The Daily Milap

49K posts

The Daily Milap banner
The Daily Milap

The Daily Milap

@TheDailyMilap

India’s Oldest & Largest Combined Circulated Urdu Daily. Bridging divides & forging unity since 1923.

New Delhi, India 参加日 Eylül 2021
565 フォロー中32.3K フォロワー
固定されたツイート
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
ہم اپنے قارئین اور میلاپ کی ٹیم کے ہر رکن کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری قوم کی خدمت میں ہماری مدد کی۔ آج، جب ہم 100 سال مکمل کرتے ہیں تو ہم اپنے بانی اصولوں کو برقرار رکھنے اور اخلاقیات اور اقدار پر قائم رہنے کا عہد کرتے ہیں۔ @MilapNN @SuriNavin @RenuSuri15 @SureshRaiDhima1 @rishi_suri @tara_milap @ramesh_milap @mohamma61141631 @ZUBI_26 @AltafHussainKh1 @JavedShah_13 @Tabassumaziz11 @MIB_India
The Daily Milap tweet media
اردو
5
11
47
42.9K
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
آسام کے گاؤں سے قومی اعزاز تک: پدم شری نورالدین احمد کا قابلِ فخر سفر اور ہندوستان میں آسامی مسلمانوں کی خدمات آسام کے معروف تھیٹر آرٹسٹ، اسٹیج ڈیزائنر اور منظر نگار **نورالدین احمد** کو پدم شری سے نوازا جانا صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ ہندوستان کی ثقافتی زندگی میں آسامی مسلمانوں کی گرانقدر خدمات کا اعتراف بھی ہے۔ ایک چھوٹے سے گاؤں سے نکل کر ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزازات میں سے ایک حاصل کرنا اُن کے عزم، محنت، تخلیقی صلاحیت اور فن سے وابستگی کی روشن مثال ہے۔ آسام کے ضلع نلباڑی میں پیدا ہونے والے نورالدین احمد نے بچپن ہی سے مصوری، فنونِ لطیفہ اور اسٹیج آرٹ میں غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے بڑے شہروں کا رخ کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو آسام کی ثقافتی روایتوں کے فروغ کے لیے وقف کر دیا۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے فنی سفر میں وہ ہندوستان کے ممتاز اسٹیج ڈیزائنرز، مجسمہ سازوں اور آرٹ ڈائریکٹروں میں شمار ہونے لگے۔ نورالدین احمد کی سب سے بڑی خدمات میں آسام کی مشہور **موبائل تھیٹر تحریک** میں ان کا کردار شامل ہے۔ آسام کا موبائل تھیٹر ایک منفرد ثقافتی روایت ہے جس کے ذریعے تھیٹر دیہات اور قصبوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ نورالدین احمد نے اپنی جدید اسٹیج ڈیزائننگ، روشنی کے منفرد استعمال اور تخلیقی منظر نگاری کے ذریعے ان تھیٹر پروڈکشنز کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ہزاروں ڈراموں اور ثقافتی پروگراموں میں ان کی فنی مہارت نے آسامی تھیٹر کو قومی سطح پر ایک منفرد شناخت عطا کی۔ ان کی خدمات صرف تھیٹر تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے یومِ جمہوریہ کی جھانکیوں، ثقافتی نمائشوں، تاریخی و مذہبی مقامات کے آرکیٹیکچرل منصوبوں اور متعدد عوامی فن پاروں کی تخلیق میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ خاص طور پر عظیم آسامی سنت اور سماجی مصلح شریمنت شنکر دیو سے وابستہ بٹادراوا کلچرل پروجیکٹ میں ان کی خدمات اس بات کی مثال ہیں کہ فن اور ثقافت کس طرح مختلف برادریوں اور روایتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں۔ نورالدین احمد کو 2026 میں دیا جانے والا پدم شری اعزاز ان کی برسوں کی فنی خدمات کا اعتراف ہے۔ اس سے قبل انہیں سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ جیسے باوقار قومی اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ تاہم ان کی کامیابی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ ہندوستانی معاشرے میں آسامی مسلمانوں کے مثبت اور تعمیری کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ آسامی مسلمانوں کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے اور وہ آسام کی تہذیب، زبان اور ثقافت کا ایک لازمی حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے ادب، موسیقی، تعلیم، زراعت، تجارت، سماجی اصلاح اور عوامی خدمات سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آسامی زبان اور مقامی ثقافت کے فروغ میں بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ آسامی مسلمانوں نے ہمیشہ اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ آسامی تہذیب اور ہندوستانی قومیت سے اپنی وابستگی کو مضبوط رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ریاست کی کثرت میں وحدت کی روایت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ادب، فنونِ لطیفہ، کھیل، انتظامیہ اور تعلیم کے میدان میں ان کی خدمات آج بھی نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ نورالدین احمد کی زندگی اسی روشن روایت کا تسلسل ہے۔ ان کے فن میں آسام کی لوک روایات، مقامی جمالیات اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی جھلک نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنے فن کے ذریعے نہ صرف آسام بلکہ پورے ہندوستان کی ثقافتی شناخت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج جب شناخت اور قومیت کے موضوعات پر مختلف نوعیت کی بحثیں جاری ہیں، نورالدین احمد کی کامیابی ایک مثبت پیغام دیتی ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی متنوع برادریوں کی مشترکہ خدمات میں مضمر ہے۔ قومی اعزازات اس بات کا ثبوت ہیں کہ محنت، صلاحیت اور ملک و معاشرے کے لیے خدمات ہی اصل معیار ہیں۔ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے نورالدین احمد کی زندگی ایک سبق ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی جڑوں سے کٹنا ضروری نہیں۔ انہوں نے اپنی سرزمین، اپنی ثقافت اور اپنی برادری کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے ایسی خدمات انجام دیں جنہوں نے انہیں قومی سطح پر ممتاز مقام دلایا۔ نورالدین احمد کو دیا جانے والا پدم شری دراصل صرف ایک فرد کا اعزاز نہیں بلکہ آسام کی ثقافتی عظمت، ہندوستان کی گنگا جمنی روایت اور آسامی مسلمانوں کی قومی خدمات کا اعتراف ہے۔ ان کی داستانِ حیات اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ عزم، محنت اور تخلیقی صلاحیت انسان کو گمنامی سے نکال کر قومی افتخار کی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے۔ #India @PadmaAwards
The Daily Milap tweet media
اردو
0
2
3
47
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
پانچ مسلم جانباز جنہوں نے شجاعت اور حب الوطنی کی نئی مثال قائم کی نئی دہلی: صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو کی جانب سے دفاعی اعزازات کی تقریب میں ملک کے پانچ مسلم فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کو ان کی غیر معمولی بہادری، فرض شناسی اور قومی خدمت کے اعتراف میں اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان جانبازوں میں سرحدی سلامتی فورس (بی ایس ایف) کے سب انسپکٹر محمد امتیاز (بعد از وفات)، بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرن لیڈر رضوان ملک، سی آر پی ایف کے کانسٹیبل صدام حسین، آسام رائفلز کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ محمد شفیق اور سی آر پی ایف کے سپاہی فدا حسین ڈار شامل ہیں۔ سب انسپکٹر محمد امتیاز کو ویر چکر سے نوازا گیا۔ انہوں نے مئی 2025 میں جموں کے آر ایس پورہ سیکٹر میں پاکستانی گولہ باری کے دوران غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے فضائی خطرے کا مقابلہ کیا اور شدید زخمی ہونے کے باوجود اپنے ساتھیوں کی رہنمائی جاری رکھی۔ وہ دورانِ ڈیوٹی شہید ہوگئے۔ بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرن لیڈر رضوان ملک کو بھی ویر چکر سے نوازا گیا۔ انہوں نے آپریشن سندھور کے دوران انتہائی خطرناک فضائی مشنوں میں حصہ لیتے ہوئے غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ سی آر پی ایف کے کانسٹیبل صدام حسین کو شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں دہشت گردی کے خلاف ایک آپریشن کے دوران جرات مندانہ کارروائی پر شوریہ چکر سے نوازا گیا۔ شدید فائرنگ کے باوجود انہوں نے دہشت گرد کا کامیابی سے خاتمہ کیا اور اپنے ساتھیوں کی جانیں بچائیں۔ آسام رائفلز کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ محمد شفیق کو ایک انسداد دہشت گردی آپریشن میں غیر معمولی قیادت اور بہادری کے اعتراف میں شوریہ چکر دیا گیا۔ انہوں نے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دہشت گرد کا تعاقب کرتے ہوئے اسے ہلاک کر دیا۔ سی آر پی ایف کے سپاہی فدا حسین ڈار کو سری نگر کے خانیار علاقے میں ایک دہشت گرد کے خلاف کارروائی کے دوران شدید زخمی ہونے کے باوجود آپریشن جاری رکھنے اور دہشت گرد کو ہلاک کرنے پر شوریہ چکر سے نوازا گیا۔ ان پانچوں جانبازوں کی داستانیں اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ بہادری، قربانی اور حب الوطنی کسی مذہب یا برادری کی محتاج نہیں ہوتیں، بلکہ قومی خدمت اور فرض شناسی ہی اصل شناخت ہوتی ہے۔ نوٹ: یہ خبر @AwazThevoice میں شائع ہونے والی آشا کھوسہ کی رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ #India #GallantryAwards
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
43
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
ڈھاکہ: بھارت کے نئے ہائی کمشنر دنیش ترویدی بنگلہ دیش پہنچ گئے بھارت کے نامزد نئے ہائی کمشنر برائے بنگلہ دیش، دنیش ترویدی، جمعہ کے روز ڈھاکہ پہنچ گئے، جہاں وہ موجودہ بھارتی ہائی کمشنر پرنئے ورما کی جگہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ترویدی کی تقرری کو بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کے ایک اہم مرحلے میں دیکھا جا رہا ہے، جب دونوں ممالک باہمی تعاون اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیش ترویدی ایک سینئر بھارتی سیاست دان اور سابق مرکزی وزیر رہ چکے ہیں۔ انہیں اپریل 2026 میں بنگلہ دیش میں بھارت کا اگلا ہائی کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ کیریئر سفارت کار پرنئے ورما کی جگہ لیں گے، جنہیں بعد ازاں بیلجیم اور یورپی یونین میں بھارت کا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ #India #Bangladesh @DinTri @ihcdhaka
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
60
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
