The Daily Milap

49K posts

The Daily Milap banner
The Daily Milap

The Daily Milap

@TheDailyMilap

India’s Oldest & Largest Combined Circulated Urdu Daily. Bridging divides & forging unity since 1923.

New Delhi, India Se unió Eylül 2021
565 Siguiendo32.3K Seguidores
Tweet fijado
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
ہم اپنے قارئین اور میلاپ کی ٹیم کے ہر رکن کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری قوم کی خدمت میں ہماری مدد کی۔ آج، جب ہم 100 سال مکمل کرتے ہیں تو ہم اپنے بانی اصولوں کو برقرار رکھنے اور اخلاقیات اور اقدار پر قائم رہنے کا عہد کرتے ہیں۔ @MilapNN @SuriNavin @RenuSuri15 @SureshRaiDhima1 @rishi_suri @tara_milap @ramesh_milap @mohamma61141631 @ZUBI_26 @AltafHussainKh1 @JavedShah_13 @Tabassumaziz11 @MIB_India
The Daily Milap tweet media
اردو
5
11
47
42.9K
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
پاکستان کے صوبے دنیا کے غریب ترین ممالک سے بھی پیچھے، رپورٹ میں تشویشناک تصویر اسلام آباد: ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے کئی صوبوں اور علاقوں کی سماجی و معاشی صورتحال دنیا کے بعض غریب ترین ممالک سے بھی بدتر ہے۔ رپورٹ کے مطابق غربت، کم تعلیمی شرح، صحت کی ناقص سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی کمی نے ملک کے مختلف حصوں میں ترقی کی رفتار کو شدید متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں بلوچستان کو سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ قرار دیا گیا ہے، جہاں غربت کی شرح تقریباً 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق صوبے کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود مقامی آبادی کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات تک مناسب رسائی حاصل نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور سندھ کے بعض اضلاع بھی انسانی ترقی کے اشاریوں میں شدید پسماندگی کا شکار ہیں۔ کئی علاقوں میں بچوں کی غذائی قلت، کم شرح خواندگی اور بنیادی صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹیں بنی ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں علاقائی عدم مساوات مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بڑے شہری مراکز اور بعض ترقی یافتہ اضلاع کے مقابلے میں دور دراز علاقوں میں عوام کو بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث معاشی اور سماجی فرق مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری ناگزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ان مسائل پر فوری توجہ نہ دی گئی تو ملک کے پسماندہ علاقوں اور ترقی یافتہ حصوں کے درمیان فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ انسانی ترقی کے اشاریے کسی بھی ملک کی حقیقی معاشی حالت کا اہم پیمانہ ہوتے ہیں، اور پاکستان کے کئی علاقوں کی موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اقتصادی چیلنجز کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ #Pakistan #Poverty
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
28
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
نیپال کے ضلع ہُملا میں نیپال-بھارت میتری اسپتال کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا کٹھمنڈو: نیپال کے دور دراز پہاڑی ضلع ہُملا میں نیپال-بھارت میتری اسپتال کے قیام کے لیے سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو بھارت کی مالی معاونت سے تعمیر کیا جائے گا اور اس کا مقصد علاقے کے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ تقریب میں نیپال اور بھارت کے حکام نے شرکت کی اور اسے دونوں ممالک کے درمیان ترقیاتی تعاون اور عوامی روابط کی ایک اہم مثال قرار دیا۔ حکام کے مطابق اسپتال کی تعمیر سے ہُملا اور آس پاس کے علاقوں کے ہزاروں افراد کو معیاری طبی خدمات تک رسائی حاصل ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ بھارت کی ہائی امپیکٹ کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس (HICDPs) کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ بھارت گزشتہ کئی برسوں سے نیپال میں صحت، تعلیم، سڑکوں، ثقافت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کی معاونت کرتا رہا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ صحت کے شعبے میں یہ سرمایہ کاری مقامی آبادی کی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کرے گی اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط بنائے گی۔ مبصرین کے مطابق ہُملا جیسے دور افتادہ اور دشوار گزار علاقے میں جدید طبی سہولت کا قیام نہ صرف صحت کے نظام کو بہتر بنائے گا بلکہ مقامی باشندوں کو علاج کے لیے دور دراز شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔ نیپال اور بھارت کے درمیان ترقیاتی شراکت داری کے تحت اب تک درجنوں کمیونٹی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جن کا مقصد مقامی سطح پر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سماجی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ #India #Nepal @IndiaInNepal
