AhmaD MudabiR retweetledi
AhmaD MudabiR
9.8K posts

AhmaD MudabiR
@Ahmadmudabir
Love For All Hatred For None
Living In My Own World Katılım Ekim 2011
245 Takip Edilen918 Takipçiler
AhmaD MudabiR retweetledi

#GOLD AND AN #OLYMPICRECORD! 🇵🇰
Arshad Nadeem shines, earning #gold for Pakistan in men's javelin throw.
@NOCPakistan | @worldathletics | #Athletics
#Paris2024 | #Samsung | #TogetherforTomorrow
English
AhmaD MudabiR retweetledi

کیا واقعی سپریم کورٹ نے قادیانیت کے حوالے سے کوئی ایسا فیصلہ دیا؟
حقیقت کیا ہے؟
قادیانی شہری کو سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کا کیس:
فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :
ملزم کے خلاف مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ C-295, 298 اور پنجاب کے اشاعت قرآن ایکٹ کے دفعہ سات اور نو کے تحت چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو اس وجہ سے ایف آئی آر درج کرائی جاتی ہے کہ ملزم پر یہ الزام تھا کہ وہ قادیانی مذہب کی مشہور تفسیر " تفسیر صغیر " کی تقسیم میں ملوث ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ملزم پر بنیادی طور پر تین الزامات تھے جو کہ زیل ہیں :
الف ) پنجاب قرآن ( پرنٹنگ اینڈ ریکارڈنگ ) ایکٹ دو ہزار دس کے دفعہ سات اور نو کے تحت تفسیر صغیر کی تقسیم کا الزام۔
ب ) مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو پچانوے-بی کے تحت توہین قرآن کا الزام۔
ج ) مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو اٹھانوے-سی کے تحت قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا خود کو مسلمان ظاہر کرنے کا الزام۔
مندرجہ بالا الزامات کے تحت چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بالآخر ملزم کو سات جنوری دو ہزار تئیس کو گرفتار کر دیا جاتا ہے جس کے بعد بالترتیب دس جون اور ستائیس نومبر کو ایڈیشنل سیشن جج اور لاہور ہائی کورٹ سے ملزم کی ضمانت خارج کردی جاتی ہے جس کے بعد اس کیس کی ابتدا سپریم کورٹ میں ہوتی ہے اور سپریم کورٹ میں یہ کیس چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب اور جسٹس مسرت ہلالی صاحبہ پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے مقرر ہوتا ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
نوٹ :یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے اس کیس میں دو سوالات تھے جن میں پہلا تو ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست تھی اور دوسرا معاملہ ملزم پر جو فرد جرم عائد کیا گیا تھا تو اس فرد جرم سے مختلف جرائم کو حذف کرنے کی درخواست تھی۔
سپریم کورٹ میں اس کیس کی ابتدا ملزم کے وکیل کی جانب سے دلائل پر ہوا جو کہ زیل ہیں:
ملزم کے وکیل نے پہلا نکتہ یہ اٹھایا کہ ملزم کے خلاف چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو جو ایف آئی آر کاٹی گئی ہے تو اس کے مطابق ملزم نے پر الزام یہ ہے کہ اس نے دو ہزار انیس میں تفسیر صغیر تقسیم کیا ہے جو کہ پنجاب کے اشاعت قرآن قانون کے تحت جرم ہے لیکن یاد رہے کہ ایسی کوئی تفسیر تقسیم کرنے پر پابندی دو ہزار اکیس میں لگی ہے یعنی اگر دو ہزار اکیس کے بعد اگر کوئ ایسی تفسیر تقسیم کرے گا تو وہ جرم کے ضمرے میں آئے گا تو یہاں پر دو مسئلے آئے۔ پہلا تو یہ کہ ملزم پر الزام یہ تھا کہ اس نے تفسیر صغیر دو ہزار انیس میں تقسیم کی ہے تو تب یہ جرم نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ فوجداری مقدمات میں مقدمہ بروقت دائر کرنا بہت زیادہ اہمیت کا متقاضی ہوتا ہے لیکن اس کیس میں دو ہزار انیس کے الزام کی بابت ایف آئی آر دو ہزار بائیس کے آخر میں درج کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس حوالے سے آئین پاکستان کا آرٹیکل بارہ نہایت ہی واضح ہے جو کہ صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ کسی کو بھی کسی ایسے جرم کی سزا نہیں دی جا سکتی کے کرتے وقت وہ کام کسی قانون کے تحت جرم کی تعریف میں نہ ہو تو اس لئے چونکہ تفسیر صغیر دو ہزار انیس میں تقسیم کرنا جرم نہیں تھا تو اس لئے پنجاب اشاعت قرآن قانون کے تحت ملزم کے خلاف فرد جرم نہیں عائد کیا جا سکتا تھا۔
تفسیر صغیر کی تقسیم کا معاملہ واضح کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے بقیہ دو الزامات یعنی توہین قرآن اور خود کو مسلمان ظاہر کرنا تو اس حوالے سے ملزم کے خلاف نہ تو ایف آئی آر اور نہ ہی پولیس کے چالان میں مندرجہ بالا الزامات کے بابت کوئ بات ہے، اس وجہ عدالت نے مندرجہ بالا دونوں دفعات فرد جرم سے حذف کرنے کا فیصلہ کیا۔
سپریم کورٹ کے سامنے چونکہ دو سوالات تھے تو پہلا معاملہ واضح کرنے کے بعد فیصلے میں قرآن مجید کے مندرجہ ذیل آیات کا حوالہ دیا گیا ہے:
الف ) سورة البقرة کی آیت نمبر دو سو چھپن۔
ب ) سورة الرعد کی آیت نمبر چالیس۔
ج ) سورة یونس کی آیت نمبر ننانوے۔
سپریم کورٹ نے اس کے بعد ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کا رخ کیا ہے جس کا آغاز سپریم کورٹ نے یوں کیا ہے کہ ملزم پر فرد جرم تو فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ انیس سو بتیس کے دفعہ پانچ کے تحت تو عائد نہیں کی گئ لیکن ایف آئی آر اور چالان کے مندرجات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے یہ مندرجہ بالا دفعہ کے تحت جرم کیا ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا چھ مہینے ہے اور ملزم نے پہلے سے ہی تقریباً تیرہ ماہ سے جیل میں ہے تو اس لئے عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلے کے آخر میں نہایت ہی اہم بات لکھی ہے کہ اس طرح کے کیسز کا بنیادی تعلق کسی عام آدمی یا اس کی پراپرٹی کے ساتھ نہیں بلکہ ریاست کے ساتھ ہے۔
تحریر: ذوالقرنین ایڈوکیٹ - ٹیم ممبر قانون دان
اردو

