Ali Muhammad Khan
56.5K posts

Ali Muhammad Khan
@Ali_MuhammadPTI
SON OF SOIL & Proud Pakistani 🇵🇰💚 مری زمین مرا آخری حوالہ ہے MNA, Former State Minister Pakistan, Member PTI. Advocate, Civil Engineer, BSc Computer Science.

مولانا صاحب بصد احترام آپ کا بہت احترام ہے۔ آپ کی حالیہ تقریر میں بہت سی باتیں شاید صحیح بھی ہونگیں۔ لیکن معزرت کیساتھ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ رجیم چینج کے دوران ایک منتخب سیاسی حکومت کے خلاف ظالم کا ساتھ دے کر آج آپ اسی ظالم پہ تنقید کرنے کا حق کھو چکے ہیں۔

سچ کی ایک قیمت ہے اور یہ قیمت چکانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ بھیڑ میں اکیلے کھڑے رہنے کا دم ہے تو سچ بولو۔ کلیجہ چیر کہ رکھ دے ایسے زہریلے طنز کے نشتر سہنے کا حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ کبھی 174 کے مقابل اکیلے کھڑا رہنا پڑے گا تو کبھی حق کی خاطر اپنے آپ کو سزائے موت کی چکیوں میں تنہا پاؤگے۔ حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ حق رکھتے ہوئے حق تلفی ہوگی۔ برداشت کر سکتے ہو تو سچ بولو۔ نطریہ کی خاطر سر کی قیمت پہ لیڈر کیساتھ وفا نبھاؤ۔ وفا نبھا کے بھی غدَار ٹھرے تو سچ بولو۔ کبھی دین کی خاطر کبھی ملک کی خاطر اور کبھی لیڈر تو کبھی اپنے نظریہ کی خاطر حق بات پہ ڈٹ جانے کا جگرا ہے تو سچ بولو۔ اگر تم میں صبر ہے ۔۔۔ تو سچ بولو !

سچ کی ایک قیمت ہے اور یہ قیمت چکانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ بھیڑ میں اکیلے کھڑے رہنے کا دم ہے تو سچ بولو۔ کلیجہ چیر کہ رکھ دے ایسے زہریلے طنز کے نشتر سہنے کا حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ کبھی 174 کے مقابل اکیلے کھڑا رہنا پڑے گا تو کبھی حق کی خاطر اپنے آپ کو سزائے موت کی چکیوں میں تنہا پاؤگے۔ حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ حق رکھتے ہوئے حق تلفی ہوگی۔ برداشت کر سکتے ہو تو سچ بولو۔ نطریہ کی خاطر سر کی قیمت پہ لیڈر کیساتھ وفا نبھاؤ۔ وفا نبھا کے بھی غدَار ٹھرے تو سچ بولو۔ کبھی دین کی خاطر کبھی ملک کی خاطر اور کبھی لیڈر تو کبھی اپنے نظریہ کی خاطر حق بات پہ ڈٹ جانے کا جگرا ہے تو سچ بولو۔ اگر تم میں صبر ہے ۔۔۔ تو سچ بولو !

سچ کی ایک قیمت ہے اور یہ قیمت چکانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ بھیڑ میں اکیلے کھڑے رہنے کا دم ہے تو سچ بولو۔ کلیجہ چیر کہ رکھ دے ایسے زہریلے طنز کے نشتر سہنے کا حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ کبھی 174 کے مقابل اکیلے کھڑا رہنا پڑے گا تو کبھی حق کی خاطر اپنے آپ کو سزائے موت کی چکیوں میں تنہا پاؤگے۔ حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ حق رکھتے ہوئے حق تلفی ہوگی۔ برداشت کر سکتے ہو تو سچ بولو۔ نطریہ کی خاطر سر کی قیمت پہ لیڈر کیساتھ وفا نبھاؤ۔ وفا نبھا کے بھی غدَار ٹھرے تو سچ بولو۔ کبھی دین کی خاطر کبھی ملک کی خاطر اور کبھی لیڈر تو کبھی اپنے نظریہ کی خاطر حق بات پہ ڈٹ جانے کا جگرا ہے تو سچ بولو۔ اگر تم میں صبر ہے ۔۔۔ تو سچ بولو !

تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔

After Jinnah, finally we got a leader who truly loved Pakistan and its people selflessly & gave all his life to make a win for his motherland. May that be in the field of sports, philanthropy or politics. A man who wanted nothing out of politics for himself & thought only of his people and his country. Look what we do to him. He is behind bars for over a 1000 days. He is but a mere mortal. انسان کا کیا ہے آج ہے کل نہیں Don’t lose him to the iron bars of jail. Let him come out and serve this nation before it’s too late ! He is an asset for this country, the only leader who can unite these disoriented and scattered people of Pakistan into ONE NATION. Make use of him ! He is IMRAN KHAN he is PAKISTAN KHAN. Release @ImranKhanPTI


سچ کی ایک قیمت ہے اور یہ قیمت چکانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ بھیڑ میں اکیلے کھڑے رہنے کا دم ہے تو سچ بولو۔ کلیجہ چیر کہ رکھ دے ایسے زہریلے طنز کے نشتر سہنے کا حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ کبھی 174 کے مقابل اکیلے کھڑا رہنا پڑے گا تو کبھی حق کی خاطر اپنے آپ کو سزائے موت کی چکیوں میں تنہا پاؤگے۔ حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ حق رکھتے ہوئے حق تلفی ہوگی۔ برداشت کر سکتے ہو تو سچ بولو۔ نطریہ کی خاطر سر کی قیمت پہ لیڈر کیساتھ وفا نبھاؤ۔ وفا نبھا کے بھی غدَار ٹھرے تو سچ بولو۔ کبھی دین کی خاطر کبھی ملک کی خاطر اور کبھی لیڈر تو کبھی اپنے نظریہ کی خاطر حق بات پہ ڈٹ جانے کا جگرا ہے تو سچ بولو۔ اگر تم میں صبر ہے ۔۔۔ تو سچ بولو !

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِل اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا۔ اور کہہ دیجئے (میرے حبیب ﷺ ) کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بےشک باطل کو مٹنا ہی تھا اب جب یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح و عیّاں ہو گئی کہ یہ ٹویٹ جو کہ میری اپنی بات بھی نہیں بلکہ ہمارے لیڈر جناب عمران خان صاحب کی بات ہے کہ بغیر میرٹ کے : ”تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں“ جب یہ واضح ہوگیا یہ ٹویٹ کسی خاص سیاسی یا غیر سیاسی شخصیت یا کسی فیملی ممبر کے حوالہ سےنہیں بلکہ پارٹی کی جنرل پالیسی کے حوالہ سے صرف سیاسی قیادت کیلئے تھی۔ جو کہ 11 دن پہلے 1 جولائی 2026 کو پارٹی کے سیاسی امور عمران خان کے وژن کے مطابق چلانے کے حوالہ سے کی گئی ٹویٹ سے متعلق تھی تو وہ خواتین و حضرات جنہوں نے بغیر تحقیق کے اور بغیر میری 1 جولائی والی ٹویٹ پڑھے تنقید برائے تنقید کی یا گالم گلوچ کیا یا کروایا اب بات مکمل طور پہ واضح ہونے کے بعد کیا اخلاقی قدروں کا مظاہرہ کرتے ہوئے معزرت کرنا پسند فرمائیں گے ؟ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ یاد رکھیے عزت و ذلت کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں رب ذوالجلال کے ہاتھ میں ہے جو تمام عزتوں اور ذلتوں کا مالک ہے۔ جو کسی کے ایجنڈے پہ ہیں ان سے مخاطب نہیں میرے مخاطب وہ بھائی اور بہنیں ہیں جن کو آدھا سچ بتا کر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ بات انشاءاللّٰہ ریکارڈ پہ رہ جائے گی کہ جب لیڈر جیل میں بند تھا اور سب خاموش تھے اور کسی ڈر کے مارے سچی بات کرنے سے کتراتے تھے تو تحریک انصاف کا ایک ادنی کارکن علی محمد موجود تھا جس کو اللّٰہ نے ہمت دی تھی کہ وہ ہر سیاسی معاملہ پہ لوگوں کو اپنے لیڈر عمران خان کی بات اور اُصول ڈنکے کی چوٹ پہ بلا خوفِ تنقید و جھجھک برملا بیان کرتا تھا۔ جو خواتین و حضرات موروثی سیاست نہیں کررہے ان کو میرے اس بیان سے پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں اور بیان بھی میرا نہیں خان صاحب کا ہے۔ حیران ہوں کہ چند لوگوں کو ہمارے لیڈر جناب عمران خان صاحب کی موروثی سیاست والی یہ بات اتنی بری کیوں لگی۔ چاہے کسی کو اچھی لگے یا بری لگے لیکن یاد دہانی کیلئے ایکبار پھر بتا دوں کہ ہمارے لیڈر جناب @ImranKhanPTI صاحب کی @PTIofficial کی سیاسی قیادت کیلئے واضح پالیسی ہے کہ بغیر میرٹ کے: ”تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں“