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
14
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
چناب-بیاس دریا لنک منصوبہ اور سندھ طاس معاہدے پر اس کے ممکنہ اثرات نئی دہلی: بھارت میں چناب اور بیاس دریاؤں کو جوڑنے کے مجوزہ منصوبے کو آبی وسائل کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد چناب کے اضافی پانی کو راوی-بیاس-ستلج نظام کی جانب منتقل کرنا اور ملک کے مختلف حصوں میں آبی وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت ایک طویل نہری نظام پر غور کیا جا رہا ہے جو جموں و کشمیر سے پانی کو پنجاب، ہریانہ اور راجستھان تک پہنچانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بھارت کو اپنے حصے کے پانی کے زیادہ مؤثر استعمال کا موقع ملے گا اور پانی کی قلت والے علاقوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے مستقبل پر بحث جاری ہے۔ بھارت نے 2025 میں معاہدے کو مؤثر طور پر معطل کرنے کے بعد چناب، جہلم اور سندھ کے نظام پر متعدد آبی و پن بجلی منصوبوں کی رفتار تیز کر دی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر چناب کے پانی کا بڑا حصہ داخلی استعمال کے لیے منتقل کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں پاکستان کو دستیاب پانی کی مقدار پر اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کی زراعت اور آبپاشی کا بڑا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے۔ بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک اپنے آبی وسائل کے مؤثر استعمال اور قومی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں مرکزی وزیرِ جل شکتی سی آر پاٹل نے بھی کہا تھا کہ حکومت سندھ طاس نظام کے پانی کے زیادہ سے زیادہ قومی استعمال کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق چناب-بیاس لنک منصوبہ صرف ایک آبی منصوبہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں پانی، توانائی اور علاقائی سیاست کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف بھارت کے آبی انتظام پر بلکہ خطے میں پانی کی سیاست اور سندھ طاس معاہدے کے مستقبل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ #India #Pakistan #IndusWatersTreaty
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
13
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت میں فلیکسی آفس اسپیس 10 کروڑ مربع فٹ سے تجاوز کر گئی، جی سی سی کی طلب سے ریکارڈ ترقی نئی دہلی: بھارت میں فلیکسی آفس اسپیس (Flexible Office Space) کا مجموعی رقبہ پہلی بار 10 کروڑ مربع فٹ سے تجاوز کر گیا ہے، جس کی بڑی وجہ عالمی کمپنیوں کے گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز (GCCs) کی بڑھتی ہوئی طلب بتائی جا رہی ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق فلیکسی ورک اسپیس سیکٹر نے گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی ترقی ریکارڈ کی ہے اور اب یہ بھارت کے کمرشل رئیل اسٹیٹ شعبے کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی کمپنیاں لاگت میں کمی، افرادی قوت تک رسائی اور آپریشنل لچک کے باعث بھارت میں اپنے گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز تیزی سے قائم کر رہی ہیں، جس سے فلیکسی آفس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بنگلورو، حیدرآباد، پونے، چنئی، ممبئی اور گڑگاؤں جیسے بڑے کاروباری مراکز اس ترقی کے اہم محرک بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فلیکسی اسپیس ماڈل اب صرف اسٹارٹ اپس تک محدود نہیں رہا بلکہ بڑی بین الاقوامی کمپنیاں بھی ہائبرڈ ورک ماڈلز کے تحت اس طرز کے دفاتر کو ترجیح دے رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی سی سی سیکٹر کی توسیع نے فلیکسی آفس مارکیٹ کو نئی رفتار دی ہے اور آئندہ چند برسوں میں اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور توسیع متوقع ہے۔ بھارت اس وقت دنیا کے اہم جی سی سی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور متعدد عالمی ادارے اپنے ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، مالیاتی اور بیک آفس آپریشنز یہاں منتقل کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان افرادی قوت، مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مسابقتی لاگت بھارت کو عالمی کمپنیوں کے لیے پرکشش بناتی ہے، جبکہ فلیکسی آفس اسپیس کی مسلسل بڑھتی ہوئی طلب ملک کے کمرشل رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔ #India #GlobalCapabilityCentres