جے اے اے سی پر کریک ڈاؤن اور یورپی یونین کی جی ایس پی پلس مخمصہ: پاکستان کے انسانی حقوق کے وعدوں پر سوالات اسلام آباد: ایک حالیہ تجزیاتی مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے خلاف حالیہ کارروائیوں نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس (GSP+) پروگرام کے تناظر میں پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مضمون کے مطابق گرفتاریوں، پابندیوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے خلاف اقدامات نے بین الاقوامی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کو یورپی منڈیوں تک ترجیحی تجارتی رسائی حاصل ہے، تاہم اس کے لیے انسانی حقوق، بنیادی آزادیوں، لیبر حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور اچھی حکمرانی سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ تجزیے کے مطابق جے اے اے سی کے خلاف کارروائیوں کے بعد بعض حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ایسے اقدامات پاکستان کے ان بین الاقوامی وعدوں سے مطابقت رکھتے ہیں جن کی بنیاد پر اسے جی ایس پی پلس کی سہولت حاصل ہے۔ مضمون میں استدلال کیا گیا ہے کہ پرامن سیاسی سرگرمیوں، اظہارِ رائے کی آزادی اور شہری حقوق کے حوالے سے اٹھنے والے خدشات مستقبل میں یورپی اداروں کی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب یورپی یونین پہلے ہی پاکستان کے ساتھ اپنے مذاکرات میں انسانی حقوق، حکمرانی اور بنیادی آزادیوں کے موضوعات کو اہم قرار دے چکی ہے۔ گزشتہ برس ہونے والے یورپی یونین۔پاکستان مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں بھی انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار، عدالتی خودمختاری اور بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا تھا۔ حال ہی میں یورپی یونین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جی ایس پی پلس کے تحت ترجیحی تجارتی رسائی کا انحصار انسانی حقوق، لیبر حقوق، ماحولیات اور اچھی حکمرانی سے متعلق بین الاقوامی معیارات پر پیش رفت سے جڑا ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق جے اے اے سی کے خلاف حالیہ اقدامات اور ان پر بین الاقوامی ردِعمل اس وسیع تر بحث کا حصہ ہیں کہ پاکستان کس حد تک اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے وعدوں پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ معاملہ نہ صرف داخلی سیاست بلکہ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے تناظر میں بھی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ #Pakistan #EU #Europe #GSPPlus
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
62
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی تزویراتی الجھنیں، اثرورسوخ بڑھانے کی کوششوں کو درپیش چیلنجز اسلام آباد: ایک حالیہ تجزیاتی مطالعے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سفارتی اور تزویراتی اہمیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم داخلی معاشی کمزوریوں، سیاسی عدم استحکام اور علاقائی پیچیدگیوں کے باعث اسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ مطالعے کے مطابق پاکستان خلیجی خطے میں خود کو ایک اہم شراکت دار اور ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر اس کی طویل مدتی کامیابی غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں سعودی عرب، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بیک وقت تعلقات برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس کے تحت اسلام آباد نے سفارتی رابطوں، دفاعی تعاون اور علاقائی مذاکرات میں فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اپنی جغرافیائی اہمیت کو سیاسی اور اقتصادی فوائد میں تبدیل کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی مشکل سعودی عرب اور ایران جیسے حریف ممالک کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ اگرچہ یہ حکمت عملی مختصر مدت میں سفارتی اہمیت اور مالی معاونت دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں اس توازن کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ مطالعے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کی معیشت اب بھی بیرونی مالی امداد، قرضوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی حمایت پر انحصار کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ملک اپنی معاشی بنیادوں کو مضبوط نہیں بناتا، اس وقت تک علاقائی سفارت کاری کے ذریعے حاصل ہونے والے فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم رابطہ بناتی ہے، لیکن داخلی سیاسی اور اقتصادی مسائل اس صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک پاکستان کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا وہ اپنی وقتی سفارتی کامیابیوں کو پائیدار علاقائی اثرورسوخ میں تبدیل کر پاتا ہے یا نہیں۔ #Pakistan #WestAsia #middleeast #Gulf
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
38
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت 2025-26 میں بھی دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت قرار نئی دہلی: عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، بلند توانائی قیمتوں اور عالمی تجارت میں سست روی کے باوجود بھارت نے مالی سال 2025-26 میں 7.7 فیصد شرح نمو کے ساتھ دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کا درجہ برقرار رکھا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارتی معیشت کی نمو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں مزید بہتر ہوئی، جبکہ جنوری تا مارچ سہ ماہی میں شرح نمو 7.8 فیصد رہی۔ ماہرین کے مطابق مضبوط گھریلو طلب، بنیادی ڈھانچے پر سرکاری سرمایہ کاری اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے نے معاشی کارکردگی کو سہارا دیا۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کی کئی بڑی معیشتیں کمزور ترقی، افراطِ زر اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں، تاہم بھارت نے ان مشکلات کے باوجود اپنی معاشی رفتار برقرار رکھی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی ترقی میں عوامی بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری، تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن، مینوفیکچرنگ کے فروغ اور گھریلو کھپت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت کی مختلف صنعتی پالیسیوں اور پیداواری مراعاتی منصوبوں نے بھی سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔ اگرچہ عالمی مالیاتی ادارے اور مرکزی بینک آئندہ مالی سال میں شرح نمو میں معمولی کمی کی پیش گوئی کر رہے ہیں، تاہم بھارت بدستور دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں سرفہرست رہنے کی توقع رکھتا ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی اقتصادی چیلنجز کے باوجود بھارتی معیشت نے مضبوط بنیادوں اور داخلی طلب کے بل بوتے پر اپنی رفتار برقرار رکھی ہے۔ #India #GDP #Economy
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
27
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
چین میں نوجوانوں کی بڑھتی اموات پر تشویش، حکومتی پالیسیوں پر سوالات بیجنگ: ایک حالیہ تجزیاتی مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی اموات اور صحت سے متعلق بعض تشویشناک رجحانات نے عوامی حلقوں میں سوالات کو جنم دیا ہے۔ مضمون کے مطابق سوشل میڈیا پر مختلف واقعات اور اعداد و شمار کے حوالے سے جاری بحث نے حکومتی پالیسیوں، صحت عامہ کے نظام اور سماجی دباؤ کے اثرات پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں میں ذہنی دباؤ، بے روزگاری، طویل اوقاتِ کار اور معاشی غیر یقینی صورتحال جیسے عوامل پہلے ہی ایک اہم سماجی مسئلہ بن چکے ہیں۔ بعض مبصرین کا مؤقف ہے کہ ان مسائل کے مجموعی اثرات نوجوان نسل کی صحت اور فلاح و بہبود پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ مضمون کے مطابق چین میں نوجوانوں کی بے روزگاری، آبادی میں کمی اور شرحِ پیدائش میں مسلسل گراوٹ نے بھی پالیسی سازوں کے لیے نئے چیلنج پیدا کیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے صرف اقتصادی اقدامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ سماجی اور عوامی صحت کے شعبوں میں بھی جامع اصلاحات درکار ہیں۔ دوسری جانب چینی حکام کا مؤقف ہے کہ حکومت نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے، صحت کی سہولیات بہتر بنانے اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق عوامی اعتماد کی بحالی اور شفاف معلومات کی فراہمی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کسی بھی ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کا بنیادی ستون ہوتی ہے، اس لیے چین میں نوجوانوں کی صحت، روزگار اور مستقبل سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش آنے والے برسوں میں پالیسی مباحث کا ایک اہم موضوع بنی رہ سکتی ہے۔ #China #CCP #XiJinping
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
37
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
پاکستان کے نوجوان خاموش نہیں، تبدیلی کی خواہش زندہ ہے: تجزیہ اسلام آباد: ایک حالیہ تجزیے میں اس تاثر کو چیلنج کیا گیا ہے کہ پاکستان کے نوجوان سیاسی اور سماجی معاملات سے لاتعلق یا غیر فعال ہیں۔ مضمون کے مطابق اگرچہ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسی بڑی عوامی تحریکیں دیکھنے میں نہیں آئیں، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ نوجوان نسل میں تبدیلی کی خواہش موجود نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام، بے روزگاری اور گورننس کے مسائل کا سامنا ہے، جن کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں پر پڑ رہا ہے۔ اس کے باوجود ملک میں نوجوان مختلف سماجی، تعلیمی، کاروباری اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کا سب سے بڑا انسانی سرمایہ ہے۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل رابطوں اور عالمی رجحانات تک رسائی نے نئی نسل کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ باخبر اور متحرک بنا دیا ہے، تاہم روایتی سیاسی ڈھانچے اور محدود مواقع ان کی صلاحیتوں کے مکمل اظہار میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی تحریکوں نے ثابت کیا ہے کہ نئی نسل سیاسی اور سماجی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد روزگار، شفافیت، بہتر حکمرانی اور مستقبل کے مواقع جیسے مسائل پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کے نوجوانوں کو غیر فعال قرار دینا زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ ان کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ نوجوان تبدیلی چاہتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا انہیں اپنی صلاحیتوں اور خواہشات کے اظہار کے لیے مؤثر اور جمہوری راستے میسر ہیں یا نہیں۔ #SriLanka #China
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
36
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