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِل اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا۔ اور کہہ دیجئے (میرے حبیب ﷺ ) کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بےشک باطل کو مٹنا ہی تھا اب جب یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح و عیّاں ہو گئی کہ یہ ٹویٹ جو کہ میری اپنی بات بھی نہیں بلکہ ہمارے لیڈر جناب عمران خان صاحب کی بات ہے کہ بغیر میرٹ کے : ”تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں“ جب یہ واضح ہوگیا یہ ٹویٹ کسی خاص سیاسی یا غیر سیاسی شخصیت یا کسی فیملی ممبر کے حوالہ سےنہیں بلکہ پارٹی کی جنرل پالیسی کے حوالہ سے صرف سیاسی قیادت کیلئے تھی۔ جو کہ 11 دن پہلے 1 جولائی 2026 کو پارٹی کے سیاسی امور عمران خان کے وژن کے مطابق چلانے کے حوالہ سے کی گئی ٹویٹ سے متعلق تھی تو وہ خواتین و حضرات جنہوں نے بغیر تحقیق کے اور بغیر میری 1 جولائی والی ٹویٹ پڑھے تنقید برائے تنقید کی یا گالم گلوچ کیا یا کروایا اب بات مکمل طور پہ واضح ہونے کے بعد کیا اخلاقی قدروں کا مظاہرہ کرتے ہوئے معزرت کرنا پسند فرمائیں گے ؟ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ یاد رکھیے عزت و ذلت کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں رب ذوالجلال کے ہاتھ میں ہے جو تمام عزتوں اور ذلتوں کا مالک ہے۔ جو کسی کے ایجنڈے پہ ہیں ان سے مخاطب نہیں میرے مخاطب وہ بھائی اور بہنیں ہیں جن کو آدھا سچ بتا کر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ بات انشاءاللّٰہ ریکارڈ پہ رہ جائے گی کہ جب لیڈر جیل میں بند تھا اور سب خاموش تھے اور کسی ڈر کے مارے سچی بات کرنے سے کتراتے تھے تو تحریک انصاف کا ایک ادنی کارکن علی محمد موجود تھا جس کو اللّٰہ نے ہمت دی تھی کہ وہ ہر سیاسی معاملہ پہ لوگوں کو اپنے لیڈر عمران خان کی بات اور اُصول ڈنکے کی چوٹ پہ بلا خوفِ تنقید و جھجھک برملا بیان کرتا تھا۔ جو خواتین و حضرات موروثی سیاست نہیں کررہے ان کو میرے اس بیان سے پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں اور بیان بھی میرا نہیں خان صاحب کا ہے۔ حیران ہوں کہ چند لوگوں کو ہمارے لیڈر جناب عمران خان صاحب کی موروثی سیاست والی یہ بات اتنی بری کیوں لگی۔ چاہے کسی کو اچھی لگے یا بری لگے لیکن یاد دہانی کیلئے ایکبار پھر بتا دوں کہ ہمارے لیڈر جناب @ImranKhanPTI صاحب کی @PTIofficial کی سیاسی قیادت کیلئے واضح پالیسی ہے کہ بغیر میرٹ کے: ”تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں“

