




Abdullah Jan Sabir
2.9K posts

@AbdullahJanSab1
Anchorperson/Journalist | Gold-medalist in journalism | Documentarian| Independent writer | Work in Tribals KP








افغانستان میں ایک بار پھر پراکسیز متحرک ہوچکی ہیں۔را،این ڈی ایس،سی آئی اے اور موساد کے اہلکاروں پر مشتمل کمیٹیاں بنائی گئی ہیں تجزیہ:عبداللہ جان صابر (صحافی) افغانستان میں امارت اسلامیہ کے قیام کے بعد یہ تاثر عام تھا کہ اب افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، جیسے ہی افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا ہوا اور پاکستان کے حوالے سے افغان طالبان کا موقف سامنے آگیا تو پاکستان مخالف ممالک اور انکی خفیہ ایجنسیوں نے بھی اپنی فریبی چال کامیاب بنانے کیلئے طریقہ کار بدلنے پر کام شروع کردیا تاکہ افغانستان کے موجودہ سیٹ اپ میں رہ کر پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری رکھیں۔ مستند ذرائع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سی آئی اے ،را، این ڈی ایس اور موساد پر مشتمل مختلف کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جن کا کام افغانستان میں القاعدہ،داعش،ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کو فعال بنانا اور نئے دہشتگرد تنظیموں کا قیام ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹیوں کی صرف تشکیل نو کی گئی ہے باقی ماضی اور حال کے مقاصد ایک جیسے ہیں۔ ان کے مقاصد میں خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں انتشار پھیلانا، پاکستانی عوام کو پاک فوج کے خلاف بدظن کرنا،سی پیک کو سبوتاژ کرنا،بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں لسانیت اور قوم پرستی کو فروغ دینا،پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیاں اور ہائیبرڈ وار فیئر کے ذریعے پاکستان کو تقسیم کرنا شامل ہیں جن پر باقاعدہ طور پر کام کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ اسطرح کی کمیٹیاں ماضی میں بھی بنی تھیں جن کا ذکر تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان بھی کیا تھا کہ را، این ڈی ایس اور سی آئی اے پر مشتمل کمیٹیاں ہمیں محفوظ راستہ فراہم کرتی تھیں جن کی وجہ سے ہمیں سفر میں مشکلات اور مالی کمی کا کبھی بھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ چونکہ پاکستان اور افغانستان کے لوگ مذہب، قوم پرستی اور پیسے کے سامنے فطری طور پر بےبس ہیں لہذا ان تین عناصر کی مدد سے افغانستان میں موجود کمیٹیوں کے ذریعے اپنے مقاصد کیلئے سرگرم ہیں دوسری وجہ پاکستان میں سیاستدانوں کا منفی کردار ہے جو اپنی کرسی بچانے کیلئے نہ افغانستان میں موجود پراکسیزکے شیطانی حربوں کو کاونٹر کرنے کیلئے اداروں کیساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور نہ ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا ادراک رکھتے ہیں بلکہ الٹا عوام کو سیکیورٹی اداروں کے خلاف کھڑا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مختصر یہ کہ پاکستان کے سیاستدان، میڈیا اور عوام افغانستان میں متحرک پراکسیز کو کمزور نہ سمجھیں کیونکہ یہی پراکسیز اب نئی حکمت عملی کیساتھ پاکستان پر حملہ اور ہونے کیلئے تیار ہیں لہذا تنقید اور منفی پراپیگنڈوں کے بجائے سیکیورٹی اداروں کا حوصلہ بڑھائے۔










پاکستان کے معروف عالم دین مولانا شیخ ادریس کی شہادت ایک عظیم صدمہ ہے،علماء شیخ ادریس صاحب کی شہادت اس بات کی گواہی ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کا نظام مفلوج ہوچکا ہے شہید شیخ ادریس صاحب کو اپنے ملک کیساتھ محبت کی سزا دی گئی،اگر ملک کیساتھ وفاداری اور امن کیلئے آواز اٹھانا جرم ہے تو ہم سارے علماء یہ جرم کرتے رہیں گے آج پاکستان کے ہر گھر میں ماتم ہے کیونکہ شہید شیخ ادریس کے شاگرد پورے پاکستان میں موجود ہیں



