고정된 트윗

ہزار دن…
جی ہاں، پورے 1000 دن کی قید۔۔۔ایک ایسے شخص کے لیے جس نے اقتدار سے زیادہ قوم کی خودداری کو اہم سمجھا۔
قیدِ تنہائی، پابندیاں، کردار کشی، مقدمے، دھمکیاں… مگر نہ سر جھکا، نہ لہجہ بدلا، نہ مؤقف بکا۔
Imran Khan نےیہ ثابت کر دیا کہ
“آزادی کبھی مفت نہیں ملتی،
اس کی قیمت ہمیشہ کوئی ایک شخص اپنی تنہائی، سکون اور قربانی سے ادا کرتا ہے۔”
یہ صرف ایک انسان کی قید نہیں،
یہ ایک سوچ کو دیواروں میں بند کرنے کی کوشش ہے۔
وہ سوچ جو کہتی ہے کہ پاکستان چند خاندانوں، طاقتور اشرافیہ اور بند کمروں کے فیصلوں کی جاگیر نہیں —
بلکہ عام لوگوں کی امید، ووٹ اور حقِ خودارادیت کا نام ہے۔
المیہ صرف ظلم نہیں،
المیہ یہ بھی ہے کہ ایک قوم خوف، مجبوری، روزگار، مہنگائی اور بے بسی کے بوجھ تلے اتنی دب گئی کہ سچ بولنا بھی خطرہ بن گیا۔
کچھ خاموش ہیں کیونکہ ڈرے ہوئے ہیں،
کچھ خاموش ہیں کیونکہ تھک چکے ہیں،
اور کچھ اس لیے کہ انہیں یقین نہیں رہا کہ ان کی آواز کچھ بدل سکتی ہے۔
مگر تاریخ ہمیشہ گواہ رہتی ہے:
طاقت کے ایوان وقتی ہوتے ہیں،
مگر اصول پر کھڑا انسان وقت سے بڑا ہو جاتا ہے۔
1000 دن بعد بھی اگر ایک قیدی کروڑوں دلوں میں زندہ ہے،
تو اس کا مطلب ہے کہ زنجیریں صرف جسم کو روک سکتی ہیں، خیال کو نہیں۔
“وہ لوگ کبھی تاریخ نہیں بدلتے
جو ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں۔
تاریخ ہمیشہ وہ لکھتے ہیں
جو سچ کے ساتھ کھڑے رہنے کی قیمت ادا کرتے ہیں۔”
یہ جدوجہد صرف عمران خان کی نہیں رہی،
یہ انصاف، ووٹ کی حرمت، آئین، آزادیِ اظہار اور ایک آزاد پاکستان کی جنگ بن چکی ہے۔
اور شاید آنے والی نسلیں پوچھیں گی:
جب ایک شخص تنہا کھڑا تھا…
تب قوم کہاں کھڑی تھی ؟
آپ کہاں کھڑے تھے؟
#چلو_چلو_اڈیالہ_چلو
اردو
