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِل اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا۔ اور کہہ دیجئے (میرے حبیب ﷺ ) کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بےشک باطل کو مٹنا ہی تھا اب جب یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح و عیّاں ہو گئی کہ یہ ٹویٹ جو کہ میری اپنی بات بھی نہیں بلکہ ہمارے لیڈر جناب عمران خان صاحب کی بات ہے کہ بغیر میرٹ کے : ”تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں“ جب یہ واضح ہوگیا یہ ٹویٹ کسی خاص سیاسی یا غیر سیاسی شخصیت یا کسی فیملی ممبر کے حوالہ سےنہیں بلکہ پارٹی کی جنرل پالیسی کے حوالہ سے صرف سیاسی قیادت کیلئے تھی۔ جو کہ 11 دن پہلے 1 جولائی 2026 کو پارٹی کے سیاسی امور عمران خان کے وژن کے مطابق چلانے کے حوالہ سے کی گئی ٹویٹ سے متعلق تھی تو وہ خواتین و حضرات جنہوں نے بغیر تحقیق کے اور بغیر میری 1 جولائی والی ٹویٹ پڑھے تنقید برائے تنقید کی یا گالم گلوچ کیا یا کروایا اب بات مکمل طور پہ واضح ہونے کے بعد کیا اخلاقی قدروں کا مظاہرہ کرتے ہوئے معزرت کرنا پسند فرمائیں گے ؟ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ یاد رکھیے عزت و ذلت کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں رب ذوالجلال کے ہاتھ میں ہے جو تمام عزتوں اور ذلتوں کا مالک ہے۔ جو کسی کے ایجنڈے پہ ہیں ان سے مخاطب نہیں میرے مخاطب وہ بھائی اور بہنیں ہیں جن کو آدھا سچ بتا کر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ بات انشاءاللّٰہ ریکارڈ پہ رہ جائے گی کہ جب لیڈر جیل میں بند تھا اور سب خاموش تھے اور کسی ڈر کے مارے سچی بات کرنے سے کتراتے تھے تو تحریک انصاف کا ایک ادنی کارکن علی محمد موجود تھا جس کو اللّٰہ نے ہمت دی تھی کہ وہ ہر سیاسی معاملہ پہ لوگوں کو اپنے لیڈر عمران خان کی بات اور اُصول ڈنکے کی چوٹ پہ بلا خوفِ تنقید و جھجھک برملا بیان کرتا تھا۔ جو خواتین و حضرات موروثی سیاست نہیں کررہے ان کو میرے اس بیان سے پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں اور بیان بھی میرا نہیں خان صاحب کا ہے۔ حیران ہوں کہ چند لوگوں کو ہمارے لیڈر جناب عمران خان صاحب کی موروثی سیاست والی یہ بات اتنی بری کیوں لگی۔ چاہے کسی کو اچھی لگے یا بری لگے لیکن یاد دہانی کیلئے ایکبار پھر بتا دوں کہ ہمارے لیڈر جناب @ImranKhanPTI صاحب کی @PTIofficial کی سیاسی قیادت کیلئے واضح پالیسی ہے کہ بغیر میرٹ کے: ”تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں“

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِل اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا۔ اور کہہ دیجئے (میرے حبیب ﷺ ) کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بےشک باطل کو مٹنا ہی تھا اب جب یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح و عیّاں ہو گئی کہ یہ ٹویٹ جو کہ میری اپنی بات بھی نہیں بلکہ ہمارے لیڈر جناب عمران خان صاحب کی بات ہے کہ بغیر میرٹ کے : ”تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں“ جب یہ واضح ہوگیا یہ ٹویٹ کسی خاص سیاسی یا غیر سیاسی شخصیت یا کسی فیملی ممبر کے حوالہ سےنہیں بلکہ پارٹی کی جنرل پالیسی کے حوالہ سے صرف سیاسی قیادت کیلئے تھی۔ جو کہ 11 دن پہلے 1 جولائی 2026 کو پارٹی کے سیاسی امور عمران خان کے وژن کے مطابق چلانے کے حوالہ سے کی گئی ٹویٹ سے متعلق تھی تو وہ خواتین و حضرات جنہوں نے بغیر تحقیق کے اور بغیر میری 1 جولائی والی ٹویٹ پڑھے تنقید برائے تنقید کی یا گالم گلوچ کیا یا کروایا اب بات مکمل طور پہ واضح ہونے کے بعد کیا اخلاقی قدروں کا مظاہرہ کرتے ہوئے معزرت کرنا پسند فرمائیں گے ؟ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ یاد رکھیے عزت و ذلت کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں رب ذوالجلال کے ہاتھ میں ہے جو تمام عزتوں اور ذلتوں کا مالک ہے۔ جو کسی کے ایجنڈے پہ ہیں ان سے مخاطب نہیں میرے مخاطب وہ بھائی اور بہنیں ہیں جن کو آدھا سچ بتا کر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ بات انشاءاللّٰہ ریکارڈ پہ رہ جائے گی کہ جب لیڈر جیل میں بند تھا اور سب خاموش تھے اور کسی ڈر کے مارے سچی بات کرنے سے کتراتے تھے تو تحریک انصاف کا ایک ادنی کارکن علی محمد موجود تھا جس کو اللّٰہ نے ہمت دی تھی کہ وہ ہر سیاسی معاملہ پہ لوگوں کو اپنے لیڈر عمران خان کی بات اور اُصول ڈنکے کی چوٹ پہ بلا خوفِ تنقید و جھجھک برملا بیان کرتا تھا۔ جو خواتین و حضرات موروثی سیاست نہیں کررہے ان کو میرے اس بیان سے پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں اور بیان بھی میرا نہیں خان صاحب کا ہے۔ حیران ہوں کہ چند لوگوں کو ہمارے لیڈر جناب عمران خان صاحب کی موروثی سیاست والی یہ بات اتنی بری کیوں لگی۔ چاہے کسی کو اچھی لگے یا بری لگے لیکن یاد دہانی کیلئے ایکبار پھر بتا دوں کہ ہمارے لیڈر جناب @ImranKhanPTI صاحب کی @PTIofficial کی سیاسی قیادت کیلئے واضح پالیسی ہے کہ بغیر میرٹ کے: ”تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں“

