Sabitlenmiş Tweet
Hira
7.5K posts

Hira
@Hot_Red_chilly
Open minded,sex lover, chat fun
لاہور, پاکستان Katılım Ekim 2023
489 Takip Edilen3.7K Takipçiler
Hira retweetledi

ہم سب کو اس مسئلے پر ایک ہونا ہوگا اور اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔ صرف باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا—اب وقت ہے کہ ہم X (Twitter) سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کو ٹرینڈ بنائیں، خاص طور پر وہ لوگ جن کے اکاؤنٹس کے ویوز زیادہ ہیں تاکہ کوئی عملی قدم اٹھایا جا سکے۔
میٹر کا کرایہ 1000 روپے تک لیا جا رہا ہے، جبکہ میٹر حکومت فری نہیں دیتی بلکہ اس کی پوری رقم پہلے ہی ادا کر کے لگوایا جاتا ہے۔ پھر یہ کرایہ کس بات کا؟ اس کے علاوہ الگ سے ٹیکسز بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔
ایک حالیہ بجلی کے بل کی مثال دیکھیں:
فی یونٹ قیمت: 37.44 روپے
کل یونٹس: 9
اصل بل بنتا ہے: 336.96 روپے
لیکن ٹیکسز: 1548.04 روپے
کل بل: 1885 روپے
کیا یہ انصاف ہے؟
اگر ہم سب نے اس پر آواز نہ اٹھائی تو خاموشی کو ہماری رضامندی سمجھ لیا جائے گا، اور آنے والے وقت میں مزید ٹیکسز بھی لگا دیے جائیں گے۔
سب لوگ اس پوسٹ کو شیئر کریں، ری پوسٹ کریں اور متعلقہ اداروں اور حکومتی اکاؤنٹس کو ٹیگ کریں تاکہ یہ مسئلہ اوپر تک پہنچے۔
کوپیڈ
#ElectricityBill #Wapda #PunjabGovernment #MaryamNawaz #CMPunjab

اردو
Hira retweetledi
Hira retweetledi
Hira retweetledi
Hira retweetledi

Hira retweetledi

ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دنیا کی کمی کی شکایت کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم فرشتوں اور مخلوقات کی اس تسبیح سے کہاں غافل ہو جس کی برکت سے انہیں رزق دیا جاتا ہے؟
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے موقع کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم ﷺ سے اس تسبیح کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
صبح صادق سے فجر کی نماز تک سو (100) مرتبہ "سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ" پڑھنے سے دنیا تمہارے پاس ذلیل ہوکر آئے گی، اور ہر تسبیح کے بدلے اللہ ایک فرشتہ پیدا کریں گے جو قیامت تک تسبیح کرتا رہے گا۔"
اردو
Hira retweetledi