@ahmadrizwan03 @YannickBolasie Hahaha
England wale to follow krte e hen cricket
English

@YannickBolasie @Ahmadmudabir enu ki hoya e 😂 a kehri line cho aa gya a🤭
Punjab, Pakistan 🇵🇰 Indonesia

Noor Alam khan spotted on the roads of PESHAWAR 😂
#PeshawarJalsa
#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
#Yeh_Bik_Gai_MQM #Vigo
English

@Ahmadmudabir tyari @ManCity ki karaye aur ppr main @ManUtd dal diya 🥴😂
Btw it's a good move @Cristiano
Manchester United@ManUtd
Welcome 𝗵𝗼𝗺𝗲, @Cristiano 🔴 #MUFC | #Ronaldo
Punjab, Pakistan 🇵🇰 English

The start Pakistan wanted!
Rassie van der Dussen has been cleaned up by Hasan Ali with his third ball of the day.
South Africa are 127/2 👀
#PAKvSA ➡️ bit.ly/PakvSA2

English

PSL Anthem ko wo bhe gaalian de rahay hain jinhen yeh bhe nahe pata k yeh football league hai ya volleyball league.🥴
#psl6anthem
Punjab, Pakistan 🇵🇰 Filipino

🗣| @JOYPAULIAN on Messi’s next club:
“I will be very surprised if he doesn’t end up at Manchester City.”
[@CBSSportsHQ]
English

[🎥@EsportsRAC1 ]
💥🚨 #BartomeuDimision : Some Barça fans are demanding Bartomeu's resignation in front of the club's offices after learning that Messi has announced to leave
English

@ahmadrizwan03 Kia ho gea tm to gam me pagal hi ho gae ho. Hosh kro
English

@Ahmadmudabir Gujjar on Twitter instead of "majjan da wara".... Oops🥴🥴
Eesti