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
15
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
جاپانی سرمایہ کار چین سے آگے دیکھ رہے ہیں، بھارت اہم متبادل بن کر ابھر رہا ہے: نومورا نئی دہلی: جاپان کے معروف مالیاتی ادارے نومورا کے سینئر منیجنگ ڈائریکٹر اور گلوبل ہیڈ آف انویسٹمنٹ بینکنگ تسوتومو تاکیمورا نے کہا ہے کہ جاپانی سرمایہ کار اب چین پر انحصار کم کرتے ہوئے بھارت کو ایک اہم متبادل اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت اب محض ایک قلیل مدتی موقع نہیں بلکہ ایک مضبوط ساختی سرمایہ کاری کی کہانی بن چکا ہے۔ تاکیمورا نے کہا کہ عالمی سرمایہ تیزی سے ان منڈیوں کا رخ کر رہا ہے جہاں مضبوط گھریلو طلب، پالیسیوں کا تسلسل اور سپلائی چین میں اہم کردار موجود ہو، اور بھارت ان تینوں شعبوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی معاشی بنیادیں، نوجوان آبادی اور اصلاحات پر مبنی حکومتی اقدامات اسے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی کمپنیوں کی دلچسپی خاص طور پر مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جدید صنعتی شعبوں میں بڑھ رہی ہے۔ عالمی سپلائی چین کی نئی ترتیب اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے باعث متعدد کمپنیاں اپنے سرمایہ کاری کے مراکز کو متنوع بنا رہی ہیں، جس سے بھارت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ تاکیمورا کے مطابق بھارت اور جاپان کے درمیان اقتصادی تعاون میں مزید وسعت کی گنجائش موجود ہے اور آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بین الاقوامی سرمایہ کار اس امکان کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارت کی طویل مدتی ترقی کی صلاحیت، مستحکم پالیسی ماحول اور بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت اسے جاپانی سرمایہ کاروں کے لیے ایک ترجیحی منزل بنا رہی ہے۔ #Japan #India @JapaninIndia
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
11
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
کشمیر کا بھوت، جو کبھی بھارت کے خلاف استعمال کیا گیا، اب پاکستان کا تعاقب کر رہا ہے: فرسٹ پوسٹ نئی دہلی: ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کا وہ بیانیہ جسے پاکستان نے دہائیوں تک بھارت کے خلاف سفارتی اور سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، آج خود پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ مضمون کے مطابق پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں حالیہ عوامی احتجاج، ہڑتالیں اور حکومتی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مقامی آبادی اب اپنے سیاسی اور شہری حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں حالیہ جھڑپوں، ہلاکتوں، گرفتاریوں اور احتجاجی تحریکوں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے سیاسی نمائندگی اور انتخابی نشستوں کے معاملے پر احتجاج کیا جا رہا ہے، جبکہ حکام نے تنظیم پر پابندی عائد کر دی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ تجزیے کے مطابق پاکستان طویل عرصے سے کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرتا رہا ہے، تاہم اب پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں عوامی بے چینی اور حقوق سے متعلق مطالبات نے توجہ کا رخ خود پاکستان کی پالیسیوں کی جانب موڑ دیا ہے۔ مختلف انسانی حقوق تنظیموں نے بھی حالیہ کریک ڈاؤن، انٹرنیٹ معطلی، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مضمون میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر عوامی مطالبات کو سیاسی مکالمے اور جمہوری عمل کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو خطے میں بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔ مصنف کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ کشمیر سے متعلق وہ سوالات جو پاکستان برسوں تک بھارت کے خلاف اٹھاتا رہا، اب خود اس کے زیر انتظام علاقوں میں بھی شدت سے سامنے آ رہے ہیں۔ مضمون کے مطابق حالیہ واقعات نے کشمیر کے بارے میں پاکستان کے روایتی بیانیے کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے، جہاں توجہ اب بیرونی الزامات کے بجائے مقامی عوام کے حقوق، نمائندگی اور طرزِ حکمرانی کے مسائل پر مرکوز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ #Kashmir #India #PoK #PoJK #Pakistan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
22
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
