
AwazEHaq
22.1K posts

AwazEHaq
@AwazEHaq90
Human rights Activist




















دنیامیں طاقت کا توازن بگڑنے لگا ہے،امریکہ اور اس کےحلیف ممالک تیسری عالمی جنگ کرائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج یکم اگست 2025ء کو الطاف حسین کہتا ہے کہ دنیا کی سیاسی کشمکش کا نقشہ بڑی تیزی سے تبدیل ہورہاہے ، امریکہ اوراس کے حلیف طاقتورممالک کی طاقت کاتوازن بکھررہا ہے ، اب وہ پہلے کی طرح نہیں رہے بلکہ کمزور سے کمزورہوکر بڑی تیزی سے زوال پذیرہورہے ہیں ۔ ان کی زوال پذیری میں سوشل میڈیا اور نئی نئی سائنسی ایجادات کا بڑاہاتھ ہے ۔ آج سے 27 برس قبل میں نے کہا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کافروغ عام آدمی کیلئے تو سود مندہوگا لیکن ریاستوں کے مفاد میں نہیں ہوگا، اس سے ممالک کے درمیان سرحدیں ختم ہوجائیں گی اورانفرادی کرنسی کی اہمیت کم ہوجائے گی آج پورے یورپی ممالک کی مشترکہ کرنسی ''یورو'' ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان جتنی بھی جنگیں ہوئیں وہ سب امریکہ نے کرائیں تاکہ یہ دونوں ممالک اپنے اپنے ملک اورعوام کی ترقی وخوشحالی کے بجائے ایک دوسرے سے جنگوں میں مصروف رہیں اور امریکہ سے اسلحہ خریدتے رہیں، امریکہ کی یہی پالیسی افریقی ممالک کے لئے بھی ہے ۔ آج نئی نسل میں شعوری بیداری پھیل رہی ہے اور اس کا آئی کیو لیول بہت بڑ ھ چکا ہے ،وہ ہرمعاملے پر اپنی سوچ وفکرکااظہارکرتے ہیں، صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ فلسطین پر اسرائیلی حملوں پر امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں نے توحمایت کی لیکن امریکہ اوربرطانیہ کی سڑکوں پراور تعلیمی اداروں میں سفید فام نوجوان نسل نے بہت بڑی تعداد میں فلسطین پر اسرائیل کے حملوں کے خلاف احتجاج کیا،احتجاجی جلوس نکالے کہ اسرائیلی حملے بند کرائے جائیں، امریکہ اوربرطانیہ کی حکومتوں نے وقتی طورپرعوامی احتجاج کو دبا دیا ہے لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جیل کی کال کوٹھری میں کسی انسان کو قید کیاجاسکتا ہے لیکن کوئی بھی مضبوط دیوارانسانی ذہن میں آنے والے انقلابی خیالات کوپھلنے پھولنے اور پروان چڑھنے سے نہیں روک سکتی ۔ آج دنیابھرمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلانات کامذاق اڑایا جارہا ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیاتھا کہ میں اقتدار کی سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہی یوکرین اور روس کی جنگ اور فلسطین پر اسرائیلی حملے بند کرادوں گا لیکن آج بھی روس اور یوکرین کی جنگ جاری ہے اور اسرائیل،فلسطینی عوام پر مسلسل حملے کررہا ہے ۔ امریکی صدر نے پاکستان کے ساتھ مل کرتیل نکالنے اورتجارتی ٹیرف میں کمی کابیان کیادیا کہ پاکستان میں بھنگڑے ڈالنے کاعمل شروع ہوگیا جبکہ امریکی صدر کا یہ بیان محض بہلاوا ہے۔ امریکہ کااصل مقصد بھارت کو دباؤ میں لانا ہے کیونکہ بھارت ایک غیرت مند ملک ہے ،بھارت نے امریکہ کی جانب سے تجارتی ٹیرف عائد کرنے پر امریکہ سے طیارے خریدنے سے انکار کردیاہے ، بھارت کے لیڈرز اور فوجی جرنیل امریکہ میں کاروبار نہیں کرتے جبکہ پاکستانی جرنیل امریکہ میں پاپا جونز اور دیگر فوڈ چین کھولتے ہیں، بلوچستان کی معدنیات اورریکوڈک تک رسائی دیتے ہیں اورامریکہ کے ٹاؤٹ بھی بنتے ہیں ۔ بھارت نہ توپاکستا ن کی طرح غلام ملک ہے اور نہ بھارت کی فوج کرائے کی فوج ہے ۔ میری بات نوٹ کرلی جائے کہ پاکستان میں تیل نکالنے کے امریکی بیان پربھنگڑے ڈالنے والے سارے کے سارے لوگ ایک دن منہ کے بل گریں گے ۔ امریکہ بھارت پر دباؤ ڈالنے کے جتنے چاہے حربے استعمال کرلے ، بھارت نے غیرت وحمیت کامظاہرہ کرکے ثابت کردیاہے کہ بھارت تھا،بھارت ہے اور بھارت رہے گا ، اگرپاکستان کو بھی قائم ودائم رکھنا ہے تو پاکستان کو بھی غیرت وحمیت اور خودداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ،امریکہ کی غلامی سے نکلناہوگا، اگر پاکستان کو دوستی کرنی ہے توامریکہ کے بجائے چائنا سے پکی دوستی کرنی چاہیے کیونکہ چائنا پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جبکہ امریکہ ہزاروں میل کے فاصلے پر ہے ۔ ہمیں اس بات کوسمجھناچاہیے کہ دنیامیں طاقت کا توازن بگڑنے لگاہے ، آج صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کے اتحادی ممالک امریکی پالیسی کے خلاف مؤقف اپنا رہے ہیں ، کیاامریکہ کی مخالفت کے باوجود کینیڈا، برطانیہ ، ناروے ، جرمنی، فرانس ، مالٹا اوردیگرممالک نے نہیں کہاہے کہ وہ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کریں گے ، یہ تمام ممالک چائنیز بلاک کے نہیں بلکہ امریکہ کے حلیف ممالک ہیں ، کیا ان ممالک کے اعلانات سے سپرطاقت کے فارن افیئرز کمزور نہیں ہورہے ہیں؟ 1/2


