Waseem Jaffar 리트윗함

5 کروڑ بمقابلہ 4 لاکھ کا نعرہ لگا دینا معاشی دلیل نہیں بنتا۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی 1.5٪ نیٹ میٹرنگ صارفین نے باقی 98٪ کا بل بڑھایا یا اصل مسئلہ capacity payments، لائن لاسز، اور سرکلر ڈیٹ ہے؟
آپ کہتے ہیں 5–7 روپے کی سولر بجلی 40 روپے سے ایڈجسٹ ہو رہی تھی۔
مگر یہ نہیں بتاتے کہ وہ صارف اپنی جیب سے سرمایہ لگا رہا تھا، فیول امپورٹ کم کر رہا تھا، اور دن کے وقت گرڈ کی peak demand کم کر رہا تھا جس سے سسٹم کو فائدہ تھا۔
اگر 4 لاکھ صارفین واقعی 3 کروڑ لوگوں پر سالانہ 200 ارب کا بوجھ ڈال رہے تھے، تو سیدھا سوال ہے:
کیا اب بل کم ہوں گے؟
اگر نہیں، تو مسئلہ سولر نہیں تھا۔
آپ بیرونِ ملک مثالیں دیتے ہیں۔
وہاں T&D losses 7–8٪ ہیں۔
ہمارے ہاں 17–18٪ ہیں۔
وہاں collection بہتر ہے۔
یہاں اربوں کی چوری ہے۔
وہاں IPP جیسے 25 سالہ گارنٹیڈ کیپیسٹی ماڈل نہیں۔
یہاں کھربوں کی ادائیگیاں جاری ہیں چاہے بجلی لی جائے یا نہ لی جائے۔
حالات مختلف ہوں تو مثالیں بھی مختلف ہونی چاہئیں۔
آپ کہتے ہیں “ایلیٹ” فائدہ اٹھا رہے تھے۔
ایلیٹ وہ نہیں جو اپنی جمع پونجی سے سولر لگائے۔
ایلیٹ وہ ہے جو گارنٹیڈ معاہدوں، مراعات اور سبسڈی سے محفوظ رہے چاہے نظام خسارے میں ہو۔
اور “ایکسپورٹ کیوں کرتے ہیں؟” کا سوال بھی ادھورا ہے۔
نیٹ میٹرنگ بجلی بیچنے کا بزنس نہیں تھا۔
وہ یونٹ ایڈجسٹمنٹ تھا تاکہ دن کی اضافی پیداوار ضائع نہ ہو۔
حکومت نے وہ بجلی لی کیونکہ اسے ضرورت تھی۔
اگر ضرورت نہیں تھی تو کنکشن منظور کیوں کیے؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب سسٹم کی ساختی کمزوریاں درست نہ ہوں تو سب سے آسان ہدف صارف بنتا ہے۔
اور ریفارم وہ نہیں ہوتا جو کمزور فریق پر لاگو ہو ۔ ریفارم وہ ہوتا ہے جو نظام کی جڑ پر ضرب لگائے ۔
Awais Leghari@akleghari
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمدخان کا سینٹ میں نیٹ میٹرنگ پالیسی کے متعلق خطاب۔
اردو