میلبورن میں مودی کے استقبال کی تیاریاں عروج پر، 26 ہزار سے زائد افراد کی رجسٹریشن میلبورن: آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں بھارتی وزیر اعظم Narendra Modi کے متوقع دورے کے موقع پر منعقد ہونے والی ’’میلبورن میٹس مودی‘‘ تقریب کے لیے زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تقریب میں شرکت کے لیے تقریباً 26 ہزار افراد پہلے ہی رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میلبورن کے مشہور اسٹیڈیم Marvel Stadium کو تقریب کے لیے ترجیحی مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ بھارتی اور آسٹریلوی حکام کی جانب سے سیکیورٹی اور انتظامی جائزوں کے بعد اس مقام کو موزوں قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریب 9 جولائی کی شام منعقد کیے جانے کا امکان ہے، اگرچہ حتمی اعلان آسٹریلوی اور بھارتی حکام مشترکہ طور پر کریں گے۔ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جون مقرر کی گئی ہے اور منتظمین کے مطابق رجسٹریشن کرانے سے شرکت کی ضمانت نہیں ملتی کیونکہ حاضری کا انحصار سیکیورٹی منظوریوں اور نشستوں کی دستیابی پر ہوگا۔ توقع ہے کہ اس تقریب میں آسٹریلیا بھر سے بھارتی نژاد برادری، کاروباری شخصیات، طلبہ، پیشہ ور افراد اور مختلف سماجی و ثقافتی تنظیموں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ مبصرین کے مطابق یہ تقریب 2023 میں سڈنی میں منعقد ہونے والے مودی کے تاریخی کمیونٹی استقبالیے کے بعد آسٹریلیا میں بھارتی برادری کا سب سے بڑا اجتماع ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت متوقع ہے جب بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تجارت، تعلیم، دفاع، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے، جبکہ میلبورن میں بڑی بھارتی برادری کی موجودگی اس تقریب کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ #India #Australia @PMOIndia @narendramodi یہ خبر دی آسٹریلیا ٹوڈے کی ایک خبر پر مبنی ہے۔ @TheAusToday
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
26
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
جام نگر میں 168 میگاواٹ کا اے آئی ڈیٹا سینٹر قائم ہوگا، ریلائنس اور میٹا میں شراکت داری نئی دہلی: ریلائنس انڈسٹریز اور میٹا پلیٹ فارمز نے گجرات کے شہر جام نگر میں 168 میگاواٹ صلاحیت کے اے آئی (مصنوعی ذہانت) سے لیس ڈیٹا سینٹر کے قیام کے لیے شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ یہ میٹا کا بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا ’’بلٹ ٹو سوٹ‘‘ ڈیٹا سینٹر ہوگا، جس کی گنجائش میٹا لیز پر حاصل کرے گا۔ رپورٹس کے مطابق ریلائنس اس منصوبے کی ڈیزائننگ، تعمیر اور آپریشن سمیت مکمل ذمہ داری سنبھالے گا۔ منصوبے کو آئندہ دو برس میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ مستقبل میں اس کی صلاحیت مزید بڑھانے کا آپشن بھی موجود ہوگا۔ یہ منصوبہ بھارت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جام نگر کا مقام بجلی، پانی اور بنیادی ڈھانچے کی دستیابی کے باعث بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ میٹا اور ریلائنس کے درمیان یہ شراکت داری دونوں کمپنیوں کے پہلے سے موجود تعاون کو مزید وسعت دے گی، جس میں ڈیجیٹل رابطہ کاری، تجارت اور اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے بھارت کی عالمی اے آئی انفراسٹرکچر کے مرکز کے طور پر ابھرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی اور ملک میں جدید ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ #Reliance #Meta #Jamnagar #Gujarat #India @RIL_Updates @Meta
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
12
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
آسام میں ’کنسرٹ اکانومی‘ سے 700 کروڑ روپے کی معاشی سرگرمی کا ہدف گوہاٹی: آسام حکومت نے ریاست میں موسیقی اور تفریحی تقریبات کے فروغ کے ذریعے ’’کنسرٹ اکانومی‘‘ کو نئی معاشی قوت کے طور پر فروغ دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ حکام کے مطابق بڑے پیمانے پر منعقد ہونے والے موسیقی کے پروگرام، ثقافتی تقریبات اور لائیو شوز ریاستی معیشت میں تقریباً 700 کروڑ روپے کی اضافی سرگرمی پیدا کر سکتے ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ Himanta Biswa Sarma نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ریاست نے قومی اور بین الاقوامی سطح کے کئی بڑے ثقافتی اور موسیقی پروگراموں کی میزبانی کی ہے، جس کے نتیجے میں سیاحت، ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، خوراک اور مقامی کاروباروں کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بڑے کنسرٹس صرف تفریح تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ مقامی معیشت میں سرمایہ، روزگار اور سیاحوں کی آمد کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ ان تقریبات کے دوران ہوٹلوں کی بکنگ، مقامی نقل و حمل، ریستورانوں اور چھوٹے کاروباروں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ حکام کے مطابق آسام خود کو شمال مشرقی بھارت کے ایک بڑے ثقافتی اور تفریحی مرکز کے طور پر متعارف کرانا چاہتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت عالمی معیار کے ایونٹس، بہتر بنیادی ڈھانچے اور نجی شعبے کی شراکت داری پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریاست مسلسل بڑے ثقافتی اور موسیقی پروگراموں کی میزبانی جاری رکھتی ہے تو اس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ آسام کی برانڈنگ، سرمایہ کاری اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔ #Assam #India #Concerts @himantabiswa
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
7
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت عالمی ٹیکنالوجی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے، امریکہ اور چین کو الیکٹرانکس برآمدات میں اضافہ نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ بھارت تیزی سے عالمی ٹیکنالوجی ویلیو چین کا ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بن کر ابھر رہا ہے اور اب امریکہ، چین سمیت دنیا کے کئی بڑے ممالک کو جدید الیکٹرانک مصنوعات برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2025 میں اسمارٹ فونز بھارت کی سب سے بڑی برآمدی مصنوعات بن گئے اور ان کی برآمدات تقریباً 30 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ان کے مطابق الیکٹرانکس ملک کی تیسری بڑی برآمدی صنعت بن چکی ہے جبکہ موبائل فون واحد سب سے بڑی برآمدی شے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اشونی ویشنو نے بتایا کہ گزشتہ سال بھارت نے تقریباً 35 ہزار کروڑ روپے مالیت کے الیکٹرانک پرزہ جات چین کو برآمد کیے۔ اس کے علاوہ ریلوے پروپلشن جیسے پیچیدہ الیکٹرانک نظام فرانس، جرمنی، اٹلی اور امریکہ کو بھی برآمد کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب صرف تیار مصنوعات ہی نہیں بلکہ الیکٹرانک اجزاء، سیمی کنڈکٹرز اور متعلقہ آلات کی تیاری کی جانب بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حکومت کی توجہ سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، چپ سازی کے آلات اور اس صنعت کے لیے درکار جدید کیمیکلز اور گیسوں کی مقامی پیداوار پر مرکوز ہے۔ وزیر نے کہا کہ بھارت نے سیمی کنڈکٹر شعبے کو طویل مدتی وژن کے تحت فروغ دیا ہے اور اب ملک میں انجینئرنگ کے طلبہ جدید ترین چپ ڈیزائن ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، جس سے مستقبل میں بھارت کی عالمی ٹیکنالوجی سپلائی چین میں اہمیت مزید بڑھے گی۔ ان کے مطابق الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر صنعت میں ہونے والی پیش رفت نے بھارت کو ایک ایسے ملک کے طور پر متعارف کرایا ہے جو اعلیٰ معیار، قابلِ اعتماد اور محفوظ ٹیکنالوجی مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ #India #Tech @AshwiniVaishnaw
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
11
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
کینیڈین سینیٹ میں گلشن عباس کی رہائی کے مطالبے کا خیرمقدم، چین پر دباؤ بڑھانے کی اپیل واشنگٹن: ایغور حقوق کے لیے سرگرم تنظیم “کمپین فار ایغورز” (CFU) نے کینیڈین سینیٹ میں پیش کی گئی اس قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے جس میں چین سے ڈاکٹر گلشن عباس کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ قرارداد کینیڈین سینیٹر Leo Housakos کی جانب سے پیش کی گئی۔ تنظیم کے مطابق ڈاکٹر گلشن عباس، جو ایک ریٹائرڈ طبی ماہر اور ایغور کارکن Rushan Abbas کی بہن ہیں، 2018 سے چینی حکام کی حراست میں ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے وقت میں حراست میں لیا گیا جب ان کی بہن نے بین الاقوامی سطح پر ایغور مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے آواز اٹھائی تھی۔ کینیڈین سینیٹ میں پیش کی گئی قرارداد میں حکومتِ کینیڈا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ چین سے ڈاکٹر گلشن عباس کی فوری رہائی اور ان کی صحت و قانونی حیثیت کے بارے میں قابلِ تصدیق معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کرے۔ سی ایف یو نے کہا کہ ڈاکٹر گلشن عباس کی 64ویں سالگرہ کے موقع پر یہ اقدام خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ مسلسل آٹھویں سال اپنی سالگرہ حراست میں گزار رہی ہیں۔ تنظیم نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی رہائی کے لیے آواز بلند کرے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرے۔ تنظیم کے مطابق اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے آربٹریری ڈیٹینشن نے بھی ماضی میں ڈاکٹر گلشن عباس کی حراست کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا تھا۔ سی ایف یو کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ ایغور مسلمانوں کے خلاف جاری مبینہ جبر اور سرحدوں سے ماورا دباؤ کی ایک مثال ہے۔ #Canada #China #Xinjiang #EastTurkistan #UyghurGenocide @CUyghurs @RushanAbbas
