BYC - Shaal Zone

1.8K posts

BYC - Shaal Zone banner
BYC - Shaal Zone

BYC - Shaal Zone

@BYC_Shaal

Official account of @BalochYakjehtiC - Shaal Zone, Contact us at: [email protected] https://t.co/mC8tB80M8b

Shaal, Balochistan Katılım Nisan 2024
10 Takip Edilen2.1K Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
BYC - Shaal Zone
BYC - Shaal Zone@BYC_Shaal·
Baloch Genocide Remembrance Day - January 25! A day to highlight the ongoing genocide of the Baloch through killings, disappearances, neglect & exploitation. Let's unite against this injustice. Share, raise your voice & support the Baloch struggle. #BalochGenocideRemembranceDay
BYC - Shaal Zone tweet media
English
0
18
14
1.3K
BYC - Shaal Zone
BYC - Shaal Zone@BYC_Shaal·
خدیجہ بلوچ کی حراست کو بیس دن گزر گئے، مگر اب تک نہ کوئی واضح الزام سامنے آیا اور نہ ہی کوئی جواب. اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو بلوچستان کے لوگوں کے لیے بھی ہونا چاہیے• آخر خدیجہ بلوچ کا قصور کیا ہے؟ #ReleaseKhadijaBaloch #SaveBalochWomen #SaveBalochStudents
BYC - Shaal Zone tweet mediaBYC - Shaal Zone tweet mediaBYC - Shaal Zone tweet media
اردو
1
32
59
935
BYC - Shaal Zone
BYC - Shaal Zone@BYC_Shaal·
خدیجہ بلوچ کی کم عمر بچی اپنی ماں کی تصویر ہاتھ میں لئیے پچھلے بیس دن سے دھرنا گاہ میں اپنی ماں کی باحفاظت بازیابی کےلئے دھرنا دے رہی تھی آج گرمی کی شدت سے اُس کی طبیعت ناساز ہے وہ اب اسپتال میں زیرعلاج ہے #ReleaseKhadijaBaloch #SaveBalochWomen #StopBalochGenocide
BYC - Shaal Zone tweet mediaBYC - Shaal Zone tweet media
اردو
1
68
117
4.7K
BYC - Shaal Zone
BYC - Shaal Zone@BYC_Shaal·
نظر مری بلوچ کو آٹھ ماہ گزر گئے لیکن تاحال وہ لاپتا ہے ان کی جبری گمشدگی ریاست کی فسطائیت اور درندگی کی ایک واضع مثال ہے کہ ریاست کس طرح بلوچوں کی نسل کشی کررہی ہے نظر مری ایک پرامن سیاسی ورکر تھا جسے صرف اسلئے لاپتا کیا گیا کیوں کہ وہ ریاستی مظالم کیخلاف بولتا،مزاہمت کرتا۰
BYC - Shaal Zone tweet media
اردو
0
33
59
808
BYC - Shaal Zone
BYC - Shaal Zone@BYC_Shaal·
خدیجہ بلوچ کو آج اٹھارواں دن ہے کہ وہ ریاستی عقوبت خانوں میں ہے اس غیر قانونی عمل کے خلاف ان کی فیملی بی ایم سی میں دھرنا دے رہی ہے آج دھرنے کا اٹھارواں دن ہے ان اٹھارہ دنوں میں انتظامیہ کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی ریاست اور اس کے ادارے بلکل بےحس ہوچکے ہیں۰
BYC - Shaal Zone tweet mediaBYC - Shaal Zone tweet mediaBYC - Shaal Zone tweet mediaBYC - Shaal Zone tweet media
اردو
0
37
68
802
BYC - Shaal Zone
BYC - Shaal Zone@BYC_Shaal·
Baloch Yakjehti Committee@BalochYakjehtiC

