Muhammad Arif

78.3K posts

Muhammad Arif banner
Muhammad Arif

Muhammad Arif

@ArifRetd

میری محبت میرا وطن ،جس کے لئے جان دینا اعزاز ہو گا RT does not mean endorsement.

Lahore Katılım Kasım 2020
5.3K Takip Edilen102.3K Takipçiler
Muhammad Arif retweetledi
Saleem Speaks
Saleem Speaks@saleemspeaks2·
سچی کہانی : مدعیوں نے معاف کردیا ، مگر ریاست معاف نہیں کررہی ۔ تصویر میں نظر آنے والا کراچی جیل کا قیدی عمر قید جتنی سزا کاٹ چکا ، اسے 2014 میں سز۔ائے موت ہوئی ۔ 7 دن بعد بلیک وارنٹ جاری ہو گئے مگر سزا پر عملدرآمد سے ایک دن قبل مق۔تول کی فیملی نے انہیں معاف کردیا چنانچہ سزائے موت کے حکم پر سٹے جاری ہو گیا ۔ یہ 17 سال کے تھے جب جرم کیا ، اب 26 سال سے جیل میں قید ہیں مگر ریاست کی توجہ ان پر نہیں پڑ رہی . انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ جیل انکی جوانی کھا گئی ، اب بڑھاپا آچکا ہے وہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں . ان سے جو غلطی ہوئی اسکی سزا بھی کاٹ چکے ہیں اور مدعیوں نے بھی معاف کر دیا ہے لہذا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں جیل سے رہا کیا جائے ۔ ان جیسے کی لوگ جو سزا بھگت چکے ہیں جو ہر عید پر یہی سوچتے ہیں کہ اس بار شاید عید اپنوں کے ساتھ گزرے ۔۔
Saleem Speaks tweet media
اردو
2
26
79
3.9K
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
کیا سوڈان میں ترک ڈرون نے فرانسیسی رافیل مار گرایا؟عالمی دفاعی اور ہوابازی کے حلقوں میں اس وقت ایک سنسنی خیز اور ناقابلِ یقین خبر نے آگ لگا دی ہے، جس نے روایتی فضائی جنگ کے تمام اصولوں اور نظریات کو ہلا کر رکھ دیا ہے! سوڈان کی فضائی حدود سے آنے والی کچھ ویڈیوز اور رپورٹس کے بعد یہ بڑا اور چونکا دینے والا سوال کھڑا ہو گیا ہے: کیا تاریخ میں پہلی بار ایک ڈرون نے فضا میں لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے؟ دفاعی ویب سائٹس اور اوپن سورس انٹیلیجنس کے مطابق، سوڈان کی خانہ جنگی کے دوران ترکی کے مایہ ناز "بایراکتار اکینجی" (Bayraktar AKINCI) ڈرون اور فرانس کے تیار کردہ جدید ترین "رافیل" (Rafale) فائٹر جیٹ کے درمیان فضا میں آمنا سامنا ہوا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اکینجی ڈرون نے ترکی کے ہی تیار کردہ جدید "ایرین" (EREN) ائیر ٹو ائیر میزائل کا استعمال کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کے رافیل طیارے کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ اگر ان دعووں کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو یہ ہوابازی کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہوگا جہاں کسی بغیر پائلٹ کے ڈرون (UCAV) نے فضا میں انسان کی پائلٹ کردہ ڈبل انجن والے جدید ترین جنگی طیارے کا شکار کیا ہو۔ اس سنسنی خیز معرکے کی اندرونی کہانی اور اسٹریٹجک خدوخال درج ذیل ہیں: 1۔ اربوں روپے کے طیارے کا سستا شکار (لاگت کا بڑا فرق): ایک فرانسیسی رافیل طیارے کی مالیت تقریباً 120 ملین ڈالر (اربوں روپے) سے زائد ہے، جو الیکٹرانک وارفیئر اور جدید ترین ریڈار سسٹمز سے لیس ہے۔ اس کے برعکس، اکینجی ڈرون سے داغا جانے والا "ایرین" میزائل محض 35 کلوگرام وزنی ہے اور اس کی لاگت رافیل کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر ایک سستے میزائل اور ڈرون نے اتنے مہنگے طیارے کو گرا دیا ہے، تو یہ دنیا بھر کی فضائیہ کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ 2۔ "ایرین" میزائل کی قاتل ٹیکنالوجی: بایراکتار اکینجی ڈرون میں نصب یہ ایرین (EREN) میزائل روایتی سست ڈرون ہتھیاروں جیسا نہیں ہے۔ اس میں مائیکرو ٹربوجیٹ انجن لگا ہوا ہے جو اسے 100 کلومیٹر سے زیادہ دور موجود ہدف کو سیکنڈوں میں نشانہ بنانے کی رفتار فراہم کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس یہ میزائل انفرا ریڈ ٹیکنالوجی کی مدد سے فضا میں اڑتے ہوئے ہیلی کاپٹرز، ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کو خودکار طریقے سے شناخت کر کے تباہ کر سکتا ہے۔ 3۔ سوڈان: جدید فضائی جنگ کی تجربہ گاہ: سوڈان کی جنگ اب ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ عالمی طاقتوں کے ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بن چکی ہے۔ ایک طرف سوڈانی فوج کو ترکی، مصر اور ایران کے ڈرونز کی حمایت حاصل ہے، تو دوسری طرف باغی فورسز (RSF) کو مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات (UAE) کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ رافیل طیارہ بھی مبینہ طور پر یو اے ای سے منسلک نیٹ ورک کا بتایا جا رہا ہے۔ سنجیدہ تجزیہ کاروں کے تحفظات اور ابہام: دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خبر پر ابھی مکمل یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس میں کئی بڑے ابہام موجود ہیں: سوڈان کی فضائی حدود سے ملنے والی ویڈیوز کا رزلٹ انتہائی کم ہے، جس سے طیارے کی سو فیصد شناخت ممکن نہیں۔ ابھی تک رافیل طیارے کا ملبہ یا کوئی پختہ فارنسک ثبوت سامنے نہیں آیا۔ متحدہ عرب امارات یا باغی گروپ (RSF) کے پاس رافیل طیاروں کی موجودگی یا سوڈان میں ان کے آپریشنز کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ خواہ یہ نشانہ بننے والا طیارہ رافیل تھا یا کوئی اور، اس واقعے نے دنیا بھر کے عسکری اداروں کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ آنے والے وقتوں میں فضائی بالادستی (Air Superiority) اب کاک پٹ میں بیٹھے پائلٹوں کی نہیں، بلکہ فضا میں اڑتے ہوئے خودمختار اور سمارٹ ڈرون سسٹمز کی ہوگی! منقول #BreakingNews #AkinciDrone #RafaleShotDown #SudanConflict #ErenMissile #TurkishDefense #UCAVWarfare #fblifestyle #technology #pmlnforcepunjab
Muhammad Arif tweet media
اردو
0
3
10
720
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