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
22
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
گلگت بلتستان اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے بانی کا پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کرنے کا مطالبہ واشنگٹن: گلگت بلتستان اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے بانی سنگے سیرنگ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں اٹھائے اور وہاں رہنے والے بھارتی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانونی اقدامات کرے۔ سنگے سیرنگ نے کہا کہ پاکستان کے زیر قبضہ علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے اور مقامی آبادی کو مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق مظفرآباد، میرپور، راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں شہری آزادیوں، بنیادی حقوق اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغنوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ احتجاجی تحریکوں کے دوران متعدد افراد ہلاک ہوئے جبکہ بعض متاثرہ خاندان اب بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ سیرنگ نے مبینہ جبری گمشدگیوں، طبی سہولیات تک محدود رسائی اور شہریوں پر دباؤ کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ سنگے سیرنگ نے بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کا نوٹس لیں اور متاثرہ افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کے پرامن اور قانونی حل کے لیے عالمی سطح پر توجہ اور کارروائی کی ضرورت ہے۔ بھارت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام علاقے، بشمول گلگت بلتستان، اس کا اٹوٹ انگ ہیں اور ان علاقوں میں انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں سے متعلق معاملات پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ #gilgitbaltistan #Pakistan #PoGB #PoK #PoJK @SeringSenge
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
30
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں کشیدگی برقرار، کارکنوں کی لاشیں واپس نہ کرنے کا الزام مظفرآباد: پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری بے چینی اور احتجاجی تحریک کے دوران حکام پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے بعض کارکنوں کی لاشیں تاحال ان کے اہل خانہ کے حوالے نہیں کی گئیں، جس کے باعث عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ احتجاجی مظاہروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم میں مارے گئے کارکنوں کی لاشوں کی واپسی ان کے اہم مطالبات میں شامل ہے۔ تنظیم نے گرفتار کارکنوں کی رہائی اور اس پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں احتجاج اور شٹر ڈاؤن کئی روز تک جاری رہا، جبکہ انٹرنیٹ اور مواصلاتی پابندیوں کے باوجود ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی حقوق، نمائندگی اور شہری آزادیوں سے متعلق ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیم نے احتجاجی تحریک کو دہشت گرد قرار دینے، انٹرنیٹ معطلی، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال کو انسانی حقوق کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکام سے تحمل اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کو مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ #PoK #PoJK #AJK #AzadKashmir #Pakistan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
31
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
