وقت بھی دیکھا جب کوئی وکیل ان کے کیس کی پیروی کو تیار نہیں تھا سب ڈر گئے تھے پھر جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے یہ حامی بھری اور پھر وہ سپریم کورٹ کے سامنے وکالت کرتے رہے ان کے چیئرمین این آئی آر سی بننے کے بعد ایڈوکیٹ عمران شفیق کیس کی پیروی کرتے رہے








