Muhammad Arif

78.3K posts

Muhammad Arif banner
Muhammad Arif

Muhammad Arif

@ArifRetd

میری محبت میرا وطن ،جس کے لئے جان دینا اعزاز ہو گا RT does not mean endorsement.

Lahore Katılım Kasım 2020
5.3K Takip Edilen102.3K Takipçiler
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
بلاول زرداری صاحب ذرا ادھر توجہ دیں۔ کیا یہاں ایک پل نہیں بن سکتا۔
اردو
4
19
34
1.1K
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
Bitter Truth, Pakistan is not a poor state, but by design, it is kept like that
English
1
17
29
577
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
پارسی افسر : پی اے 12744 میجر خورشید بھروچا (3 اپریل 1948ء – 22 اکتوبر 2016ء) 15 پنجاب، 12 پنجاب اور 2 پنجاب، 44ویں پی ایم اے لانگ کورس پی اے 12744 میجر خورشید بھروچا، جو ایک پارسی افسر تھے، 3 اپریل 1948ء کو ڈفرن ہسپتال، کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام منوچہر بھروچا اور والدہ کا نام منیژہ بھروچا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ فرانسس گرامر اسکول، کوئٹہ سے حاصل کی، جبکہ ایف ایس سی سائنس کالج، کوئٹہ سے مکمل کی۔ میجر بھروچا نے 44ویں پی ایم اے لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی اور 17 اپریل 1971ء کو 15 پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ انہوں نے 12 پنجاب اور 2 پنجاب میں بھی خدمات انجام دیں۔ بدقسمتی سے طبی وجوہات کی بنا پر ان کی فوجی سروس مختصر ہوگئی اور وہ 1986ء میں ریٹائر ہوگئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے USAID میں بطور ایڈمنسٹریٹر خدمات انجام دیں۔ ان کے مشاغل میں موسیقی، گلوکاری، پرانی گاڑیوں کی مرمت اور کھانا پکانا شامل تھے۔ 22 اکتوبر 2016ء کو کوئٹہ میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ روشن خورشید بھروچا اور تین بچے شامل ہیں۔ ان کے بیٹے کیوان امریکہ کی ایک معروف آئل کمپنی میں وائس چیئرمین ہیں، جبکہ بیٹیاں شرین اور تھرٹی شادی شدہ ہیں اور امریکہ میں مقیم ہیں۔ محترمہ روشن خورشید بھروچا نے اپنی زندگی محروم طبقات کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ انہوں نے کوئٹہ میں SOS چلڈرن ولیج یتیم خانہ کے قیام میں مدد دی اور “ہنر” (Human Unity, Networking Ability and Resource) کے نام سے ایک تربیتی مرکز قائم کیا، جہاں خواتین کو روزگار کے قابل بنانے کے لیے فنی تربیت دی جاتی ہے۔ وہ بلوچستان اسمبلی کی رکن اور وزیر (2000ء تا 2002ء)، سینیٹ آف پاکستان کی سینیٹر (2003ء تا 2006ء)، نگراں وزیر بلوچستان (2007ء تا 2008ء) اور 2018ء میں نگراں وفاقی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ وہ ایک ممتاز سماجی کارکن اور فلاحی شخصیت ہیں اور متعدد اداروں و تنظیموں کے بورڈ آف گورنرز کی رکن بھی رہیں۔ انہیں ستارۂ امتیاز، صدارتی ایوارڈ 2021ء اور ساؤتھ ایشیا ایوارڈ 2004ء سے بھی نوازا گیا۔ میں محترمہ روشن خورشید بھروچا کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنے مرحوم شوہر کے بارے میں معلومات اور تصاویر فراہم کیں۔ اگر کسی کے پاس میجر بھروچا کے بارے میں مزید معلومات یا تصاویر موجود ہوں تو براہِ کرم واٹس ایپ نمبر 0317-5404161 یا ای میل sheikhzahidmumtaz@gmail.com پر رابطہ کریں تاکہ میجر بھروچا کی سوانحی خاکہ نویسی میں مدد مل سکے۔ زاہد ممتاز
