✫𝕋ᴀɪᴍᴏʀ 𝔸ʜᴍᴀᴅ✫ retweetledi

اسلام آباد کی غریب خاتون کو اپنی مالکن کے ساتھ کمیٹی ڈالنا مہنگا پڑ گیا ، کئی سال جیل میں گزر گئے ، آخر شک کا فائدہ دیکر عدالت نے رہا کردیا ،گھریلو ملازمہ کے خلاف مقدمہ یکم فروری 2024 میں اسلام آباد کے تھانے لوئی پیر میں درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملازمہ نے پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی میں واقع ایک گھر سے چار لاکھ پاکستانی روپے، پانچ لاکھ سعودی ریال اور پانچ لاکھ پاؤنڈ ’غائب‘ کر دیے ہیں۔ خاتون ملازمہ کو گرفتار کیا گیا اس پر ایف آئی آر ہوئی لیکن حیران کن طور پر ملازمہ کے گھر سے صرف 2 ہزار روپے ہی برآمد ہو سکے ، پوری کوشش کے باوجود پولیس اور مدعی اپنا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہے ، اب لگ بھگ دو سال بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کا کہنا ہے کہ استغاثہ گھر میں چوری یا ملازمہ کے گھر سے رقم کی بازیابی ثابت نہیں کر سکی۔گھریلو ملازمہ کے وکیل نے بتایا کہ ان کی موکلہ کے خلاف مقدمہ ’جھوٹ پر مبنی تھا۔ان کی موکلہ کے خلاف مقدمہ دفعہ 381 کے تحت درج کیا تھا اور پولیس نے اپنی تحقیقات آگے بڑھانے سے پہلے ’مدعی کا بینک سٹیٹمنٹ تک نہیں دیکھا کہ ان کے پاس اتنی رقم موجود ہو بھی سکتی ہے کہ نہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ملازمہ نے اپنی مالکن کے پاس ’ماہانہ دو ہزار روپے کی کمیٹی ڈالی ہوئی تھی، جو کہ انھیں اپنی گرفتاری والے مہینے ہی ملنی تھی۔ اس وقت ان کی ایک ڈیڑھ مہینے کی تنخواہ بھی واجب الادا تھی۔‘’ملازمہ کی بیٹی ذہنی امراض کا شکار ہے اور اس کے علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی، جب وہ پیسے مانگے گئے تو کچھ دیر بعد پولیس اہلکار آکر ملازمہ کو گرفتار کر کے لے گئے۔ اگرچہ 2 سال جیل میں گزار کر گھریلو ملازمہ رہا تو ہو گئی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جھوٹا الزام لگانے والی امیر زادی کو بھی سزا ملنی چاہیے یا نہیں اور کیا وہ ملازمہ کی تنخواہ اور کمیٹی ادا کرے گی یا نہیں ؟ اسلام آباد کے سماجی ورکرز اور وکلاء حضرات اس نکتے پر ضرور غور کریں ۔۔۔ #fblifestyle

اردو





