𝗗𝗮𝘆 𝟭𝟳 – 𝗕𝗼𝗹𝗮𝗻 𝗠𝗲𝗱𝗶𝗰𝗮𝗹 𝗖𝗼𝗺𝗽𝗹𝗲𝘅, 𝗤𝘂𝗲𝘁𝘁𝗮 𝗦𝗶𝘁-𝗶𝗻 The state cannot reduce security concerns by keeping Khadija Baloch in its custody; rather, through a systematic policy, it seeks to create an atmosphere of fear within Baloch society. Like many other Baloch women, Khadija Baloch has been forcibly disappeared by the state simply so that the enforced disappearance of Baloch women becomes normalized and treated as something ordinary. Today marks the seventeenth day of the ongoing protest. This sit-in is not only against the injustices committed against Khadija Baloch, but also to expose the decades-long oppression imposed upon the Baloch nation. For the past two days, the family of Saifullah Baloch has also joined the protest after his enforced disappearance. Saifullah Baloch, who was taken away on March 12 by personnel of the CTD and other intelligence agencies, has become part of a story of oppression that is difficult to put into words. After days of enforced disappearance, Saifullah Baloch was suddenly transferred under the Prevention of Detention Act to the newly established CTD cell inside Huda Jail, a place of imprisonment where there is no FIR, no case, and no transparent judicial process. Only detention of three months. And his family joined the sit-in not only for their brother, but for all those who remain imprisoned in cells, and for the families who continue to live every day in suffering, fear, and endless waiting. To make this protest successful is a national responsibility that must be fulfilled under all circumstances. Therefore, the Baloch nation must come to the BMC protest camp, become the voice of helpless mothers, and resist against state injustices. #ReleaseKhadijaBaloch #StopBalochGenocide

