لوئر چترال میں ایم این اے عبداللطیف چترالی کی رہائی کے مطالبے کے لیے ایک بڑی ریلی نکالی گئی۔ عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور عبداللطیف چترالی کو اُن کی بہادری اور وفاداری پر خراجِ تحسین پیش کی، جنہیں 9 مئی کے ایک جھوٹے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے اور وہ 200 دن سے زائد عرصے سے قید میں ہیں۔
#AsimLaw
نورین آپا کا بڑا بیان۔۔🚨🚨
احمد نیازی میرا بھتیجا لگتا ہے، وہ اور ان کی ٹیم بہت اچھا کام کر رہے ہیں، میری طرف سے دعا دینا
نورین آپا 🔥🔥
خان کی بہنوں کی بات کو غلط رنگ دے کر کل چلایا گیا، وہ باتیں سہیل آفریدی کے لیے تھی کہ کے پی میں جلسے کا فائدہ نہیں
آواز اٹھائیں 🚨
کل خان صاحب کا پیغام آیا ہے کہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے اب وہ میری اہلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بشریٰ بی بی کے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔
بشری بی بی کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے خلاف سوشل میڈیا بھرپور آواز اٹھائیں
یہ صرف ایک شخص کی قید نہیں،
ایک قوم کے ضمیر کا امتحان ہے۔
1000 دن گزرے،
مگر سچ آج بھی زندہ ہے، اور زندہ رہے گا۔
ہم خاموش نہیں رہیں گے۔
محترمہ زرتاج گل وزیر
#1000DaysKhanUnbroken
ہمیں عمران خان کے نظریے اور ان کے نام پر کی جانے والی ہر کاوش اور جدوجہد کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے اور شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کا حوصلہ بڑھانا چاہیے۔ طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے، مگر ہم سب کی منزل اور مقصد ایک ہے۔ یہ تمام لوگ عمران خان سے سچی محبت کرنے والے مخلص کارکنان ہیں۔ یاد رکھیں، ہمارا اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے!
30.04.2026
جناب عمران خان مقدمات۔
القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت کل 12 بجے روبرو دو رکنی بینچ کورٹ روم نمبر ۱ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقرر ہے۔
اس کیس میں اس سے قبل 18 سماعتیں ہو چکی ہیں مگر درخواست ضمانت پر تاحال باقاعدہ سماعت نہ کی گئی ہے۔
عمران خان صاحب کو ایک بار پھر راتوں رات اُن کی فیملی کو اطلاع دیے بغیر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ ایک قیدی، خصوصاً ایک سابق وزیرِاعظم، کے ساتھ اس قسم کا رویہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے کی فوری اور شفاف وضاحت کی جانی چاہیے کہ انہیں کیوں اور کس حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، اور اہلِ خانہ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ یہ مسئلہ اب انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے اور مزید خاموشی ناقابلِ قبول ہے۔"
یہ چوتھی بار ہے کہ عمران خان صاحب کو اُن کے اہلِ خانہ کو اطلاع دیے بغیر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ آخر کیا چیز چھپائی جا رہی ہے؟ ہم آج بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان صاحب کو فوری طور پر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں اُن کے اہلِ خانہ اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں اُن کا علاج یقینی بنایا جا سکے۔"