ترکی کے ساتھ بڑھتے تعلقات: کیا بنگلہ دیش کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے؟ ڈھاکہ: ایک حالیہ تجزیاتی مضمون میں خبردار کیا گیا ہے کہ ترکی کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی تعاون میں اضافے کے دوران بنگلہ دیش کو ممکنہ جغرافیائی سیاسی اور نظریاتی اثرات کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔ مضمون کے مطابق انقرہ کی خارجہ پالیسی اور بعض علاقائی معاملات میں اس کے کردار کو دیکھتے ہوئے ڈھاکہ کے لیے محتاط اور متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی حالیہ برسوں میں دفاعی برآمدات، ڈرون ٹیکنالوجی اور مسلم دنیا میں اپنے سیاسی اثرورسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس تناظر میں بنگلہ دیش اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ بعض حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کا ایک اہم سبب بڑی طاقتوں اور علاقائی شراکت داروں کے درمیان توازن برقرار رکھنا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی ایک ملک یا بلاک پر حد سے زیادہ انحصار سفارتی لچک کو محدود کر سکتا ہے، اس لیے ڈھاکہ کو اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن روابط برقرار رکھنے چاہییں۔ مضمون میں یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کو اپنی سیکولر اور کثیرالثقافتی قومی شناخت، داخلی استحکام اور علاقائی تعلقات پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے خارجہ و دفاعی شراکت داریوں کو آگے بڑھانا چاہیے۔ مصنف کے مطابق کسی بھی نئے تزویراتی تعلق کو صرف فوجی یا اقتصادی فوائد کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سیاسی اور سماجی اثرات کے تناظر میں بھی پرکھنا ضروری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی خودمختار خارجہ پالیسی، اقتصادی ترقی اور علاقائی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے مختلف عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ جغرافیائی سیاسی دباؤ یا انحصار سے بچا جا سکے۔ #Bangladesh #Turkey
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
34
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
انڈیا اسٹیک 3.0: ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے نئے دور کی جانب پیش رفت نئی دہلی: بھارت کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (Digital Public Infrastructure) کو دنیا بھر میں ایک کامیاب ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اب ماہرین کی توجہ اس کے اگلے مرحلے، انڈیا اسٹیک 3.0، پر مرکوز ہے۔ اس تصور کا مقصد ڈیجیٹل شناخت، ادائیگیوں اور ڈیٹا شیئرنگ کے موجودہ نظام کو مزید وسعت دے کر نئی خدمات، مالی شمولیت اور اقتصادی مواقع پیدا کرنا ہے۔ انڈیا اسٹیک دراصل اوپن اے پی آئیز اور ڈیجیٹل عوامی سہولیات کا ایک مجموعہ ہے جس میں آدھار، یو پی آئی، ڈیجی لاکر، اکاؤنٹ ایگریگیٹر اور دیگر پلیٹ فارم شامل ہیں۔ ان نظاموں نے کروڑوں بھارتی شہریوں کو ڈیجیٹل شناخت، مالی خدمات اور سرکاری سہولتوں تک رسائی فراہم کی ہے۔ ماہرین کے مطابق انڈیا اسٹیک 3.0 کا اگلا مرحلہ صرف شناخت اور ادائیگیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ڈیجیٹل معیشت کے مختلف شعبوں، جیسے قرض، انشورنس، صحت، تعلیم اور چھوٹے کاروباروں کے لیے مزید مربوط اور ذہین نظام فراہم کرے گا۔ اس کا مقصد ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو زیادہ قابلِ رسائی، مؤثر اور عوام دوست بنانا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے پھیلا ہے۔ یو پی آئی دنیا کے سب سے بڑے ریئل ٹائم ادائیگی نظاموں میں شمار ہوتا ہے جبکہ اسمارٹ فون اور 5G خدمات کی وسیع دستیابی نے ڈیجیٹل خدمات کو شہری اور دیہی علاقوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ اب کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک نمونہ بن چکا ہے اور متعدد ممالک اس ماڈل کے مختلف حصوں کو اپنانے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ڈیجیٹل توسیع کے ساتھ رازداری، ڈیٹا کے تحفظ اور شمولیت کے اصولوں کو یقینی بنانا بھی ضروری ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر انڈیا اسٹیک 3.0 اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا تو یہ نہ صرف بھارت کی ڈیجیٹل معیشت کو نئی رفتار دے سکتا ہے بلکہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک اہم مثال بھی بن سکتا ہے۔ #India #DigitalPublicInfrastructure
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
28
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
ریل، سڑک اور چِپ فیکٹریوں کے لیے بھارت کی سرکاری سرمایہ کاری پانچ برس میں دگنی نئی دہلی: بھارت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی کے منصوبوں پر اپنی سرکاری سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ریلویز، شاہراہوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور سیمی کنڈکٹر (چِپ) صنعت جیسے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے باعث ملک میں عوامی اخراجات تقریباً دگنے ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بھارت کو عالمی مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے مقصد سے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو ترجیح دی ہے۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں متعدد بڑے ریلوے منصوبے، مال برداری راہداریاں، صنعتی کوریڈورز اور چِپ سازی کے منصوبے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ سیمی کنڈکٹر شعبے میں بھی بھارت نے حالیہ برسوں میں اہم پیش رفت کی ہے۔ حکومت کی مراعاتی اسکیموں کے تحت متعدد چِپ مینوفیکچرنگ اور پیکیجنگ منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ گجرات، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں نئی تنصیبات قائم کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ منصوبوں کی تکمیل کی رفتار بھی بہتر ہوئی ہے اور تعطل کا شکار منصوبوں کی شرح گزشتہ کئی برسوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ اس سے نجی سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارت نے ترقی کے لیے انفراسٹرکچر پر مبنی حکمت عملی اپنائی ہے، جس کا مقصد نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط بنانا بلکہ عالمی سپلائی چینز میں اپنی حیثیت کو بھی مستحکم کرنا ہے۔ #India #Investment