Muhammad Arif tweet media
اردو
0
0
5
410
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
بات تو سچ ھے
Muhammad Arif tweet media
اردو
9
29
89
1.5K
shagufta
shagufta@st_590·
سلیبرٹی بننا کوئی آسان کام نہیں 😂✨ بلو ٹک لینے کے بعد بندہ ہر وقت موبائل دیکھ دیکھ کے یہی سوچتا رہتا ہے بندہ ہر دو منٹ بعد موبائل کھول کے دیکھتا ہے کمنٹ کر دے یار… دل وچ کہندا اے کمنٹ آ جا تینوں اکھیاں اڈیکدیاں 👀 @NakamLarki
GIF
اردو
11
4
22
375
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
استاد دامن کا ایک چاہنے والا اُن کے لیے دیسی گھی میں پکے دو پراٹھے لے کر آیا۔ استاد دامن نے پراٹھے ایک طرف رکھے اور اُٹھ کر ایک بڑا سا پیالہ لیا جس میں چینی ڈالی۔ ایک پراٹھے کو توڑا اور پیالے میں ڈھیر ساری چوری بنا لی۔ پھر اُٹھے اور کمرے کے چاروں کونوں میں وہ چوری زمین پر ڈال دی اور واپس بیٹھ کر مہمان کو کہا کہ لو ایک پراٹھا مل کر کھائیں۔ مہمان پریشانی سے زمین پر گری چوری پر نظریں مرکوز کیے تھا کہ اچانک بڑے بڑے سائز کے بتہ سے چوہے کونوں کھدروں سے نکلے اور تیزی سے چوری کھانے لگے۔ مہمان نے حیران ہو کر پوچھا کہ استادمحترم یہ کیا۔ ہنس کر جواب دیا چوری ہے اور چوہے کھا رہے ہیں۔ اس میں حیرانی کی کیا بات ہے۔ میرے کمرے کے چاروں طرف دیکھو۔ میری ساری عمر کی کمائی۔ میرا خزانہ میری کتابیں تمہیں ہر طرف نظر آئیں گی۔ چوہے خوش ذائقہ چوری کے عادی ہیں۔ ان کو اب کتابوں کے کاغذوں کا بے مزہ ذائقہ اچھا نہیں لگتا۔ اس لیے چوہوں کو چوری کھلانے کا فائدہ یہ ہے کہ میری کتابیں محفوظ ہیں۔ میرا خزانہ محفوظ ہے۔ تم بھی اگر اپنے کسی بھی خزانے کو محفوظ رکھنا چاہتے ہو تو یاد رکھو اردگرد لوگوں کا خیال رکھو۔انہیں چوری ڈالتے رہو۔ سدا سکھی رہو گے۔ پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد استاد نے مہمان سے مخاطب ہو کر پھر کہا ۔ زندگی بھر کے لیے ایک بات یاد رکھ۔ رب العزت زندگی میں جب بھی کبھی تمہیں کچھ دے۔ اُس میں سے کچھ حصہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو ضرور بانٹ دیا کرو ۔ کیونکہ لوگوں کی ہر اُس چیز پرنظر ہوتی ہے جو تمہارے پاس آتی ہے۔ یہ لوگ کوئی اور نہیں تمہارے قریبی عزیز اور اچھے دوست ہیں۔ ان کا خیال رکھنا تمہارا اخلاقی اور مذہبی فریضہ بھی ہے۔
Muhammad Arif tweet media
اردو
5
12
40
1.4K
Muhammad Arif retweetledi
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
ایک شخص نے اپنی مسجد کے پیش امام سے کہا: مولانا میں کل سے مسجد نہیں آؤں گا؟ پیش امام صاحب نے پوچھا: کیا میں سبب جان سکتا ہوں؟؟ اس نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں! در اصل وجہ یہ ہے کہ جب بھی میں مسجد آتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کوئی فون پہ بات کر رہا ہے تو کوئی دعا پڑھتے وقت بھی اپنے میسجز دیکھ رہا ہوتا ہے، کہیں کونے‌ میں غیبت ہو رہی ہوتی ہے تو کوئی محلے کی خبروں پر تبصرہ کر رہا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ پیش امام صاحب نے وجہ سننے کے بعد کہا: اگر ہو سکے تو مسجد نہ آنے کا اپنا آخری فیصلہ کرنے سے پہلے ایک عمل کر لیجیے !! اس نے کہا: بالکل میں تیار ہوں۔ مولانا مسجد سے متصل اپنے حجرے میں گئے اور ایک کٹورا پانی لے کر آئے اور اس شخص سے کہا یہ گلاس ہاتھ میں لیں اور مسجد کے اندرونی حصہ کا دو چکر لگائیں مگر دھیان رہے پانی چھلکنے نہ پائے! اس شخص نے کہا: قبلہ ! اس میں کون سی بڑی بات ہے یہ تو میں انجام دے سکتا ہوں۔ اس نے کٹورا لیا اور پوری احتیاط سے مسجد کے گرد دو چکر لگا ڈالے، مولانا کے پاس واپس آ کر خوشی سے بتایا کہ ایک قطرہ بھی پانی نہیں چھلکا۔ پیش امام صاحب نے کہا: یہ بتائیے جس وقت آپ مسجد کا چکر لگا رہے تھے اس دوران مسجد میں کتنے لوگ فون پر باتیں یا غیبت یا محلہ کی خبروں پر تبصرہ کر رہے تھے ؟؟ اس نے کہا: قبلہ میرا سارا دھیان اس پر تھا کہ پانی چھلکنے نہ پائے، میں نے لوگوں پر توجہ ہی نہیں دی۔ پیش امام صاحب نے کہا: جب آپ مسجد آتے ہیں تو اپنا سارا دھیان "خدا" کی سمت رکھیں؛ جب آپ خالص *خدا کے لیے* مسجد میں آئیں گے تو آپ کو خبر ہی نہ ہو گی کون کیا کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ "رسول کی پیروی کرو" یہ نہیں کہا کہ مسلمانوں پر نظر رکھو کہ کون کیا کر رہا ہے۔ خدا سے تمہارا رابطہ تمہارے اپنے عمل کرنے کی بنا پر مضبوط ہوتا ہے دوسروں کے اعمال کی بنیاد پر نہیں۔ قرآن کریم: وَ كُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيامَةِ فَرْداً اور سب کو قیامت کے دن اکیلے ہی آنا ہے۔ منقول
اردو
7
27
206
16.6K
Muhammad Arif retweetledi
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
🌹فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم 🌹
Muhammad Arif tweet media
اردو
3
28
177
1.3K
Muhammad Arif retweetledi
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
🌹فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم 🌹 *سنن النسائي # ٣١٢٣* *Sunan An-Nasa'i # 3123* ​عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:*قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «وَفْدُ اللهِ ثَلَاثَةٌ : الْغَازِي وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ» .* حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ *رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے وفد (خصوصی مہمان) تین ہیں: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا (غازی)، حج کرنے والا، اور عمرہ کرنے والا۔“* _*(اس فرمانِ نبوی ﷺ میں ان تین خوش نصیب گروہوں کو کائنات کے مالک کا 'وفد' قرار دے کر ان کی عظمت کو واضح کیا گیا ہے۔ ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ جس طرح دنیا کے بادشاہ اپنے ہاں آنے والے وفود کی ضیافت، ان کی حفاظت اور ان کے مطالبات پورے کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کو اپنا 'وفد' کہہ کر یہ ضمانت دی ہے کہ اب ان کی ضیافت، دعاؤں کی قبولیت، اور گناہوں کی معافی اللہ کے ذمہ ہے۔ ان تینوں بڑے سفروں کی بدنی اور مالی مشقت ربِ کریم کی خصوصی رحمتوں اور ضیافتوں کو سمیٹنے کا ذریعہ ہیں۔ اللہﷻ ہمیں بھی اپنے ان مبارک وفود میں بار بار شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔)*_
اردو
1
4
45
1.8K
Muhammad Arif retweetledi
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Muhammad Arif tweet media