🇵🇰سر ملک فیروز خان نون 🇵🇰 ساتویں وزیرِ اعظمِ پاکستان (7 مئی 1893ء – 9 دسمبر 1970ء) سر ملک فیروز خان نون ایک ممتاز پاکستانی سیاست دان، سفارت کار اور قانون دان تھے، جنہیں پاکستان کے بانی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ 7 مئی 1893ء کو ضلع خوشاب، پنجاب کے گاؤں ہموکہ میں ایک بااثر زمیندار اور اشرافیہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نواب ملک سر محمد حیات خان نون برصغیر کے معروف سیاست دان تھے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے Aitchison College لاہور سے حاصل کی، جہاں وہ تعلیم اور کھیل دونوں میں نمایاں رہے۔ 1912ء میں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے اور Wadham College، آکسفورڈ سے 1916ء میں تاریخ میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے Inner Temple لندن سے بیرسٹر اَیٹ لاء کی سند حاصل کی اور 1917ء میں ہندوستان واپس آ کر وکالت شروع کی۔ وہ نہایت باوقار شخصیت کے مالک، عمدہ نشانہ باز اور کھیلوں کے شوقین تھے۔ 1944ء میں انہوں نے Lady Viqar-un-Nisa Noon سے شادی کی۔ ان کا انتقال 9 دسمبر 1970ء کو سرگودھا میں اپنے آبائی گھر میں ہوا۔ سر فیروز خان نون نے قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد دونوں ادوار میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ آزادی سے قبل وہ 1936ء سے 1941ء تک برطانیہ میں ہندوستان کے ہائی کمشنر رہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران انہیں Winston Churchill کی جنگی کابینہ میں فوجی مشیر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے 1945ء کی United Nations Conference on International Organization میں بھی ہندوستان کی نمائندگی کی، جس کے نتیجے میں United Nations کا قیام عمل میں آیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد Muhammad Ali Jinnah نے انہیں مسلم دنیا میں پاکستان کا تعارف کرانے اور حمایت حاصل کرنے کے لیے خصوصی سفارتی مشن پر بھیجا۔ بعد ازاں وہ مشرقی بنگال کے گورنر، پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ، پاکستان کے وزیرِ خارجہ اور آخرکار وزیرِ اعظم بنے۔ ان کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ 8 ستمبر 1958ء کو سلطنتِ مسقط و عمان سے گوادر کا کامیاب حصول تھا، جس نے پاکستان کو ایک اہم اسٹریٹجک گہرے سمندر کی ساحلی پٹی فراہم کی۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر اُس فاؤنڈیشن کی بنیاد بھی رکھی جو بعد میں Vicky Noon Educational Foundation کہلائی، اور جو آج بھی پاکستانی طلبہ کو University of Oxford اور University of Cambridge میں تعلیم کے لیے وظائف فراہم کرتی ہے۔ تصویر میں سر ملک فیروز خان نون اپنی اہلیہ وقار النساء نون اور Jawaharlal Nehru کے ساتھ موجود ہیں۔
Muhammad Arif tweet media
اردو
2
1
5
167
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
کیا آپ جانتے ہیں؟ پیرو کے پہاڑوں پر سطح سمندر سے تقریباً 7,000 فٹ کی بلندی پر موجود ماچو پیچو، انکا تہذیب کا ایک مفقود اور حیرت انگیز شہر ہے۔ بادلوں کے بیچوں بیچ چھپے اس شہر کو "انکا کا کھویا ہوا شہر" بھی کہا جاتا ہے۔ ​اس شہر کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس کی دیواریں بنانے کے لیے کسی گارے یا سیمنٹ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ انکا تہذیب کے ماہرین نے بھاری پتھروں کو اس مہارت سے کاٹ کر آپس میں فٹ کیا کہ صدیوں کے زلزلوں کے باوجود یہ عمارتیں آج بھی مضبوطی سے کھڑی ہیں۔ ​#MachuPicchu #Dilnawaz #History #didyouknowfacts