کوئٹہ اسپتال میں سیکیورٹی ناکامی پر شدید ردعمل، ڈاکٹروں کا انصاف اور تحفظ کا مطالبہ کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول اسپتال میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کے واقعے کے بعد سیکیورٹی انتظامات پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس واقعے نے طبی برادری میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور ڈاکٹروں نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اسپتالوں میں مؤثر سیکیورٹی کے مطالبے کے لیے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر سول اسپتال کوئٹہ میں دورانِ ڈیوٹی تیزاب پھینکا گیا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے اسے سیکیورٹی کی سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے سرکاری اسپتالوں میں احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طبی عملے کو محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت اور اسپتال انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، جبکہ ایسے واقعات صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے خوف اور عدم تحفظ پیدا کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں اور طبی تنظیموں نے واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور اسپتالوں میں سیکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی حفاظت کو یقینی بنائے بغیر عوام کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس واقعے نے پاکستان میں طبی عملے، بالخصوص خواتین ڈاکٹروں کی حفاظت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ مختلف حلقے صحت کے مراکز میں بہتر حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ #Quetta #Balochistan #Pakistan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
24
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بلوچستان غربت کی دلدل میں دھنس گیا، پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید کوئٹہ: پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں غربت کی شرح ملک میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں تقریباً نصف آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق بلوچستان میں غربت کی شرح 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو قومی اوسط 28.9 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق صوبے میں طویل عرصے سے انتظامی غفلت، بنیادی ڈھانچے کی کمی، محدود صنعتی ترقی اور بے روزگاری نے معاشی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت پر پابندیوں اور رکاوٹوں نے بھی ہزاروں خاندانوں کی آمدنی کو متاثر کیا ہے، جو روایتی طور پر سرحد پار چھوٹے پیمانے کی تجارت پر انحصار کرتے تھے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عوام کو صحت، تعلیم اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزگار کے محدود مواقع نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مقامی آبادی کی جانب سے روزگار، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی حقوق کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حالیہ واقعات نے معاشی بحران کے انسانی اثرات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں مالی مشکلات اور بے روزگاری سے تنگ آکر ایک شخص کی جانب سے خودکشی کی کوشش کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ کوئٹہ میں ایک نوجوان گریجویٹ نے ملازمتوں کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاجاً اپنی تعلیمی اسناد نذرِ آتش کر دیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، بنیادی خدمات بہتر بنانے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو صوبے میں غربت اور معاشی بدحالی مزید بڑھ سکتی ہے۔ #Balochistan #Pakistan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
25
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
اے ٹی وی کے کی پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن کی مذمت سری نگر: پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں حالیہ کریک ڈاؤن اور مظاہرین کے خلاف کارروائیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ تنظیم اے ٹی وی کے (ATVK) نے علاقے میں طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اے ٹی وی کے کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پرامن احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں پیش آنے والے واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ احتجاجی تحریک کے دوران متعدد شہروں میں ہڑتالیں، مظاہرے اور عوامی اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں سیاسی نمائندگی، شہری حقوق اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔ احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عوام کے مطالبات کو سننے کے بجائے طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اے ٹی وی کے نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ صورتحال کا نوٹس لیں اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ #PoK #PoJK #AJK #AzadKashmir #Pakistan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
16
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
