Navin Suri

31.6K posts

Navin Suri banner
Navin Suri

Navin Suri

@NavinSurimilap

Chief editor of India's oldest & largest Urdu publication.

Katılım Ocak 2024
109 Takip Edilen110 Takipçiler
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
جاپان اور آسٹریلیا کا چین اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے مقابلے میں مضبوط سپلائی چینز پر زور ٹوکیو / کینبرا: جاپان اور آسٹریلیا نے بدلتے ہوئے عالمی حالات، خاص طور پر چین پر انحصار اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں، مضبوط اور لچکدار سپلائی چینز قائم کرنے پر زور دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، دونوں ممالک نے توانائی، اہم معدنیات اور صنعتی سپلائی چینز میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے تاکہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔  جاپان کے وزیر اعظم اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے درمیان حالیہ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سپلائی چینز کو متنوع اور محفوظ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں تنازعہ توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت کو متاثر کر رہا ہے۔  دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ چین پر حد سے زیادہ انحصار کو کم کرنے کے لیے اہم معدنیات، خاص طور پر ریئر ارتھ عناصر، کی مشترکہ پیداوار اور فراہمی کو فروغ دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے بھی سامنے آئے ہیں۔  تجزیہ کاروں کے مطابق، جاپان اور آسٹریلیا کی یہ شراکت داری نہ صرف اقتصادی سلامتی کو مضبوط کرے گی بلکہ انڈو پیسیفک خطے میں اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سپلائی چینز کی تنظیم نو کا یہ رجحان مستقبل میں مزید تیز ہوگا، جہاں ممالک اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھائیں گے۔ #Japan #Australia #China @rishi_suri
اردو
0
3
3
32
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
مالدیپ میں پریس فریڈم تنزلی کا شکار، صدر سے متعلق الزامات کے بعد میڈیا پر کریک ڈاؤن مالے: مالدیپ میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں صدر Mohamed Muizzu سے متعلق ذاتی نوعیت کے الزامات سامنے آنے کے بعد حکام کی جانب سے میڈیا پر کریک ڈاؤن تیز ہونے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ایک مقامی خبر رساں ادارے کی جانب سے صدر سے متعلق الزامات پر مبنی ویڈیو نشر کیے جانے کے بعد پولیس نے اس کے دفتر پر چھاپہ مارا، کمپیوٹرز اور دیگر آلات ضبط کیے اور ادارے کے اعلیٰ عہدیداران پر سفری پابندیاں عائد کر دیں۔  حکام نے اس کارروائی کو قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم مبینہ طور پر جھوٹے الزامات کی تحقیقات کے لیے اٹھایا گیا، تاہم صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اسے آزادیٔ صحافت کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔  مزید رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد مالدیپ عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں بھی تنزلی کا شکار ہوا ہے، جہاں میڈیا پر بڑھتے دباؤ، متنازع قوانین اور صحافیوں کو درپیش خطرات کو اس کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا۔  ماہرین کے مطابق، حالیہ اقدامات جیسے نیوز رومز پر چھاپے، قانونی کارروائیاں اور میڈیا پر پابندیاں ایک وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں تنقیدی صحافت کے لیے ماحول مزید محدود ہوتا جا رہا ہے۔  تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مالدیپ میں یہ صورتحال نہ صرف مقامی میڈیا کے لیے چیلنج بن رہی ہے بلکہ جمہوری اداروں اور شفافیت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا رہی ہے، جبکہ حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ آزادیٔ صحافت کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ #Maldives #PressFreedom @rishi_suri
اردو
0
3
3
30
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