Muhammad Arif tweet media
اردو
1
3
10
639
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
مغربی “Hippies” یعنی ہیپی تحریک سے تعلق رکھنے والے نوجوان نظر آ رہے ہیں۔ اس دور میں کابل، قندھار اور ہرات “Hippie Trail” کا اہم حصہ تھے، جہاں یورپ اور امریکہ سے ہزاروں نوجوان زمینی راستے کے ذریعے آتے تھے۔ ہیپی (Hippies) تحریک کیا تھی؟ ہیپی تحریک 1960ء کی دہائی میں امریکہ اور مغربی یورپ میں شروع ہوئی۔ یہ دراصل نوجوانوں کی ایک ثقافتی و سماجی تحریک تھی جو: * جنگ خصوصاً ویتنام جنگ کی مخالفت کرتی تھی * روایتی مغربی معاشرتی اقدار کے خلاف تھی * آزادی، امن، محبت اور فطرت کے قریب زندگی کی حامی تھی * موسیقی، روحانیت، صوفیانہ خیالات اور مشرقی فلسفوں سے متاثر تھی انہیں اکثر لمبے بال، ڈھیلے کپڑے، گٹار، صوفیانہ زیورات اور آزاد طرزِ زندگی سے پہچانا جاتا تھا۔ “Hippie Trail” کیا تھا؟ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں یورپ سے ایشیا تک ایک مشہور سفری راستہ تھا جسے “Hippie Trail” کہا جاتا ہے۔ اس میں یہ علاقے شامل تھے: * لندن * استنبول * تہران * ہرات * کابل * پشاور * لاہور * دہلی * نیپال کابل اس راستے کا مرکزی مقام بن گیا کیونکہ: * وہاں رہائش سستی تھی * ماحول نسبتاً پُرامن تھا * مقامی لوگ مہمان نواز تھے * چرس اور دیگر نشہ آور اشیاء آسانی سے دستیاب تھیں * صوفیانہ اور مشرقی روحانیت کا رجحان موجود تھا افغانستان میں ہیپیز کیوں مشہور ہوئے؟ 1970ء کے قریب افغانستان کو “Hip Paradise” بھی کہا جاتا تھا۔ مغربی نوجوان: * روحانی سکون کی تلاش میں آتے تھے * بدھ مت، تصوف اور یوگا سے متاثر تھے * مغربی سرمایہ دارانہ معاشرے سے بیزار تھے کابل میں اس وقت ایسے کیفے، ہوٹل اور مہمان خانے موجود تھے جہاں غیر ملکی ہیپی بڑی تعداد میں رہتے تھے۔ ہیپی تحریک کا زوال 1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد: * “Hippie Trail” تقریباً ختم ہوگیا * افغانستان جنگ کا میدان بن گیا * ایران میں اسلامی انقلاب آگیا * زمینی سفر غیر محفوظ ہوگیا یوں 1970ء کی آزاد سفری اور ہیپی ثقافت اختتام پذیر ہوگئی۔ تصویر کی تفصیل اس تصویر میں: * مغربی نوجوان فرش یا سادہ بستروں پر بیٹھے ہیں * لباس اور انداز 1970ء کی ہیپی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں * ماحول کابل کے کسی سادہ گیسٹ ہاؤس یا رہائشی کمرے کا لگتا ہے * تصویر اُس دور کے افغانستان کی نسبتاً کھلی اور بین الاقوامی فضا کو ظاہر کرتی ہے۔
Muhammad Arif tweet media
اردو
1
1
3
147
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
دراصل یہ مویشی منڈیاں حکومتی احکامات کے تحت بند کی گئی ہیں۔ میرا خیال ھے یہ منڈیاں عید کے تیسرے دن تک کھلی رہنا چاہیں۔ کیونکہ بعض لوگ انتظار کرتے ہیں کہ عید والے دن جانور سستے ہو جایئں گے ۔ اس سے بیوپاری لوگوں کا بھی بہت نقصان ہوتا ھے۔ ان کا ٹرانسپورٹ پر کافی خرچہ آتا ھے۔۔ یہ پچھلے ایک دوسال سے ایسا ہو رھا ھے ورنہ پہلے مویشی منڈیاں عید کے تینوں دن کھلی رہتی تھیں۔
Ruthless ZQ@Badass1ZQ1