#دعا کی قبولیت کا عجیب طریقہ
پچھلے دنوں راس الخیمہ جانا ہوا تو راستے میں ایک چھوٹی سی مسجد میں نماز کے لئے رکا- دوپہر کا وقت تھا حسب عادت پہلی صف میں بیٹھا تو میرے برابر میں *ایک بزرگ بیٹھے تھے کالے لیکن چہرے پر بلا کی تمکنت تھی.* میں نے سوچ لیا کے نماز کے بعد ان سے ضرور ملونگا- جماعت ختم ہوئی تو *وہ مسجد کے ایک کونے میں قرآن لیکر بیٹھ گئے.* میں ہمت کرکے قریب گیا، سلامُ کیا اور پوچھا "اردو سمجھتے ہیں" ؟
انھیں بہت اچھی طرح اردو آتی تھی ان کا تعلق یمن کی ایک تبلیغی جماعت سے تھا- قصہ مختصر بہت باتیں ہوئیں اٹھتے وقت *میں نے ان سے پوچھا کہ بڑے صاحب دعا قبول ہونے کا کوئی بہترین طریقہ تو بتائیں؛*
کہنے لگے...؛ *۱۰۰% گارنٹی کے ساتھ دعا کی قبولیت کا طریقہ بتاؤں؟* میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
*کہنے لگے اللہ تعالیٰ رد ہی نہیں کرتے۔*
میں نے بے چین ہوکر کہا جی بسم اللہ۔
کہنے لگے میاں *ہر نماز پہ سب سے پہلے اپنے ماں باپ کے لئے دعا مانگو چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت ہو گئے ہوں۔*
کیونکہُ *اللہ کے پاس تمہارے لئے تمھارے والدین کی دعائیں تب سے جمع ہو رہی ہوتی ہیں جب سے تم پیدا ہوئے.*
کہنے لگے یہ عمل آج سے ہی کرکے دیکھو۔ سراب دیکھا ہے نا، جیسے جیسے اس کے قریب جاؤ وہ مٹتا جاتا ہے *دعا کے اس عمل سے تمہاری زندگی سے پریشانیاں اسی سراب کی طرح مٹتی جائیں گی ان شاء اللہ۔*
یقین کریں اس دن کے بعد سے میں نے ایک بار بھی ناغہ نہیں کیا اور *راستے ایسے کھل رہے ہیں جیسے صبح رات کو کاٹ کر روشنی پھیلاتی ہے۔
* بندہ خدا *
ا س پیغام کو دوسروں تک پہنچائے تاکہ دوسرے لوگ بھی *اپنے والدین کیلئے روزانہ مغفرت کی دعا کریں*
اردو
Hira retweetledi
Hira retweetledi
Hira retweetledi

ایک قصبے کے ہوٹل میں ایک سیاح داخل ہوا اور مالک سے اسکے ہوٹل کا بہترین کمرہ دکھانے کو کہا۔ مالک نے اسے بہترین کمرے کی چابی دی اور کمرہ دیکھنے کی اجازت دے دی۔
سیاح نے کاونٹر پر ایک سو ڈالر کا نوٹ بطور ایڈوانس رکھا اور کمرہ دیکھنے چلا گیا۔
اس وقت قصبے کا قصاب ہوٹل کے مالک سے گوشت کی رقم لینے آگیا۔ ہوٹل مالک نے وہی سو ڈالر اٹھا کر قصاب کو دے دیے کیونکہ اسے امید تھی کہ سیاح کو کمرہ ضرور پسند آجائے گا۔
قصائی نے سو ڈالر لے کر فوراً یہ رقم اپنے جانور سپلائی کرنے والے کو دے دی ۔ جانور سپلائی والا ایک ڈاکٹر کا مقروض تھا جس سے وہ علاج کروا رہا تھا تو اس نے وہ سو ڈالر ڈاکٹر کو دے دیے ۔
وہ ڈاکٹر کافی دنوں سے اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھا اس لیے اس نے یہی نوٹ ہوٹل کے مالک کو ادا کر دیا۔
وہ سوڈالر کا نوٹ کاونٹر پر ہی پڑا تھا کہ کمرہ پسند کرنے کے لئے سیڑھیاں چڑھ کر گیا ہوا متوقع گاہک واپس آگیا اور ہوٹل کے مالک کو بتایا کہ مجھے کمرہ پسند نہیں آیا۔ یہ کہ کر اس نے اپنا سوڈالر کا نوٹ اٹھایا اور چلا گیا !!
اکنامک کی اس کہانی میں نہ کسی نے کچھ کھایا اور نہ کسی نے کچھ خرچ کیالیکن جس قصبے میں سیاح یہ نوٹ لے کر آیا تھا، اس قصبے کے کتنے ہی لوگ قرضے سے فارغ ہو گئے ۔
حاصل مطالعه :
پیسے کو گھماؤ!! نہ کہ اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاؤ کہ اس میں عوام الناس کی فلاح ہے
اردو
Hira retweetledi
Hira retweetledi
Hira retweetledi




