امریکہ بنگلہ دیش تجارتی معاہدہ: بنگلہ دیش پر 131 شرائط، امریکہ پر صرف 6 ذمہ داریاں ڈھاکہ: امریکہ اور بنگلہ دیش کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش کو 131 شرائط پوری کرنا ہوں گی جبکہ امریکہ پر صرف 6 ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، جس پر مختلف حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔  رپورٹ کے مطابق، معاہدے میں ٹیرف اور کوٹہ سے متعلق شقیں شامل ہیں جن کے تحت بنگلہ دیش کو امریکی مصنوعات پر مقررہ ڈیوٹی لاگو کرنی ہوگی اور ان پر کوئی کوٹہ نہیں لگایا جا سکے گا، جبکہ امریکہ بھی بنگلہ دیشی مصنوعات پر مخصوص شرح سے ٹیرف عائد کرے گا۔  معاہدے میں غیر ٹیرف رکاوٹوں کو محدود کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے، جس کے تحت بنگلہ دیش اضافی لائسنسنگ، معائنہ یا معیار کی شرائط عائد نہیں کر سکے گا اگر مصنوعات بین الاقوامی یا امریکی معیار پر پورا اترتی ہوں۔  زرعی شعبے میں امریکی مصنوعات کو ترجیحی رسائی دینے کی شق بھی شامل ہے، جبکہ صحت یا حفاظت کے حوالے سے پابندیاں صرف سائنسی بنیادوں پر لگائی جا سکیں گی۔  معاہدہ دانشورانہ املاک کے تحفظ، ڈیجیٹل تجارت، اور ڈیٹا کے سرحد پار بہاؤ کو بھی یقینی بنانے پر زور دیتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کو امریکی کمپنیوں کے ساتھ امتیازی سلوک سے گریز کرنا ہوگا۔  مزید برآں، بنگلہ دیش کو اپنی برآمدی پالیسیوں، سرمایہ کاری کے قوانین، اور حتیٰ کہ بعض دفاعی و اسٹریٹجک شعبوں میں بھی امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی، جبکہ امریکہ کو معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں پرانے ٹیرف دوبارہ نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔  تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ اس معاہدے سے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم شرائط کے عدم توازن نے اس کی نوعیت اور بنگلہ دیش کے مفادات پر اثرات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ #Bangladesh #USA @rishi_suri
اردو
0
3
3
39
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
گریٹ نکوبار وژن—اسٹریٹجک گہرائی اور پائیدار ترقی کا امتزاج نئی دہلی: بھارت کا گریٹ نکوبار پروجیکٹ محض ایک انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹجک وژن کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بھارت اپنے بحری، اقتصادی اور جغرافیائی کردار کو ازسرنو متعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اس منصوبے کا بنیادی مقصد Andaman Sea میں بھارت کی موجودگی کو مضبوط بنانا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ اس کے روابط کو وسعت دینا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب انڈو پیسیفک خطہ عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔  یہ جزیرہ دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں، خصوصاً Strait of Malacca کے قریب واقع ہے، جہاں سے عالمی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اسی وجہ سے گریٹ نکوبار کو ایک اہم اسٹریٹجک مقام سمجھا جاتا ہے، جو بھارت کو عالمی شپنگ اور لاجسٹکس نیٹ ورک میں مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔  منصوبے کے تحت ایک بین الاقوامی کنٹینر ٹرانس شپمنٹ پورٹ، جدید ہوائی اڈہ، پاور پلانٹ اور شہری انفراسٹرکچر کی ترقی شامل ہے، جو مل کر ایک جامع اقتصادی اور لاجسٹکس حب تشکیل دیں گے۔  ماہرین کے مطابق، اس اقدام کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ بھارت اپنی تجارتی سرگرمیوں کے لیے کولمبو اور سنگاپور جیسے غیر ملکی بندرگاہوں پر انحصار کم کرے اور خود ایک علاقائی ٹرانزٹ مرکز کے طور پر ابھرے۔  اس منصوبے کے اسٹریٹجک پہلو بھی نہایت اہم ہیں۔ انڈو پیسیفک میں بڑھتی جغرافیائی کشیدگی، چین کی بحری سرگرمیوں اور عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کے تناظر میں، بھارت کے لیے مشرقی بحرِ ہند میں مضبوط موجودگی برقرار رکھنا ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔  تاہم، اس منصوبے کے ساتھ ماحولیاتی اور سماجی خدشات بھی وابستہ ہیں۔ گریٹ نکوبار ایک حیاتیاتی طور پر حساس علاقہ ہے جہاں نایاب جنگلات، جنگلی حیات اور مقامی قبائلی برادریاں آباد ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی اور ماحول کے درمیان توازن برقرار رکھنا اس منصوبے کی کامیابی کا اصل امتحان ہوگا۔  رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ شفاف ماحولیاتی جائزے، مقامی آبادی کی شمولیت اور پائیدار ترقی کے اصولوں کو یقینی بنانا ناگزیر ہوگا تاکہ یہ منصوبہ صرف اقتصادی نہیں بلکہ سماجی اور ماحولیاتی طور پر بھی کامیاب ہو سکے۔  تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر یہ منصوبہ مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا تو گریٹ نکوبار بھارت کے بحری عروج کی علامت بن سکتا ہے، جو اسے انڈو پیسیفک میں ایک کلیدی طاقت کے طور پر ابھارنے میں مدد دے گا، جبکہ اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا بھارت اس وژن کو پائیدار اور متوازن ترقی میں تبدیل کر پاتا ہے یا نہیں۔ #India #andamannicobar