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِل اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا۔ اور کہہ دیجئے (میرے حبیب ﷺ ) کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بےشک باطل کو مٹنا ہی تھا اب جب یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح و عیّاں ہو گئی کہ یہ ٹویٹ جو کہ میری اپنی بات بھی نہیں بلکہ ہمارے لیڈر جناب عمران خان صاحب کی بات ہے کہ بغیر میرٹ کے : ”تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں“ جب یہ واضح ہوگیا یہ ٹویٹ کسی خاص سیاسی یا غیر سیاسی شخصیت یا کسی فیملی ممبر کے حوالہ سےنہیں بلکہ پارٹی کی جنرل پالیسی کے حوالہ سے صرف سیاسی قیادت کیلئے تھی۔ جو کہ 11 دن پہلے 1 جولائی 2026 کو پارٹی کے سیاسی امور عمران خان کے وژن کے مطابق چلانے کے حوالہ سے کی گئی ٹویٹ سے متعلق تھی تو وہ خواتین و حضرات جنہوں نے بغیر تحقیق کے اور بغیر میری 1 جولائی والی ٹویٹ پڑھے تنقید برائے تنقید کی یا گالم گلوچ کیا یا کروایا اب بات مکمل طور پہ واضح ہونے کے بعد کیا اخلاقی قدروں کا مظاہرہ کرتے ہوئے معزرت کرنا پسند فرمائیں گے ؟ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ یاد رکھیے عزت و ذلت کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں رب ذوالجلال کے ہاتھ میں ہے جو تمام عزتوں اور ذلتوں کا مالک ہے۔ جو کسی کے ایجنڈے پہ ہیں ان سے مخاطب نہیں میرے مخاطب وہ بھائی اور بہنیں ہیں جن کو آدھا سچ بتا کر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ بات انشاءاللّٰہ ریکارڈ پہ رہ جائے گی کہ جب لیڈر جیل میں بند تھا اور سب خاموش تھے اور کسی ڈر کے مارے سچی بات کرنے سے کتراتے تھے تو تحریک انصاف کا ایک ادنی کارکن علی محمد موجود تھا جس کو اللّٰہ نے ہمت دی تھی کہ وہ ہر سیاسی معاملہ پہ لوگوں کو اپنے لیڈر عمران خان کی بات اور اُصول ڈنکے کی چوٹ پہ بلا خوفِ تنقید و جھجھک برملا بیان کرتا تھا۔ جو خواتین و حضرات موروثی سیاست نہیں کررہے ان کو میرے اس بیان سے پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں اور بیان بھی میرا نہیں خان صاحب کا ہے۔ حیران ہوں کہ چند لوگوں کو ہمارے لیڈر جناب عمران خان صاحب کی موروثی سیاست والی یہ بات اتنی بری کیوں لگی۔ چاہے کسی کو اچھی لگے یا بری لگے لیکن یاد دہانی کیلئے ایکبار پھر بتا دوں کہ ہمارے لیڈر جناب @ImranKhanPTI صاحب کی @PTIofficial کی سیاسی قیادت کیلئے واضح پالیسی ہے کہ بغیر میرٹ کے: ”تحریک انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں“