QHT
0
5
15
154
BYC - Shaal Zone retweetledi
Baloch Yakjehti Committee
Baloch Yakjehti Committee@BalochYakjehtiC·
کراچی کی مقامی بلوچ بستیوں کو ریاستی سر پرستی میں چلنے والے مافیاز کے زریعے خالی کروانا انتہائی تشویشناک ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کے ساحلی علاقے بلیجی، خاص طور پر تاریخی ماہی گیر بستی عبدالرحمٰن گوٹھ اور اس کی ملحقہ ساحلی پٹیوں میں ریاست کی مسلح فورسز کی جانب سے مقامی (بلوچ، سندھی، اور دیگر اقوام ) رہائشیوں کے گھروں کو بلڈوز کرنا اور انہیں طاقت کے زور پر ان کی آبائی زمین سے بے دخل کرنا انتہائی قابلِ مذمت اور ریاستی جبر کی بدترین شکل ہے۔ یہ علاقہ، جو صدیوں پرانی مقامی تاریخی روایت کا امین ہے، اب براہِ راست ریاستی غصب کے نشانے پر ہے۔ بلیجی اور عبدالرحمٰن گوٹھ سمیت کراچی کے یہ ساحلی علاقے قیامِ پاکستان سے بھی دہائیوں قبل کے آباد ہیں۔ لہٰذا، ان تاریخی زمینوں پر سرکاری افسران اور ریاستی اداروں کے ملکیت کا دعویٰ اور ان کو سرکاری زمین (اسٹیٹ لینڈ) اور ترقی کے نام پر یا دیگر جبری جعلی ذرائع کو استعمال کرکے بزور اپنی تحویل میں لینا تاریخ کو مسخ کرنے اور اپنے ناجائز قبضے کو قانونی شکل دینے کی ایک سازش ہے۔ اس جبر کی تازہ مثال حال ہی میں اس وقت سامنے آئی جب ریاستی مسلح فورسز کے افسران نے جعلی اور فرضی دستاویز دکھا کر جبر و دھونس کا استعمال کیا اور بنا کسی قانونی جواز کے مقامی رہائشیوں کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔ یہ اس استحصالی گٹھ جوڑ کے خلاف جب ایک مقامی باشندے نے اپنی آبائی زمین کو بچانے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی۔ جواب میں، اس تاریخی اراضی پر قابض ایک بااثر ریاستی افسر (کرنل) نے اپنے اختیارات کا بے دریغ اور ناجائز استعمال کرتے ہوئے، الٹا اسی شہری کے خلاف مار پیٹ، دھمکیوں اور اراضی پر قبضے کی جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر (FIR) درج کروا دی۔ یہ سراسر ریاستی دھونس ہے کہ جو خود غاصب ہے، وہ ریاستی مشینری کو استعمال کر کے مظلوم کو ہی ظالم بنا کر پیش کر رہا ہے۔ اس افسر نے سندھ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے نہ صرف اس زمین کے جعلی کاغذات تیار کروائے ہیں بلکہ ان علاقوں میں اراضی کی لیز پر مکمل قانونی پابندی کے باوجود، اسے غیر قانونی طور پر اپنے نام لیز بھی کروا لیا ہے۔ اب اس قبضے کو طول دینے کے لیے مقامی آبادی میں منظم طریقے سے خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے۔ نام نہاد مسروقہ املاک یا دیگر فرضی مقدمات کی آڑ میں، اپنی ہی زمین کے قریب سے گزرنے والے عام بلوچ اور دیگر اقوام کے مقامی باشندوں کو ہراساں کر کے بلاجواز گرفتار کیا جا رہا ہے اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ ظلم و بربریت کی انتہا یہ ہے کہ ریاستی اہلکاروں کی جانب سے نہتے مقامی لوگوں پر سیدھی فائرنگ تک کی گئی ہے اور علاقے کے رہائشی اس ریاستی جبر کے شاہد ہیں۔ ریاست ان ظالمانہ کارروائیوں کے ذریعے دراصل کراچی کی ان قدیم آبادیوں کو بے گھر کر کے بلیجی اور عبدالرحمٰن گوٹھ کی قیمتی ساحلی پٹی اور سمندری وسائل پر اپنا مکمل عسکری اور کمرشل تسلط قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ قبضہ اس منظم ریاستی استحصالی منصوبے کا حصہ ہے جس کا واحد مقصد کراچی کے مقامی بلوچ اور دیگر قدیم باشندوں کو ڈیموگرافک انجینئرنگ کے ذریعے بے دخل کر کے ان کی تاریخی شناخت ختم کرنا ہے۔ ریاست کا نام نہاد ترقی کا بیانیہ بھی ہمیشہ اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس کی واضح مثال ملیر ایکسپریس وے کا منصوبہ ہے، جس کی آڑ میں ملیر کے مقامی علاقوں کو مسمار کیا گیا، زرعی زمینیں تباہ کی گئیں اور مقامی آبادی کو دربدر کر کے سرمایہ دار اشرافیہ کے لیے روڈ اور ان کے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو سہولیات دی گئیں۔ اسی استحصالی طرزِ عمل کی ایک اور مثال ماڑی پور کے پرانے ماہی گیر علاقے یونس آباد میں دیکھی گئی۔ یونس آباد بھی کراچی کی ان پرانے ماہیگیر بستیوں میں سے ایک ہے جہاں کئی اقوام آباد ہیں، لیکن وہاں حکومتی اداروں نے رہائشی ماہیگیروں کے تاریخی زمینی حقوق کو پامال کرتے ہوئے سرکاری رہائشی سوسائٹی کی توسیع اور سرکاری اراضی کے نام پر غاصبانہ کارروائی کی اور محض قریبی سوسائٹی کو بڑا کرنے کی غرض سے یونس آباد کا اسپورٹس گراؤنڈ، ہیلتھ آفس اور کئی مکینوں کے گھر مسمار کر دیے گئے۔ آج بلیجی کے ساحل پر بھی بعینہٖ انہی روایتی ہتھکنڈوں کو دہرایا جا رہا ہے، جہاں قدیم بلوچ اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں سے ان کی چھت چھینی جا رہی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ بلیجی، عبدالرحمٰن گوٹھ اور یونس آباد سمیت کراچی کے تمام مقامی علاقوں میں جاری یہ غیر آئینی ریاستی آپریشن اور گھروں کی مسماری فی الفور روکی جائے۔ تمام متاثرہ خاندانوں کو ان کی آبائی زمینوں پر باعزت طریقے سے بحال کر کے ان کے نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔ ہم عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان قدیم بستیوں پر ہونے۔۔۔۔۔
Baloch Yakjehti Committee tweet mediaBaloch Yakjehti Committee tweet media
اردو
3
54
88
4.5K
BYC - Shaal Zone
BYC - Shaal Zone@BYC_Shaal·
Baloch Yakjehti Committee@BalochYakjehtiC