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
55
Navin Suri
Navin Suri@NavinSurimilap·
@IltijaMufti_ جی جو احتجاج اردو کے لئے کر رہی ہیں وہ قابل تعریف اور حمایت کے لایق ہے - اردو محض زبان نہیں تہذیب ہے اور کشمیر کا خوبصورت حصہ ہے - اسکی اہمیت مذہب یا ذات سے وابستہ نہیں - یہ اسانیت کی ترجمان ہے - خدا آپکو قایم اور دایم رکھے @rishi_suri @TheDailyMilap
اردو
0
2
2
43
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
شینزین میں “جلدی امیر بننے” کا خواب ٹوٹ گیا، معاشی سست روی نے کاروباری ماڈلز کو ہلا کر رکھ دیا بیجنگ: چین کے معروف تجارتی اور ٹیکنالوجی مرکز Shenzhen میں “جلدی امیر بننے” کا تصور اب ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں معاشی سست روی، رئیل اسٹیٹ بحران اور کاروباری دباؤ نے شہر کی تیز رفتار ترقی کے ماڈل کو چیلنج کر دیا ہے۔  رپورٹس کے مطابق، ایک وقت میں سرمایہ کاری، رئیل اسٹیٹ اور تیز منافع والے کاروباروں کے لیے مشہور یہ شہر اب شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جہاں کئی کاروبار بند ہو رہے ہیں اور سرمایہ کاروں کو نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔  خاص طور پر ہوٹل، ریٹیل اور کرائے کے مکانات کے شعبوں میں بحران نمایاں ہے، جہاں بلند لاگت اور کم ہوتی طلب کے باعث متعدد ادارے بند ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ماضی میں کیے گئے غیر حقیقی منافع کے اندازے اب برقرار نہیں رہ سکے۔  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی گراوٹ نے بھی معیشت کو متاثر کیا، جس کے باعث کرایوں میں کمی آئی اور کئی سرمایہ کاری ماڈلز غیر مستحکم ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف کمپنیوں بلکہ عام شہریوں اور کرایہ داروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔  مزید برآں، سرمایہ کاری کے کچھ منصوبے اور مالیاتی اسکیمیں بھی ناکام ہو گئی ہیں، جس سے ہزاروں سرمایہ کار متاثر ہوئے اور مارکیٹ پر اعتماد کو دھچکا پہنچا۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ شینزین میں یہ تبدیلی ایک بڑے معاشی رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جہاں تیز رفتار ترقی کے بجائے اب پائیدار اور حقیقت پسندانہ کاروباری ماڈلز کی ضرورت ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، شینزین کا موجودہ تجربہ دیگر بڑے شہروں کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ صرف تیز ترقی اور قیاس آرائی پر مبنی معیشت طویل مدت میں مستحکم نہیں رہ سکتی۔ #China #Shenzhen
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
44
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
پاکستان میں شیعہ برادری کے خلاف “خاموش جنگ”، میڈیا پر بڑھتی پابندیوں پر تشویش اسلام آباد: پاکستان میں شیعہ برادری کے خلاف مبینہ امتیازی سلوک اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ میڈیا پر قدغنیں اور ریاستی اقدامات اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، حالیہ برسوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات اور شیعہ عبادت گاہوں پر حملوں نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے، جس میں 2026 میں اسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد پر خودکش حملہ بھی شامل ہے جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔  تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے واقعات ایک وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں شیعہ برادری کو سکیورٹی خطرات اور سماجی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ بعض شدت پسند گروہ انہیں نشانہ بناتے رہے ہیں۔ مزید برآں، میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا اداروں پر دباؤ، سنسرشپ اور قانونی کارروائیوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث حساس موضوعات پر رپورٹنگ محدود ہو رہی ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیا پر قدغنیں نہ صرف اظہارِ رائے کی آزادی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ اقلیتی مسائل کو اجاگر کرنے میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں، جس سے ایسے مسائل عالمی سطح پر کم نمایاں رہ جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، اقلیتوں کے تحفظ اور میڈیا کی آزادی جیسے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ان کے حل کے لیے جامع پالیسی اقدامات، شفافیت اور مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ معاشرتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ #Pakistan #PressFreedom