پاکستان بھر میں عیدالاضحیٰ سے صرف دو دن پہلے مویشی منڈیوں کا ویران ہونا کسی عام بحران کا نہیں بلکہ ملک میں لائیو اسٹاک سیکٹر کی تباہی اور غذائی تحفظ (Food Security) کے سنگین خطرے کا واضح ثبوت ہے، جو ڈے اولڈ کالف (Day Old Calf)، بچھڑیوں اور دودھ دینے والے مادہ جانوروں کے بے دریغ ذبح کیے جانے کا ہولناک نتیجہ ہے یہ صورتحال ملک کی زرعی معیشت اور قومی سلامتی کے لیے اک بڑا چیلنج بن چکی ہے، متعلقہ اعلیٰ حکام سے فوری اپیل ہے کہ اسے قومی ایمرجنسی قرار دے کر مادہ و نوائیدہ جانوروں کی سلاٹرنگ پر مکمل پابندی عائد کی جائے غیر قانونی سلاٹر ہاؤسز کے خلاف ملک گیر آپریشن کر کے نسل کشی کے اس سلسلے کو فوری روکا جائے، ورنہ آنے والے چند سالوں میں پاکستان دودھ، گوشت اور قربانی کے جانوروں کے شدید ترین بحران کی لپیٹ میں آ جائے گا

اردو
4
3
13
1.3K
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
@Badass1ZQ1 بہت خوب صورت بات ہے، انسان کا سب سے اپنے اوپر حق ھے۔ اپنے آپ کو خوش رکھیں اور ہر وہ کام کریں جس سے آپ کا دل اور روح خوش ہو ۔
اردو
1
0
1
308
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
@Badass1ZQ1 الو کا پٹھا بے وقوف، گولی مارنا تھی تو لڑکی کا مارتا 🤣🙏🤣🙏🙏🙏
اردو
1
0
0
890
Ruthless ZQ
Ruthless ZQ@Badass1ZQ1·
عید کے دن ایمرجنسی میں ڈیوٹی تھی اک ناکام عاشق خود کو پیٹ میں گولی مار کر آ گیا سیدھا تھیٹر میں لے کر گئے گولی بڑی رگ کو چیر گئی تھی سینئر رجسٹرار سے ریپئر نہ ہو پا رہی تھی میڈم پروفیسر کو بلایا گیا انہوں نے آپریشن مکمل کیا اگلے دن راؤنڈ میں میڈم آئیں اور بڑے پیار سے لڑکے کا ہاتھ پکڑ کو بولیں بیٹا آپ نے خود کو کیوں گولی ماری لڑکا بولا: " اک لڑکی نے مجھے پیار میں دھوکا دیا " میڈم بولیں بیٹا اگلی دفعہ کوئی لڑکی پیار میں دھوکا دے تو گولی سر میں مارنا تاکہ ہم سب کی عید خراب نہ ہو اردو کلاسیک
اردو
6
16
126
7.5K
musawarafzaal
musawarafzaal@musawarafzaal·
@ArifRetd ایسا پورا سال سوچنا چاہیئے صرف عید پر نہیں
اردو
1
0
1
15
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
*اگر قربانی کے دن تمہارا پڑوسی بھوکا ھو یا اس کے گھر میں صرف دال سبزی پکی ھو تو* یہ سمجھ کر مطمئن نا ھو جانا کہ تم نے سنتِ ابراھیمی کا حق ادا کر دیا ھے۔ اصل قربانی صرف جانور ذبح کرنا نہیں، بلکہ دلوں میں ھمدردی، احساس اور دوسروں کا خیال پیدا کرنا ھے۔ 🕊️ عیدِ قربان کا پیغام یہی ھے کہ خوشی صرف اپنے گھر تک محدود نا رھے، *بلکہ آس پاس کے ضرورت مند بھی اس میں شریک ھوں۔*
Muhammad Arif tweet media
اردو
4
10
35
611
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
السلام علیکم صبح بخیر میری طرف سے تمام ٹیوٹر فیملی کو عیدالاضحٰی مبارک ۔
Muhammad Arif tweet media
اردو
32
8
60
1.3K
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
@DrJavaidKhan1 @Tahir0454 ڈاکٹر صاحب اگر آپ کہتے ہیں تو میں ڈیلیٹ کر دیتا ہوں۔ مجھے جس نے بھیجا اس نے یہی کہا تھا کہ کہوٹہ کی ھے
اردو
0
0
0
1
abdul ghaffar
abdul ghaffar@abdulghaffar194·
@ArifRetd Kanjar niazi qadiani KO lane wala bhi under he, bus yehi farq he
Indonesia
1
0
0
22