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
23
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارتی کارکن مصنوعی ذہانت کو تربیت دے رہے ہیں، مگر خدشہ ہے کہ یہی ٹیکنالوجی ان کی ملازمتیں لے سکتی ہے نئی دہلی: بھارت میں ہزاروں کارکن مصنوعی ذہانت (AI) کے نظاموں کو تربیت دینے کے لیے ڈیٹا کی درجہ بندی، تصاویر کی شناخت، متن کی جانچ اور دیگر کام انجام دے رہے ہیں۔ یہ کارکن عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے AI ماڈلز کو زیادہ درست اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق AI صنعت کی تیز رفتار ترقی نے بھارت میں ڈیجیٹل کام کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، جہاں کم اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں افراد مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے لیے ضروری ڈیٹا تیار کرتے ہیں۔ تاہم ان میں سے بہت سے کارکن اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ جس ٹیکنالوجی کو وہ آج تربیت دے رہے ہیں، وہ مستقبل میں ان کی اپنی ملازمتوں کو غیر ضروری بنا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی سے بعض روایتی ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں، خاص طور پر وہ کام جو دہرائے جانے والے اور قواعد پر مبنی ہوں۔ دوسری جانب نئی ٹیکنالوجی سے اعلیٰ مہارتوں، نگرانی، پروگرامنگ اور AI انتظام سے متعلق نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت عالمی AI سپلائی چین میں ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں بڑی تعداد میں نوجوان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ تاہم مزدور حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں اجرت، روزگار کے تحفظ اور کام کے حالات سے متعلق سوالات اب بھی موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار پیش رفت کے ساتھ سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ کارکنوں کو نئی مہارتیں سکھا کر بدلتی ہوئی معیشت کے لیے تیار کیا جائے، تاکہ ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے فوائد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔ #India #AI
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
34
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بنگلہ دیش کی تاریخ ایک بار پھر نشانے پر؟ ماضی، شناخت اور قومی ورثے پر نئی بحث ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں قومی تاریخ، آزادی کی جدوجہد اور 1971 کی جنگِ آزادی سے وابستہ علامات کے حوالے سے ایک نئی بحث نے زور پکڑ لیا ہے۔ بعض مبصرین اور سیاسی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ ملک کی تاریخی شناخت اور جنگِ آزادی کے ورثے سے جڑی شخصیات، نعروں اور یادگاروں کو پس منظر میں دھکیلا جا رہا ہے، جس سے قومی تاریخ کے تحفظ کے بارے میں سوالات جنم لے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ عرصے میں متعدد تاریخی مقامات، سیاسی شخصیات سے منسوب اداروں اور جنگِ آزادی کی علامتوں کے حوالے سے فیصلوں نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے بنگلہ دیش کی نظریاتی بنیادوں اور آزادی کی جدوجہد کے تاریخی بیانیے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور اس کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ملک میں ادارہ جاتی اور آئینی اصلاحات کا عمل جاری ہے اور ان اقدامات کا مقصد قومی اداروں کی ازسرِ نو تشکیل اور سیاسی نظام میں بہتری لانا ہے۔ حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش کی سیاست میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کے بعد تاریخ، قومی شناخت اور ریاستی ڈھانچے کے مستقبل پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی قومی شناخت کا مرکز 1971 کی جنگِ آزادی اور اس سے وابستہ تاریخی ورثہ رہا ہے، اس لیے اس موضوع پر ہونے والی ہر پیش رفت ملک کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں گہری اہمیت رکھتی ہے۔ مبصرین کے مطابق تاریخ، قومی یادداشت اور سیاسی بیانیے کے گرد جاری یہ کشمکش آنے والے برسوں میں بھی بنگلہ دیش کی سیاست اور قومی مباحث کا ایک اہم موضوع بنی رہ سکتی ہے۔ #Bangladesh
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
41
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