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
48
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
آسیان کو توانائی حکمتِ عملی میں تنوع اور نئے شراکت داروں کی ضرورت، ماہرین کا مشورہ کوالالمپور: ماہرین نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم ASEAN کو موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر اپنی توانائی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرتے ہوئے تنوع اور نئے شراکت داروں کی جانب بڑھنا ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق، جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر راہول مشرا نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری بحران نے آسیان ممالک کی توانائی سپلائی اور عالمی سپلائی چینز پر انحصار کی کمزوریوں کو واضح کر دیا ہے۔  انہوں نے زور دیا کہ آسیان کو اپنی توانائی ضروریات کے لیے زیادہ خود انحصاری اختیار کرنی چاہیے اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع جیسے شمسی اور دیگر متبادل وسائل کو فروغ دینا ہوگا۔  ماہرین کے مطابق، آسیان ممالک کو انڈو پیسیفک خطے کی ابھرتی ہوئی طاقتوں جیسے جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے، جبکہ ترکیہ اور یورپی یونین بھی اہم توانائی شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی ایشیا میں تنازع، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں شامل ہیں، نے عالمی تیل سپلائی کو متاثر کیا اور توانائی کے شعبے میں شدید جھٹکے پیدا کیے ہیں۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ اور فلپائن جیسے ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ کچھ ممالک جیسے ملائیشیا اپنی جزوی توانائی خود کفالت کے باعث نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہیں۔  تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آسیان کو طویل مدتی توانائی سلامتی کے لیے نہ صرف اپنے ذرائع کو متنوع بنانا ہوگا بلکہ قابلِ اعتماد بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط روابط بھی قائم کرنا ہوں گے۔ #ASEAN
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
27
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کا خدشہ، ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ جاری ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں ممکنہ شدت پسند حملوں کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جس سے انتہا پسندی کے دوبارہ سر اٹھانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، پولیس ہیڈکوارٹرز نے ایک حساس انٹیلی جنس رپورٹ کے بعد یہ الرٹ جاری کیا، جس میں پارلیمنٹ، سیکیورٹی تنصیبات، عبادت گاہوں، تفریحی مقامات اور عوامی مقامات کو ممکنہ ہدف قرار دیا گیا ہے۔  یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایک کالعدم شدت پسند تنظیم کے رکن کو گرفتار کیا گیا، جس نے مبینہ طور پر دو سابق فوجی اہلکاروں سے رابطوں کا اعتراف کیا۔  ذرائع کے مطابق، انٹیلی جنس رپورٹ کو “انتہائی خفیہ” قرار دیا گیا ہے اور اس میں تنظیم کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم اس انتباہ نے ملک میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے تشویش کو بڑھا دیا ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بنگلہ دیش میں شدت پسندی کے نیٹ ورکس مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور وقتاً فوقتاً ان کے دوبارہ فعال ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، حکومت کے لیے یہ ایک اہم چیلنج ہے کہ وہ نہ صرف فوری سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنائے بلکہ طویل مدتی حکمت عملی کے ذریعے انتہا پسندی کے اس خطرے کو جڑ سے ختم کرے۔ #Bangladesh #Pakistan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
2
48