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
عمران خان کو تو فوج لائی تھی لیکن بھٹو اور نواز شریف کو ۔۔۔۔۔۔
Muhammad Arif tweet media
اردو
16
12
47
2.9K
Muhammad Arif retweetledi
The Real Baloch Facts
The Real Baloch Facts@RealBalochFacts·
بی ایل اے میں تربیت کے نام پر خواتین کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کی مبینہ سرغنہ شہناز بلوچ بتائی جاتی ہیں۔ حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی ایک مبینہ ویڈیو نے اس پورے معاملے کے پسِ پردہ حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے۔
اردو
1
7
7
1.3K
Muhammad Arif
Muhammad Arif@ArifRetd·
"BLA " بی ایل اے ، ٹی ٹی پی جیسا اجڈ ، گنواروں اور جاہلوں کا ٹولہ نہیں ہے یہ ویل ایجوکیٹڈ ، ویل ٹرینڈ اور ویل آرگنائزڈ دہشت گرد گروہ ہے ان کے پاس جدید گاڑیاں ، آٹومیٹک جدید اسلحہ ، کمیونیکیشن کے جدید ترین ذرائع اور بلوچستان بھر میں لاجسٹک سپورٹ بھی حاصل ہے بلوچستان کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک انڈر گراؤنڈ پراپیگنڈہ نیٹ ورک بھی ہے جو پڑھے لکھے لڑکوں اور لڑکیوں کو برین واش کر کے بی ایل اے کا حصہ بناتا ہے بی ایل اے کی لیڈر شپ نے اپنے کارکنوں کیلئے عیاشی کا تمام سامان بھی مہیا کر رکھا ہے بہت سی خوبصورت لڑکیاں ، دوستی کے جال میں پھنسا کر لڑکوں کو بی ایل اے کا حصہ بناتی ہیں تو کچھ خوبرو لڑکے بھی یہی خدمات انجام دیتے ہیں بی ایل اے کو بنیادی تربیت را کے افسران نے خود دی تھی اور لگاتار راہنمائی کر رہے ہیں اور انہیں ایک منظم گروہ کی شکل میں تیار کیا تھا پیسے کی بی ایل اے کو کوئی کمی نہیں ہے یہ شاید واحد ٹیررسٹ آرگنائزیشن ہے کہ جو اپنے کارکنوں کو باقاعدہ اور بہترین تنخواہیں دیتی ہے دہشت گرد حملوں کے دوران بینک وغیرہ لوٹ کر جو پیسہ ہاتھ آتا ہے وہ بھی حملے میں حصہ لینے والوں میں برابر تقسیم کر دیا جاتا ہے اس کے علاؤہ فوجی افسران ، اہلکاروں و پنجابی شہریوں کو قتل کرنے پر انعام الگ سے ملتا ہے پہلے بی ایل اے کو صرف اسرائیل، امریکہ اور انڈیا کی سپورٹ حاصل تھی اب متحدہ عرب امارات بھی ان کا فنانسر بن چکا ہے، بی ایل اے کو انڈیا ، بلوچستان میں تمام فوجی تنصیبات اور فوجی نقل و حمل سے براہ راست آگاہ کرتا ہے اور حملوں کی منصوبہ بندی میں معاونت دیتا ہے بی ایل اے کے پیچھے جو طاقتیں ہیں ان کا مقصد بہت بڑا ہے وہ ہر صورت بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں تاکہ اسرائیل بیک وقت پاکستان ، ایران اور افغانستان کے درمیان آ کر بیٹھ جائے خدانخواستہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ان تینوں ممالک کی سلامتی خطرے میں آ جائے گی، بلوچستان حکومت بھی بہت سی کالی بھیڑیں ہیں جو بی ایل اے سے تعاون کرتی ہیں مگر اب یہ سلسلہ رکنا چاہیے بی ایل اے کو ختم کرنا ناگزیر ہے ورنہ فوج کے اپنے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہے کہ محض گذشتہ تین سالوں میں بی ایل اے دو ہزار سے زیادہ پاکستانی فوجی و افسران شہید کر چکی ہے. پاکستان کو بہر حال سلامت رہنا ہے ان شاءاللہ ! اس لئے بی ایل اے کو لازمی ختم کرنا ہو گا۔
اردو
10
2
31
6.8K