Diotima
5.1K posts

Diotima retweetledi
Diotima retweetledi

اسلام آباد کے چنتخب نمائندوں نے یہاں کے عوام کو بے آسرا چھوڑ دیا۔ جس سی ڈی اے کے بارے میں وزیرِ داخلہ خود کہتے ہیں کہ رشوت کے بغیر کام نہیں کرتا ، آج ہزاروں لوگوں کو بے دردی کے ساتھ چھت سے محروم کر رہا ہے۔ اشرافیہ کی رہائش کونسٹیٹوشن ون کی ۴۰ منزلہ عمارت بن گئی اور اچانک یاد آیا کہ او ہو یہ تو غیر قانونی ہے۔ پھر سپریم کورٹ نے جرمانہ لگا کر ریگولرائز کر دی۔ تو غریب اس سہولت سے محروم کیوں؟
جب اسلام آباد بنا تو ہزاروں ایکڑ اراضی ایکوائر کی گئی۔ ۱۹۶۲ سے لے کر آج تک کئی لوگ اپنے کلیم لئیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں اور اُن کو ادائیگی نہیں ہوئی۔ بری امام، سید پور اور ملپور میں تین روپے کنال کے حساب تک سے زمین ایکوائر کی گئی اور ستم ظریفی کے وہ ادائیگی بھی نہیں کی۔ اور آج ۶۵ سال بعد کہتے ہیں اُسی ریٹ پر اپنی زمین اور گھر حوالہ کرو ، یہ کہاں کا انصاف ہے ؟
اَب کچی آبادیوں کو لے لیجئے۔ سی ڈی اے کا ایک ذیلی ادارہ ہے انفورسمنٹ کا۔ اُن کے تمام انسپکٹر رشوت لے کر خود تعمیرات کراتے رہے ، سالہ سال اربوں روپے بنائے اور آج دھڑلے سے گرانے پہنچ گئے۔ کیا سی ڈی اے نے اپنے اُن ملازمین جو اِس دھندے میں ملوث رہے ، اُن کے خلاف کوئی کاروائی کی؟
مقامی اور آباد کار بھی بری الزمہ نہیں۔ اپنی قدیمی آبادیوں میں لوگوں کو سی ڈی اے کے انفورسمنٹ عملہ کے ساتھ مل کر آباد کراتے رہے اور لوگ بھی جس جگہ کا کوئی انتقال نہیں ، رجسٹری نہیں ، رشوت دے کر اُن پر گھر بناتے رہے۔ سب اِس داؤ پر تھے کہ جب متاثرین اسلام آباد کے ساتھ سیٹیلمنٹ ہو گی تو ہم بھی متاثرین کی لسٹ میں شامل ہو جائیں گے اور پلاٹ لے لیں گے۔ وہ تو گوگل میپ نے سب کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ۲۰۰۶ یا جب سے وہ آیا ہے ، سیٹلائٹ تصویروں میں قدیمی اور نئی آبادیوں کی تفریق واظح ہے۔
لیکن آج صورتحال مخدوش ہے۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو چُکے ہیں، لوگ بے سر و بے آسرا ہیں۔ چنتخب نمائندوں کو سی ڈی اے اور متاثرین کے ساتھ بیٹھ کر اس انسانی المیہ کا منصفانہ حل نکالنا چاہئیے۔
اردو
Diotima retweetledi

پاکپتن میں پاکستان بننے سے پہلے سے لیکر اب تک یہ جگہ ویران بنجر پڑی تھی اس پر غلام رسول پاکستانی اور انکی ٹیم نے درخت لگانے کا منصوبہ بنایا غلام رسول صاحب اب تک بائیس لاکھ درخت مختلف شہروں اور دہات میں لگا چکے ہیں اور انکا ٹارگٹ 50 کروڑ دیسی درخت لگانے کا ہے
اصل کام یہ ہے جو غلام رسول اور ان کے ساتھی کر رہے ہیں ہمیں درختوں کی اشد ضرورت ہے

اردو
Diotima retweetledi
Diotima retweetledi
Diotima retweetledi

لوگ نسل در نسل کسی زمین پر رہ رہے ہوں اس وقت سے جب اسلام آباد تو دور پاکستان تک کا وجود نہ ہو،ایسے لوگوں کو انکے گھروں سے دھکے دے کر نکال دینا اور انکی نظروں کے سامنے انکے گھر مسمار کر دینا یہ کونسی انسانیت اور کونسا قانون ہے؟کہتے ہیں یہ سرکار کی زمین ہے، بھئی آپکی سرکار کے وجود سے بھی پہلے کی زمین ہے یہ۔کیوں مالکوں کو بے مالک کر رہے ہو؟
اپنے لوگوں کے سر سے چھین کر دنیامیں ثالثی کرانا منافقت نہیں تو اور کیا ہے
@CDAthecapital
اردو
Diotima retweetledi

Hundreds of Christian residents in Islamabad’s abaadis held crosses & resisted a CDA bulldozer team, citing Supreme Court stay orders. Working-class katchi abadi families face forced evictions without proper notice or rehabilitation.
#StopIslamabadEvictions #HousingForAll
English
Diotima retweetledi
Diotima retweetledi
Diotima retweetledi
Diotima retweetledi
Diotima retweetledi

Diotima retweetledi
Diotima retweetledi
Diotima retweetledi

اندازہ کریں!
اسلام آباد: وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت نے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے ڈویلپرز کو برطانوی دور کے عالمی جنگِ عظیم اوّل کے یادگاری monument کو تجارتی علاقے کی تعمیر کے لیے منتقل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
وزارت کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ اس یادگار کو قانون کے تحت تحفظ فراہم کیے بغیر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ عہدیدار کے مطابق، “اس مقصد کے لیے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو ریونیو ریکارڈ فراہم کرنا ہوگا، جو متعدد یاد دہانیوں کے باوجود تاحال فراہم نہیں کیا گیا۔”
یہ یادگار برطانوی حکومت نے 1914 کے بعد ان مقامی فوجیوں کی یاد میں تعمیر کی تھی جنہوں نے پہلی عالمی جنگ میں حصہ لیا۔ یہ یادگار کوری روڈ، ریہارہ گاؤں کے قریب واقع ہے اور تاریخی طور پر اعتراف کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، سی ڈی اے اور ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ترقیاتی سرگرمیوں کے باعث یہ اب شدید خطرے سے دوچار ہے۔
ڈویلپرز کی جانب سے بھاری مشینری، جن میں کھدائی کرنے والی مشینیں اور بلڈوزر شامل ہیں، استعمال کرتے ہوئے یادگار کے اردگرد کی زمین کاٹ کر ہموار کر دی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ یادگار اب تقریباً 35 سے 40 فٹ اونچے ٹیلے پر کھڑی ہے اور چاروں اطراف سے ناقابلِ رسائی ہو چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یادگار ایک جانب جھک چکی ہے اور اس کے گرنے کا خطرہ لاحق ہے۔
via @dawn_com
dawn.com/news/1970456/m…

اردو
Diotima retweetledi
Diotima retweetledi

Don’t worry very soon they will bring down the age to 9!
Gauhar MIrza@GuaharM
When a lawmaker stands inside #Pakistan’s National Assembly and openly declares he will violate child protection laws, the issue is no longer morality — it is constitutional breakdown. 1/3 @iamthedrifter @MaryamShKhan
English





