گیس کی قلت نے بنگلہ دیش کے صنعتی خوابوں کو سست کر دیا ڈھاکہ: بنگلہ دیش کو قدرتی گیس کی مسلسل قلت کا سامنا ہے جس کے باعث ملک کے صنعتی شعبے کو شدید مشکلات درپیش ہیں اور نئی سرمایہ کاری کے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ گیس کی غیر یقینی فراہمی کے باعث فیکٹریوں کی پیداواری صلاحیت کم ہو رہی ہے جبکہ کئی منصوبوں کی توسیع بھی مؤخر کر دی گئی ہے۔ بنگلہ دیش کی معیشت کا بڑا حصہ قدرتی گیس پر انحصار کرتا ہے، تاہم مقامی پیداوار میں کمی اور درآمدی ایندھن کی بلند قیمتوں نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ حکام کو صنعت اور بجلی گھروں کے درمیان محدود گیس کی تقسیم کے لیے ترجیحات طے کرنا پڑ رہی ہیں، جس سے صنعتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں حکومت کو مہنگی اسپاٹ ایل این جی خریدنے پر مجبور ہونا پڑا تاکہ توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے صنعتی پیداوار کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بعض شعبوں کو گیس راشننگ اور بجلی کی بندشوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری، درآمدی بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور مقامی گیس کے ذخائر کی تلاش میں تیزی نہ لائی گئی تو بنگلہ دیش کے برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کے اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق قابلِ اعتماد توانائی کی فراہمی صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ناگزیر ہے۔ دوسری جانب حکومت توانائی کے متبادل ذرائع، طویل مدتی ایل این جی معاہدوں اور علاقائی توانائی تعاون کے ذریعے صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پائیدار حل کے بغیر ترقی کی رفتار برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ #IranWar #Bangladesh @rishi_suri
اردو
0
3
3
42
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
متنازع جنوبی بحیرۂ چین میں چینی پلیٹ فارم ہٹانے کا فلپائن کا مطالبہ منیلا: فلپائن نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متنازع اسکاربرو شول میں نصب ایک متحرک (موویبل) پلیٹ فارم کو فوری طور پر ہٹائے اور اس علاقے کو مصنوعی جزیرے میں تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش سے باز رہے۔ فلپائنی حکام کے مطابق یہ پلیٹ فارم چینی تحقیقی جہازوں کی جانب سے نصب کیا گیا معلوم ہوتا ہے اور اس پر اینٹینا سمیت دیگر سازوسامان موجود ہے۔ فلپائن کے محکمہ خارجہ نے اس معاملے پر چین کے خلاف باضابطہ سفارتی احتجاج بھی درج کرایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈھانچہ تقریباً 6 میٹر × 6 میٹر حجم کا ہے اور اس کی موجودگی نے خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ چین ماضی کی طرح اس علاقے میں مستقل تنصیبات قائم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ فلپائنی فوج کے سربراہ جنرل رومیو براونر نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک اسکاربرو شول کو ایک اور مصنوعی جزیرے یا فوجی اڈے میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے ماضی میں مِسچیف ریف پر چین کی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلپائن ایسی کسی پیش رفت کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔ دوسری جانب چین نے ایک بار پھر اسکاربرو شول پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ دہرایا ہے اور کہا ہے کہ وہاں ہونے والی سرگرمیاں، بشمول سائنسی تحقیق، اس کے جائز حقوق کے دائرے میں آتی ہیں۔ تاہم فلپائن کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور خطے میں استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔ جنوبی بحیرۂ چین میں چین اور فلپائن کے درمیان کشیدگی حالیہ برسوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے، جہاں دونوں ممالک سمندری حدود اور خودمختاری کے دعووں پر آمنے سامنے ہیں۔ #China #Philippines
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
47
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
چین میں جانوروں پر تشدد کے خلاف نایاب احتجاج، عوامی تحریکوں کے خوف پر نئی بحث بیجنگ: چین میں جانوروں پر مبینہ تشدد کے خلاف ہونے والے ایک غیر معمولی عوامی احتجاج نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ چینی حکام کسی بھی ایسی عوامی مہم یا اجتماعی تحریک سے کیوں محتاط رہتے ہیں جو بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل کر سکتی ہو۔ رپورٹ کے مطابق جانوروں کے حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں نے حالیہ واقعات پر شدید ردِعمل ظاہر کیا، جس کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر وسیع بحث اور محدود عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین میں بڑے عوامی اجتماعات اور منظم احتجاج نسبتاً کم دیکھنے میں آتے ہیں، کیونکہ حکومت ایسے اجتماعات کو سماجی استحکام کے لیے ممکنہ چیلنج تصور کرتی ہے۔ اسی وجہ سے حکام اکثر ان سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں جو وسیع عوامی حمایت حاصل کر سکتی ہوں۔ رپورٹ کے مطابق جانوروں کے حقوق کا معاملہ سیاسی نوعیت کا نہیں تھا، تاہم اس نے مختلف طبقات کے لوگوں کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت آواز اٹھانے کا موقع فراہم کیا۔ مبصرین کے مطابق یہی پہلو چینی حکام کے لیے حساسیت کا باعث بنتا ہے، کیونکہ ماضی میں بھی بعض سماجی اور عوامی مسائل بڑے عوامی احتجاجی مظاہروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین میں عوامی شکایات اور احتجاج مکمل طور پر ناپید نہیں ہیں، لیکن حکومت کی ترجیح یہ رہتی ہے کہ کسی بھی عوامی مہم کو وسیع اور منظم تحریک کی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی محدود رکھا جائے۔ #China #AnimalAbuse