تائیوان کے گرد چینی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ، 6 جنگی طیارے اور 8 بحری جہازوں کی موجودگی کا سراغ تائی پے: تائیوان کی وزارتِ قومی دفاع نے کہا ہے کہ اس نے اپنے اطراف چینی فوج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے دوران 6 پی ایل اے (PLA) جنگی طیاروں اور 8 پی ایل اے نیوی (PLAN) بحری جہازوں کی موجودگی کا سراغ لگایا ہے۔ تائیوانی حکام کے مطابق یہ سرگرمیاں مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے تک ریکارڈ کی گئیں اور مسلح افواج نے صورتحال پر کڑی نظر رکھتے ہوئے مناسب ردعمل دیا۔ تائیوانی وزارتِ دفاع کے مطابق چینی طیاروں اور بحری جہازوں کی ایسی نقل و حرکت حالیہ مہینوں میں مسلسل دیکھی جا رہی ہے، جسے تائی پے خطے میں دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتا ہے۔ تائیوان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فضائی اور بحری حدود کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور جزیرے کے گرد فوجی سرگرمیاں باقاعدگی سے انجام دیتا ہے، جبکہ تائیوان ان اقدامات کو اپنی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ حالیہ عرصے میں آبنائے تائیوان اور اس کے اطراف چینی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر امریکہ اور دیگر علاقائی ممالک بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ #Taiwan #China
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
24
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
امریکہ نے تائیوان پر چین کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر تشویش ظاہر کر دی واشنگٹن: امریکہ نے تائیوان کے خلاف چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اور سفارتی دباؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بیجنگ کی سرگرمیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے تائیوان کے گرد فوجی مشقوں، بحری گشت اور عسکری دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، جس سے آبنائے تائیوان میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیداروں نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت یا جبر کے ذریعے موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوششوں سے باز رہے اور اختلافات کے حل کے لیے پرامن مکالمے کا راستہ اختیار کرے۔ واشنگٹن نے ایک بار پھر آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں چینی جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کی تائیوان کے اطراف سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تائیوانی حکام نے ان اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھیں گے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مؤقف ہے کہ تائیوان کے خلاف فوجی دباؤ یا طاقت کے استعمال کی کسی بھی کوشش سے پورے انڈو پیسیفک خطے کے امن اور عالمی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ اتحاد کو اپنی قومی پالیسی کا اہم جزو سمجھتا ہے۔ #USA #China #Taiwan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
1
1
14
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
چین پر تبتی کنڈرگارٹن بچوں کی عسکری تربیت کا الزام نئی دہلی: چین پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ تبت میں کم عمر کنڈرگارٹن بچوں کو فوجی طرز کی تربیت اور نظریاتی تعلیم دے کر انہیں ریاستی بیانیے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور تبتی امور سے وابستہ تنظیموں کے مطابق بعض کنڈرگارٹنوں میں بچوں کو فوجی وردیاں پہنائی جا رہی ہیں، مارچ کرایا جا رہا ہے اور فوجی مشقوں سے مشابہ سرگرمیوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق چینی حکام ان سرگرمیوں کو ’’قومی دفاعی تعلیم‘‘ اور ’’قومی یکجہتی‘‘ کا حصہ قرار دیتے ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کم عمر بچوں میں عسکری ذہنیت اور ریاستی نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ چین تبت میں ابتدائی تعلیم کے نظام کے ذریعے تبتی بچوں کو ان کی مادری زبان اور ثقافتی شناخت سے دور کر رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق پری اسکول سطح پر مینڈارن زبان کے فروغ اور ریاستی نصاب کے نفاذ کا مقصد تبتی ثقافت کو کمزور کرنا اور بچوں کو چینی قومی شناخت کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔ چین کی جانب سے ان الزامات پر عمومی مؤقف یہ رہا ہے کہ اس کی تعلیمی پالیسیاں قومی یکجہتی، معیاری تعلیم اور سماجی استحکام کے فروغ کے لیے ہیں، جبکہ ناقدین انہیں تبتی ثقافتی اور لسانی شناخت کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ #Tibet #China @rishi_suri
اردو
0
1
1
19