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت اور چین نے ڈانگوٹے کی 20 ارب ڈالر ریفائنری کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کیا لاگوس: نائجیریا میں قائم دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں شامل Dangote Refinery کی تعمیر اور توسیع میں بھارت اور چین نے اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے افریقہ کی توانائی خود کفالت کی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، بھارت نے اس منصوبے میں بنیادی طور پر انجینئرنگ مینجمنٹ اور پروجیکٹ کی مسلسل نگرانی کا کردار ادا کیا۔ بھارتی سرکاری کمپنی Engineers India Limited کو نہ صرف ابتدائی مرحلے میں بلکہ حالیہ توسیعی مرحلے میں بھی بطور پروجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹ مقرر کیا گیا، جس کے تحت 350 ملین ڈالر کا نیا معاہدہ کیا گیا۔  دوسری جانب چین نے اس میگا پروجیکٹ میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی اور صنعتی معاونت فراہم کی۔ چینی کمپنی China National Chemical Engineering Company (CNCEC) نے انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن کے اہم حصے سنبھالے، جبکہ بھاری مشینری، اسٹیل اسٹرکچرز اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی میں بھی چین کا نمایاں کردار رہا۔  مزید برآں، چین کی کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالر کے آلات اور مشینری کے معاہدے بھی کیے گئے تاکہ ریفائنری کی توسیع اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے، جس سے اس منصوبے کی رفتار تیز ہوئی۔  Dangote Refinery، جس پر تقریباً 20 ارب ڈالر کی لاگت آئی، روزانہ 650,000 بیرل خام تیل کو پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ نہ صرف نائجیریا کی گھریلو ضروریات پوری کرنے بلکہ پورے افریقہ میں ایندھن کی سپلائی کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔  ماہرین کے مطابق، بھارت کی انجینئرنگ مہارت اور چین کی صنعتی و تعمیراتی صلاحیت کے امتزاج نے اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس سے افریقہ میں توانائی کے شعبے میں ایک نیا توازن پیدا ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ Dangote Refinery نہ صرف نائجیریا کی درآمدی انحصار کو کم کرے گی بلکہ افریقہ کو عالمی توانائی منڈی میں ایک مضبوط کھلاڑی کے طور پر ابھارنے میں بھی مدد دے سکتی ہے، جبکہ بھارت اور چین کی شراکت داری اس خطے میں ان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے۔ #Dangote #India #China #Africa
The Daily Milap tweet media
اردو
0
4
4
42
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
تیسری ایٹمی آبدوز کے ساتھ بھارت “مسلسل سمندری جوہری دفاع” کے قریب نئی دہلی: بھارت اپنی تیسری ایٹمی بیلسٹک میزائل آبدوز (SSBN) کی شمولیت کے بعد “مسلسل سمندر میں موجود جوہری دفاع” (Continuous At-Sea Deterrence) کے ہدف کے مزید قریب پہنچ گیا ہے، جسے اس کی دفاعی حکمت عملی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، INS Aridhaman کی شمولیت کے ساتھ بھارت کے پاس اب تین فعال ایٹمی آبدوزیں ہیں، جو اس مقصد کے لیے کم از کم ضروری تعداد سمجھی جاتی ہیں کہ ہر وقت ایک آبدوز سمندر میں گشت پر موجود رہے جبکہ باقی مرمت یا تیاری کے مراحل میں ہوں۔  ماہرین کے مطابق، جوہری آبدوزیں بھارت کے “نuclear triad” یعنی زمین، فضا اور سمندر سے جوہری حملے کی صلاحیت کے سب سے محفوظ حصے کی نمائندگی کرتی ہیں، کیونکہ یہ زیرِ آب رہ کر دشمن کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں اور جوابی حملے کی صلاحیت برقرار رکھتی ہیں۔  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیسری آبدوز کی شمولیت سے بھارت پہلی بار مستقل بنیادوں پر سمندر میں جوہری موجودگی برقرار رکھنے کے قابل ہو رہا ہے، جو اس کی “second strike capability” کو مضبوط بناتا ہے، یعنی کسی بھی حملے کی صورت میں مؤثر جواب دینے کی صلاحیت۔  مزید بتایا گیا کہ نئی آبدوز میں زیادہ میزائل لے جانے کی صلاحیت اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے K-4 جیسے میزائل شامل ہیں، جس سے بھارت کی دفاعی رسائی اور اسٹریٹجک توازن میں اضافہ ہوتا ہے۔  تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کی بحری طاقت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ انڈو پیسیفک خطے میں اس کے اسٹریٹجک کردار کو بھی مضبوط بناتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علاقائی سکیورٹی چیلنجز اور بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ یہ ایک اہم قدم ہے، تاہم مکمل اور مستقل سمندری جوہری دفاع کے لیے مزید جدید آبدوزوں اور طویل فاصلے کے میزائلوں کی ضرورت برقرار رہے گی۔ #India #Defense @indiannavy @IndiannavyMedia
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
33
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