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
31
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
برازیل بھارت کے لیے نایاب معدنیات کا اہم ذریعہ بن کر ابھرنے لگا ساؤ پاؤلو: برازیل بھارت کے لیے ریئر ارتھ (نایاب معدنیات) کا ایک اہم ذریعہ بن کر سامنے آ رہا ہے، جو توانائی کی منتقلی، الیکٹرک گاڑیوں، سیمی کنڈکٹر صنعت اور دیگر جدید ٹیکنالوجی شعبوں میں بھارت کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے بھارت کو ان اہم معدنیات کے لیے چین پر انحصار کم کرنے کا موقع ملے گا۔ رپورٹ کے مطابق برازیل کے پاس تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ٹن ریئر ارتھ ذخائر موجود ہیں، جو دنیا میں چین کے بعد دوسرے بڑے ذخائر شمار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ برازیل کے پاس دنیا کے تقریباً 26 فیصد گریفائٹ ذخائر، 90 فیصد سے زیادہ نیوبیم اور نکل، لیتھیم و تانبے کے بھی بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ بھارت اور برازیل نے فروری 2026 میں برازیلی صدر Luiz Inácio Lula da Silva کے دورۂ بھارت کے دوران نایاب معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ دونوں ممالک سرمایہ کاری، تلاش، کان کنی اور اہم معدنیات کی سپلائی چین کے شعبوں میں اشتراک بڑھا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق چین اس وقت عالمی ریئر ارتھ پروسیسنگ کے تقریباً 90 فیصد حصے پر حاوی ہے، اسی لیے بھارت متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے۔ برازیل کے علاوہ بھارت چلی، ارجنٹینا، پیرو اور وینزویلا جیسے جنوبی امریکی ممالک کے ساتھ بھی اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھا رہا ہے۔ یہ پیش رفت بھارت کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اہم معدنیات کی محفوظ اور متنوع سپلائی چین قائم کرنا اور مستقبل کی دفاعی، صنعتی اور ہائی ٹیک ضروریات کے لیے خام مال کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔ #India #Brazil #RareEarthMinerals @BrazilEmbassyIN
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
48
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارتی فوج کو 106 پیس کیپر کامی کازی ڈرونز مل گئے نئی دہلی: دہلی کی دفاعی کمپنی SMPP نے بھارتی فوج کو 106 پیس کیپر، اگنیوگ، ٹربو جیٹ پاورڈ لوئٹرنگ میونیشنز فراہم کر دیے ہیں۔ ان میں 100 آپریشنل یونٹس اور 6 تربیتی سسٹمز شامل ہیں۔ ایشیا نیٹ نیوز ایبل کے مطابق یہ یک طرفہ حملہ کرنے والے کامی کازی ڈرونز 180 کلومیٹر تک اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور 450 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار رکھتے ہیں۔ آزمائشوں کے دوران ان کی درستگی پانچ میٹر سے کم CEP کے ساتھ ریکارڈ کی گئی، وہ بھی جیمِنگ اور GPS اسپوفنگ جیسے مشکل الیکٹرانک ماحول میں۔ رپورٹ کے مطابق یہ شمولیت بھارتی فوج کی مقامی ڈرون صلاحیتوں میں اہم اضافہ ہے۔ آپریشن سندور کے بعد فوج نے 5,000 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے مقامی لوئٹرنگ میونیشنز، کامی کازی اور نگرانی ڈرونز شامل کیے ہیں، جبکہ مزید 3,000 کروڑ روپے کی خریداری کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ #India #Drones
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
49
The Daily Milap
The Daily Milap@TheDailyMilap·
بھارت۔امریکہ تجارت 2030 تک 500 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے: رپورٹ نئی دہلی: ایک نئی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارت 2030 تک 500 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، بشرطیکہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری اور سپلائی چین تعاون کے شعبوں میں موجود مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔ تجارت، ٹیکنالوجی، دفاع، توانائی، مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل خدمات جیسے شعبے دوطرفہ تعاون کے اہم ستون بن کر ابھرے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت، مضبوط صارف منڈی، ڈیجیٹل تبدیلی اور مینوفیکچرنگ صلاحیتوں میں اضافہ امریکی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے، جبکہ امریکی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی بھارت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر دونوں ممالک تجارتی رکاوٹوں میں کمی، سپلائی چین کے انضمام، سرمایہ کاری کے فروغ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون کو مزید وسعت دیں تو دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، کلین انرجی، خلائی ٹیکنالوجی، بائیو ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ کو مستقبل میں تعاون کے اہم شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ شعبے نہ صرف تجارت بلکہ روزگار، اختراع اور اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دیں گے۔ مبصرین کے مطابق بھارت اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری اقتصادی تعلقات کو مزید تقویت دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک آنے والے برسوں میں عالمی معیشت کے اہم شراکت داروں کے طور پر مزید قریب آ سکتے ہیں۔ #India #USA @USAndIndia @USAmbIndia
The Daily Milap tweet media
اردو
0
3
3
39