مولانا صاحب بصد احترام آپ کا بہت احترام ہے۔ آپ کی حالیہ تقریر میں بہت سی باتیں شاید صحیح بھی ہونگیں۔ لیکن معزرت کیساتھ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ رجیم چینج کے دوران ایک منتخب سیاسی حکومت کے خلاف ظالم کا ساتھ دے کر آج آپ اسی ظالم پہ تنقید کرنے کا حق کھو چکے ہیں۔

سچ کی ایک قیمت ہے اور یہ قیمت چکانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ بھیڑ میں اکیلے کھڑے رہنے کا دم ہے تو سچ بولو۔ کلیجہ چیر کہ رکھ دے ایسے زہریلے طنز کے نشتر سہنے کا حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ کبھی 174 کے مقابل اکیلے کھڑا رہنا پڑے گا تو کبھی حق کی خاطر اپنے آپ کو سزائے موت کی چکیوں میں تنہا پاؤگے۔ حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ حق رکھتے ہوئے حق تلفی ہوگی۔ برداشت کر سکتے ہو تو سچ بولو۔ نطریہ کی خاطر سر کی قیمت پہ لیڈر کیساتھ وفا نبھاؤ۔ وفا نبھا کے بھی غدَار ٹھرے تو سچ بولو۔ کبھی دین کی خاطر کبھی ملک کی خاطر اور کبھی لیڈر تو کبھی اپنے نظریہ کی خاطر حق بات پہ ڈٹ جانے کا جگرا ہے تو سچ بولو۔ اگر تم میں صبر ہے ۔۔۔ تو سچ بولو !

سچ کی ایک قیمت ہے اور یہ قیمت چکانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ بھیڑ میں اکیلے کھڑے رہنے کا دم ہے تو سچ بولو۔ کلیجہ چیر کہ رکھ دے ایسے زہریلے طنز کے نشتر سہنے کا حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ کبھی 174 کے مقابل اکیلے کھڑا رہنا پڑے گا تو کبھی حق کی خاطر اپنے آپ کو سزائے موت کی چکیوں میں تنہا پاؤگے۔ حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ حق رکھتے ہوئے حق تلفی ہوگی۔ برداشت کر سکتے ہو تو سچ بولو۔ نطریہ کی خاطر سر کی قیمت پہ لیڈر کیساتھ وفا نبھاؤ۔ وفا نبھا کے بھی غدَار ٹھرے تو سچ بولو۔ کبھی دین کی خاطر کبھی ملک کی خاطر اور کبھی لیڈر تو کبھی اپنے نظریہ کی خاطر حق بات پہ ڈٹ جانے کا جگرا ہے تو سچ بولو۔ اگر تم میں صبر ہے ۔۔۔ تو سچ بولو !

مولانا صاحب بصد احترام آپ کا بہت احترام ہے۔ آپ کی حالیہ تقریر میں بہت سی باتیں شاید صحیح بھی ہونگیں۔ لیکن معزرت کیساتھ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ رجیم چینج کے دوران ایک منتخب سیاسی حکومت کے خلاف ظالم کا ساتھ دے کر آج آپ اسی ظالم پہ تنقید کرنے کا حق کھو چکے ہیں۔

سچ کی ایک قیمت ہے اور یہ قیمت چکانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ بھیڑ میں اکیلے کھڑے رہنے کا دم ہے تو سچ بولو۔ کلیجہ چیر کہ رکھ دے ایسے زہریلے طنز کے نشتر سہنے کا حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ کبھی 174 کے مقابل اکیلے کھڑا رہنا پڑے گا تو کبھی حق کی خاطر اپنے آپ کو سزائے موت کی چکیوں میں تنہا پاؤگے۔ حوصلہ ہے تو سچ بولو۔ حق رکھتے ہوئے حق تلفی ہوگی۔ برداشت کر سکتے ہو تو سچ بولو۔ نطریہ کی خاطر سر کی قیمت پہ لیڈر کیساتھ وفا نبھاؤ۔ وفا نبھا کے بھی غدَار ٹھرے تو سچ بولو۔ کبھی دین کی خاطر کبھی ملک کی خاطر اور کبھی لیڈر تو کبھی اپنے نظریہ کی خاطر حق بات پہ ڈٹ جانے کا جگرا ہے تو سچ بولو۔ اگر تم میں صبر ہے ۔۔۔ تو سچ بولو !
