Sabitlenmiş Tweet

پاکستان میں ڈگری ویریفکیشن پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہیں بطور گریجویٹس ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہماری یونیورسٹیاں کی ڈگری ہماری محنت اور کامیابی کی پہچان ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈگری ویریفکیشن کا عمل ایک طویل، مہنگا اور مشکل سلسلہ بن چکا ہے جو طلبہ کو ذہنی اور مالی طور پر متاثر کرتا ہے۔
سب سے پہلے یونیورسٹی ڈگری جاری کرتی ہے جس پر کنٹرولر امتحانات اور وائس چانسلر کے دستخط ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود وہی ڈگری دوبارہ ویریفکیشن کے لیے یونیورسٹی بھیجی جاتی ہے، پھر ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کو تصدیق کے لیے بھیج دی جاتی ہے، اور آخر میں وزارتِ خارجہ (MOFA) سے اٹیستیشن کروائی جاتی ہے تاکہ HEC کی مہر کی بھی تصدیق ہو سکے۔
ہر مرحلے پر اضافی فیس، تاخیر اور غیر ضروری مشکلات طلبہ کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ یہاں ایک سنجیدہ سوال پیدا ہوتا ہے: جب ڈگری پہلے ہی تسلیم شدہ ادارے جاری کرتے ہیں تو طلبہ کو بار بار اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے ادائیگی کیوں کرنی پڑتی ہے؟
پاکستان کو ایک ون ونڈو اور سادہ ویریفکیشن سسٹم کی ضرورت ہے جو تکرار کو ختم کرے، وقت اور پیسہ بچائے اور نظام پر اعتماد بحال کرے۔ ڈگری ویریفکیشن کو آسان بنا کر ہم نہ صرف گریجویٹس کو بااختیار بنا سکتے ہیں بلکہ اپنے تعلیمی نظام کی ساکھ کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔
اگر آپ واقعی نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو اس پوسٹ کو repost کریں اور ہماری آواز کو مضبوط بنائیں۔

اردو



