𝗔𝗳𝘁𝗲𝗿 𝟮𝟱𝟲 𝗱𝗮𝘆𝘀 𝗼𝗳 𝗲𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗱𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲, 𝗔𝗷𝗺𝗮𝗹 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵 𝘀𝗼𝗻 𝗼𝗳 𝗬𝗮𝘀𝗲𝗲𝗻 𝘄𝗮𝘀 𝗲𝘅𝘁𝗿𝗮𝗷𝘂𝗱𝗶𝗰𝗶𝗮𝗹𝗹𝘆 𝗸𝗶𝗹𝗹𝗲𝗱 𝗮𝘁 𝗡𝗮𝗹𝗲𝗻𝘁, 𝗚𝘄𝗮𝗱𝗮𝗿. 𝙈𝙖𝙮 3, 2026 - 𝙉𝙖𝙡𝙚𝙣𝙩, 𝙂𝙬𝙖𝙙𝙖𝙧, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣 Ajmal, a laborer from Nasirabad, Turbat, Kech, belonged to a poor family and was the only support for his family. On 21 August 2025, he was forcibly taken from Gwadar. For 256 days, his family waited in pain and uncertainty, hoping he would return alive. That hope ended with the recovery of his body. This is not justice ,taking a life without trial and returning a body to a grieving family is a grave violation of human rights and human dignity. How many more families must suffer this pain? How many mothers must wait for sons who never return? The Baloch Yakjehti Committee strongly condemns this killing and demands an immediate end to enforced disappearances and extrajudicial killings in Balochistan. Baloch Yakjathi Committee, urgently appeal to international human rights organizations to take notice of the worsening human rights crisis in Balochistan and raise their voice for justice and accountability. The people of Balochistan deserve justice, dignity, and the right to live without fear. #StopBalochGenocide

QHT
0
2
6
57
BYC - Shaal Zone
BYC - Shaal Zone@BYC_Shaal·
Baloch Yakjehti Committee@BalochYakjehtiC

𝗔𝗳𝘁𝗲𝗿 𝟭𝟰𝟱 𝗱𝗮𝘆𝘀 𝗼𝗳 𝗲𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗱𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲, 𝗦𝗮𝗲𝗲𝗱 𝗠𝘂𝗵𝗮𝗺𝗺𝗮𝗱, 𝘀𝗼𝗻 𝗼𝗳 𝗦𝗵𝗮𝗵𝗼𝗼 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵, 𝘄𝗮𝘀 𝗲𝘅𝘁𝗿𝗮𝗷𝘂𝗱𝗶𝗰𝗶𝗮𝗹𝗹𝘆 𝗸𝗶𝗹𝗹𝗲𝗱 𝗮𝗻𝗱 𝗵𝗶𝘀 𝗯𝗼𝗱𝘆 𝘄𝗮𝘀 𝗱𝘂𝗺𝗽𝗲𝗱. 𝗠𝗮𝘆 𝟯, 𝟮𝟬𝟮𝟲 - 𝗝𝗶𝘄𝗮𝗻𝗶, 𝗚𝘄𝗮𝗱𝗮𝗿, 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻 Saeed Muhammad, a 49-year-old shopkeeper from Panwan, Jiwani, was taken from his home on 9 December 2025 at around 3:00 AM. From that night onward, his family was denied any information about his whereabouts. He was never brought before a court, never given the right to defend himself, and his family was left in endless uncertainty. On 3 May 2026, after 145 days, his dead body was found dumped in Naleent Daro Guard. For 145 days, his family waited in pain and hope, believing he would return home alive. Every day was spent in uncertainty, holding onto the hope of reunion. Instead, that hope was shattered when his lifeless body was returned. A family that waited for justice was met with irreversible loss. Baloch Yakjehti Committee strongly condemns this killing and demands accountability. If Saeed Muhammad was held in custody and there were accusations against him, he should have been presented before a court under the law. Denying due process and returning a dead body instead of justice is a grave violation of human rights. This is not just the killing of one man; it is the destruction of a family’s hope and dignity. We call on United Nations Human Rights Office and international human rights organizations to urgently intervene and address the ongoing human rights crisis in Balochistan. #StopBalochGenocide

QHT
0
2
21
230