Sabitlenmiş Tweet

حافظ پڑھ پڑھ کرن تکبر، ملّاں کرن وڈیائی ھُو
ساون مانہہ دے بدلاں وانگوں، پھرن کتاباں چائی ھُو
جتھے ویکھن چنگا چوکھا، اُوتھے پڑھن کلام سوائی ھُو
دونیں جہانیں مٹھے باھوؒ، جنہاں کھادِی ویچ کمائی ھُو
حافظ اپنے حفظ ِ قرآن پر اور علماء ِظاہر اپنے علوم پر تکبر میں مبتلا ہیں اور یہ اپنے علم کو حصولِ دنیا کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جب کوئی اپنے مطلب کے مطابق دینی مسائل کا حل چاہتا ہے تو یہ لوگ مال و متاع کے بدلے میں دین کی حقیقت کو چھپا کر مختلف تاویلیں نکال کر لوگوں کو راہِ حق سے گمراہ کرتے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں جنہوں نے دنیا اور دولت کے بدلے میں اپنا علم و ایمان بیچ دیا وہ دونوں جہانوں میں رحمت ِ حق تعالیٰ سے محروم رہ گئے۔
اردو




