نئی ترقی کے مرحلے میں ویتنام اور بھارت کے درمیان تجارتی تعاون میں توسیع ہنوئی: ویتنام اور بھارت نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو ایک نئے ترقیاتی مرحلے میں داخل کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ویتنام کے اعلیٰ رہنما To Lam کے دورۂ بھارت کو دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی سمت دینے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جو 2016 میں قائم ہوئی تھی۔  اعداد و شمار کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں گزشتہ دہائی کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2016 میں 5.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2025 میں 16.46 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں ہی تجارت 4.8 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جو سال بہ سال 28 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔  رپورٹ کے مطابق، ویتنام کی بھارت کو برآمدات میں الیکٹرانکس، مشینری، زرعی مصنوعات اور اسٹیل شامل ہیں، جبکہ بھارت سے درآمدات میں ٹیکسٹائل مواد، پلاسٹک، دواسازی اور اسٹیل اہم ہیں، جو دونوں معیشتوں کے درمیان مضبوط تکمیلی تعلق کی عکاسی کرتے ہیں۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تکمیل (complementarity) بڑھ رہی ہے، جہاں بھارت خام مال، سافٹ ویئر اور دواسازی میں مہارت رکھتا ہے جبکہ ویتنام مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں مضبوط ہے، جس سے سپلائی چین انضمام اور صنعتی تعاون کو فروغ مل رہا ہے۔  سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی تعاون بڑھ رہا ہے، جہاں بھارتی کمپنیاں ویتنام کے متعدد صوبوں میں سرگرم ہیں، جبکہ ویتنامی کمپنیوں نے بھی بھارت میں سرمایہ کاری شروع کی ہے، جن میں الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ جیسے منصوبے شامل ہیں۔  مزید برآں، ٹیکسٹائل، فٹ ویئر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سپلائی چینز جیسے نئے شعبے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے اہم مراکز بن رہے ہیں، جس سے کاروباری روابط اور صنعتی شراکت داری کو نئی رفتار مل رہی ہے۔  تجزیہ کاروں کے مطابق، بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی حالات اور سپلائی چین کی تنظیم نو کے تناظر میں بھارت اور ویتنام کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ انڈو پیسیفک خطے میں اقتصادی استحکام اور ترقی کے لیے بھی اہم ثابت ہوگا۔ #India #Vietnam @VNinINDIA
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
23
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
سوڈان اور بھارت کے درمیان اقتصادی و انسداد دہشت گردی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق پورٹ سوڈان: سوڈان اور بھارت نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقتصادی تعاون اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے نمائندوں کے درمیان پورٹ سوڈان میں اعلیٰ سطحی سیاسی مشاورت کا انعقاد ہوا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور سکیورٹی تعاون کو وسعت دینے پر بات چیت کی گئی۔  اجلاس میں سوڈان کی جانب سے وزارت خارجہ کے انڈر سیکریٹری اور بھارت کی جانب سے وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری نے مشترکہ طور پر قیادت کی، جہاں دونوں فریقین نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا۔  مذاکرات کے دوران زراعت، توانائی، ادویات، معدنیات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے پر خصوصی زور دیا گیا۔  دونوں ممالک نے تجارتی روابط کو آسان بنانے کے لیے مالی لین دین کے نظام کو بہتر بنانے اور براہ راست پروازوں کے امکانات کا بھی جائزہ لیا، تاکہ باہمی تجارت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔  حکام کے مطابق، بھارت سوڈان کے لیے اہم درآمدی شراکت دار ہے، خصوصاً زرعی مشینری اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں، جبکہ دونوں ممالک نے صحت کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر بات کی، جس میں طبی سہولیات کی بحالی اور فارماسیوٹیکل پیداوار شامل ہے۔  سوڈانی حکام نے حالیہ عرصے میں بھارت کی حمایت اور تعلیمی پروگراموں، تربیتی مواقع اور اسکالرشپس کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ان تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی، خاص طور پر ملک کی تعمیر نو کے مرحلے میں۔  تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دے سکتی ہے بلکہ سوڈان کی اقتصادی بحالی اور خطے میں استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ #India #Sudan
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
25
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