اردو
0
14
56
717
Muhammad Arif retweetledi
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
سارے مرنے والوں پر موت تو نہیں آتی ہر کسی کے جینے کو زندگی نہیں کہتے
اردو
0
4
54
1.6K
Muhammad Arif retweetledi
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
مینوں بچہ رہن دے مولا۔۔۔۔۔ بہت پیاری نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو
3
71
184
6.7K
Muhammad Arif retweetledi
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
بلقان کی تاریخ میں سنہ 1912ء ایک انتہائی اہم اور دردناک موڑ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ یہ وہی سال ہے جب بلقان کی جنگوں کا آغاز ہوا، اور کئی صدیوں تک قائم رہنے والی عظیم سلطنتِ عثمانیہ کو یورپ کے بیشتر علاقوں سے پسپا ہونا پڑا۔ انہی حالات میں ایک دل خراش منظر سامنے آتا ہے، جہاں ایک مسلمان کو سربی افواج کے ہاتھوں ذلت اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو اس دور کی تلخ حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کا بلقان سے انخلا محض ایک فوجی شکست نہیں تھا، بلکہ اس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کی جان، مال اور عزت خطرے میں پڑ گئی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق، 1912ء تا 1913ء کے دوران ہونے والی بلقان جنگوں میں بڑی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا، بے گھر کیا گیا یا ان پر ظلم و ستم ڈھایا گیا۔ مؤرخین کے مطابق، اس دور میں لاکھوں مسلمان مہاجر بن کر اناطولیہ (موجودہ ترکی) کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے۔ یہاں یہ بات سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اسلام اپنی اصل تعلیمات میں ایک دینِ رحمت ہے۔ اسلامی فتوحات کا مقصد کبھی بھی لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانا نہیں تھا، بلکہ ان ظالمانہ نظاموں کو ختم کرنا تھا جو عوام کو سچائی تک پہنچنے سے روکتے تھے۔ اسلام کے زیرِ سایہ آنے کے بعد لوگوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہوتی تھی کہ وہ اپنے دین پر قائم رہیں یا اسلام قبول کریں۔ اس حقیقت کا سب سے مضبوط ثبوت یہ ہے کہ مصر، شام اور عراق جیسے علاقوں میں، جو صدیوں تک اسلامی خلافت اور سلطنتوں کا مرکز رہے، آج بھی عیسائی اپنی پوری مذہبی آزادی کے ساتھ موجود ہیں۔ ان کے گرجا گھر، عبادت گاہیں اور مذہبی رسومات آج تک برقرار ہیں، جو اسلامی رواداری کی روشن مثال ہیں۔ معروف مغربی مؤرخ ڈونلڈ کواٹرٹ اپنی کتاب "The Ottoman Empire (1700–1922)" میں لکھتے ہیں: "عثمانی سلطنت میں اقلیتوں کو جو حقوق اور تحفظ حاصل تھا، وہ یورپ کی دیگر سلطنتوں جیسے فرانس اور ہابسبورگ ایمپائر سے کہیں زیادہ بہتر تھا۔" اسی طرح مؤرخ جسٹن میکارتھی اپنی کتاب "Death and Exile: The Ethnic Cleansing of Ottoman Muslims (1821–1922)" میں ایک اہم نکتہ بیان کرتے ہیں: "اگر پندرہویں صدی کے ترک غیر متحمل اور سخت گیر ہوتے، تو انیسویں صدی تک ترک خود اپنے گھروں میں زندہ نہ رہ پاتے۔" یہ اقتباسات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ عثمانی سلطنت کی بنیاد مذہبی برداشت اور انتظامی عدل پر تھی۔ اگر وہ واقعی غیر مسلموں کے لیے ظالم اور خونخوار ہوتے، جیسا کہ بعض حلقے دعویٰ کرتے ہیں، تو آج یونان، بلقان یا کریٹ جیسے علاقوں میں ایک بھی عیسائی باقی نہ ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کو اکثر سیاسی مفادات کے تحت مسخ کیا جاتا ہے، جبکہ اصل تاریخی شواہد ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ایک ایسی سلطنت کی، جو اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود، اپنے وقت کی دیگر طاقتوں کے مقابلے میں زیادہ روادار اور منصفانہ نظام رکھتی تھی۔
Muhammad Arif tweet media
اردو
2
4
11
455
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
@Badass1ZQ1 چدھڑ کو شاید یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسی عورتوں کا کام صرف پسے کھانا ہوتا ھے ۔
اردو
0
0
0
59
Ruthless ZQ
Ruthless ZQ@Badass1ZQ1·
آپے میرے اکاؤنٹ وچ پیسے پائی گیا پائی گیا، ہون کہندا میرے نال ویاہ کرا ، میں کیوں کراواں
Ruthless ZQ tweet media
اردو
33
8
195
5.9K
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
اسماعیلیت اور آغا خانیت۔ 2 یہ پوری تاریخ صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی، تجارتی اور تہذیبی اعتبار سے بھی بہت اھم ھے۔ فاطمیوں نے قاہرہ بسایا، جامعہ الازہر قائم کی، بحیرۂ روم اور بحرِ ہند کی تجارت پر اثر ڈالا اور ہندوستان تک ایک منظم دعوتی نیٹ ورک قائم کیا۔ آغا خان امامت، ان کے طرزِ زندگی اور ان کے نظریات کے حوالے سے روایتی مسلم دنیا (اہلسنت اور اہل تشیع کے اکثریتی مکاتبِ فکر) اور اسماعیلی برادری کے درمیان بھی ایک گہرا علمی، فقہی اور نظریاتی اختلاف پایا جاتا ھے یہی وجہ ھے کہ اکثریتی مسلمان حلقے ان کے طرزِ زندگی اور مذہبی تشریحات پر سخت تنقید کرتے ہیں اور انہیں روایتی اسلامی معیار پر پورا اترتا ھوا نہیں دیکھتے۔ ​اس اختلاف اور تنقید کے بنیادی پہلووں میں ان کا طرزِ زندگی ھے_ روایتی اسلامی حلقوں کا سب سے بڑا اعتراض آغا خان خاندان کے شاھانہ اور یورپی طرزِ زندگی پر ھوتا ھے۔ آغا خان خاندان کی رہائش پیرس اور جنیوا جیسے مغربی شہروں میں ھے، ان کا لباس، زبان اور رھن سہن مکمل طور پر مغربی ھے اور وہ یورپی اشرافیہ کے اعلیٰ حلقوں کا حصہ ہیں۔ نقادوں کا کہنا ھے کہ یہ طرزِ زندگی حضور اکرم ﷺ، خلفائے راشدین اور ائمہ اہل بیت کی سادگی، زھد اور تقویٰ کے اسوۂ حسنہ کے بالکل برعکس ھے جبکہ اسماعیلی نقطہ نظر کے مطابق اسلام مادی اور روحانی زندگی میں توازن (دین اور دنیا) کا داعی ھے۔ ان کا ماننا ھے کہ امام کا دنیا کے طاقتور حلقوں اور مغربی دنیا میں بااثر ھونا اسماعیلی مریدین کے عالمی مفادات، تحفظ اور سفارتی رسائی کے لئے ضروری ھے بہرحال اس سے بھی شدید اختلاف شریعت کے ظاہری احکامات کی تشریح (ظاہر بمقابلہ باطن) کے معاملے میں پایا جاتا ھے، ​اکثریتی مسلمانوں اور اسماعیلیوں کے درمیان سب سے بڑا تصادم شریعت کے نفاذ پر ھے۔ روایتی مسلمان (سنی اور شیعہ) نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ جیسے احکامات کو ان کی ظاھری شکل (جیسے پانچ وقت سجدہ کرنا، مکہ جا کر حج کرنا وغیرہ ) کے ساتھ فرض مانتے ھیں۔ نقاد کہتے ہیں کہ آغا خانی جماعت میں ان عبادات کی ظاھری شکل موجود ھی نہیں ھے۔ مثال کے طور پر وہ مسجد کے بجائے "جماعت خانے" بناتے ھیں اور وھیں جاتے ہیں، ان میں اصل عبادت " دعا" ھے اور دعا بھی امام کی قصیدہ خوانی ھی ھے، اسماعیلی اس تنقید کا دفاع اس طرح کرتے ھیں کہ اسماعیلی ایک "باطنی" (Esoteric) مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ھے کہ شریعت کے احکامات کا ایک ظاھر ھوتا ھے اور ایک باطن ( یعنی روح یا مغز) ان کے نزدیک ھر دور کا "امامِ وقت" حالات اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق عبادات کی ظاھری شکل کو تبدیل یا معاف کرنے کا اختیار رکھتا ھے (اس دعوے کی بنیاد قرآن کی کون سی آیت یا کون سی حدیث ھے معلوم نہیں) __ آغا خان اور داودی بوھری دونوں محض مذہبی جماعتیں نہیں بلکہ جدید دور میں مذہب، سماج اور عالمی اداروں کا ایک ملا جلا ماڈل ھیں، ان کی تاریخ فاطمی خلافت سے شروع ہو کر آج کے بین الاقوامی ترقیاتی اداروں تک پھیلی ھوئی ھے جس میں مذہبی روایت کے ساتھ ساتھ جدید ریاستی اور معاشی ڈھانچے بھی شامل ہیں۔اب صورتحال یہ ھے کہ یہ معاملہ صرف عقیدے کا نہیں بلکہ تاریخ، سیاست، معیشت اور عالمی اثر و رسوخ کے ایک پیچیدہ امتزاج کا نام ھے جس پر مختلف زاویوں سے بحث جاری رہتی ھے۔ بات جاری رھے گی، کوشش ھو گی کہ اگلی تحریر میں مکمل ھو سکے_ (از #عبیدشاہ) #hazirimam #ismailijamat #IsmailiCommunity #AgaKhan
اردو
3
0
4
813
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
اسماعیلیت اور آغا خانیت __ ایک تنقیدی جائزہ .1 (حصہ دوئم) شیعہ مکتب میں "امامت" کا عقیدہ پایا جاتا ھے کہ نبی کے بعد "امام" کا منصب ھوتا ھے، اھل تشیعوں میں یہ بھی مانا جاتا ھے کہ امام دیگر انبیاء سے بھی افضل ھوتا ھے کیونکہ وہ آنحضور کے نسب سے ھوتا ھے اور آنحضور صلی اللہ علیہہ وآلہ وسلم بھی تمام انبیاء سے افضل تھے، یہ بھی عقیڈے کا حصہ ھے کہ نبی کی طرح امام کا تقرر بھی من جانب اللہ ھوتا ھے__ امامت کے اس عقیدے کے مطابق حضرت علی __ نبی علیہہ صلوات و سلام کے بعد__ پہلے امام ھیں، ان کے بعد حضرت امام حسنؓ تھے لیکن امام حسنؓ کے بعد “منصبِ امامت” ان کے بھائی حضرت امام حسینؓ کو منتقل ھوا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ امام حسنؓ کی نسل ختم ھو گئی بلکہ یہ کہ مذہبی و روحانی قیادت (امامت) کا سلسلہ امام حسینؓ کی اولاد میں جاری مانا گیا۔ اھل تشیع کے تمام فرقوں کے مطابق امامت امام حسین کے بعد امام زین العابدینؒ پھر امام محمد باقرؒ اور ان کے بعد امام جعفر صادقؒ تک بلاانقطاع جاری رھی، امام جعفر صادقؒ کے بعد امامت کے مسئلے پر اختلاف پیدا ھوا، ایک گروہ نے امام موسیٰ کاظمؒ کو امام مانا جو بعد میں اثنا عشری کہلائے جن کی آج دنیا میں اکثریت ھے، دوسرے گروہ نے امام اسماعیل بن جعفرؒ کی امامت کو تسلیم کیا جو اسماعیلی کہلائے_ یہی تقسیم بعد میں اسماعیلی فرقے کی بنیاد بنی_ اھل تشیع کی مختلف فرقوں جعفریہ یا اثناء عشری، فاطمی، بوھری اور آغا خانی سلسلوں میں تقسیم نے امام جعفر صادقؒ کے بعد جانشینی پر اختلاف سے جنم۔لیا، اس موضوع پر نہ صرف تاریخ، عقیدہ اور مختلف روایات آپس میں گندھی ھوئی ہیں بلکہ اس میں واضح طور ہر سازشوں کے جال بھی بچھے ھوئے دکھائی دیتے ھیں،اسے مرحلہ وار سمجھنا بہتر ھے۔ امام جعفر صادقؒ (وفات 765ء) کے بعد امامت کے مسئلے پر اختلاف ھوا، اثنا عشری شیعہ کہتے ہیں کہ امامت امام موسیٰ کاظمؒ کو ملی اور پھر سلسلہ بارہویں امام تک گیا_ اسماعیلی کہتے ہیں کہ امام جعفر صادقؒ نے اپنے بڑے صاحبزادے امام اسماعیل بن جعفرؒ کو جانشین مقرر کر دیا تھا لہٰذا امامت انہی کی نسل میں جاری رھی __ یہیں سے “اسماعیلی” شاخ وجود میں آئی، اسماعیلی روایت کے مطابق سلسلہ یوں آگے بڑھا، امام اسماعیل بن جعفر، محمد بن اسماعیل __ پھر کئی “مستور ائمہ” (Hidden Imams) یہ وہ دور تھا جب عباسی خلافت کے دباؤ کی وجہ سے ائمہ خفیہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے بعد میں اسی سلسلے سے عبد اللہ المہدی باللہ ظاھر ھوئے جنہوں نے 909ء میں فاطمی خلافت قائم کی۔ مزیدار بات یہ ھے کہ المہدی باللہ افریقہ سے ظاھر ھوئے اور امام اسماعیل کے توسط سے امام حسین رضی اللہ تعالی عنہہ کی اولاد ھونے کا دعوی کیا، پہلے انہوں نے اپنا حلقہ عقیدت مندان بنایا، لوگوں سے بیعت لیتے گئے پھر لشکر لے کر مصر پر چڑھائی کی اور کامیاب ھوئے، فاطمی خلافت قائم کی_ فاطمی خلافت تک امام اور خلیفہ ایک ھی شخصیت ھوتی تھی، ایک اور دلچسپ بات یہ ھے کہ امام مہدی کے قرب از قیامت ظہور کے حوالے سے بہت ساری احادیث و روایات کے بارے میں آزاد محقیقن کا شبہ ھے کہ وہ اسی زمانے میں سامنے آئیں، عبد اللہ المہدی باللہ کے بعد القائم بامر اللہ پھر المنصور باللہ ان کے بعد المعز الدین باللہ، العزیز باللہ، الحاکم بامر اللہ اور آخر میں الظاھر المستنصر باللہ _ یہاں ایک اور بڑا اختلاف پیدا ھوا امام المستنصر باللہ کے بعد دو بیٹوں کے درمیان جانشینی کا تنازع ھوا، ان کے نام نزار باللہ اور المستعلی باللہ تھے یہیں سے اسماعیلی مذید دو شاخوں میں تقسیم ھوئے __ نزاری اسماعیلی شیعہ (موجودہ آغا خانی ) اور المستعلوی یا علوی شیعہ( موجودہ بوھری شیعہ) __ یہ سلسلہ بعد میں ایران، وسط ایشیا اور برصغیر تک پھیلا، آغا خانی سلسلے کے موجودہ 50 ویں امام پرنس عبد الرحیم ھیں_ آغا خانی اسماعیلی اپنے امام کو امامِ حاضر مانتے ہیں یعنی زندہ اور موجود _ جنہوں نے المستعلی کو امام مانا وہ مستعلوی اسماعیلی کہلائے، آگے چل کر مصر میں فاطمی خلافت کمزور ھوئی لیکن یمن میں "داعیوں" کا نظام قائم رھا بعد میں یہی دعوت ہندوستان پہنچی، خاص طور پر گجرات میں یہاں سے بوھری جماعت وجود میں آئی۔ “بوھری” لفظ غالباً گجراتی لفظ “وھورا یا ووھرا” سے نکلا جس کا تعلق تجارت سے جوڑا جاتا ھے_ بوہری بھی مختلف حصوں میں تقسیم ھوئے جن میں سب سے بڑی جماعت داؤدی بوہری ہیں۔ ان کے روحانی پیشوا سیدنا مفضل ہیں، دیگر شاخوں میں سلیمانی بوھری، علوی بوھری بھی شامل ہیں_ داؤدی بوھری عقیدے کے مطابق ان کے آخری ظاھر امام “الطیب” تھے جو پردۂ غیبت میں چلے گئے، اس کے بعد “داعی المطلق” ان کے نمائندہ کے طور پر جماعت کی قیادت کرتے ہیں جبکہ نزاری اسماعیلی (موجودہ آغا خانی) کہتے ہیں کہ امامت کبھی منقطع نہیں ھوئی اور زندہ اماموں کا سلسلہ مسلسل جاری رھا_ جاری
اردو
5
2
14
2.6K
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
😡UAE Sheikhs openly supporting terrorist group BLA. Pakistanis🇵🇰☠️ need to know the facts: BLA's Starlink & telecommunications equipment is smuggled from the UAE. Parts of its media network operate from UAE. UAE also fund BLA along with India.🇮🇳🖐️ Azad khayal ☠️
Muhammad Arif tweet media
English
2
4
5
239