
#StayAboveInfluence
47.4K posts



@alihaider66642 @hashmist @Tsundere789 End of the day it was an illegal construction & he used his powers to change CDA Master plan to regularize it. He also openly admitted changing 5 DIGs in Punjab for his sister’s land dispute. He’s a one of the dirtiest corrupt politician Pakistan have ever known.



















اعجاز الاحسن ۔۔ میسرز BNPکےاوربینک آف پنجاب دونوں کےقانونی مشیر تھے۔جس وقت قرض اپرووہوا۔ میسرزBNP نےBOP سے قرض مانگا ان کے وکیل اعجازالاحسن۔ بینک آف پنجاب نےاپنے وکیل سے قانونی رائے لی ۔ وکیل اعجاز الاحسن۔ انھوں کے کہا دے دو قرض دے دیا۔ کیس آگیا تو سننے بیٹھ گئے بطور جج


میں نے 18/19 سال ان تاریخی کاغذات کو سنبھال کر رکھا۔ مستعفی جسٹس اعجاز الاحسن صاحب کا گرینڈ حیات سکینڈل کی بابت وہ تاریخی ڈاکومنٹ جو انہیں جیل تک لے جا سکتا ہے، بشرطیکہ یہ کہ حکومت اور ریاست نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون کی بالادستی قائم کرنا چاہے۔

میں بڑا حیران ہوتا ہوں کہ حقائق معلوم کیے بغیر لوگ اپنا نقطۂ نظر بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ رائے رکھنا ہر شخص کا حق ہے، مگر غلط بات کو حقیقت بنا کر پیش کرنا کسی صورت درست نہیں!! میں نے اس معاملے کو غور سے دیکھا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن اگر کسی بینک یا کمپنی کے حوالے سے کوئی قانونی رائے دیتے رہے ہوں تو کیا اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ انہوں نے اسی کیس کی وکالت کی؟ کیا واقعی وہ اس معاملے میں فریق کے وکیل تھے؟ Conflict of Interest کا اصول اس طرح لاگو نہیں ہوتا۔ Bias ثابت کرنے کے لیے واضح، ٹھوس اور قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے، اور اس حوالے سے بے شمار عدالتی فیصلے موجود ہیں!! جسٹس اعجازالاحسن کو بے بنیاد تنقید کا نشانہ بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اگر آئین اور قانون کی بات کرنی ہے تو پھر دلیل، ریکارڈ اور قانون کے مطابق بات کریں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس وقت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کٹہرے میں ہیں، اور کچھ لوگ توجہ دوسری طرف موڑنا چاہتے ہیں۔ مگر جنابِ اعلیٰ، توجہ نہیں ہٹ رہی!! چیلنج قبول کریں اور بتائیں: اگر وہ فیصلہ غلط تھا تو اسے کہاں اور کس فورم پر چیلنج کیا گیا؟ محض الزامات لگا کر، حقائق کو توڑ مروڑ کر اور قانونی اصولوں کو غلط انداز میں بیان کر کے کوئی مقدمہ ثابت نہیں کیا جا سکتا!! جسٹس اعجازالاحسن ایک بڑے جج ہیں۔ ان کا عدالتی مقام، قانونی فہم اور فیصلوں کا معیار اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ان سے موازنہ بھی دور دور تک بنتا نظر نہیں آتا!! اصل بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کو شاید اس لیے پریشانی ہو رہی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اب سنجیدہ قانونی سوالات کی زد میں آ چکے ہیں۔ مگر توجہ ہٹانے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔ اب ضروری ہے کہ ہر سوال کا جواب حقائق، قانون اور ریکارڈ کی بنیاد پر دیا جائے!! بحث اگر آئین اور قانون کی ہو تو اسے ذاتیات یا الزام تراشی کی طرف لے جانے کے بجائے دلیل اور شواہد کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے، کیونکہ آخرکار حقیقت ہی سامنے آتی ہے!! @KhalidHusainTaj @surrakimuhammad @QayyumReports @ShahidAslam87