امریکی شہری بھارتی آموں کے دیوانے، مہنگے دام اور مشکلات کے باوجود طلب میں غیر معمولی اضافہ واشنگٹن: امریکہ میں بھارتی آموں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں صارفین نہ صرف بھاری قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں بلکہ ان کی دستیابی کے لیے غیر معمولی اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہر سال بہار کے موسم میں بھارتی آموں کی آمد کے ساتھ ہی ایک خاص جوش و خروش دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں خریدار پیشگی آرڈر دیتے ہیں، پروازوں کی آمد پر نظر رکھتے ہیں اور محدود دستیابی کے باعث فوری خریداری کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔  امریکہ میں دستیاب عام آموں کے برعکس، بھارتی اقسام جیسے الفانسو، کیسر، چوسہ اور لنگڑا اپنے منفرد ذائقے اور خوشبو کے باعث انتہائی پسند کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ایک “پریمیم” پھل سمجھا جاتا ہے۔  رپورٹ کے مطابق، ایک ڈبہ جس میں عموماً 10 سے 12 آم ہوتے ہیں، 50 سے 60 ڈالر تک فروخت ہو رہا ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ فضائی نقل و حمل کی بڑھتی لاگت اور عالمی جغرافیائی کشیدگیاں بتائی جا رہی ہیں۔  بھارتی آم کئی دہائیوں تک امریکہ میں درآمد کے لیے ممنوع رہے تھے، تاہم 2000 کی دہائی کے وسط میں خصوصی شعاعی عمل (irradiation) کی منظوری کے بعد ان کی واپسی ممکن ہوئی۔ اس کے باوجود آج بھی محدود سہولیات، سخت قواعد و ضوابط اور خراب ہونے کے خدشات سپلائی کو مشکل بناتے ہیں۔  درآمد کنندگان کے مطابق، مانگ اس قدر زیادہ ہے کہ اکثر کھیپ مارکیٹ میں آنے سے پہلے ہی فروخت ہو جاتی ہے، جبکہ بعض کمپنیاں تو ایک ہزار ڈالر تک کے “سیزن پاس” بھی پیش کر رہی ہیں جس کے تحت پورے سیزن میں ہفتہ وار آم فراہم کیے جاتے ہیں۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بڑھتی ہوئی طلب میں صرف بھارتی نژاد افراد ہی نہیں بلکہ مقامی امریکی صارفین بھی شامل ہو رہے ہیں، جو ان آموں کے ذائقے اور معیار کے باعث انہیں ترجیح دے رہے ہیں۔  ماہرین کے مطابق، محدود برآمدات، پیچیدہ لاجسٹکس اور بڑھتی عالمی مانگ کے باعث بھارتی آم امریکہ میں ایک نایاب اور قیمتی شے بن چکے ہیں، اور مستقبل میں بھی ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ #India #USA #Mango
The Daily Milap tweet media
اردو
0
4
4
110
Navin Suri retweetledi
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
مصنوعی ذہانت کے دور میں امریکہ اور بھارت کی شراکت داری کو عالمی اسٹریٹجک اہمیت حاصل واشنگٹن / نئی دہلی: ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے ابھرتے ہوئے دور میں امریکہ اور بھارت کے درمیان شراکت داری عالمی سیاست، معیشت اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کو تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایک حالیہ تجزیاتی مضمون کے مطابق، مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کا شعبہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی اسٹریٹجک مقابلے کا مرکزی میدان بن چکا ہے، جو دفاع، معیشت اور سائنسی ترقی سمیت متعدد شعبوں کو متاثر کر رہا ہے۔  ماہرین کے مطابق، امریکہ کی ٹیکنالوجیکل برتری اور بھارت کے وسیع انسانی وسائل اور ڈیٹا اسکیل کا امتزاج دونوں ممالک کو اس قابل بنا سکتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر AI کے معیارات، سپلائی چینز اور سکیورٹی فریم ورک طے کریں۔  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کی بنیاد ماضی کے اہم معاہدوں، جیسے 2008 کے سول نیوکلیئر معاہدے، سے پڑی، جبکہ حالیہ اقدامات جیسے Initiative on Critical and Emerging Technology نے اس شراکت داری کو مزید وسعت دی ہے۔  تجزیے کے مطابق، بھارت تقریباً 1.5 ارب آبادی کے ساتھ ایک بڑا ڈیٹا ایکو سسٹم فراہم کرتا ہے، جبکہ 2027 تک اس کے AI ٹیلنٹ پول کے 1.25 ملین سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، جو عالمی AI ترقی کے لیے اہم سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔  امریکی کمپنیوں جیسے Google، Microsoft اور Amazon کی جانب سے بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔  ماہرین نے زور دیا کہ اس شراکت داری کو مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ AI ایپلی کیشنز کی تیاری، مضبوط سپلائی چینز، ٹیلنٹ کے تبادلے، اور ٹیکنالوجی کے معیارات میں ہم آہنگی ضروری ہوگی۔  تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر امریکہ اور بھارت اپنی موجودہ رفتار کو برقرار رکھتے ہیں تو وہ نہ صرف AI کے دور میں اہم کردار ادا کریں گے بلکہ عالمی ڈیجیٹل نظام کی سمت کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔  #India #US #AI
The Daily Milap tweet media
اردو
0
4
4
44